زبان کی کمائی

محنت میں عظمت ہے۔ جو مزہ ہاتھوں سے کمائے رزق میں ہے، وہ کسی اور چیز میں نہیں۔ابا جان کے یہ الفاظ میں اکثر ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتا کیونکہ میں بڑے اونچے خواب دیکھا کرتا تھا۔ وہ خواب جن کی تعبیر محنت کیے بغیر نہیں ملتی، مگر میں محنت کیے بغیر ہی بلندیوں کو چھولینا چاہتا تھا۔ میری اوقات یہ تھی کہ میرےباپ گاؤں کے لوگوں کی جوتیاں مرمت کرتے تھے۔ نام تو ان کا عدالت تھا لیکن سب انہیں دالو موچی کہتے تھے۔ اس نسبت سے میرا نام گلو موچی مشہور تھا جبکہ میرا اصلی نام گلزار ہے۔ ہماری گزربسر گاؤں کے چودھریوں، نمبرداروں اور بڑے زمینداروں کی بخشش پر ہوتی تھی۔ فصل پکنے پر وہ لوگ ہمیں بھیک کے طور پر گندم اور دالیں دے دیتے جو ابا جان بصد شکر قبول کرلیتے۔ گاؤں میں خوشی اور غمی کے موقع پرابا جان سے کمینوں والا کام لیا جاتا۔ اس پر بھی وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے نہ تھکتے۔ پانچوں وقت کی نماز پابندی سے ادا کرتے اور اکثر مسجد میں اذان بھی دیتے۔ ان کی آواز میں ایک سوز تھا۔ جب کبھی گاؤں کا نمبر دار یا چودھری ان کی اذان کی تعریف کرتا تو وہ خوش ہوجاتے، حالانکہ ایسے لوگ مسجد میں کم ہی آتے تھے۔

مجھ سے بڑی دو بہنیں تھیں اورمیں ان کا اکلوتا بھائی … اس لیے میں گھر بھر کا لاڈلا تھا۔سب کی یہ خواہش تھی کہ میں تعلیم حاصل کرکے خاندان کا نام روشن کروں۔ اسی لیے انھوں نے مجھے گاؤں کے پرائمری اسکول میں داخل کرایا تھا، مگر مجھے پڑھائی سے ذرا سی بھی رغبت نہ تھی۔ مجھے گاڑیوں اور بسوں میں سفر کرنے کا بہت شوق تھا۔ میں اکثر اپنی ذاتی گاڑی کے خواب دیکھا کرتا۔ یہی وجہ تھی کہ میں پانچویں کا امتحان بھی پاس نہ کرسکا۔ دوبار فیل ہونے کے بعد ابا جان نے مجھے اسکول سے اٹھالیا اور میں ان کے ساتھ ہی کام کرنے لگا۔ ان کے خوف کی وجہ سے میں اپنا خاندانی کام سیکھ تو گیا مگر اسے بطور پیشہ اپنانے کو بالکل تیار نہ تھا۔ مجھے اس کام سے نفرت تھی۔ گاؤں کے لوگ مجھے گلو موچی کہتے تو میرے اندر ایک آگ سے لگ جاتی۔ جی چاہتا کہ ان لوگوں کی زبانیں کھینچ لوں جو مجھے موچی کہتے ہیں، مگر میں جانتا تھا کہ میں ان لوگوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا کیونکہ میں غریب تھا اور غربت ایک جرم ہے۔ کاش! میں جی لگا کر پڑھتا تو زندگی کتنی آسان ہوجاتی، مگر اب پچھتانے سے کیا حاصل۔ میں اکثر ابا جان سے کہتا کہ وہ کوئی عزت والا کام کریں، لوگوں کی جوتیاں مرمت کرنا بھی کوئی کام ہے۔

جواب میں ابا جان کہتے: ’’میں محنت کرتا اور ہاتھوں کی کمائی کھاتا ہوں۔ میں کسی سے بھیک نہیں مانگتا۔‘‘ مگر میں ان سے متفق نہ تھا اور ان سے کہتا: ’’دیکھ لینا ابا جان! میں کسی روز آپ کا یہ کام چھڑوا دوں گا۔ میں کوئی ایسا کام کروں گا کہ لوگ میری عزت کریں گے۔ میں اپنےگھر سے غربت کے اندھیرے ختم کردوں گا۔‘‘

’’شیخ چلی والے خواب نہ دیکھا کرو۔ پانچ جماعت تو پاس نہیں کرپائے، اور کیا کروگے؟‘‘ ابا جان طنزیہ انداز میں کہہ کر میرامنھ بند کردیتے۔ میں اندر ہی اندر کڑھتا رہتا مگر بے بس تھا۔ مجبوراً ابا جان کے خاندانی کام میں ان کا ہاتھ بٹانا پڑتا۔ کبھی کبھی جی چاہتا کہ گھر سے بھاگ جاؤں، لیکن میرے پاس اتنی رقم نہ تھی کہ گھر سے بھاگ کر کچھ دن شہر میں گزار آؤں۔ میں کئی بار ملازمت کی تلاش میں شہر جاچکا تھا مگر کم پڑھا لکھا ہونے کی وجہ سے مجھے کوئی گھاس نہ ڈالتا تھا۔

ہمارے گاؤں سے دو میل کے فاصلے پر ایک اور گاؤں تھا، وہاں کے لوگ بھی جوتے مرمت کرانے ہمارے پاس ہی آتے تھے۔ اس گاؤں کا ایک شخص وکیل تھا، وہ شہر میں رہتا اور وہیں وکالت کرتا تھا۔ کبھی کبھی وہ اپنے گاؤں آتا۔ ایک بار وہ کسی کام کے سلسلے میں ہمارے گاؤں بھی آگیا۔ ابا جان کے ساتھ اس کی علیک سلیک تھی اس لیے وہ ان سے ملنے بھی آگیا۔ باتوں باتوں میں میرا ذکر ہوا تو ابا جان نے کہا: ’’گلو اپنے خاندانی کام پر توجہ نہیں دیتا وکیل صاحب! اس کو شہر میں کہیں ملازم کرادو۔‘‘ اگر گلو پڑھا لکھا ہوتا تو میں اسے کسی وکیل کے پاس منشی رکھوادیتا۔ اب میں یہ کرسکتا ہوں کہ اسے اپنے دفتر کے کام اور صفائی وغیرہ کے لیے رکھ لوں۔ رہائش یہ دفتر ہی میں رکھ لے گا۔ کھانا کچہری کی کینٹین سے کھالیا کرے گا۔ میں اسے ایک ہزار روپے تنخواہ بھی دوں گا۔‘‘

وکیل صاحب کی بات سن کر میں تو ہواؤں میں اڑنے لگا۔ میں نے ان کی ہاں میں ہاں ملائی اور ان کے ہمراہ شہر چلاآیا۔ ان کا دفتر ضلع کچہری کے بالکل قریب تھا۔ میں اب ان کا چپراسی تھا اور بہت خوش تھا۔ جب کبھی وکیل صاحب کی ایئرکنڈیشنڈ گاڑی میں بیٹھتا تو لگتا میں جنت میں آگیا ہوں۔ میں نے انہیں شکایت کا موقع نہ دیا۔ روزانہ ان کی گاڑی دھوتا۔ دفتر کی صفائی اور دیگر کام بہت محنت اور دیانتداری سے کرتا۔ اس لیے وکیل صاحب مجھ سے بہت خوش تھے۔ تنخواہ کے علاوہ بھی وہ مجھے کچھ نہ کچھ دے دیا کرتے۔ میں کچہری کے ماحول میں رچ بس گیا۔ یوں ہی پانچ سال کا عرصہ بیت گیا۔ اس عرصے میں ابا جان نے میری دونوں بہنوں کی شادیاں اپنی برادری میں کردیں۔ اس میں میری کمائی بھی شامل تھی۔ ان پانچ برسوں میں دنیا کے رنگ روپ کو اچھی طرح سمجھ گیا۔ کچہریوں میں غریب اور بے بس لوگوں کے ساتھ کس طرح زیادتیاں ہوتی ہیں، یہ بھی جان گیا۔دنیا صرف پیسے والوں کو سلام کرتی ہے۔ ایک دوسرے سے ہاتھ بھی پیسے کی خاطر ملائے جاتے ہیں۔ دھن دولت کی خاطر بیٹا باپ کا اور بھائی بھائی کا بیری ہے۔ کچہری کے اندر صرف ایک ہی جھنکار سنائی دیتی پیسہ، پیسہ اور صرف پیسہ۔

اس روز میرے وکیل صاحب کسی دوسرے شہر کی عدالت میں گئے ہوئے تھے۔ منشی بھی نہ آیا تھا۔ میں دفتر میں اکیلا تھا کہ ایک اور وکیل صاحب وہاں آگئے۔ انھوں نے میرے صاحب کا پوچھا تومیں نے بتایا کہ وہ دوسرے شہر گئے ہوئے ہیں۔ منشی کا پوچھا تو میں نے کہا کہ اس نے چھٹی کرلی ہے۔

’’تم کیا کررہے ہو؟‘‘ اس نے میری طرف گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔

’’میں کچھ بھی نہیں کررہا۔ وکیل صاحب کا حکم تھا کہ دفتر کھلا رکھوں۔‘‘ میں نے جواب دیا۔

’’ایک کام کروگے؟‘‘ اس نے پوچھا۔

’’میرے بس میں ہوا تو کردوں گا جناب!‘‘ میں نے احترام بھرے لہجے میں کہا۔

’’میرے ایک مقدمے میں گواہ کی ضرورت ہے۔‘‘ وہ رازدارانہ لہجے میں بولا۔

’’میرا اس سے کیا تعلق؟‘‘ میں نے انجان بن کر کہا۔

’’اگر تم گواہ بن جاؤ تو…….‘‘

’’تو پھر کیا ہوگا؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’پورے دو ہزار ملیں گے۔ ایک ہزار ابھی اور ایک ہزار بعد میں۔‘‘ اس نے ہز ار روپے میری جیب میں ٹھونستے ہوئے کہا۔

’’مجھے سوچنے دیں۔‘‘ میں نے گھبراہٹ میں کہا۔

’’کچھ نہیں ہوگا گلو بادشاہ!…. مت سوچو۔‘‘ اس کی باتوں میں جانے کیا جادو تھا کہ میں نے اس کی بات مان لی۔ اس نے وہیں مجھے بیان سمجھا دیا۔

اور جب میں عدالت میں جھوٹی گواہی دے کر باہر نکلا تو ایک ہزار اور میری جیب میں تھے۔ ایک ہزار تو میری مہینے بھر کی تنخواہ تھی اور اب میں نے دو گھنٹوں میں اس سے دوگنا کمالیے تھے۔ بس یہیں سے میری زندگی کا رخ بدل گیا۔ میں نے اپنے محسن وکیل صاحب کی نوکری چھوڑ دی اور جھوٹی گواہی دینے کا پیشہ اپنالیا۔ میں پوری کچہری میں مشہور ہوگیا۔میرا نام ’’گلو بادشاہ‘‘ پڑگیا۔ میں نے کچہریوں میں بھٹکنے والے لوگوں کو وکیل کرانے، نقلیں نکلوانے، اسٹامپ پیپر خریدنے اور اسی طرح کے دیگر کام کرنے بھی شروع کردیے۔ جھوٹ، بے ایمانی اور گناہ بھری زندگی نے مجھے نئی لذتوں سے آشنا کرڈالا۔ میں نے اس پیشے میں ڈھیروں دولت کمائی۔

گناہ بھری زندگی میں بھی ایک لذت، ایک سرور اور نشہ ہوتا ہے جو انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو مفلوج کردیتا ہے۔ یہی حال میرا تھا۔دولت کی ہوس نے میرے اندر کے انسان کو مارڈالا۔ میرا ضمیر مرگیا۔ احساس کی حس ہی ختم ہوگئی۔ میری جھوٹی گواہیوں نے کئی مجرموں اور گناہ گاروں کی زندگیاں لمبی کرڈالیں۔ وہ مجرم ہوکر بھی سزا سے بچ گئے اور کئی بے گناہ ہوکر بھی مجرم بن گئے۔ بے قصور قصوروار بن گئے۔ میں نے کئی گھروں میں چراغاں کردیا اور کئی گھروں میں صف ماتم بچھوائی۔ کہیں قہقہے بخشے اور کہیں آنسو بانٹے۔

میرے پاس اب گاڑی بھی آگئی۔ شہر میں ایک مکان بھی خریدلیا۔ شادی بھی ہوگئی۔ میں اب اعلیٰ قسم کے پان کھاتا۔ میری جیب میں گولڈ لیف کے سگریٹ ہوتے۔ میں ایسی ہی زندگی گز ارنا چاہتا تھا۔ سوائے عید کی نماز کے اور کوئی نماز نہ پڑھتا تھا۔ جمعے کی نماز بھی کبھی کبھار ہی ادا کرتا۔ گاڑی میں سفر کرنا میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش تھی۔ میں نے اب گاڑی خریدلی تھی۔ میں اب گاڑی میں بیٹھ کر گاؤں جاتا تو گاؤں والوں کے سینوں پر سانپ لوٹ جاتے۔ اب گاؤں کے لوگ بھی مجھے گلو موچی کے بجائے گلو بادشاہ کہتے تو میرا سینہ فخر سے تن جاتا۔

گاؤں کے لوگ جب مجھ سے پوچھتے کہ میں کیا کام کرتا ہوں اور میری کمائی کا ذریعہ کیا ہے تو میں بڑے فخر سے کہتا: ’’میں باتوں اور زبان کی کمائی کھاتا ہوں۔ میرا باپ ہاتھوں کی کمائی کھاتا تھا۔ اسی لیے اس کی زندگی نہ بدلی۔ میں باتوں کی کمائی کھاکر خوشحال زندگی گزار رہا ہوں۔‘‘



اس روز ایک گواہی دینے کے لیے ہی مجھے دوسرے شہر جانا تھا۔ گھر سے نکلتے ہوئے دیر ہوگئی تھی، اس لیے میں گاڑی کچھ زیادہ ہی تیز چلا رہا تھا۔ میں شہر سے تھوڑے ہی فاصلے پر تھا کہ اچانک ایک بچہ سڑک پار کرتے ہوئے میری گاڑی کے سامنے آگیا۔ اسے بچانے کی کوشش میں گاڑی ایک ٹرک سے ٹکراگئی۔ ایک زور دار دھماکہ ہوا اور پھر مجھے ہوش نہ رہا۔ میں تین دن بے ہوشی کی حالت میں اسپتال میں رہا۔ تین دن بعد ہوش آیا تو اپنا جسم کئی جگہ سے پٹیوں میں لپٹا پایا۔ منہ ایک شکنجے میں جکڑا ہوا تھا۔ مجھے ہوش میں دیکھ کر ڈاکٹر اور نرس دوڑے آئے۔ ان کے چہروں پر خوشی کے تاثرات نمایاں تھے۔ لگتا تھا میرے زندہ بچ جانے اور پھر ہوش میں آنے سے انہیں بہت خوشی ہورہی تھی۔ اتنے میں ایک پولیس انسپکٹر بھی اندر آگیا۔ اسے بھی میرے ہوش میں آنے کی خبر مل گئی تھی۔

’’اگر اجازت ہو تو میں اس کا بیان لے لوں۔‘‘ وہ ڈاکٹر کو مخاطب کرکے بولا۔

’’کیا کریں گے بیان لے کر۔جو ہونا تھا وہ ہوچکا۔‘‘ ڈاکٹر بولا۔

’’قانونی کاروائی کے لیے یہ ضروری ہے۔ یہ میرا فرض بھی ہے۔‘‘ انسپکٹر نے تلخ لہجے میں جواب دیا۔

’’آپ اس زخمی کا بیان نہیں لے سکتے۔‘‘ ڈاکٹر نے بھی اسی لہجے میں جواب دیا۔

’’میں انسپکٹر ہوں۔ میرے فرض کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں ڈاکٹر صاحب!‘‘

انسپکٹر کا لہجہ مزید تلخ ہوگیا۔

’’میں نے کہا نا…. آپ اس کا بیان نہیں لے سکتے، میں اس کے ڈاکٹر کی حیثیت سے کہہ رہاہوں۔‘‘ ڈاکٹر نے اپنا فرض اسے بتانا چاہا۔

’’مگر کیوں؟‘‘

انسپکٹر جھنجھلاہٹ کے عالم میں بولا۔’’اس لیے انسپکٹر صاحب کہ … اس حادثے میں اس کی زبان کٹ گئی ہے۔ یہ اب کبھی بھی بول نہ سکے گا۔‘‘

ڈاکٹر کے الفاظ برچھیوں کے مانند میرے جسم میں اتر گئے۔ بے بسی کی حالت میں آنکھیں چھلک اٹھیں۔ میرے حلق سے گھٹی گھٹی سسکیاں نکل گئیں اور میں ایک بار پھر بے ہوش ہوگیا۔



میں پورا ایک ماہ اسپتال میں رہا۔ جب میں صحت یاب ہوکر وہاں سے نکلا تو بولنے کی قوت سے محروم ہوچکا تھا۔ دکھ درد اور پچھتاووں کی آگ نے مجھے چاروں طرف سے گھیر لیا۔ قدرت مجھے گناہوں کی ایسی بھیانک سزا دے گی، میں نے سوچا بھی نہ تھا، مگر اب کیا ہوسکتا تھا۔ سب کچھ لٹ گیا تھا۔ میں جس زبان کی کمائی کھاتا تھا، وہ زبان ہی نہ رہی۔ اس رات دیر تک میرے بیوی بچے میری چارپائی کے ارد گرد بیٹھے رہے۔ ہم سب خاموش تھے۔ میری آنکھوں میں درد اوردکھ کے سائے تھے۔ بیوی اور بچوں کی حالت بھی دگر گوں تھی۔ اس رات مجھے احساس ہوا کہ میں کئی انسانوں کے ارمانوں اور امنگوں کا قاتل ہوں۔ مجھے تو اس سے بھی بڑھ کر کڑی اور بھیانک سزا ملنی چاہیے۔ اس رات مجھے ابا جان کی باتیں یاد آئیں۔ وہ سچ کہتے تھے کہ ہاتھوں کی کمائی میں عظمت اور برکت ہے۔ میں نے ان کی بات نہ مانی، ان کی سنہری نصیحتوں کی قدر نہ کی، میں یہ بھول گیا تھا کہ زمین کی مٹی جتنی بھی اوپر اٹھتی ہے، بالآخر اسے گرنا تو زمین ہی پر ہے۔ میں بھی اب زمین پر آگیا تھا۔ مجھے اپنی اوقات یاد آگئ۔ میں نے پروردگار سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی اور توبہ کی پھر شہر چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔



میں اب اپنے گاؤں کی سڑک کے کنارے ایک ٹھیےپر بیٹھتا ہوں۔ میں نے اپنا خاندانی پیشہ اپنا لیا ہے۔ میں نے سب کچھ فروخت کرکے شہر سے تعلق ختم کرلیا ہے۔ میں اب علاقے کے لوگوں کے جوتے مرمت کرتا ہوں۔ میں اپنا ماضی بھلانا چاہتا ہوں مگر نہیں بھول سکتا۔ اب میں زمانے کے سامنے نشانِ عبرت ہوں۔ میں بول نہیں سکتا۔ اشاروں میں باتیں کرنا میری زندگی بھر کی مجبوری بن گئی ہے۔ میں لوگوں کے سامنے کچھ کھا سکتاہوں نہ پی سکتا ہوں، میں کیسے کھاتا پیتا ہوں یہ میری بیوی جانتی ہے۔ بھلا یہ کوئی زندگی ہے۔ پھر بھی مطمئن ہوں کہ اب میں حلال کی کمائی کھاتا ہوں۔ اب میں گلو موچی ہی کہلاتا ہوں۔ یہی میری پہچان ہے۔ اب میں ابا مرحوم کی باتوں کو یاد کرتا ہوں۔ وہ سچ ہی کہتے تھے کہ ’’محنت میں عظمت ہے۔‘‘(مرسلہ: ڈاکٹر اقبال احمد ریاض، ماخوذ از اردو ڈائجسٹ، لاہور)

شیئر کیجیے
Default image
محمد سلیم اختر

تبصرہ کیجیے