نکاح کو آسان کرو!

رسول ﷺ نے فرمایا: ’’بے شک سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم خرچ ہو۔‘‘

آج اگر ہم معاشرے کی تمام برائیوں پر نظر ڈالیں تو ایک خاص برائی جو زور پکڑتی نظر آرہی ہے وہ ہے ’’نکاح کا مشکل ہونا۔‘‘ کیا نکاح حقیقت میں مشکل ہے؟ یا پھر ہم نے اسے مشکل بنا دیا ہے؟

دین اسلام واحد ایک ایسا مذہب ہے جس میں عبادات، معاملات کو آسان بنایا گیا ہے۔

حدیث میں آتا ہے: ’’خوش خبری دو، نفرت نہ پھیلاؤ، آسانی پیدا کرو، تنگی میں مبتلا نہ کرو۔‘‘

نکاح کیا ہے؟

’’مرد اور عورت کے درمیان شرعی اصولوں پر کیا گیا معاہدہ جس کے نتیجے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعلق جائز ہو جاتا ہے۔‘‘

آج ہم نے نکاح جیسے مقدس عمل کو ایک مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔ رشتہ تلاش کرنے سے لے کر نکاح اور ولیمہ تک غیر ضروری رسم و رواج، فضول خرچی، ایک دوسرے پر تنقید، دکھاوا، ان تمام امور کی وجہ سے آج نکاح مشکل ہو گیا ہے۔

جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشتہ تلاش کرتے وقت دین داری کو فوقیت دینے کے لیے فرمایا ہے۔ مگر آج خوب صورتی، مال، دنیاوی ڈگریاں دیکھی جا رہی ہیں چوںکہ یہ چیزیں مادی ہیں اس لیے اس کا اثر دیرپا نہیں رہتا اور کچھ ہی دنوں میں رشتوں میں دراڑیں پڑتی نظر آتی ہے۔

بے حساب لڑکیاں دیکھنا، ان میں نقص نکالنا، انہیں بے عزت کر کے ریجیکٹ کر دینا۔ غریب لڑکیوں کو کسی خاطرمیں نہ لانا وغیرہ ایسے سماجی مسائل ہیں جنھوں نے شادی کو مشکل بنا دیا ہے۔ اگر ہم تاریخ کا جائزہ لین تو پتہ چلے گا کہ آپؐ اور صحابہ کرام نے اپنے نکاح کس طرح کیے تھے۔

آج نکاح اتنا مشکل کیوں ہوگیا ہے؟ اگر ہم اس کی وجوہات پر نظر ڈالیں تو پتہ چلے گا کہ یہ تمام وجوہات انسان کی خود ساختہ ہے۔ یہ ایسے ہی ہیں جیسے خود کو بیڑیوں میں جکڑ لینا۔

اگر آج نکاح سنت کے مطابق ہو تو کوئی لڑکا یا لڑکی غلط راستے کی طرف نہ جائے اور نہ ہی لڑکیوں کو بوجھ سمجھا جائے۔نکاح میں لڑکے والوں کی جانب سے ناجائز شرائط، کھانا، جہیز، بری، ہلدی، مہندی کی رسم بے پردگی، بے حیائی، ناچ گانا، مووی یا فوٹوس نکالنا، یہ سب غیر قوموں کی تقلید ہے۔

ولیمہ سنت ہے یہ کہہ کر اس میں صرف امیروں کو بلانا بے جا اسراف، شو بازی، مخلوط محفل، یہ سب باتیں بھی اسلام میں پسندیدہ نہیں ہے۔

قرآن مجید میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے: ’’فضول خرچی کرنے والا شیطان کا بھائی ہے۔‘‘ نکاح کو مشکل بنانے کی وجہ سے آج غیر مسلم لوگ مسلم لڑکیوں سے شادیاں کر رہے ہیں۔ نکاح کے خرچ سے آزاد کرانے کا جھانسہ دے کر انہیں مرتد بنا رہے ہیں۔ اس کا ذمہ دار کون ہیں؟

ذرا سوچئے! سوالات بہت ہیں مگر…؟

نکاح کو آسان بنانے کے لیے قرآنی تعلیمات کو عام کرنا ہوگا۔ نکاحِ مسنون کا طریقہ جاننا ہوگا۔ ہمارے خطبات، اجتماعات، اسکولس کے نصاب میں یہ باتیں شامل ہونی چاہیے۔

اپنی ذات سے شروعات کریں، کچھ ہی دنوں میں ہمارے معاشرے میں نکاح آسان ہوتا ہوا نظر آئے گا۔ ان شاء اللہ۔ lll

شیئر کیجیے
Default image
فرحانہ انجم بنت شیخ احمد عزیزی