سوشل

سوشل میڈیا کا خطرہ اور ہماری بچیاں

ٹیکنالوجی نے جہاں ہمارے ذہن اور فکر کو وسعت دی ہے، معلومات کو بڑھایا ہے، ہمارے بے شمار کام آسان کیے ہیں وہیں اس نے دنیا کے کونے کونے تک رسائی اور افراد و اداروں سے تعلقات استوار کرنے کا موقع بھی دیا ہے۔ اس کا مقبول ترین ذریعہ سماجی رابطے کی ویٹ سائٹس اور ایپلی کیشن ہیں جن میں فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام، وٹس ایپ شامل ہیں۔ دور حاضر میں کمپیوٹر، لیپ ٹاپ جیسی مشینوں کے استعمال کے ساتھ اسمارٹ فون وہ آلہ ہے جو سبھی کے ہاتھوں میں نظر آتا ہے۔ اس دور کی مقبول ترین سوشل ویٹ سائٹس میں فیس بک پر نوجوانوں کی اکثریت متحرک نظر آتی ہے اور یہ ہر خاص و عام کی توجہ اور دلچسپی کا مرکز ہے۔ اس میں ملازمت پیشہ اور گھروں میں رہنے والی خواتین کے علاوہ اسکول جانے والی نو عمر لڑکیاں بھی شامل ہیں، جن کے لیے اسمارٹ فون میسر آجانے کے بعد انٹرنیٹ سروس حاصل کرنا مشکل نہیں۔ یوں یہ نو عمررابطے کے سہل، سستے اور پیغام رسانی کا موثر ذریعہ خیال کیے جانے والے پلیٹ فارم تک بہت آسانی سے رسائی حاصل کرلیتے ہیں اور ایک نئی دنیا سے متعارف ہوتے ہیں جہاں وہ اپنوں کے ساتھ اجنبی اور انجان لوگوں سے بھی جڑنے لگتے ہیں۔

اگر دیکھا جائے تو کم سن لڑکوں کی نسبت لڑکیوں کے مزاج کی تبدیلی، موڈ کا اتار چڑھاؤ، گھر کے کاموں میں اچانک عدم دلچسپی کا مظاہرہ، چڑچڑاہٹ اور اس جیسی کیفیات جلدی نظر میں آجاتی ہیں ہمارے سماج میں لڑکیوں پر خاص نظر رکھی جاتی ہے لڑکی خاندان کا وقار اور اس کی عزت ہوتی ہے اب اسی نظریے سے لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم پر بھی خاص توجہ دی جانے لگی ہے اور ان کے تحفظ کے لیے فکر مندی کافی بڑھ گئی ہے۔ اسی تصور کے تحت جب ضرورت سے زیادہ توجہ یا نگرانی کی جاتی ہے یا محبت کے بجائے سختی کا رویہ اختیار کیا جاتا ہے تو بعض اوقات والدین اور اولاد کے درمیان فاصلہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں لڑکیوں بے جا روک ٹوک اور پابندیوں کی وجہ سے گھٹن اور بددلی کا شکار ہونے لگتی ہیں۔ اگر والدین ان کے ساتھ دوستانہ رویہ نہ رکھیں اور ان کی بہتر طریقے سے راہ نمائی نہ کریں تو انہیں اپنے والدین کا وہ حفاظتی حصار چبھنے لگتا ہے جو حقیقت میں ان کی بہتری اور بگڑتے معاشرے سے تحفظ کے لیے ہی قائم کیا گیا ہے۔

ایسے ماحول کی پروردہ لڑکی جب سوشل میڈیا سے جڑتی ہے تو نیرنگی زمانہ سے عدم واقفیت اور شعور نہ ہونے کی وجہ سے کسی اجنبی کی چکنی چپڑی باتوں میں نہایت آسانی سے آسکتی ہے۔

یہ عمر سوتے جاگتے خواب بننے کی ہوتی ہے اور پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ ہیجانی کیفیت کے زیر اثر غلط قدم اٹھانے سے بھی دریغ نہیں ہوتا۔ نو عمر لڑکیوں کے لیے انٹرنیٹ ایک وادی رنگین ثابت ہوتا ہے۔ اگر ہم نوجوان لڑکیوں کی راہ نمائی کرتے ہوئے سوشل ویب سائٹس پر ذاتی معلومات کی فراہمی اور نجی یا گھریلو معاملات پر گفتگو کے علاوہ کسی بھی فرد سے جذباتی تعلق قائم کرنے کے حوالے سے آگاہی نہ دیں تو مسئلہ جنم لے سکتا ہے۔ اس کا مقابلہ صرف اس صورت میں کیا جاسکتا ہے کہ ہم اپنی بچیوں کے ذہن و فکر میں خیر و شر کا خدائی پیمانہ فٹ کرنے کی کوشش کریں، اس طرح وہ ہر غلط سے بچ سکتی ہیں اور ہر اچھائی سے قریب ہوسکتی ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی بچیوں کو بتائیں کہ سوشل میڈیا خاص طور پر فیس بک پر جہاں ہمارے عزیز اور احباب موجود ہیں، وہیں کئی منفی سوچ کے حامل افراد اور گروہ بھی سرگرم ہیں انہیں بتایا جائے کہ ایک نئے صارف خصوصا لڑکیوں کو فیس بک استعمال کرتے ہوئے کن کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔

اب صنف مخالف سے رابطہ پہلے کی نسبت آسان ہے۔ مرد اور عورت کے مابین فطری کشش ایک الگ بات ہے، مگر سوشل میڈیا کے دور میں شناسائی اور دوستی کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ نو عمر لڑکیوں کو یہ بتانا ضروری ہے کہ غیر ضروری سماجی روابط کو بڑھانے کے عمل میں ان کو کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ہر موصول ہونے والی فرینڈریکویسٹ کو قبول کرنا فرض نہیں ہے۔ دوستوں کی تعداد بڑھانے کو جنون نہ بنالیں۔ یہ کوئی کمال نہیں، کسی قسم کا اعزاز بھی نہیں ہے کہ آپ کے فرینڈز کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر پختہ عمر کی باشعور خواتین اتنی آسانی سے کسی فریب اور دھوکے کا شکار نہیں ہوتیں۔ وہ کسی کی پروفائل سے نہ جلدی مرعوب ہوتی ہیں اور نہ ہی جذبات کی رو میں بہ کر بات آگے بڑھاتی ہیں، مگر یہ دیکھا گیا ہے کہ اکثر بدنیت اور آوارہ ذہن لوگ نو عمر لڑکیوں کو اپنے مالی اسٹیٹس یا شکل و صورت سے متاثر کرنے کی کوشش میں کامیابی کے بعد ان کی جذباتی اور ہیجانی کیفیت کا ناجائز فائدہ اٹھا جاتے ہیں۔ اس کی متعدد مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ اب بات ٹیکسٹ پیغامات کے تبادلے تک محدود نہیں رہی بلکہ وائس اور ویڈیو چیٹ کے آپشن بھی موجود ہیں، جس کے بعد ملاقات کی خواہش ظاہر کردی جاتی ہے اور یہ بھی کچھ مشکل نہیں۔ اگر نو عمر بچے اور بچیوں کی راہ نمائی نہ کی جائے اور ان پر نظر نہ رکھی جائے تو کسی غلطی کی صورت میں نہ تو وہ کھل کر اپنے گھر والوں کو کچھ بتا سکتے ہیں نہ ہی گھر والے ہر وقت اسے بھانپ سکتے ہیں۔

مختلف ویب سائٹس اور فیس بک کی دنیا میں میسنجر دو اجنبیوں کو آسانی سے بات چیت کرنے کا موقع دیتا ہے، جس کے بعد ایک گھاگ شکاری چند منٹوں میں ہی جان لیتا ہے کہ اس کے شکار کی عمر کیا ہے؟ وہ کیا پسند کرتا ہے، کس بات سے خوش ہوتا ہے اور اسے اپنی کس بات یا ادا کی تعریف پسند ہے۔ اسی طرح وہ یہ جان لیتا ہے کہ وہ اپنے گھر کے ماحول، اہل خانہ کے کس رویے سے ناخوش ہے اور اس کی جذباتی کیفیت کیا ہے۔ تب کسی بھی ٹین ایج لڑکی کو اپنے دام میں پھنسانا اس کے لیے ذرا مشکل نہیں رہتا۔اکثر لوگوں کے لیے یہ صرف شغل اور تفریح کا راستہ ہوتا ہے، مگر ایک کم عمر لڑکی کو ورغلانے کے بعد اپنا مقصد پورا ہوتے ہی مسترد کردینا اس کے ذہن پر نہایت منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس عمر میں جب لڑکیاں نہایت جذباتی اور ناسمجھ ہوتی ہیں تو کسی اجنبی کی محبت اور توجہ حاصل ہونے پر خود کو خوش قسمت تصور کرنے لگتی ہیں۔ اس کی اصل وجہ گھر والوں کی عدم توجہی اور اس حوالے سے کسی قسم کی راہ نمائی میسر نہ ہونا ہے۔ ایسی لڑکی اجنبی کے سوالات کے جواب میں اپنے گھریلو حالات کے ساتھ اپنی ذات سے متعلق ہر قسم کی معلومات اور اکثر اہم راز یا نجی نوعیت کی باتیں بھی شیئر کر دیتی ہے۔ یوں سوشل میڈیا کا یہ نووارد صارف تعلقات و روابط بڑھانے اور دوستی مستحکم کرنے کے چکر میں کسی بدنیت و بدکردار اور بسا اوقات کسی جرائم پیشہ کو اپنا آپ گویا خود ہی پیش کردیتی ہے۔

نو عمر لڑکیاں عموما ہر بات پر جذباتی رد عمل کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ یہ اس عمر کا تقاضا بھی ہے، مگر اس میں توازن ضروری ہے۔ اس کے علاوہ ان کو اس بات سے آگاہ کرنا چاہیے کہ انہیں کسی پر کس حد تک بھروسا کرنا ہے اور جذبات و خیالات پر کنٹرول بھی سکھانا چاہیے۔ ٹین ایج لڑکیوں میں عداوت، حسد اور جلن جیسے منفی جذبات بھی پائے جاتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر میل جول کے حوالے سے ناواقف ایسی لڑکیاں اکثر اس بات پر بھی بر انگیختہ ہوجاتی ہیں کہ ان کے کسی قریبی دوست کی پوسٹ کو زیادہ کمنٹس یا لائیک کیوں مل رہے ہیں یا جب ان میں سے کوئی اپنی ترقی اور کام یابی کا فیس بک پر ذکر کرے تو یہ ڈیپریشن کا شکار ہوجاتی ہیں یا پھر انہیں احساس کمتری ستانے لگتا ہے اور اس کا علم ہونے پر کوئی بھی اس کا کسی بھی طرح فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

فیس بک کے بے تحاشا یا غیر ضروری استعمال نے جہاں ہمارے کلچر کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا ہے، وہیں اس حوالے سے تربیت و آگاہی کی ضرورت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ نو عمر لڑکیوں کی توجہ گلیمر اور سیلفیوں پر مرکوز ہے اور مسابقت کی یہ دوڑ اعصاب شکن ہی نہیں بلکہ یہ گھر جیسی اکائی کے لیے بھی خطرہ بنتی جا رہی ہے اور سچے و خونی رشتوں سے لاتعلق بنا رہی ہے۔ اس حوالے سے اعتدال اور ضرورت کے مطابق استعمال کی اہمیت پر زور دینا ہوگا۔

کسی اجنبی سے جب نو عمر لڑکی گھر والوں کے رویے کی شکایت کرتی ہے تو وہ اس کی جذباتی کیفیت کا فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ اجنبی اسے سمجھانے اور صحیح راستہ دکھانے کے بجائے ہر صورت لڑکی کو درست کہہ کر اس کا دماغ مزید خراب کرتا ہے۔ ایسا کوئی بھی شخص اسے گھر سے متنفر اور خود سے قریب کرنے کے تمام ہتھکنڈوں کو آزماتا ہے اور کام یاب بھی ہو جاتا ہے۔ ایک کم عمر لڑکی جب اس کی نظر سے اپنے گھر کے معاملات کو دیکھتی ہے تو وہ اسے کوئی قید خانہ اور خود کو قیدی سمجھنے لگتی ہے اور اس قید خانے کے باہر ایک اجنبی کا باتوں سے تعمیر کیا گیا محل انتہائی محفوظ اور خوب صورت نظر آتا ہے، جہاں گویا ہر طرح کی آزادی اور خوشیاں اس کی منتظر ہوتی ہیں۔ شروع میں لڑکی کو اس بات کا احساس ہی نہیں ہو پاتا کہ وہ ماں کے آنچل سے نکل کر خطرے کے کتنے قریب آگئی ہے اور کسی سے مرعوب ہوکر اپنی زندگی برباد کر رہی ہے۔

محبت کے اس ڈرامے کا اگلا جذباتی موڑ شادی کا جھانسا ہوسکتا ہے۔ کچے ذہن کی لڑکی کے لیے یہ پیغام انتہائی جذباتی اور ہیجانی نوعیت کا ہوتا ہے۔ تاہم زیادہ تر اس کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ فیس بک پر دوستی شادی میں بدل گئی مگر اس کا انجام کیا ہوا۔ اس بارے میں اکثر لاعلم ہی رہتے ہیں۔ کچھ حیوان پہلی ملاقات کو آخری سمجھ کر اپنا غلیظ مقصد پورا کرنے میں کام یاب ہو جاتے ہیں اور بعض شادی کا خواب دکھاتے ہیں اور یہ بھی دھوکے کی ایک شکل ہوتی ہے۔ اکثر محبت کے بعد شادی کرنے والی جس مرد کے لیے اپنی گھر کی دہلیز چھوڑتی ہے، وہی بعد میں دل بھر جانے پر کوئی بھی تہمت لگا کر یا شک کی بنیاد پر اسے ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیتا ہے اور اس کا اخلاق و کردار بھی دیوالیہ ہو جاتا ہے اور زندگی بھی تاریکی میں ڈوب جاتی ہے۔

یہ تو وہ باتیں ہیں جو ہم دیکھتے اور سمجھتے بھی ہیں، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا اب ہماری زندگی کا حصہ ہے تو ہمیں اسے قبول کرتے ہوئے اس کا استعمال سیکھنا اور سکھانا بھی ہوگا۔ والدین کا فرض ہے کہ وہ اس نئے دور کے تقاضوں کے مطابق لڑکیوں کو تربیت اور آگاہی دیں اور ان کی ذہنی حالت اور جذباتی کیفیات کو سمجھیں۔ بڑھتی ہوئی عمر کی بچیوں کے ساتھ زیادہ ہے زیادہ وقت گزارنا ضروری ہے۔ ان کے خیالات جاننے، ان کے مشاغل اور دلچسپیوں سے آگاہ رہنے کے ساتھ محبت، نرمی اور اعتماد کے ساتھ توجہ دیں۔ ان پر اپنے فیصلے مسلط نہ کریں بلکہ ان کی ہر معاملے میں بہتر راہ نمائی کرتے ہوئے آزادی بھی دیں۔ بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان فرق روا نہ رکھیں بلکہ دونوں کو ایک جیسی توجہ اور محبت دیں تاکہ وہ اس محبت کے لیے اپنے گھر کی محفوظ باڑ عبور کر کے باہر دلدل میں قدم نہ رکھیں۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب گھر میں الفت و محبت کا ماحول ہو اور اگر اس میں کمی ہو تو اسے پورا کیا جائے۔ جن گھروں کے افراد ایک دوسرے کے لیے محبت و الفت لٹانے والے ہوں، ایک دوسرے کو سمجھنے اور سمجھانے والے اور ایک دوسرے کے لیے ایثار و قربانی کا پیکر ہوں وہاں کے بچے نہ گھر سے باہر محبت تلاش کرتے ہیں اور نہ جھوٹی محبت کے جھانسے میں پھنسنے والے ہوتے ہیں۔ ایسے گھروں کے بچے اخلاق و کردار کے اعتبار سے مضبوط اور زندگی کی حقیقتوں سے واقف ہوتے ہیں۔

اس قسم کی صورتِ حال سے بچنے کے لیے ایک اہم رول والدین کا بھی ہے، جب بچوں کے والدین کی زندگی باہمی تنازعات اور لڑائی جھگڑوں سے بھری ہوتی ہے تو بچے ایسے ماحول میں گھٹن محسوس کرتے اور اس سے فرار تلاش کرتے ہیں۔ اگر والدین اپنے بچوں کا محفوظ مستقبل تلاش کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے ازدواجی رشتوں کو نہایت خوش گوار بنانا ہوگا اور مل جل کر بچوں کی دینی اور اخلاقی تربیت پر توجہ دینی ہوگی۔ ہمارے رسول پاک نے اس کی بڑی تاکید فرمائی ہے۔ آپ نے فرمایا ہے کہ والدین اپنے بچوں کو جو سب سے بڑی چیز دے سکتے ہیں وہ ان کے دین و اخلاق کی تربیت ہے۔ اگر وہ اس میں ناکام رہے تو نہ صرف بچوں کا مستقبل بگڑ جانے کا خطرہ ہے بلکہ وہ خود ایسی اولاد سے محروم ہوسکتے ہیں جو ان کے لیے صدقہ جاریہ بن جاتی اور ان کے لیے جنت کا سامان بنتی۔ اس اہم موضوع پر خاص توجہ کی ضرورت ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
سائرہ فاروقی

تبصرہ کیجیے