میت

میت سے متعلق ہدایات

رسول خداﷺ نے تاکید فرمائی ہے کہ جس پر عالم نزع طاری ہو اسے کلمہ کی تلقین کی جائے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ اہل خانہ ایسے دلنشین لہجے میں کلمے کا ورد کریں کہ جانکنی میں مبتلا فرد یہ پاک کلمہ خود بخود پڑھنے لگے۔ مطلب یہ کہ ایسے فرد کو بلند آہنگی سے اصرار کر کے کلمہ پڑھوانا مناسب نہیں کیوں کہ وہ بڑی اذیت میں ہوتا ہے۔ موزوں طریقہ یہی ہے کہ قریب موجود احباب و اعزہ خود مسلسل کلمہ طیبہ پڑھیں تاکہ اللہ کے حضور جانے والے کو بھی کلمہ پرھنے کی ترغیب مل جائے۔ ایک حدیث شریف میں حکم ہے کہ اپنے مردوں کو لا الٰہ الا اللہ کا توشہ دیا کرو۔ حضور آیۂ رحمت نے بشارت دی ہے کہ مرتے وقت کلمہ طیبہ پڑھنا نصیب ہوجائے تو خطائیں معاف ہوجاتی ہیں۔ آں حضرتﷺ کا ایک اور ارشاد مبارک ہے جس میں یہ خوش خبری سنائی گئی ہے کہ جو شخص نماز کی پابندی کرتا ہے اس کے لیے اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اسے مرتے وقت لا الہ الا لالہ محمد الرسول اللہ پڑھنے کی تلقین کرتا ہے۔

تجہیز و تکفین

نماز جنازہ فرض کفایہ ہے۔ اس کی چار تکبیریں ہوتی ہیں۔ اس نماز کی ثنا اور درود شریف بھی مخصوص ہے۔ مردوں اور عورتوں کی دعائے مغفرت اور بچوں اور بچیوں کی دعائے مغفرت علیحدہ علیحدہ ہے۔ یہ اپنے مسلمان بھائی یا بہن کے ساتھ ہمارا آخری سلوک اور آخری فرض کی ادائیگی ہوتی ہے۔ اس لیے اس پر خاص توجہ کی ضرورت ہے۔

صحابہ کرامؓ تجہیز و تکفین اور تدفین کے تمام فرائض خود انجام دیتے تھے۔ مدتوں یہی دستور رہا۔ بعد کو جب زمانے اور زندگی کی رد بدلی اور نت نئی ترقیات کا دور آیا تو فضا بدلنے لگی۔ اور کفن دفن کے فرائض مختلف خانوں میں بٹ گئے۔ حالانکہ مسنون طریقہ رہی ہے کہ لوگ اپنے عزیز و اقارب کی میتوں کو خود غسل دیں، خود نماز جنازہ پڑھائیں اور قبرستان میں لحد کی تیاری کا کام بھی مل جل کر انجام دیں۔ مگر اس سلسلے میں ہمارے ہاں اجرتی غسل دینے والے اور گورکن کے پیشے رواج پاگئے۔

کہیں کوئی عورت مرجاتی ہے تو مخصوص بڑی بوڑھیاں اسے نہلانے کے لیے بھاگی چلی آتی ہیں۔ وہ نقد اجرت کے علاوہ مرحومہ کے ملبوسات اور غذائی اجناس بھی مانگتی ہیں۔ اسی طرح کسی مرد کا انتقال ہوجائے تو بعض لوگ غسل دینے کے لیے مقامی امام مسجد کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ امام صاحب اپنے منہ سے کچھ مانگیں یا نہ مانگیں نقدی کے آرزو مند ضرور رہتے ہیں۔ مسلمانوں کے معاشرے کو ایسی باتیں زیب نہیں دیتیں۔ میت کو خود غسل دینا چاہیے۔ یہ بڑے اجر و ثواب کا کام ہے۔ افضل یہ ہے کہ میت کو اس کا ولی غسل دے۔ رسالت مآبﷺ کا وصال ہوا تو جناب علی کرم اللہ وجہہ نے غسل دیا اور خود ہی جسم اطہر قبر میں اتارا۔

کفن تمام تر بغیر سلا ہونا چاہیے۔ بعض لوگ کفن کے ایک جز میں گریبان بناتے ہیں پھر اس کی سلائی کراتے ہیں۔ اقوالِ رسول اور آپ کے واقعات سلائی کی تائیدنہیں کرتے۔

میت کے ساتھ قبرستان جاتے ہوئے اپنے انجام پر سوچنا چاہیے۔ دل اس احساس سے مغلوب ہونا چاہیے کہ ایک دن یہ معاملہ ہم پر بھی گزرے گا۔ موت کا ہاتھ بڑھے گا اور ہماری پلکوں سے زندگی کی رونق چھین کر ہماری آنکھوں کو بے نور کردے گا۔ ہمارا منہ بھی کفن سے ڈھانپ دیا جائے گا۔

نماز جنازہ دراصل اللہ تعالیٰ کے حضور متوفی کے لیے مغفرت کی التجا ہے۔ اس لیے ولی ہی کو نماز جنازہ پڑھانی چاہیے، وہ جس تڑپ اور درد مندی سے اپنے عزیز کے لیے یہ آخری فرض ادا کرے گا اس جیسی تڑپ اور دلسوزی کی توقع کسی اور سے نہیں کی جاسکتی۔ ہاں! اگر ولی کسی وجہ سے خود معذور ہے تو معاملہ دوسرا ہے پھر کسی متقی اور صاحب علم بزرگ سے نما زپڑھوانی چاہیے۔ جنازہ کی نماز خواتین بھی پڑھ سکتی ہیں اور انہیں پڑھنی چاہیے یہ چیز رسول پاک کی زندگی سے ثابت ہے۔ جب حضرت سعد بن ابی وقاص کا انتقال ہوا تو ازواجِ مطہرات نے کہلایا کہ ان کا جنازہ مسجد کے قریب سے گزرے تاکہ وہ بھی ان کی نماز جنازہ پڑھ سکیں، چنانچہ مسجد نبوی لایا گیا جہاں امہات المومنین نے ان کی نماز جنازہ ادا کی۔

نماز جنازہ پڑھنے کا طریقہ

جنازہ کی نماز میں چار تکبیریں ہوتی ہیں:

پہلی تکبیر پر ہاتھ کانوں تک لے جاؤ۔ پھر ہاتھ باندھ لو اور ثنا پڑھو۔

سبحنک اللہم و بحمد و تبارک اسمک و تعالیٰ جدک و جل ثناء ک ولا الہ غیرک

ترجمہ: اے پروردگار! تو اپنی حمد و ثنا سمیت پاک اور برتر ہے۔ تیرا نام نہایت خیر و برکت کا حامل ہے۔ تیری بزرگی اور بڑائی بہت بلند ہے اور تیری تعریف بڑی عظمت والی ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘

دوسری تکبیر پر ہاتھ نہ اٹھاؤ۔ درود شریف پڑھو:

اللہم صل علی محمد و علی آل محمد کما صلیت و سلمت و بارکت و رحمت و ترحمت علی ابراہیم انک حمید مجید

ترجمہ: یا اللہ! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر او ران کی آل پر رحمت فرما جس طرح تونے حضرت ابراہیم اور انکی آل پر رحمت کی۔ سلام بھیجا۔ برکت دی۔ مہربانی کی اور رحم فرمایا۔‘‘

تیسری تکبیر بھی ہاتھ اٹھائے بغیر کہو اور میت کے لیے یہ مسنون دعا پڑھو۔ یہ دعائے مغفرت بالغ مرد اور عورت کے لیے ہے:

اللہم اغفر لحینا و میتنا و شاہدنا و غائبنا و صغیرنا و کبیرنا و ذکرنا و انثنا اللہم من احییتہ منا فاحیہ علی الاسلام و من توفیتہ منا فتوفیہ علی الایمان

ترجمہ: اے رب کریم! ہمارے ہر زندہ اور متوفی کو تمام حاضر باش اور غائبین کو۔ ہر چھوٹے بڑے کو۔ تمام مردوں اور تمام خواتین کو بخش دے۔ اے ہمارے پروردگار! تو ہم میں سے جسے زندہ رکھے اسے اسلام پر زندہ رکھ اور جسے موت دینا چاہیے اس کا خاتمہ ایمان پر فرما دے!‘‘

چوتھی تکبیر پر سلام پھیر دو۔

نابالغ بچے کی میت کے لیے یہ دعا پڑھنی چاہیے:

اللہم اجعلہ لنا فرطا و اجعلہ لنا اجرا و ذخرا و اجعلہ لنا شافعا و مشفعا

ترجمہ: اے خدائے بزرگ و برتر اس بچے کو ہمارے لیے ذریعہ مغفرت بنا دے۔ اسے ہمارے لیے اجر اور ذخیرہ آخرت بنا دے۔ اسے ایسا سفارشی بنا کہ اس کی سفارش تیری بارگاہ عالی میں قبول ہوجائے۔‘‘

نابالغ بچی کے لیے دعا:

اللہم اجعلھا لنا فرطا و اجعلھا لنا اجرا و ذخرا و اجعلھا لنا شافعۃ و مشفعۃ

ترجمہ:اے خدائے بزرگ و برتر اس بچی کو ہمارے لیے ذریعہ مغفرت بنا دے اسے ہمارے لیے اجر اور ذخیرہ آخرت بنا دے۔ اسے ایسا سفارشی بنا کہ اس کی سفارش تیری بارگاہ عالی میں قبول ہوجائے۔‘‘

تعزیت کے آداب

تعزیت کے مجمع میں ادھر ادھر کی فضول باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔ سکون سے بیٹھنا چاہیے، خاموشی سے اللہ کا ذکر کرنا چاہیے۔ مرنے والے کی مغفرت اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کرنی چاہیے اور انھیں دلسوزی سے کلام الٰہی کے ارشادات یاد دلانے چاہئیں کہ یہ دنیا امتحان گاہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کارگاہ سود و زیاں میں ہم سب کی آزمائش کر رہا ہے۔ کبھی ہماری آزمائش دشمنوں کے خوف سے ہوتی ہے، کبھی حوادث پیش آتے ہیں۔ کبھی فقر و فاقہ کے دن چھا جاتے ہیں۔ کبھی فصل گھٹ جاتی ہے۔ غرض ہر طرح کے مالی اور جانی نقصان کے ذریعے آزمائش کی جاتی ہے، جب اس قسم کے ملال انگیز مواقع آن پڑیں تو صبر کرنا بڑے اجر و ثواب کا موجب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضورؐ کے ذریعے صبر کرنے والوں کو بشارت دی ہے کہ جب ان پر کوئی مصیبت ٹوٹ پڑتی ہے تو وہ انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھتے ہیں۔

حضرت معاذ بن جبلؓ کا بیٹا فوت ہوگیا ت ورسولِ رحمتؐ نے انھیں تعزیتی مکتوب ارسال فرمایا۔ اس نامہ مبارک میں غم زدہ دلوں کے لیے تسکین اور اصل حقیقت کے ادراک کا کتنا محکم اور البیلا سامان موجود ہے۔ مزید برآں اس نامہ مبارک سے ہمیشہ کے لیے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ تعزیت کس طرح کرنی چاہیے۔

محمد الرسول اللہؐ کی جانب سے معاذ بن جبلؓ کے نام!

’’تم پر سلامتی ہو! میں تمہارے سامنے اللہ کی تعریف کرتا ہوں، جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔‘‘

حمد و ثنا کے بعد اللہ تمہیں اجر عظیم عطا فرمائے اور صبر کی توفیق دے اور ہمیں اور تمھیں شکر و سپاس ادا کرنا نصیب فرمائے۔ اس لیے کہ بے شک ہماری جانیں، ہمارا مال، ہمارے اہل و عیال اور ہماری اولاد سب ہمارے خدائے بزرگ و برتر کے مسرت بخش عطیے اور عارضی طور پر سپرد کی ہوئی چیزیں ہیں، جن سے ہمیں ایک مخصوص مدت تک فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جاتا ہے اور مقررہ وقت پر اللہ تعالیٰ ان کو (واپس) لے لیتا ہے ہم پر فرض عائد کیا گیا ہے جب وہ عطا فرمائے ہم شکر ادا کریں اور جب وہ ان کو واپس لے تو صبر کریں۔

تمہارا بیٹا بھی اللہ کی انہی مسرت بخش نعمتوں اور سپرد کی ہوئی عارضی چیزوں میں سے ایک مستعار عطیہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس سے قابل رشک اور لائق مسرت کے طور پر نفع پہنچایا اور (اب) اجر عظیم، رحمت و مغفرت اور ہدایت کے عوض دے کر واپس لے لیا بشرطے کہ تم صبر و شکر کرو، لہٰذا تم صبر و شکر کرو (دیکھو) تمہارا رونا دھونا تمہارے اجر کو ضائع نہ کردے اور پھر تمہیں پشیمانی اٹھانی پڑے۔ یاد رکھو رونے دھونے سے کوئی چیز نہ لوٹ کر آئی ہے نہ اس سے کسی غم کا مداوا ہوتا ہے اور جو ہونے والا ہے وہ تو ہوکر رہے گا۔ تم پر سلامتی ہو۔‘‘

حضرت ابن عباسؓ ایک مرتبہ سفر کر رہے تھے۔ راستے میں اپنے بیٹے کے انتقال کی خبر سنی۔ فوراً سواری سے اتر پڑے۔ دو نفل پڑھے۔ سکون اور وقار کے ساتھ انا للہ و انا الیہ راجعون کہا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسی عمل کا حکم دیا ہے۔ بعد ازاں آیت مبارک و استعینوا بالصبر و الصلوۃ کا ورد فرمانے لگے۔ حضرت عبادہؓ کے انتقال کا وقت قریب آیا تو عزیز و اقارب کے مجمع سے فرمایا کہ میں تم سب کو رونے کی ممانعت کرتا ہوں۔ ہاں جب میری جان نکل جائے تو ہر شخص بہت اہتمام سے اچھی طرح وضو کرے۔ مسجد جائے میرے اور اپنے لیے دعائے مغفرت کرے۔ اس کے بعد مجھے بلاتاخیر دفن کردیا جائے۔

علمائے کرام نے بخاری شریف سے ایک واقعہ نقل کیا ہے جب حضرت جعفر طیارؓ انتقال کر گئے تو رسالت مآبٔ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی مرحوم کے گھر کھانا بھیج دے۔ حضور کے اس عمل مبارک میں کیسا انسانیت آموز سبق چمک رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب کوئی انتقال کر جاتا ہے تو اس کے گھر والے غم سے نڈھال ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنے یا تعزیت کی غرض سے آنے والے احباب کے لیے کچھ کھانے پکانے سے قاصر ہوتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں اگر ان کا کوئی عزیز یا پڑوسی ان کے کھانے کا اہتمام کر دے تو یہ یقینا بڑا کار ثواب ہے۔

(ماخوذ اردو ڈائجسٹ، مرسلہ: اقبال احمد ریاض)

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

تبصرہ کیجیے