mother

میری ماں

حضرات!
دنیا لیل و نہار کی گردش کا نام ہے، خزاں اور بہار کے آنے جانے کا نام ہے، لیکن میری ماں پر اللہ اپنی رحمت نازل فرمائے، ان کی زندگی ایک ایسی طویل رات کی مانند تھی جو سپیدیِ صبح کا منہ نہ دیکھ سکی، ان کی زندگی اس خزاں کی مانند تھی جس میں بہار اپنی منزل سے بھٹک گئی اور کبھی خزاں کو نہ پا سکی ۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ میری ماں بدبختی کی ماری اور ہر خوشی سے محروم تھی، بل کہ یوں کہوں کہ انھیں کبھی بھی زندگی کا سکھ نصیب نہیں ہو ا۔ ان کے والد شیخ ابوالفتح الخطیب چار بھائیوں میں سب سےچھوٹے تھے۔سماج کے اندر چاروں بھائیوں کا الگ مقام اور شہرت تھی۔ لیکن شیح ابوالفتح دوسرے بھائیو ں کے مقابلے میں زہد اور دنیا بے زاری کی طرف میلان رکھتے تھے اور عہدہ و مال اور منصب کی خواہش و آرزو سے بے نیاز تھے۔ مکتبہ ظاہریہ کی تاسیس کے اول روز سے اس کے انچارج کی حیثیت سے کام کرتے رہے، جسے شیخ طاہر الجزائری نے مدرسۃ الملک الظاہر میں قائم کیا تھا۔ مساجد کے اندر جو بھی وقف شدہ کتابیں تھیں اور ضائع ہونے کے قریب تھیں، ان سب کو انھوں نے مکتبہ ظاہریہ (ظاہریہ لائبریری) میں جمع کر دیا تھا۔ جس کی وجہ سے آج یہ لائبریری کتب حدیث اور نادر مخطوطات سے مالا مال ہے۔

ان کا حال یہ تھا کہ جب عشاء کے بعد گھر واپس آتے تو اپنی بیوی سے کہتے: ’’آسیہ! کھانے کو کچھ ہے؟ وہ ان کے لیے دسترخوان سجا کر لے آتیں تو پوچھتے: بچوں نے کھا لیا؟ ان کےایک بیٹا محب الدین اور دو بیٹیاں تھیں۔بیوی جواب دیتیں کہ ہاں کھالیا ، تو کھانے کے دو حصے کرتے ۔ ایک حصے پر نمک اور پانی ڈالتے اور کھا لیتے اور دوسرا حصہ چھوڑ دیتے۔

ان کا گزر ایک سبزی فروش کے پاس سے ہوتا تھا۔ گھر کی طرف واپس آتے ہوئے اس کے پاس جو بھی نہ بک پانے والی سبزیاں ہوتیں ، اس پر ترس کھا کر سب خرید کر گھر لے آتے۔ بیوی ان پر چیختی چلّاتی اور برا بھلا کہتی۔ ان کی بیوی مال دار گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں اور سخت تھیں۔ وہ بیوی کی باتوں کو صبر اور بردباری کے ساتھ سنتے اور اس وقت تک کچھ نہ کہتے جب تک وہ اپنے سینے کا سارا غبار باہر نہ نکال دیتیں۔ پھر جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوجاتا تو کہتے: ’’آسیہ! وہ ہمارا پڑوسی ہے، غریب سبزی فروش ہے۔ اگر یہ سبزیاں بے کار ہو جاتیں تو قیمت بھی کم ہوجاتی۔ کم قیمت کے بوجھ کو برداشت کرنا اس کے مقابلے ہمارے لیے آسان ہے۔ آسیہ! وہ کشتی جس میں اللہ کے نام کی کوئی چیز نہ ہو ڈوب جاتی ہے۔ یہ دنیا فنا ہونے والی ہے۔ ایسا کوئی کام کرو جو باقی رہنے والی آخرت میں کام آئے۔ اگر تمھیں ان سبزیوں کی ضرورت نہیں ہے تو سرائے میں رہنے والے لوگوں کو دے دو۔ ‘‘محلے کے بیچوں بیچ ایک سرائے تھی جس میں بہت سے غریب خان دان رہتے تھے، جنھیں کوئی چیز مشکل سے ہی مل پاتی تھی۔

جب تک بیوی خوش نہ ہوجاتی اور جب تک اپنی بردباری سے ان کے غصے کی آگ کو بجھا نہ دیتے تھے، ان کے پیچھے پڑے رہتے تھے۔اس طرح اپنے زہد کی صداقت سے بیوی کے کبر و غرور اور دنیا سے محبت کو ختم کر دیا کرتے تھے۔

نانا شیخ ابوالفتح کا ۱۳۱۵ھ میں انتقال ہو گیا۔ اس وقت میری ماں آٹھ سال کی اور ان کے بھائی محب الدین بارہ سال کے تھے۔ نانی بھی اپنے شوہر کے پیچھے پیچھے دنیا سے سدھا ر گئیں تو بھائی اور بہن کی تربیت کی ذمہ داری ان کی بڑی بہن (یعنی میری خالہ) کے سر پر آگئی۔ ان کی بڑی بہن کٹّر اور سخت مزاج تھیں۔ ان کا اپنا ایک بیٹا بھی تھا، شریف الخطیب، جو کہ میری ماں اور ان کے بھائی (میرے ماموں محب الدین الخطیب) کا ہم عمرتھا۔دونوں بچوں کے ساتھ وہ بہت سختی سے پیش آتی تھیں۔ ان کی نگرانی میں گھر کسی ملٹری اسکول کی مانند ہوا کرتا تھا۔ بلکہ شاید ملٹری اسکول کا افسر تو نرم مزاج اور جذباتی ہوتا ہوگا، لیکن میری خالہ نظم اور ڈسپلن کے علاوہ کسی چیز سے واقف نہیں تھیں۔ ملکِ شام میں ایسی عورتوں کو ’اخت الرجال‘ کہا جاتا ہے۔ سردیوں کی ایک رات بالکونی پر انھیں کسی مرد کا سایہ نظر آیا۔ انھوں نے چلا کر اسے للکارا، لیکن وہ نہیں گیا اور اتراکر اور مٹک چال کے ساتھ اندر باہر ہوتا رہا۔ خالہ نے اسے دھمکایا، لیکن وہ اپنی جگہ ڈٹا رہا۔ انھوں نے بندوق اٹھائی اور کھڑکی کا دروازہ کھول کر بندوق کی نال اس کی طرف تانی اور گولی چلا دی۔

اس زمانے میں گھر پتھر، لکڑی اور مٹی کے بنے ہوئے ہوتے تھے ۔ ایک دوسرے سے بالکل متصل اور قریب قریب ہوتے تھے۔ کوئی چاہے تو گھروں کی چھتوں سے گزر کر محلے کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہنچ سکتا تھا اور زمین پر قدم رکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ لوگوں نے گولی کی آواز سنی۔ کسی کو پڑوسی کے گھر میں پہنچنا ہو تو چھجے سے کود کر چلا جاتا تھا۔ پڑوسی چلائے یا اللہ یا ستار۔ تاکہ گھر کے اندر کودنے سے پہلے عورتیں پردے میں چلی جائیں۔ پھر بولے: ام شریف! کیا ہوا؟ اللہ خیر کرے۔ گولی کی آواز سنائی دی تھی۔

بولی: ہاں، حرام زادہ ، بلاشبہ میری گولی سے مارا گیا، کیوں کہ میرا نشانہ خطا نہیں ہوتا۔ خالہ کا شمار ان بوڑھی عورتوں میں ہوتا تھا جو تیر اندازی میں ماہر تھیں۔ پڑوسی چھت پر چڑھ گئے۔ وہا ں انھیں خالو ( شیخ عبدالفتاح الخطیب) کی شلواریں رسی پر ٹنگی ہوئی نظر آئیں۔ اس رات تیز ہواچلنے کی وجہ سے ان کے پائچوں میں ہوا بھر جاتی تھی اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ کوئی آدمی چلتا ہوا آ رہا ہے۔ پڑوسیوں نے دیکھا کہ بندوق کی گولی نے شلوار میں سوراخ کر دیا تھا۔ خالہ بولیں: دیکھا، میں نے کہا تھا نا کہ میرا نشانہ صحیح لگتا ہے؟

ماں سترہ سال کی تھیں جب ان کی شادی ہوئی۔ وہ ایک ایسے گھر سے نکل کر جہاں ضروریات و لوازماتِ زندگی تو تھے لیکن جفاکشی اور اسباب عیش و تفریح سے محروم زندگی کے علاوہ کچھ نہیں تھا،دوسرے ایسے ہی گھر میں جاپہنچیں جہاں جفاکشی اور اساب عیش و تفریح سے محروم زندگی کے سوا کچھ نہیں تھا۔ جس گھر میں اب تک تھیں وہاں ایک سخت مزاج عورت کی حکم رانی تھی، جس کا حکم قانون کا درجہ رکھتا تھا کہ اس کو مان لیا جائے ورنہ حکم عدولی کرنے والے کی مصیبت آ جاتی تھی۔ اب اس گھر سے منتقل ہو کر ایک ایسے گھر میں آ گئی تھیں جہاں ایک عمامہ بردارشیخ (یعنی میرے دادا) کی حکم رانی تھی۔ البتہ وہ مزاج اور پیشے دونو ں کے اعتبار سے ملٹری مین تھے۔ وہ ایک بٹالین کے کمانڈر تھے اور فوجی عہدے کے مالک تھے۔ سخت مزاج، جن کا حکم ہی قانون تھا، اور اس کی مخالفت موت تھی۔ ابّا نرم مزاج و نرم خو تھے، لیکن اپنے باپ کے گھر میں ان کی ایک نہیں چلتی تھی۔ دوسرے یہ کہ ابّا [پیشے سے] معلم تھے، اور طریقہ تعلیم سخت گیری پر مبنی تھا۔ اس طریقہ تعلیم میں ڈانٹ ڈپٹ اور سزا کو ترغیب اور حوصلہ افزائی پر فوقیت حاصل تھی۔

اس وجہ سے ماں وہ خوشی نہیں پا سکی جس کا خواب ہر بیٹی اپنے باپ کے گھر میں رہتے ہوئے دیکھتی ہے۔ اپنے باپ کے گھر میں انھوں نے ماں باپ کے سایہ شفقت سے محرومی کی حالت میں دن گزارے تھے۔ماں کے بعد ان کی بڑی بہن ہی ماں کے درجے میں تھیں۔ انھوں نے ہی ماں کو اپنی چھاتی کا دودھ پلایا اور اپنے بھائیوں اور بیٹے کے ساتھ ان کی پرورش کی تھی۔ لیکن وہ (خالہ) مزاج کی سخت تھیں نرمی اور لچک سے انھیں نفرت تھی۔ جذبات کا کبھی اظہار نہیں کرتی تھیں اور شاید ( واللہ اعلم) چھپاتی بھی نہیں تھیں، کیوں کہ یہ چیز ان کے پاس تھی ہی نہیں۔ میں یہ نہیں چاہتا کہ انھیں ظالم قرار دوں۔ اللہ میری اور خالہ کی مغفرت فرمائے۔ انھوں نے میری ماں کا بہت خیال رکھا۔ اللہ ان پر رحم فرمائے۔ ماں کو شوہر کے گھر میں بھی زندگی کا جذباتی و نفسیاتی سکون اور خوشی میسر نہیں رہی۔اس لیے انھوں نے اپنے تمام جذبات اور قلبی بہاؤ کا رخ اولاد کی محبت کی طرف کر دیا تھا۔ وہ اپنی ہر خواہش کو پا نہیں سکیں، اس لیے اس کا بدلہ انھوں نے اس طرح لیا کہ اپنے بیٹوں کی ہر جائزہ و حلال خواہش کو پورا کیا، کیوں کہ حرام کی کوئی گنجائش ان کے شوہر (والد صاحب) کے گھر میں نہیں تھی، اور نہ ان کے والد (نانا) کے گھر میں ایسی کوئی گنجائش تھی۔

لیکن جیسا کہ مثل مشہور ہے کہ ایک چیز آنکھوں کے سامنے ہے لیکن دست رس سے باہر ہے، انھیں یہ تو معلوم تھا کہ کیا چاہیے، لیکن اس تک رسائی کا راستہ انھیں معلوم نہیں تھا۔ چنانچہ جس چیز کے لیے وہ اپنے پیسے خرچ کرنے سے عاجز رہتی تھیں وہاں اپنی قربانی دے دیا کرتی تھیں۔ ایسا عید کے موقع پر ہوتا تھا۔ وہ مٹھائیاں خریدنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتی تھیں، حالاں کہ شام کی مٹھائیاں لذیذ اور معیاری ہوتی ہیں، لیکن مہنگی ہوتی ہیں۔ پھر جب حکومت نے مٹھائیوں کے دام متعین کر دیے اور متعین کردہ قیمت سے مٹھائی کا خرچ نہیں نکل پاتاتھا تو لوگ دیسی گھی کی جگہ نقلی گھی استعمال کرنے لگے۔ طرح طرح کی دھوکے بازیاں شروع ہو گئیں۔ اُس وقت کے لوگ فرشتے نہیں تھے، نہ سب کے سب ابوبکر و عمرؓ جیسے تھے۔ ہمارے زمانے میں دھوکے باز تھے، لیکن یہ دھوکے بازی ظاہرہوتی تھی۔ اسے پکڑنا آسان ہوتا تھا۔ موجودہ تہذیب کی دھوکا دھڑی کو تو کوئی ماہر ہی پکڑ سکتا ہے۔ یہاں تک ہم نے سنا ہے کہ بعض فیکٹریوں میں کیمیاگر ہوتے ہیں ، جن کی بڑی بڑی تن خواہیں ہوتی ہیں اور ان کا کام دھوکا دھڑی کو چھپانا ہوتا ہے۔ حکومت بھی اپنا ایک کیمیاگر رکھتی ہے ۔ اس کی بھی بڑی تن خواہ ہوتی ہے اور اس کا کام اس دھوکا دھڑی کو سامنے لانا ہوتا ہے۔ یہ لوگ جو بھی چیزیں بناتے ہیں ، دیکھنے میں مضبوط، بہتر ہوتی ہیں، لیکن زیادہ مقدار میں ہوتی ہیں اور خراب ہو جاتی ہیں۔ ایسا اس لیے نہیں کہ انھیں خرابی سے لگاؤ ہوتا ہے بلکہ زیادہ مال کمانے کے لیے۔ حتی کہ پرانی گاڑیاں جن سے میں بچپن میں واقف تھا ، مضبوط لوہے سے بنی ہوئی ہوتی تھیں۔ اور نئی گاڑیوں کے بونٹ پر اگر آپ نے گھونسا مار دیا تو اس پر گھونسے کا نشان پڑ جائے گا۔ دوائیوں کے ڈبے لوہے کےہوا کرتے تھے، اب کاغد کے ہونے لگے ہیں۔ بیگ چمڑے کے ہوا کرتے تھے جو اللہ معلوم اب کس چیز کے بننے لگے ہیں، چمڑے کے تو بہر حال نہیں ہوتے۔

عید آتی تو میری ماں جن مٹھائیوں کو قیمتاً نہیں خرید پاتی تھیں، انھیں اپنے ہاتھوں سے بناتی تھیں اور ایک مٹھائی کے بجائے ہر بچے کے لیے الگ مٹھائی بناتی تھیں۔ جسے جو مٹھائی پسند ہوتی وہی اس کو پیش کرتیں، خواہ اپنا چین آرام اور صحت قربان کرنی ہوتی۔ بہت سے ممالک کے لوگ چند گنے چنے کھانوں سے واقف ہوتےہیں اور انھی کو دہراتے رہتے ہیں۔ لیکن شامی کچن کے سینکڑوں قسم کے کھانے ایسے ہیں جن کی مثال دیارِ شام سے باہر نہیں ملتی۔ ان قسم قسم کے کھانوں کی گنتی میرے بس میں نہیں ہے، کیوں کہ میں تمام کھانوں سے واقف نہیں ہوں۔ لیکن مثال کے طور پر چند کے نام لے سکتا ہوں۔ مثلاً گوشت کی ڈشز میں :بھنا ہوا، فرائی، چینی گوشت، ہندستانی کباب، سرکہ گوشت، داؤد پاشا۔۔۔۔۔ بینگن: منزلہ، منسقہ، امام بایلدی (یہ ترکی نام ہے جس کا مطلب ہوتا امام داخ ) مقلوبہ،یعنی ابلے ہوئے چاولوں پر گوشت، صنوبر اور بادام کے ساتھ بینگن ڈالا جاتا ہے۔۔۔ گھیا: منزلہ، گھِسا ہوا، بھرواں گھیا، مکمور، یعنی گھیا کو اندر سے خالی کر کے اس میں گوشت، بادام اور صنوبر بھر دیا جاتا ہے اور پھر شوربے کے ساتھ پکایا جاتا ہے۔ شیخ مغشی،یہ بھی مکمور کی طرح ہوتا ہے لیکن اس کا شوربہ دودھ اور دہی میں پکایا جاتا ہے۔ دودھ: شاکریہ، لبنیہ، شیش برک، فولیہ۔ ہر ڈش کو بنانے کا الگ انداز ہوتا ہے۔۔۔ وغیرہ۔ اگر میں ان کھانوں کو گنانے بیٹھوں جو شام کی عورتیں بناتی ہیں تو یہ صفحات کم پڑ جائیں گے اور قاری پریشان ہو جائے گا۔

ابّا کے بعد ماں سات سال زندہ رہیں۔ اولاد کے سوا ان کی کسی چیز میں دلچسپی نہیں تھی۔ انھیں کھلاتیں، پہناتیں اور مجھے یہ ترغیب دیا کرتیں کہ بھائیوں کے ساتھ مل کر ان کے اسباق دیکھوں اور ان کی کتابوں کا جائزہ لیتا رہوں۔ کیوں کہ وہ خود تو پڑھی لکھی نہیں تھیں، کبھی اس طرح مدرسے نہیں گئی تھیں جس طرح ان سے پہلے میری پھوپھی گئی تھیں۔ قضیے میں میری دلچسپی کی وجہ سے میں نے ان کی پریشانی میں اضافہ کر دیاتھا۔ اس زمانے میں قضیے کا مطلب تھا مسئلۂ آزادی اور استعماری قوتوں کے خلاف جنگ۔ ایسا ہوتا تھا کہ جب بھی میں کسی اجتماع میں خطاب کے لیے جاتا، یا وہ یہ سن لیتیں کہ میں نے کسی مظاہرے کی قیادت کی ہے، یا نوجوانوں کو بھوک ہڑتال کے لیے آمادہ کیا ہے، یا کوئی بھڑکاؤ مضمون تحریر کیاہے جس میں حکم رانوں کی خبر لی گئی ہے تو ڈر کے مارے ان کا دل کانپنے لگتا تھا۔ ایک بار مجھے پولیس اسٹیشن میں رکنا پڑا ، اور ایک بار مخفر میں رکنا پڑا ۔ کسی نے ان کو خبر کر دی۔ انھوں نے برقع پہنا اور اپنے بھانچے شیخ شریف کے پاس ان کے مدرسے میں پہنچ گئیں۔ انھوں نے مدد کرنے سے انکار کر دیا اور یہ بھی کہا کہ میں پڑھا رہا ہوں۔ ماں نے ان پر اور ایسی پڑھائی پر لعنت بھیجی جو ان کے بیٹے کی مدد کرنے سے روک دے۔ شیخ شریف ان کے رضاعی بھائی ، ہم عمر اور بچہن کے ساتھی بھی تھے۔ وہ کبھی کبھی مجھے پیٹنے کی کوشش بھی کیا کرتے تھے تو ماں ان پر اس طرح ٹوٹ پڑتی تھیں جس طرح مرغی اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے ٹوٹ پڑتی ہے، پروں کو کھڑا کر لیتی ہے، زور زور سے ککڑانے لگتی ہے اور اپنی چونچ سے ڈراتی ہے، خواہ حملہ آور اس سے کتنا ہی طاقت ور اور مسلح ہو۔

وہ سیاہ دن بھی آگیا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے وہ بدھ کا دن تھا اور صفر ۱۳۵۰ھ کی ۲۰ تاریخ تھی۔ ۵۳ سال بیت چکے ہیں اس واقعے کو، لیکن آج بھی وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے تازہ ہے گویا کل کی بات ہے۔

میں گھر واپس آیا توماں کے پیر پر پٹی بندھی ہوئی دیکھی۔ فوراً انھوں نے میرے کان میں سرگوشی کے انداز میں کہا کہ قینچی گر جانے کی وجہ سے پیر میں ہلکا سا زخم ہو گیا ہے۔ میں ڈاکٹر کو بلانے کے لیے چلا تو بولیں: نہیں۔ وہ ڈاکٹر کو بلا کر مجھے پریشان نہیں کرنا چاہتی تھیں او رنہ یہ چاہتی تھیں کہ بھائیوں کو اس چوٹ کے بارے میں بتا کر انھیں پریشان کریں۔ انھوں نے چوٹ کو ہلکے انداز میں بتایا تو میں نے بھی چوٹ کو معمولی ہی سمجھ لیا اور اس پر تھوڑا یود کا گوند لگا دیا۔ میں اپنے لکھنے کے کام کی طرف متوجہ ہو گیا اور اس کے بارے میں کوئی خیال نہیں کیا او رنہ مجھے یہ معلوم تھا کہ یہ زخم میرے خیال و فکر کو اپنی گرفت میں لے لے گا اور میری زندگی کو متاثر کر جائے گا۔

صبح اٹھا تو انھوں نے مجھے یہ باور کرایا کہ زخم ٹھیک ہو چکا ہے۔ یہ تو بعد میں معلوم ہو ا کہ انھوں نے ساری رات جاگ کر کاٹی تھی، کیو ں کہ درد نے انھیں سونے نہیں دیا تھا۔ گھر کے اندر چکر کاٹ رہی تھیں ۔ اولاد کی محبت بچوں کو جگانے سے روک رہی تھی۔ اپنی تکلیف کے باوجود ایک ایک کرکے ہر بچے پر نگاہ ڈال رہی تھیں، گویا انھیں چھوڑکر جانے والی ہیں۔ انھوں نے مجھے کچھ نہیں بتایا۔ اگر انھیں زخم کو چھپانے کا انجام معلوم ہوتا تو مجھ پر رحم کھا کر بتا دیتیں اور میں اس کے علاج کے لیے کوشش کرتا یا کم از کم اس ندامت سے نجات پا جاتا جو میرے دل کو نچوڑتی رہتی ہے، کیو ں کہ میں نے ان کا خیال رکھنے میں کوتاہی کی تھی۔ میں بھائیوں کے ساتھ ادب کے موضوع پر باتیں کرتا رہتا تھا اور ماں ایک ایسے درد میں مبتلا تھیں جس کا ہمیں علم نہیں تھا اور نہ اسے برداشت کرپا رہی تھیں۔

تیسرے دن جب درد شدید ہو گیا اور اتنا شدید ہو گیا کہ برداشت کرنا ان کے بس میں نہیں رہا تو مجھے بتایا۔ اس وقت میرے جگری دوست انور العطارؒ میرے ساتھ تھے۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ کسی جراح کے پاس لے جاؤں۔ ہسپتال کے ڈاکٹروں کے علاوہ اس وقت کے مشہور سرجن ڈاکٹر احمد راتب تھے۔ میں نےگاڑی منگائی ۔ انھیں گاڑی میں بٹھایا اور ڈاکٹر کے کلینک پہنچ گئے، لیکن وہ نہیں ملے۔ ایک آدمی انھیں تلاش کرنے گیا تو شارع بغداد پر ایک چائے خانے میں ملے۔ انھوں نے زخم کو صاف کرنے کے لیے پیر میں چیرا لگایا ، لیکن نشتر کو صاف کیے بغیر۔ اس طرح علاج کے بجائے بیماری کے اسباب پیدا کر دیے۔

ماں کو گھر واپس لے آیا، لیکن اچانک درد کم ہونے کے بجائے بڑھ گیا ۔ زخم پیر میں تھا، بڑھتا ہوا پنڈلی تک پہنچ گیا۔ میں نے اپنے دوست صبری القبانیؒ کو بلایا۔ وہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں انٹرنل ڈاکٹر کے طور پر کام کرتے تھے۔ انھو ں نے ماں کا زخم دیکھا تو کہا: دیکھ کیا رہے ہو؟ ہسپتال لے چلو۔

ہم ہسپتال گئے تو ڈاکٹر نظمی القبانی وہاں موجود تھے۔ انھوں نے ماں کوفوراً آٖپریشن تھئیٹر میں داخل کیا اور میں باہر کھڑا اس طرح انتظار کرنے لگا جس طرح ملزم عدالت کے سامنے اپنی بے گناہی یا سزائے موت کا حکم سننے کے لیے کھڑا رہتا ہے۔ کھڑے کھڑے کافی دیر ہوگئی۔ ایک ایک منٹ مجھ پر بھاری گزرنے لگا یہاں تک کہ سر کے اوپر دیوار پر ٹنگی ہوئی گھڑی کی ٹک ٹک بھی سر پر ہتھوڑے کی طرح محسوس ہو رہی تھی۔آخرکار دروازہ کھلا او رڈاکٹر صبری آپریشن تھئیٹر سے یہ کہتے ہوئے باہر آئے: پنڈلی کاٹنی پڑے گی۔ یہاں اپنی رضامندی لکھ دو۔ انھوں نے سوچنے کا موقع بھی نہیں دیا کیو ں کہ اس کا موقع تھا بھی نہیں۔ دیر کرنے کی گنجائش نہیں تھی۔ میں نے رضامندی لکھی اور وہ کاغذ لے کر اندر چلے گئے۔ میں حواس باختہ انسان کی طرح کھڑا رہ گیا۔ سوچ رہا تھا کہ وہ دو ٹانگوں سے اندر گئی تھیں ، ایک ٹانگ سے کیسے واپس آئیں گی۔ صورت حال مجھے کاٹ رہی تھی،میں بھول گیا تھا کہ بعض تکلیف دہ امر دوسرے تکلیف دہ امور کے مقابلے میں ہلکے ہوتے ہیں اور انسان اس وقت مصیبت کی تمنا کرتا ہے جب اس سے بھی بڑی مصیبت اس کے سامنے آگئی ہو۔

دروازہ کھلا تو یہی سوچا کہ پیر کاٹ دیا گیاہے۔ پھر ڈاکٹر صبری نظر آئے۔ زبان سے پہلے ان کے چہرے نے ماجرا کہہ سنایا کہ ماں نہ ایک ٹانگ سے باہر آئیں گی نہ دو ٹانگوں سے ۔ اب تو وہ کندھوں پر اٹھاکر لائی جائیں گی۔

ماں کا انتقال ہو چکا تھا

شیئر کیجیے
Default image
شیخ علی طنطاوی، ترجمہ: تنویر آفاقی

تبصرہ کیجیے