آن کا دروازہ

زمانہ بیت گیا۔ مگر اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے اس پر جو بیتی وہ کل کی ہی بات ہو۔ گزرا ہوا زمانہ اپنے نقوش کیسے چھوڑ جاتا ہے۔

اس زمانے میں اس نے شہر کے وسط کالونی میں ’’فردوس‘‘ نامی بلڈنگ کے چوتھے منزلہ پر ایک فلیٹ خریدا تھا۔ دو کمرے۔ ایک کچن اور کمرے سے لگا باتھ روم۔

اس فلیٹ میں وہ تقریباً بیس بائیس برس سے اپنی بیوی اور اکلوتی بیٹی کے ہمراہ خوش حال زندگی گزار رہا تھا۔ ان دنوں اس کی زندگی میں سکھ ہی سکھ تھا۔نہ کوئی غم تھا نہ پریشانی، خدمت گزار بیوی تھی اور فرماں بردار بیٹی۔

زمانے نے کروٹ بدلی اور اس کی زندگی میں سب کچھ الٹ پلٹ ہوگیا۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس پر ایسا وقت بھی آئے گا کہ وہ اس فلیٹ میں تنہا رہ جائے گا ان یادوں کے سہارے جو فلیٹ کے کمروں سے اس نے وابستہ کرلی تھیں۔

بازو کے کمرے میں بیٹی رہتی تھی اور یہ کمرہ ہمارا بیڈ روم تھا۔ وہ یادوں کے سفر میں بہت پیچھے چلا گیا۔ کمرے کے وسط میں سیلنگ فین کے نیچے ڈبل بیڈ بچھا تھا۔ بستر پر جامنی بوٹوں والی چادر تھی اور چادر سے میچ کرتے غلاف والے تکیے۔ ایک تکیہ پر سر رکھے وہ لیٹا تھا اور بازو کے تکیے پر اس کی بیوی، جس کی سیاہ زلفیں شانوں سے بل کھاتی ہوئی تکیے پر ایسے بکھری ہوئی تھیں جیسے چاندنی رات میں کہسار پر تہہ بہ تہہ گرتی سیاہی۔ بکھری زلفوں کے درمیان بیوی کا گندمی رنگت والا چہرہ چاند کی طرح اس کے تصور میں چمک رہا تھا۔ فراخ پیشانی، گھنی پلکوں والی بادام نما آنکھیں۔ گول ناک نہ زیادہ بڑی نہ چھوٹی۔ نا کے نیچے گلاب کی تازہ پنکھڑی جیسے متبسم لب ۔

وہ کمرے کے کونے میں ایزی چیئر پر گردن پیچھے لٹکائے، آنکھیں موندے، ڈبل بیڈ کے پلنگ پر خود کو اور اپنی بیوی کے روپ کو دیکھ رہا تھا۔

بیوی نے کروٹ بدلی اور پھر اس کا مہندی سے رچالانبی مخروطی انگلیوں والا ہاتھ اس کے سر کی طرف بڑھا اور انگلیاں ماتھے سے گردن کی طرف ، گردن سے کنپٹیوں کے اوپری حصے کے سیاہ بالوں میں سرسرانے لگیں۔ وہ آنکھیں بند کیے بیوی کی انگلیوں کی سرسراہٹ آج اپنے کھچڑی بالوں میں محسوس کر رہا تھا۔ سرسراتے ہاتھ کی کلائی میں بھری چوڑیاں اس کے کانوں میں رس گھول رہی تھیں۔

’’بہت تھک گئے ہو۔ ہے نا! بیوی کا ہمدردانہ لہجہ اس کے کانوں میں اترا تو اس کا دل بھر آیا۔ موندی پلکوں سے آنسوؤں کے قطرے لرزرتے ہوئے اس کے گالوں کی جھریوں سے ہوتے اتر گئے۔

ہاں بلقیس!’’ وہ تصور میں بسی اپنی بیوی سے نہایت لاچارگی میں کہنے لگا۔ ’’تم تھیں تو ڈھارس بندھی رہتی تھی میں اب ٹوٹ چکا ہوں بلقیس! اوب چکا ہوں زندگی سے!

’’ایسا نہیں سوچا کرتے ، تم بہت جذباتی ہو، فورًا سیریس ہوجاتے ہو۔‘‘ بیوی جیسے اس کے پاس آکر کھڑی ہوگئی تھی۔ اس کے ماتھے پر ہاتھ پھیر کر اس سے کہہ رہی تھی وہ ایزی چیئر پر آنکھیں موندے سر پیچھے لٹکائے بیٹھا تھا۔

’’ہاں! تم ہمیشہ مجھے یہی کہتی تھیں اور میں تم سے کہا کرتا تھا ’’بلقیس! جب میں سیریس ہوجایا کروں، تب تم مجھے سنبھال لیا کرو اور جب کسی بات پر ہم اپنے درمیان ناراضگی کی دیوار کھڑی کرلیں تب تم اس دیوار کو گرانے میں پہل کرلیا کرو۔‘‘

’’ہوں!‘‘ مختصراً ’’ہوں‘‘ کہہ کر بلقیس نے اس کے گال پر چٹکی لی تھی اور ایسی بات کہی تھی جو اس کی یاداشت میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگئی تھی۔

’’میں تمہاری بیوی ہوں اور بیوی شوہر کے جذبات سے کھیلا نہیں کرتی بلکہ اس کے جذبات اور احساسات کا خیال رکھتی ہے۔‘‘

’’بلقیس! تم نے میرا بہت خیال رکھا۔ ’’وہ اپنے دل کے نہاں خانے میں بسی بیوی سے کہنے لگا ’’میرے ماتھے کی شکن تمہارے دل کی بے قراری بن جایا کرتی تھی۔ میرا اداس چہرہ تمھیں بے چین کیے دیتا تھا جیسے میں تمہارے اندر ایک روح کی طرح سمایا ہوا تھا۔ ایک سرد سانس سینے میں کھینچ کر اس نے اپنی موندی ہوئیں آنکھیں کھول دیں۔

سامنے ڈبل بیڈ خالی تھا۔ بستر پر جامنی بوٹوں والی چار نہیں تھی، میلی کتھئی چادر بچھی ہوئی تھی اور تکیے کے غلاف میل خورے تھے۔ تکیے دوتھے ایک پر ایک رکھے ہوئے۔

کمرے کے کونے میں ٹیبل تھا، جس پر بے ترتیب کتابیں پڑی تھیں اخبار بکھرے ہوئے تھے۔ وہ سر گھما کر ٹیبل کو تکنے لگا۔ اسے ٹیبل کا ماضی یاد آگیا۔ کبھی ٹیبل پر کتابیں سلیقے سے جمی رہتی تھیں، اخبار بھی ایک کونے میں رکھے رہتے تھے۔ ماضی کی یاد کے ساتھ ہی اس نے بے ترتیب کتابوں کو دیکھ کر لبوں پر ہاتھ کی مٹھی رکھی۔ کچھ سوچا، ایزی چیئر سے اٹھا اور آہستہ آہستہ قدموں سے ٹیبل کی طرف بڑھا، بے ترتیب کتابوں سے ایک کتاب اٹھائی جیسے ہی کتاب کھولی، لمحہ بھر کے لیے اس کا چہرہ چمک اٹھا۔ کتاب میں اس کی بیوی کی مسکراتی ہوئی تصویر تھی۔ اس نے نظر بھر کے بیوی کی تصویر دیکھی اور پھر اسی میں تصویر رکھ کر کتاب ایک طرف رکھ دی اور ایزی چیئر پر آکر بیٹھ گیا۔ سر پیچھے لٹکا کر پھر آنکھیں موندلیں، بیوی کا چہرہ اس کی بند آنکھوں میں مسکرا رہا تھا۔

’’بلقیس! جب میں ڈیوٹی سے تھکا ماندہ گھر آتا تھا تم دہلیز میں مسکرا کر میرا استقبال کیا کرتی تھیں، میں اپنی ساری تکان بھول جایا کرتا تھا۔ اب میں بہت تھک چکا ہوں دکھ کے گھنے جنگل میں تنہا رہ گیا ہوں۔ کتنی کربناک، اذیت دہ ہوتی ہے تنہائی کہ بامعنی زندگی بے معنی ہوکر رہ جاتی ہے۔ بلقیس مجھے ایسا ہی لگ رہ اہے جیسے میرے وجود میں کہیں کینسر ہوگیا ہے۔ کاش ایسا ہوتا، کینسر تمھیں نہیں مجھے ہو جاتا تو آج میں اس اذیت سے بچ جاتا، جس نے مجھ سے جینے کی ساری تمنا چھین لی ہے۔

میری شریک حیات! تمہیں تو جینے کی بہت تمنا تھی اور کسے نہیں ہوتی۔ ہر کوئی جینا چاہتا ہے۔ تم بھی جینا چاہتی تھیں۔ موت کی دہلیز پر تم نے مجھ سے کہا تھا، مجھے کسی طرح بچا لونا! ’’لیکن میں مجبور تھا۔ ڈاکٹر بے بس تھے تمہیں موت کے چنگل سے بچا نہ سکے۔ انسان کتنا مجبور اور بے بس ہو جاتا ہے موت کے سامنے!

مجھے تمہارا آنسوؤں سے تر چہرہ یاد آرہا ہے جب موت تمہیں مجھ سے جدا کر رہی تھی اور تم میرے ساتھ جینا چاہ رہی تھیں۔ ہاتھ کے اشارے سے تم نے مجھے اپنے قریب بلایا تھا۔ تمہارے لب لرز رہے تھے میں اپنا کان تمہارے لرزتے لبوں کے پاس لے آیا تھا تم نے موت کے سمندر میں ڈوبتے ڈوبتے کہا تھا: ’’بیٹی کا خیال رکھنا۔‘‘

بلقیس! میں نے اپنی بیٹی کا بہت زیادہ خیال رکھا، اتنا کہ جس لڑکے کو اس نے چاہا میں نے اسی لڑکے سے اس کی شادی کردی یہی، نہیں اپنی جمع پونجی سے شہر کے معیاری علاقے میں ایک فلیٹ بھی خرید کر اپنی بیٹی کو دے دیا، جہاں بیٹی اور داماد خوش حال زندگی گزار رہے ہیں۔

کل میں اپنی عمر کے اٹھاون سال پورے کر چکا ہوں۔ گورنمنٹ کے قاعدے کے مطابق کل میں اپنی ملازمت سے ریٹائرڈ ہوگیا ہوں۔ تم مجھ سے کہا کرتی تھیں نا جب آپ ریٹائرڈ ہوجائیں گے تب ہم اپنی ایک نئی زندگی شروع کریں گے، جس میں آپ کے ڈیوٹی سے آنے کا انتظار نہیں رہے گا، ہم ہمیشہ ہر پل ساتھ ساتھ رہیں گے۔ ریٹائرمنٹ سے قبل ہی اپنی بیٹی کا بیاہ بھی کردیں گے۔ پھر ہمیں کوئی فکر ہوگی نہ پریشانی۔‘‘

بیوی کی خیالی انگلیاں اس کے بالوں میں کنگھی کر رہی تھیں۔ وہ ایزی چیئر پر سر پیچھے لٹکائے آنکھیں بند کئے بیٹھا تھا۔ بیوی کی نامکمل آرزوؤں کے دکھ کا احساس اس کے وجود میں بوند بوند اتر رہا تھااور آنسو اس کی بند پلکوں سے قطرہ قطرہ نکل کر اس کے چہرے کی جھریوں میں بہہ رہے تھے۔ ’’اب کون کرے گا میری خدمت، کون رکھے گا میرا خیال‘‘ وہ خود سے بولا۔

اسے اپنی بیوی کی اس وقت کی بات یاد آگئی جب اس نے بیٹی کو جنم دیا تھا۔ اسپتال کے بیڈ پر لیٹی بغل میں ننھی سی گڑیا جیسی بیٹی کی طرف دیکھ کر بلقیس نے اس سے کہا تھا ’’بیٹی ماں باپ سے زیادہ محبت کرنے والی ہوتی ہے، دیکھ لینا بیٹی ہمارا کتنا خیال رکھے گی۔‘‘

بیوی کی بات یاد آتے ہی وہ ذہن میں بسی اپنی بیوی سے بولا ’’بلقیس! بیٹی نے میرا ایسا خیال رکھا کہ ایک ماہ ہوگیا وہ مجھ سے الگ رہ رہی ہے۔ اپنے شوہر کے ہمراہ اس فلیٹ میں جو میں نے اسے پچھلے ماہ ہی خرید کر دیا تھا۔ جب سے وہ فلیٹ میں رہنے کے لیے گئی ہے تب سے ایک بار بھی آکر اس نے مجھ سے یہ نہیں کہا کہ ’’پپّا آپ یہاں اکیلے کیوں رہ رہے ہیں، ہمارے ساتھ ہی رہیے نا … ہاں وہ کل اپنے شوہر کے ساتھ آئی تھی کہہ رہی تھی۔ پپّا! ہم دونوں اپنی اپنی ڈیوٹی پر چلے جاتے ہیں فلیٹ میں رہنے والا کوئی نہیں۔ پرسوں بازو کے فلیٹ میں دن دھاڑے چوری ہوگئی تب سے میں دفتر سے چھٹی لے کر گھر پر ہی ہوں، پلیز! آپ ہمارے ساتھ رہنے کے لیے آجائیے نا، کل آپ ریٹائرڈ بھی ہوجائیں گے!‘‘

وہ خاموش اپنی بیٹی کی طرف دیکھنے لگا تھا اور جواب میں کچھ نہ بولا تھا۔ پپّا! ہم کل آپ کو لینے کے لیے آرہے ہیں، اب آپ کو اکیلے نہیں رہنے دیں گے۔

بیٹی کا چہرہ اس کے تصور کے پردے پر نمایاں ہوگیا تھا اور اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہنے لگا تھا۔

آج میری بیٹی اور داماد مجھے لے جانے آئیں گے۔ میں نے ضروری سامان پیک کر کے رکھ دیا ہے اس میں وہ کھلونے بھی ہیں جو میں اپنی بیٹی کے لیے اس وقت لایا تھا جب وہ بہت چھوٹی تھی، مجھ سے بے غرض محبت کرتی تھی۔

وہ خیالات کی وادی میں اپنی ننھی گڑیا جیسی بیٹی کو ڈھونڈنے لگا۔

فلیٹ کے دروازے پر دستک ہوئی، وہ ایزی چیئر سے اٹھا، شاید میری بیٹی اور داماد مجھے لے جانے آگئے ہیں۔ ’’پپّا دروازہ کھولیے!‘‘ بیٹی کے آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔

’’نہیں، میں دروازہ نہیں کھولوں گا!‘‘ اس نے بند دروازے کی طرف دیکھ کر خود کلامی کی‘‘ انہیں میری نہیں ایک ایسے چوکیدار کی ضرورت ہے جس پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔‘‘ اس خیال کے آتے ہی طیش سے اس کا بدن کانپ اٹھا۔اس کا جی شدت سے چاہا کہ وہ شاہراہ کی طرف کا دریچہ کھول کر چوتھی منزل سے نیچے چھلانگ لگا دے۔ اس چاہت کے ساتھ ہی دروازے کی طرف بڑھتے اس کے قدم رک گئے۔ وہ واپس مڑا، دریچے کی طرف بڑھا دروازے پر دستک جاری تھی ’’پپّا! دروازہ کھولیے!‘‘

وہ دریچے کے قریب پہنچ گیا۔ دریچے کے پٹ کھولے۔ نیچے جھانکا، شاہراہ سنسان تھی، صرف ایک شخص گڑیا جیسی لڑکی کو گود میں لیے فٹ پاتھ پر ٹہلتے ہوئے جا رہا تھا۔ میں بھی اپنی بیٹی کو گود میں لیے ایسا ہی گھوما کرتا تھا۔ اسے خیال آیا اندر غصے کی آگ اور دہکی۔

’’پپّا! دروازے کھولیے!‘‘ دستک کی آواز اس کے ذہن کے دریچے پر دستک دینے لگی۔‘‘

’’ذہن میں بیٹھی اس کی بیوی بولی ’’تم بہت جذباتی ہو، فوراً سیریس ہوجاتے ہو، کچھ تو خود پر قابو رکھا کرو!‘‘

بیوی کی بات یاد آتے ہی اس کا طیش کچھ کم ہوا۔ اندر کا آدمی اس سے کہنے لگا ’’کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جن کی باتوں کو تولا اور پرکھا نہیں جاتا درگزر کر دیا جاتا ہے۔‘‘

لمحہ بھر کے لیے وہ کھلے دریچے کے سامنے رکا پھر فوراً پلٹا۔ دروازہ پر دستک جاری تھی، پپّا دروازہ کھولیے!‘‘

اس نے دروازہ کھول دیا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد طارق