وقت

وقت ہی زندگی ہے

وقت افراداورقوموں کا سرمایہ ہے۔اس سرمایہ کے ٹھیک استعمال سے ہی افراد ،قومیں ترقی کی راہ طے کرتی ہیں۔اس پونجی کا صحیح استعمال معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری بھی ہےاور ضرورت بھی۔کسی قوم کے زوال کی پہلی علامت یہ ہے کہ اس کے افرادضیاع وقت کی آفت کا شکار ہوجائیں۔آج مغرب کی مادی ترقی جن شاہراہوں پرگامزن ہے اور سائنس اور ٹیکنولوجی میں اس قوم نے ترقی کے جن میناروں کو چھواہے اس کی بنیادی وجہ محض وقت کی قدر ہے۔چنانچہ مغربی ملکوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ کسی کام کے لیے لائن میں لگے ہیں لیکن اس وقت کو وہ استعمال کرتے ہوئے کتاب پڑھ رہے ہیں۔

علامہ ابن جوزی ؒ نے لکھا ہے کہ ’’وقت کو ضائع ہونے سے تب بچایا جاسکتاہے جب دل میں اس کا احساس ہو۔‘‘ اورشاید ہمارے اندر یہ احساس مرچکا ہے۔ وقت کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی تیز رفتاری اور دوبارہ ملنے سے محرومی ہے۔

حسن بناالشہیدؒ کے بقول’’وقت ہی زندگی ہے۔‘‘

قرآن دوموقعوں پر انسان کی حسرت اور ندامت کا ذکر کرتاہے جب وہ اپنے وقت کے ضیاع پرپچھتائے گا اور اس کا پچھتانا اس کے کوئی کام نہ آئے گا۔پہلا موقع موت کا وقت ہے۔ اس وقت تمنا کرتاہے کہ کاش اسے تھوڑی سی مہلت دے دی جاتی اور مدت کے لئے موت ٹال دی جاتی تو وہ اپنی بگڑی بنالیتا۔ دوسرا موقع وہ ہے، جب آخرت میں سب کا پوراپوراحساب چکادیا جائے گاہر آدمی کو اپنی کمائی کا بھرپوربدلا مل جائے گا۔جنت والے جنت میں داخل ہوں گے اور جہنم والے جہنم میں داخل ہوں گے اس وقت اہل جہنم تمنا کریں گے کہ کاش ایک بار پھر دنیا میں بھیجے جائیںتاکہ نئے سرے سے نیک عمل کا آغاز کریں۔مگر افسوس کہ ان کی یہ خواہش کبھی پوری نہ ہوگی۔

اس لحاظ سے انسان کی زندگی کا ہر ایک لمحہ اس کے لئے نہایت قیمتی اور بیش بہا ہے۔اسے کسی حال میں ضائع نہ کیا جائے۔اگر وقت ضائع ہوگیا تو انسان کو اپنے اعمال کا جائزہ لینے اور اعمال کو درست کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔

رب ذوالجلال والاکرام نے قرآن کریم میں متعدد جگہ انسان کووقت کی قدر و قیمت کی طرف متوجہ کیا ہے اور عصر کے وقت کی قسم بھی کھائی ہے۔وقت کا کوئی لمحہ اور ،لمحہ کا کوئی بھی حصہ ایسا نہیں ہے جو کام میں نہ آنے والاہو۔کسی بھی لمحے میں کوئی بھی چھوٹے سے چھوٹا کام کیا جاسکتاہے خواہ وہ خیر کا کام ہو یا شر کا۔ فرمایاگیاہے :

ترجمہ: ’’زمانے کی قسم کہ انسان گھاٹے میں ہے سوائے ان کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی‘‘ (العصر)

امام رازیؒ نے کسی بزرگ کا قول نقل کیا ہے کہ میں نے سورہ العصر کا مطلب ایک برف فروش سے سمجھا ہے جو بازار میں آواز لگارہاتھا کہ رحم کرو اس شخص پر جس کا سرمایہ گھلاجارہاہے۔رحم کرو اس شخص پر جس کا سرمایہ گھلا جارہاہے۔ میں نے کہا کہ یہ سورہ العصر ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ عمر کی مدت جو انسان کو دی گئی ہے و ہ برف کے گھلنے کی طرح تیزی سے گزررہی ہے۔اس کو اگر ضائع کردیاگیایاغلط کاموں میں صرف کرڈالاجائے تو بھی انسان کا خسارہ ہے۔

نبی کریم ؐ نے ارشاد فرمایا: پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے غنیمت سمجھو۔زندگی کو موت سے پہلے، صحت کو بیماری سے پہلے، فراغت کو مشغولیت سے پہلے، جوانی کو بڑھاپے سے پہلے اور مالداری کو غربت سے پہلے۔‘‘

وقت اللہ جل شانہٗ کی ایک ایسی عام نعمت ہے جو امیر و غریب، عالم وجاہل اورچھوٹے بڑے سب کو یکساں ملتی ہے۔اس وقت مسلم معاشرہ مجموعی طور پر ضیاع وقت کی آفت کا شکار ہے۔یورپی معاشرہ اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود وقت کا قدردان ہے اور زندگی کو ایک نظام کے تحت گزارنے کا پابند ہے۔علم و فن اورٹیکنالوجیوںمیں ان کی ترقی کا بڑا راز بھی یہی ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ؐ کا ارشاد ہے کہ دونعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ دھوکہ میں پڑجاتے ہیںایک صحت اور دوسری فرصت۔ (بخاری)

حضرت عمر فاروقؓیہ دعا مانگاکرتے تھے: اے اللہ! ہم آپ سے زندگی کی گھڑیوں کی بہتری اورعزیزعمر کے اوقات میں برکت کاسوال کرتے ہیں۔وقت کے ضیاع پر آپؓ کاتاسف ملاحظہ کیجیے۔ آپؓ فرماتے ہیں: جب میں کسی کو بالکل فارغ دیکھوں کہ جو نہ دنیا کا کسی کام میں مشغول ہواور نہ آخرت کے کسی کام میںتو اس سے میری طبیعت پر بڑی گرانی ہوتی ہے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ وقت کی ایک انوکھی قدر کی وضاحت کرتے ہیں: حیات مستعار کے یہ ایام تمہاری عمروں کے صحیفے ہیں۔انہیں نیک اعمال کا دوام بخشو۔ فقیہ الامت حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں: میں اس دن سے زیادہ کسی چیز پر نادم نہیں ہوتاجو میری عمر میں سے کم ہوجائے اور اس میں میرے عمل میں اضافہ نہ ہو۔حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ سے کسی نے کسی کام کی نسبت کہا کہ یہ کام کل کردیں۔ آپ نے فرمایا: میں ایک دن کا کام بمشکل کرتاہوں۔آج کاکام کل پر چھوڑدوں گا تودودن کا کام ایک دن میں کیسے کروں گا۔

مؤمن کو چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں اورمختلف کاموں کے درمیان اپنے اوقات کو منظم اور منضبط کرے۔اورجوکام جس اہمیت اور ترتیب کا حامل ہو اس کو اسی اہمیت اورترتیب سے انجام دے۔

جب آدمی اپنے اوقات کی تنظیم کررہاہو تواس کے لئے ضروری ہے کہ ایک حصہ اپنے آرام و راحت کے لئے بھی فارغ کرے۔اس لئے کہ نفس دیر تک محنت کرنے سے اکتاجاتاہے۔ اس لئے وقت کا کچھ حصہ جائز کھیل اور تفریح کے لئے بھی نکالناضروری ہے۔ حضرت علی ؓ کا قول ہے کہ تھوڑے تھوڑے وقفہ سے دل کو آرام پہنچاتے رہو۔اس لئے کہ جب دل کو مجبور کیاجاتاہے تووہ اندھاہوجاتاہے۔

سورہ الحشر کی آیت ۱۸ میں ارشاد باری تعالی ہے: ترجمہ: ’’اے لوگوجو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور ہرشخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لئے کیا سامان کیا ہے۔‘‘

ہر ایک مسلمان کو چاہئے کہ ہرروز رات کو سونے سے پہلے اپنامحاسبہ کرلے کہ دن بھر میں اس نے کیاکام کیا اور کیا کام چھوڑااور کیوں چھوڑا؟ اس سے اس کو اندازہ لگ جائے گا کہ اس نے جان بوجھ کر یا انجانے میں کتنے خطاء کئے ہیں۔حضرت عمر بن الخطاب ؓ فرماتے ہیں: لوگو! اپنا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا حساب لیا جائے، اور اپنے اعمال کو تولو قبل اس کے کہ وہ اللہ کی میزان میں وزن کئے جائیں۔اس شخص کا حساب قیامت کے دن ہلکا ہوگا جودنیامیںاپناحساب خود کرلے (سنن الترمذی)

بہت سی ایسی آفات ہیںجو انسان کے وقت کو برباد کردیتی ہیں۔وہ آفات یہ ہیں:

غفلت:یہ ایسا مرض ہے جو انسان کے دل و دماغ کو اس طرح لگ جاتاہے کہ وہ دنیامیں رونما ہونے والے حادثات و واقعات اور شب وروز کی آمد ورفت کے سلسلے میںبیدار حسی کو کھو بیٹھتاہے۔اور وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر ہوجاتاہے۔

ٹال مٹول کی عادت: ٹال مٹول کی عادت انسان کے اوقات کوبرباد کردینے والی انتہائی خطرناک آفت ہے اور یہ عادت انسان کواپنے قیمتی اوقات سے فائدہ اٹھانے نہیں دیتی۔

زمانے کو برابھلا کہناـ: زمانے پر لعن طعن کرنا اور ہمیشہ اس کے ظلم و ستم اورگردش ایام کاشکو ہ کرنا عمل کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ بعض لوگوںکا حال یہ ہے کہ وہ زمانے کو ایسا مخالف تصورکرتے ہیںجو ان پر ظلم ڈھاتا رہتا ہے۔ یا ایسا دشمن جوہمیشہ ان کے چکر میں پڑارہتاہے۔

زندگی کی قدروقیمت شب و روز کے ضائع ہونے والے اوقات کے احتساب پردل میں ندامت و حسرت کی ایک کیفیت پیداکرتی ہے۔یہی کیفیت ایک نشان منزل بنتی ہے کہ انسان کو آئندہ وقت کے ضیاع سے بچاتی ہے۔وقت کے سلسلے میں احتساب سے مقصودیہی ندامت و احساس پیداکرنا ہ جوو ہ آئندہ کے اوقات کی حفاظت اوران کے صحیح استعمال کا عز م جواں پیدا کرے۔

شیئر کیجیے
Default image
سلیم شاکر چنئی