ghazall

غزل

حال ہمارا کیا پوچھو ہو آگ دبی اکساؤ ہو
شعلے کب کے راکھ ہوئے اب خاک انھیں لہکاؤ ہو
پیڑ پہ جب پھل پات نہیں تو پت جھڑ کیا لے جائے گا
خرمن کب کا خاک ہوا بیکار ہمیں دھڑکاؤ ہو
کوئی ڈگر ہموار ملے تو اس کے سادھن کر ڈالو
ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈی پر جان کے دھوکا کھاؤ ہو
رشتے ناتے گانٹھ گرہ سے روز الجھتے جاتے ہیں
الجھن کی ہے ریت پرانی اس کو کیا سلجھاؤ ہو
کیسی کوئی چاہت واہت، بہکی بہکی باتیں ہیں
اپنی اپنی راہ لگو کیا سنکے کو سنکاؤ ہو
رضواںؔ تم کیا ناداں ہو کچھ کہنی اپنی کہہ ڈالو
دنیا کی جب آنکھ کھلے ہے تم ہی کیوں سوجاؤ ہو

شیئر کیجیے
Default image
رضوان اللہ ، نئی دہلی

تبصرہ کیجیے