jhgara

جھگڑا

اسکول میں یومِ والدین کی تقریب اختتام پذیر ہوئی تو ایک منّی طالبہ روتی ہوئی معروف مہمانِ خصوصی کے پا س آکھڑی ہوئی، جنھوں نے والدین کی باہم محبت پر بہت عمدہ تقریر کی تھی۔ بچی کی آنکھوں میں آنسوؤں کا سمندر تھا۔ مہمانِ خصوصی نے تسلی اور دلاسہ دیا تو اس نے رونا بند کیا۔ طالبہ نے اپنی نوٹ بک مہمان کو تھمائی کہ اس پر میرے والدین کو تنبیہ لکھ دیں کہ وہ آپس میں جھگڑنا بند کریں۔ میرے ابو بلا وجہ امی کو ڈانٹتے رہتے ہیں۔ فضول جھگڑے سے امی ناراض ہوکر نانو کے گھر چلی جاتی ہیں۔ مجھے اپنے گھر سے ڈر لگتا ہے۔ سر! پلیز اِس میں میری امی کو لکھ دیں کہ وہ واپس گھر آجائیں اور ابو کو بھی لکھ دیں کہ وہ امی سے خواہ مخواہ جھگڑا نہ کریں۔ بچی کے بے ترتیب جملے جاری تھے کہ مہمانِ خصوصی کا موبائل بجا۔ وہ غصے سے اپنے گھریلو ملازم سے کہہ رہے تھے : ’’کیا کہا بیگم صاحبہ پھر ناراض ہوکر میکے چلی گئی ہیں۔ اب میں کیا کرسکتا ہوں۔ تم کسی طریقے سے بچوں کو کھانا کھانے پر آمادہ کرو، میں شام سے پہلے گھر نہیں آسکتا۔‘‘

شیئر کیجیے
Default image
خواجہ مظہر صدیقی

تبصرہ کیجیے