naat

نعت (نبی ہمارا)

وہ جس کی برکت سے خاک یثرب کو مل گئ شہرت مدینہ

وہ جس کا پیغام آدمیت کو بحر ظلمات میں سفینہ

وہ مطلع نور وہ منارہ ، وہ صبح عالم کا استعارہ

نبی ہمارا

وہ دشمنوں میں امین ہے جو ، کھلی کتاب مبین ہے جو

وہ خاتم المرسلین ہے جو، رسول سدرہ نشین ہے جو

جبین تاریخ آدمیت پہ صبح صادق کا وہ ستارہ

نبی ہمارا

بیان جس کا بیان رب ہے ، وہ مطلب و طالب وطلب ہے

وہ خاتم الانبیاء لقب ہے، حبیب رب ، ہاشمی نسب ہے

وہ جس کی مٹھی میں بول پڑتاہے سنگ پارہ

نبی ہمارا

وہ فخر آدم نوید عیسیٰ، لقب دعاءِ خلیل جس کا

جوایک پل میں حرم سےاقصی، جو ایک لمحے میںاوج سدرہ

وہ برق جیسے براق والا ، وہ کہکشانوں کا نور پارہ

نبی ہمارا

امامت انبیاء سے ظاہر ، وہ سب سے اول وہ سب سے آخر

وہ حسن تصویر کا تصور ، وہ ہادی و طاہر و مطہر

دو لخت کردے قمر کی ہستی،وہ جس کی انگلی کا اک اشارہ

نبی ہمارا

خدائے بر تر کی رحمتوں کا جہان پر اک ظہور ہے وہ

جہان کی ظلمتوں میں بزمی ہدایت حق کا نور ہے وہ

یتیم اس کے غلام اس کے وہ بے سہاروں کا اک سہارا

نبی ہمارا

شیئر کیجیے
Default image
سرفرازؔ بزمی

تبصرہ کیجیے