doctor

ڈاکو ڈاکٹر

اصغر نے آٹھ جماعتیں کیا پاس کیں گویا چتوڑ کا قلعہ فتح کرلیا۔ اب کھیتی باڑی یا ڈھور ڈنگروں کو سنبھالنا اسے گٹھیا کام لگنے لگے۔ اب وہ باؤ بن کر باؤ سلیم کی طرح کرسی پر بیٹھناچاہتا تھا کیونکہ باؤ سلیم سےوہ بے حد متاثر تھا۔ باؤ سلیم لوہار اعظم کا بیٹا تھا۔ وہ شہر میں کلرکی کرتا تھا مگر جب گاؤں آتا تھا تو اس کے فیشن گاؤں کے لڑکوں کو مسحور کرلیتے تھے۔ اس کی انگلی میں سونے کی موٹی سی انگوٹھی اور گلے میں پڑی سونے کی چین سے لگتا تھا کہ وہ کلرک نہیں بلکہ کہیں کمشنر ہے۔ خیر اصغر بھی اب دن رات باؤ بننے کے خواب دیکھنے لگا اور آخر ایک روز اس نے گاؤں چھوڑا اور شہر کی طرف روانہ ہوگیا۔

کچھ روز تو ان پیسوں نے ساتھ دیا جو وہ اپنے ساتھ لایا تھا اور پھر جب دھکے کھانے پڑے تو بیچارے کو دن میں تارے نظر آگئے۔ مگر اب وہ گاؤں واپس نہ جانا چاہتا تھا، جب تک کہ کچھ بن نہ جائے، لہٰذا وہیں دھکے کھاتا اور کام تلاش کرتا رہا اور ایک روز اسے کام مل گیا۔ یہ باؤ بن کر کرسی پر بیٹھنے والا کام نہیں تھا بلکہ اس میں بے حد محنت اور بھاگ دوڑ تھی مگر اصغر کے لیے اسے قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کیونکہ نوبت فاقوں تک آپہنچی تھی۔

ہوا یوں کہ اصغر جس بازار میں گھومتا پھرتا اور جس گول چکر کی گھاس پر بیٹھ کر سستاتا تھا اس کے بالکل سامنے ایک ڈاکٹر کا کلینک تھا۔ باہر برآمدے میں ایک بینچ پڑا تھا جس پر ایک لڑکا بیٹھتا جو چوکیدار کے فرائض سر انجام دیتا تھا۔ اصغر اکثر رات کو اسی بینچ پر سوجاتا تھا۔ ایک روز وہ لڑکا ملازمت چھوڑ گیا۔ ڈاکٹر کے کمپاؤنڈر طفیل نے اصغر سے پوچھا : ’’لڑکے کام کروگے؟‘‘

اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ اصغر نے فوراً ہامی بھرلی اور طفیل اسے اپنے ساتھ لے آیا۔ کام دیکھ کر اصغر کو بے حد مایوسی ہوئی۔ مگر جب رات کو سونے کے لیے فٹ پاتھ کے بجائے کلینک جیسا ٹھکانہ مل گیا اور چار پیسے جیب میں رہنے لگے تو اس نے اس کام ہی کو غنیمت سمجھا اور دل لگا کر کام کرنے لگا۔

اس نے نہ صرف اقبال کا کام بخوبی سنبھال لیا بلکہ بھاگ بھاگ کر طفیل کے کام میں بھی ہاتھ بٹانے لگا۔ اس کے ہاتھ پاؤں خاصے مضبوط تھے اور وہ چاک و چوبند لڑکا تھا۔ جلد ہی اس نے دوائیں بنانا، سرنج تیار کرنا، ٹیکہ لگانا اور پرچی کاٹنا ایسے سب کام سیکھ لیے۔ طفیل ہی نہیں ڈاکٹر صاحب بھی اس سے بے حد خوش تھے۔

ڈاکٹروں کے ہاں کمپاؤنڈر زیادہ دن ٹکتے نہیں۔ جونہی انہیں چار دوائیوں سے واقفیت ہوجاتی ہے اور انجکشن لگانا اور بلڈ پریشر چیک کرنا آجاتا ہے وہ فوراً اپنی نوکری کو خیرباد کہہ کر کسی گاؤں، گوٹھ یا قصبے میں جاکر اپنا کلینک کھول لیتے ہیں اور ڈاکٹر بن کر لوگوں کی جان سے کھیلنا شروع کردیتےہیں۔

جلد ہی طفیل بھی ڈاکٹر صاحب کا کلینک چھوڑ گیا۔ لیکن ان کے لیے پریشانی کی کوئی بات نہ تھی کیونکہ اصغر کی صورت میں اس کا متبادل موجود تھا۔ اصغر نے چند سال ڈاکٹر صاحب کے کلینک پر گزارے۔ وہ ہر کام پر پوری توجہ دیتا اور ڈاکٹر صاحب کے طریقِ کار کا بغور مشاہدہ کرتا رہا۔ اس نے دوائیں لانے والے ایجنٹوں سے بھی دوستی کرلی۔ چھٹی پر گاؤں جاتا تو خوب بن ٹھن کر جاتا۔ کسی کو بخار، نزلہ یا کھانسی، کان درد یا پیٹ درد کی شکایت ہوتی تو حسبِ ضرورت نہ صرف دوا لکھ دیتا بلکہ ٹیکہ بھی لگا دیتا اور جس روز اس نے چاچا رحمت کو ڈرپ لگائی اس روز سے تو وہ گاؤں والوں کے نزدیک پکا پکا ڈاکٹر بن گیا۔

جلد ہی اصغر کی دوستی نمبر ۲ دوائیں بنانے والی کمپنی کے ایک ایجنٹ سے ہوگئی۔ اس نے اصغر کو بتایا کہ ہم نے ایک ایسی دوا تیار کی ہے جس کی بدولت ’’کمپاؤنڈر ڈاکٹروں‘‘ کی چاندی ہوسکتی ہے۔ اس دوا کو اصلی ڈاکٹروں سے بالکل خفیہ رکھا گیا ہے۔ اس میں چند بے ضرر درد دور کرنے والی دواؤں کے ساتھ ساتھ دو انتہائی مضر دوائیں بھی ملا دی گئی ہیں۔ ان میں ایک تو ہیروئن کا سفوف ہے اور دوسری دوا کارٹی سون ہے۔ دونوں کے ضمنی اثرات (Side Effects) بہت خطرناک مضر صحت بلکہ انسانیت دشمن ہیں لیکن دو ایسی کمال کی بنی ہے کہ پرانے سے پرانا درد بھی پل بھر میں غائب ہوجاتا ہے اور مریض کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ پھر سے جی اٹھا ہو۔

اصغر کے پوچھنے پر ایجنٹ نے یہ بھی بتایا کہ ’’ڈاکٹر کو گھبرانے یا پریشان ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ اول تو کسی کے پاس ثبوت ہی نہ چھوڑو یعنی دو تین دن اپنے کلینک ہی پر رکھ کر اس کا علاج کرو۔ پھر ہمارے ملک میں اتنی عقل ہی کسے ہے کہ معاملے کو سمجھ سکے۔ جو کچھ بھی ہو اسے قسمت کا لکھا سمجھ لیا جاتا ہے۔ اور اگر بالفرض کوئی شکایت لے کر آبھی جائے تو الٹا اسے ہی ڈانٹو ڈپٹو کہ فلاں چیز کیوں کھائی یا فلاں کام کیوں کیا تھا؟  بدپرہیزی کرکے اپنا مرض بگاڑ لیتے ہو اور پھر قصور وار ڈاکٹر کو ٹھہراتے ہو۔ بس اتنا گر جا برسا جائے کہ مریض یا اس کے رشتے دار خود ہی پریشان ہوکر بھاگ جائیں۔

بھئی واہ! اصغر کے تو بھاگ جاگ اٹھے۔ اسے تو نسخۂ کیمیا ہاتھ آگیا۔ اس نے فوراً اس ایجنٹ سے معاملہ طے کیا۔ اپنا پتہ اس کے ہاتھ میں تھمایا اور گاؤں روانہ ہوگیا۔ پورے گاؤں میں چرچا ہوگیا کہ ڈاکٹر اصغر اپنا شہر کا چلتا ہوا کام چھوڑ کر صرف خدمتِ خلق کی خاطر گاؤں آگیا ہے۔ جلد ہی کلینک کھل گیا۔ اصغر کا ایک بھائی ساتویں جماعت میں پڑھتا تھا اور ایک پانچ جماعتیں پاس کرکے پڑھائی کو خیر باد کہہ چکا تھا۔ دونوں بھائی کام میں اس کا ہاتھ بٹانےلگے۔ ایک بہن خواتین مریضوں کو بھگتانے کے لیے ساتھ بیٹھنے لگی اور یوں پورا کنبہ معصوم دیہاتیوں کی جان و مال سے کھیلنے کے لیے کمر کس کر میدان میں آگیا۔

معمولی امراض والے مریضوں کو تو عام دوائیوں اور انجکشنوں سے بھگتا لیا جاتا۔ کمزوری محسوس کرنے والوں کو گلوکوز کی ڈرپ چڑھا دی جاتی۔ اچھا خاصا اسپتال کا سا ماحول بن گیا۔ اصغر صاحب کی ساکھ بھی بندھنے لگی۔ اب اس نے رفتہ رفتہ خاص شکار پر ہاتھ ڈالنا شروع کیا۔ شوگر، بلڈ پریشر، السر، جوڑوں کے درد، کینسر اور ایسے ہی خوفناک امراض میں مبتلا لوگ اس کا’’خاص شکار‘‘ تھے۔ بیچارے ہزاروں لاکھوں روپے خرچ کرکے بھی صحت یاب نہ ہوئے تھے اور ان کے رشتے دار اسپتالوں میں دھکے کھا کھا کر تنگ آچکے تھے۔ اصغر ان کا علاج بڑے ڈرامائی انداز میں شروع کرتا۔ وہ ایسے مریضوں کو ہفتے عشرے کے لیے اپنے کلینک میں داخل کرلیتا، دوا کھلانے کے لیے خود آتا۔ مریض کے لیے پھل، دودھ اور عمدہ غذائیں تجویز کرتا۔ اس نے اپنی شخصیت کو مؤثر بنانے کے لیے عمدہ سفید براق لباس کے ساتھ ٹوپی اور چادر کا استعمال شروع کردیا تھا۔ اس کے ہاتھ میں خوبصورت قیمتی موتیوں کی تسبیح رہتی تھی۔ وہ مریض کے قریب کھڑا ہوکر منہ ہی منہ میں یوں بڑبراتا جیسے دعائیں پڑھ رہا ہو۔ اس کے بہن بھائی مؤدب بنے اس کے گرد کھڑے رہتے اور یوں بڑے ڈرامائی انداز میں وہ مریض کو دوا استعمال کراتا۔ پہلی پڑیا کے بعد ہی مریض اپنے آپ کو خاصا بہتر محسوس کرنے لگتا۔ اکثر مریض تو تین چار دنوں ہی میں بھلے چنگے ہوجاتے۔ بعض ایک ہفتہ بھی لے لیتے۔

چارپائی پر پڑے ہائے ہائے کرتے مریض جب اپنے پیروں پر خوش خوش لوٹتے تو اپنے اپنے علاقے میں جاکرڈاکٹر اصغر کا ذکر یوں کرتے جیسے وہ کوئی مرشد یا ولی ہے۔ اس کے اپنے گاؤں والوں کو تو پکا یقین تھا کہ ان کے گاؤں کا بچہ کسی بزرگ یا ولی کے سائے میں ہے اور یقینا اس کے پاس کوئی کراماتی دوا ہے۔

کہانیاں سینہ بہ سینہ گردش کرنے لگیں۔ ڈاکٹر اصغر کے شفا بخش ہاتھ کے حیرت انگیز قصے پر لگا کر پرواز کرنے لگے اور دھن اس کے کلینک پر کھنا کھن برسنے لگا۔ اتنا کہ اب تینوں بھائی روپوں کو تھیلے میں بھر کر روزانہ گھر لوٹنے لگے۔ لیکن اب اتنے پیسے کو سنبھالا کیسے جائے؟

بینک یا ڈاک خانہ؟

’’توبہ کرو۔ کون ٹیکس دے۔ اور کون زکوٰۃ کٹواتا پھرے۔ ہماری محنت کی کمائی اور آرام سے حکومت کھائے، یہ ہم نہ ہونے دیں گے۔‘‘

سارا خاندان اکٹھا ہوکر سوچنے بیٹھا تو ایک انوکھا حل سوجھ ہی گیا۔ اگلے روز ہی ڈاکٹر اصغر کے گھر راج مزدور لگ گئے۔ معلوم ہوا کہ ایک کمرے کا فرش تو بہت ہی خراب ہورہا ہے۔ اسے اکھڑوانا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا ارادہ ہے کہ اس کمرے میں ماربل کی ٹائلیں لگوائی جائیں۔ لیجیے جلد ہی پرانا فرش اکھاڑ دیا گیا۔ راتوں رات گھر والوں نے فرش کو اور گہرا کھود دیا اور گھر کی سب سے بڑی پیٹی اس کے اندر اتاردی۔ نوٹوں سے بھری بوریاں اس میں رکھ دی گئیں۔ مٹی کو برابرکردیاگیا اور مٹی پر چٹائیاں بجھا دی گئیں۔ اب فرصت ملے گی تو شہر سے خاص مستری اور سنگ مرمر کی خوبصورت ٹائلیں منگوائیں جائیں گی اور پھر کمرے کا فرش تیا رہوگا۔

لیجیے مسئلے کا وقتی حل تو نکل آیا۔ نوٹوں کی بوریوں کی بوریاں جو گھر میں پڑی تھیں اور گھر والوں کی نیندیں حرام کیے ہوئے تھیں، ٹھکانے لگیں۔ اس رات سب چین کی نیند سوئے۔گھر والے تو چین کی نیند سوگئے۔ مگر جاگنے والے جاگ رہے تھے۔

سو ایک رات قیامت آ ہی گئی۔ ڈاکو دیواریں پھاند کر آپہنچے۔ انھوںنے سب گھر والوں کو باندھ کر ایک جگہ بٹھا دیا اور سارے گھر کی تلاشی لے ڈالی مگر جب چند ہزار روپوں کے سوا کچھ نہ ملا تو وہ جھنجھلا اٹھے کیونکہ ان کے پاس پکی خبر تھی کہ ڈاکٹر اپنا تمام روپیہ گھر ہی میں رکھتا ہے۔

انھوںنےغصے میں آکر سب کو مارنا پیٹنا شروع کردیا۔ آخر ایک ڈاکو نے اصغر کی موٹی موٹی مونچھیں اس زور سے مروڑیں کہ اس نے بلبلا کر بتا ہی دیا کہ رقم کہا ںہے۔ رقم چھپانے کا اتنا انوکھا طریقہ دیکھ کر ڈاکو بھی داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔

اگلی صبح گاؤں کے لوگوں نے عجیب منظر دیکھا۔ ڈاکٹر اصغر کے صحن میں ایک جہازی سائز کی پیٹی کھلی پڑی تھی۔ کچھ چٹائیاں اور بوریاں ادھر ادھر بکھری ہوئی تھیں۔ اور ز یرِ تعمیر کمرے کا کچا فرش کھدا پڑا تھا۔ ڈاکٹر اور اس کے گھر والے حیران اور بدحواس بیٹھے تھے۔ ڈاکٹر اصغر تو بالکل ہی گم سم تھا لیکن جب گاؤں کا چودھری دیگر معززین کے ساتھ افسوس کے لیے آیا تو اصغر نے اچھل کر اس کا گریبان پکڑ لیا۔ اسے پکا یقین تھا کہ یہ وہی ڈاکو ہے جو اس کی مونچھیں نوچ رہا تھا۔ بمشکل چودھری کو اس سے چھڑایا گیا۔ تھانے دار کے ساتھ بھی اس نے یہی سلوک کیا۔ وکیل کو دیکھ کر بھی اس پر مونچھیں اکھاڑنے کا دورہ سا پڑگیا۔

آج کل اصغر زیرِ علاج ہے۔ جلد ہی اسے ہوش آجائے گا۔ وہ پھر سے اپنا محاذ سنبھال لے گا۔ پھر مایوس مریض اس کے پاس آنے لگیں گے اور اپنے تئیں تندرست ہوکر لوٹا کریں گے۔ اصغر کی بوریاں پھر نوٹوں سے بھرنے لگیں گی۔ لیکن اب وہ اس دولت کو محفوظ کرنے کا کوئی اور طریقہ سوچے گا اور یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک قوم کو کوئی ایسا نجات دہندہ نہیں مل جاتا جو قوم کے بچے بچے کو وہ تعلیم اور شعور دے کہ اس قوم میں نہ تو ڈاکو پنپ سکیں اور نہ ان ڈاکوؤں جیسے ڈاکٹر اصغر اور دوسرے ان گنت جو نما گندم فروش!

شیئر کیجیے
Default image
رضوانہ سید علی

تبصرہ کیجیے