shukr guzari

شکر گزاری زندگی کا لطف

انسانی فطرت اچھے اور برے رویوں سے بھری پڑی ہے ۔ ایک اچھا رویہ اظہارِ تشکر ہے جو انسان کو ہر حال میں خوش اور مطمئن رکھتا ہے لیکن جب یہ جذبہ ماند پڑتا ہے تو بے چینی، حزن ملال میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ شکر گزاری جہاں مثبت طرزِ عمل ہے وہیں ناشکری انسانی فطرت کا وہ منفی رویہ ہے جس سے اکثر اوقات دوسروں کوبھیتکلیف ہوتی ہے اور خود ناشکری کرنے والا شخص اپنے آپ میں غمگین، حزن و ملال، تفکر، اور حسد کے ساتھ جینے لگتا ہے اور کئی بار بھلائی سے محروم ہوجاتا ہے۔

قرآن کریم نے اس بات کو یوں بیان کیا ہے:

ترجمہ:’’اگر تم شکر کا رویہ اپناؤگے تو میں مزید نوازوں گا اور اگر ناشکری کروگے تو (جان لو) میرا عذاب شدید ہے۔‘‘ (ابراہیم:7)
اگرچہ بعض دفعہ انسان مصائب کی وجہ سے ناشکرے الفاظ ادا کرتا ہے لیکن مجموعی اعتبار سے دیکھا جائے تو احساس کمتری اور دوسروں سے موازنہ کرنے کی صورت میں ناشکری پیدا ہوتی ہے ۔ ایسی کیفیت کو میں نفسیاتی عارضہ سمجھتا ہوں ۔ کیونکہ Mental health کی تعریف دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ نفسیاتی طور پر جذبات اور ردِعمل میں توازن ذہنی صحت کا لازمی جز ہے لیکن انسان کی خواہشات ، جذبات ، یا کسی کی ترقی یا خوشی کے موقع پر اندرونی کیفیات کی تبدیلی کی وجہ سے ناشکری غالب آتی ہے اس لیے اس کے نفسیاتی پہلو کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔

شکرگزاری Gratitude بہترین صحت کا وہ راز ہے جس سے انسان کو اطمینانِ قلب ملتا ہے اور شکرگزاری کی وجہ سے ہماری روز مرہ کی زندگی میں بہت سے مسائل کم ہوجاتے ہیں، بہترین ترقی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں، پرسکون نیند میسر آتی ہے اور ایسا شخص اپنی زندگی خوش و خرم گزارتا ہے۔ ایک شکرگزار ہمشیہ دستیاب نعمتوں کی قدر کرتا ہے ۔ اس کے استعمال میں قناعت پسندی ہوتی ہے۔ کم پر اکتفاء کرتا ہے جس سے خواہشات کا بوجھ کم ہوجاتا ہے لیکن اگر مزید نعمتیں و مواقع میسر آجائیں تو وہ شکرگزار ہوتا ہے۔ ایسے لوگ اپنا موازنہ دوسروں سے نہیں کرتے ۔ یہی عادت انہیں ایک الگ پہچان عطا کرتی ہے ۔

ناشکرے لوگکبھی بھی اپنی ترقی اوراللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں سے مطمئن نہیں ہوتے۔ وہ اکثر شکوہ و شکایت کی زبان استعمال کرتے ہیں۔ ہزاروں نعمتیں ملنے کے باوجود’’ ھل من مزید‘‘میں مبتلا رہتے ہیں اور جب بھی یہ سلسلہ منقطع ہوتا نظر آتا ہےتو فوراً ناشکری کے الفاظ ادا کرنے لگتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اپنی ذات کا دوسروں سے موازنہ کرنے کی عادت بہت ہوتی ہے۔ وہ اپنی زندگی کا اطمینان دوسروں کی تکلیف یا شکست میں یا دوسروں سے حسد میں محسوس کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے خیالات منتشر ہوتے ہیں ساتھ ہی وہ پرسکون نیند سے بھی محروم ہوتے ہیں کیونکہ ان کی سوچ منفی رخ رکھتی ہے۔

شکرگزار لوگوں میں انکساری ہوتی ہے وہ بات بات پر لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔جزاکم اللہ، شکریہ، ویلکم، تھینکس جیسے الفاظ ان کی زبان سے ہمیشہ جاری ہوتے ہیں اور وہ ان الفاظ کوبولنے کے عادی ہوتے ہیں۔ جبکہ ناشکرے افراد میں ایک عجیب اکڑ ہوتی ہے وہ لوگوں کا شکریہ ادا کرنے میں خود کی توہین و کمزوری محسوس کرتے ہیں۔

آج ہر طرف بے چینی پھیلی ہوئی ہے ۔ ایک ہزار افراد میں سے 325 افراد پرسکون نیند سے محروم ہیں۔ بے روزگاری اور معاشی عدم توازن سماج کا دردناک پہلو ہے۔ ایسے دور میں اطمینان بخش زندگی گزارنے کے لئے شکرگزار بننا ضروری ہے۔ کسی دانا کا قول ہے کہ’’شکرگزار بن جاؤ زندگی آسان ہوجائے گی۔‘‘

اہلِ ایمان کو بتایا گیا ہے کہ شکر کا سب سے زیادہ حق دار ہمارا رب اور خالق ہے جس نے بلا مانگے ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔

’’اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو کر نہیں سکتے۔ بے شک انسان سراپا ظلم اور بڑا انکاری ہے۔‘‘ (ابراہیم:34)

یہ روایت صدیوں سے سنی جارہی ہے کہ ایک غریب شخص ننگے پاؤں سڑک پر جارہا تھا اور اللہ سے شکوہ کررہا تھا کہ تو نے مجھے اس لائق کیوں نہ بنایا کہ میں اپنے پیروں کے لیے جوتے خریدپاتا کہ اس نے اپنے سامنے ایک یسے معذور انسان کو بیساکھیوں کے بل چلتے دیکھا جس کے دونوں پیر نہیں تھے۔ اس شخص نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس کے دونوں پیر تو سلامت ہیں۔ یہ ایک مثال ہے اگر ہم شکر گزاری کا رویہ اختیار کرنا چاہیں اور اپنی ذات پر اپنے رب کی نعمتوں کا احساس کریں تو دن رات شکر گزاری کے لیے کم پڑجائیں۔

ہمارے رسول پاکؐ نے ہمیں جہاں رب کے شکر گزار ہونے کی تلقین کی ہے وہیں انسانوں کے لیے بھی شکر گزاری کے جذبے کو فروغ دینے کی تلقین کی ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ہر وہ انسان ہماری جانب سے شکریے کا حق دار ہے جو ہمارے ساتھ کسی بھی قسم کا چھوٹا یا بڑا احسان کرے۔ اللہ کے رسولؐ نے بندوں کے لیے جذبۂ شکر گزاری کو براہِ راست اللہ کی شکر گزاری سے جوڑا ہے۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا:

’’جو بندوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرے گا۔‘‘

بے شک شکر ایک نفسیات کا نام ہے جو اہلِ ایمان ہی کو حاصل ہوتی ہے۔انسانی رویہ میں شکرگزاری پروان چڑھانے کے لئے لازمی ہے کہ ہم اپنی زندگی کا موازنہ اپنے سے کمتر لوگوں سے کریں ۔ ایسے لوگوں کو دیکھیں جنہیں ہم سے کم نعمتیں ملی ہوئی ہوں۔ اپنی صحت پر شکر بیمار کو دیکھ کر کریں ۔اپنے چھوٹے سے گھر پر اللہ کا شکر ان سیکڑوں اور ہزاروں افراد کو دیکھ کر جو فٹ پاتھ پر زندگی گزارتے ہیں۔ اپنے اس محسن کا شکر جس کی وجہ سے زندگی میں کئی معاملے آسان ہوگئے یا جن کی وجہ سے کئی پریشانیاں دور ہوگئیں۔

یہ بھی سوچیں کہ الله نے ہمیں بہترین ساخت میں پیدا کیا۔ چہرہ، آنکھیں، ناک، کان، زبان، ہاتھ پیر، عقل، حواس، نہ جانے ایسی کتنی چیزیں ہمیں عطا کی ہیں جن کو ہم نے اللہ تعالیٰ سے مانگا بھی نہ تھا:فبای الائ ربکما تکذبان

آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ ہمارا دماغ 300سو سالوں کی یادداشت کو محفوظ کرسکتا ہے ۔ ہماری آنکھیں 100×10 میگاپکسل کیمرہ کا کام کرتی ہیں۔ جسم میں موجود پورے خون کو ہمارا دل چوبیس گھنٹے صاف کرتا رہتا ہے۔ جب سے انسان پیدا ہوا ہے اس وقت سے مسلسل دل دھڑک رہا ہے، ایک لمحے کے لئے بھی رکا نہیںاور جب وہ رک جائے گا تو زندگی ختم ہوجائے گی۔ گردے مستقل کام کررہے ہیں۔ غرض کہ تمام جسم کے اعضاء مستقل کام کررہے ہیں پھر بھی ہم اپنے رب کا شکر ادا نہیں کرتے۔

اب ذرا آفاق و انفس میں غور کریں تو احساس ہوگا کہ زمین پر موجود تقریباً ہر چیز انسانوں کے لئے ہے۔ پانی کے عظیم ذخائر انسان کے لئے، ہواؤں میں سب گیسیز کا توازن انسان کے زندگی کے لئے ہے۔ خوبصورت اور ذائقہ دار پھل و سبزیاں انسانوں کے لئے ہیں۔ پھر بھی ہم ناشکری کرتے ہیں !! اب دیکھیے کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو زندہ تو ہیں لیکن دیکھ نہیں سکتے۔ قلب کے مختلف امراض کی وجہ سے زیادہ بات نہیں کرسکتے۔ کڈنیاں متاثر ہیں تو زیادہ پانی نہیں پی سکتے۔ کان ہے مگر سن نہیں سکتے، آنکھیں ہیں مگر دیکھ نہیں سکتے۔ حواس خمسہ متاثر ہوگئے ہیں تو کچھ محسوس نہیں کرسکتے۔ ایسے لوگوں سے تو ہم بہت اچھے ہیں۔ پھر ناشکری کیوں؟

ناشکری اہل ایمان کو زیب نہیں دیتی ۔ مومن تو ہر حال میں الله کا شکرگزار ہوتا ہے ۔ شکرگزاری ایمان کا جز ہے۔ ایمان جتنا مظبوط ہوگا بندہ اتنا زیادہ شکرگزار ہوتا ہے۔اسے احساس ہوتا ہے کہ الله نے مجھے جس حال میں رکھا ہے بہت اچھا رکھا۔ یاد رکھیں انسان کو دی گئی تمام نعمتوں پر شکرگزاری کا رویہ اختیار نہ کیا گیا تو وہ چھین لی جاتی ہے۔ اور شکرگزاری کا وریہ اختیار کیا جائے تو نعمتیں دوبالا ہوجاتی ہیں، جیسا کہ قرآن کہتا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر احمد عروج مدثر (اکولہ)