نجات

وہ ایک عرصے سے بے چین رہنے لگا تھا۔ کوئی اسے اندر ہی اند رکچوکے لگایا کرتا، جس سے اُسے تنہائی میں بھی اذیت ہوا کرتی تھی اور اب یہ اذیت اس کے لیے ناقابل برداشت ہوچکی تھی۔ اسے یوں محسوس ہونے لگا تھا کہ ابھی اس کا سر پھٹ جائے گا اور اس کا سینہ شق ہوجائے گا۔ بار بار اس کا جی چاہتا کہ وہ اپنے سر کو کمرے کی سفید، شفاف دیوار سے ایسا ٹکرائے کہ اس کی کھوپڑی کے ٹکڑے ہوجائیں۔ کبھی اس کا دل چاہتا کہ وہ اپنے بال نوچ ڈالے اور اپنا سفید بے داغ لباس پھاڑ کر، چوراہے پر کھڑا ہوکر چیخ چیخ کر کہے:

’’آؤ شہریو! مجھے باحیثیت، با عزت سمجھنے والو، سنو میری حقیقت … پھر جو چاہے مجھے سزا دو … بس مجھے اس ناقابلِ برداشت اذیت سے نجات دلادو۔ میرے رشتے دارو! میرے پڑوسیو! میرے شہریو!‘‘

اس اذیت ناک صورتِ حال کے باوجود وہ یہ بھی چاہ رہا تھا کہ وہ اچھی طرح جیئے… جیسے پہلے جیا کرتا تھا۔

جینے کی خواہش … مرجانے کی آرزو، ذہن میں ایک تصادم ، خلفشار، ایک ٹکراؤ متضاد خواہشوں کا، فتح جینے کی خواہش کی… پھر حملہ مرنے کی آرزو کا، جس میں خوف، دہشت، روحانی کرائسس، ماضی کے حملے، ایک کشمکش … وہ خود، خود نہ رہے کوئی دوسرا بن جائے … مگر اس کا ’خود‘ جس کا خالق وہ خود تھا، بغیر سوچے سمجھے اس نے اپنے ’خود‘ کو بنایا تھا۔ اب جسے چاہ کر بھی وہ ختم نہیں کرپارہا تھا۔ کاش! میں اپنے اندر ایک سپاٹ کردار بن جاؤں، بے چہرہ، بے نام، نہ میرا کوئی ذاتی وجود ہو، نہ کوئی ہمدم، نہ رفیق! میں اپنی ذات کو اب کیسے محفوظ رکھوں جو آج اپنے آپ سے بغاوت پر تلی بیٹھی ہے۔ کل کہاں مرگیا تھا یہ میرا اپنا آپ، کمبخت کہیں کا۔

وہ اپنے آپ پر کچھ عرصے سے جھنجھلایا ہوا بھی تھا۔ یہ جھنجھلاہٹ جس میں خوف، بے چینی اور اذیت تھی، یہ کیسے اور کب سے اور کہاں سے، کیوں کر اس کے اندر سرایت کرگئی تھی، ذہن و دل میں ہی نہیں اس کی رگ رگ میں رچ بس گئی تھی، وہ خود اس سے لاعلم تھا۔ اب وہ صرف خود کو جان رہا تھا، جس سے اسے گھن آرہی تھی اور رہ رہ کر کراہیت محسوس ہورہی تھی۔

اس کے کردار کی کتاب مجرم کا روزنامچہ بن چکی تھی جو نامعلوم طریقے سے لکھی جاچکی تھی اور اس کے ذہن کی شیلف میں رکھی بھی جاچکی تھی۔ اس کے لیے سب سے قریب سچائی اس کا یہ روزنامچہ ہی تھا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ اسے پڑھ رہا تھا۔ آنکھوں میں بینائی نہ ہونے کے باوجود بھی اس کا مطالعہ کررہا تھا۔

کچھ عرصہ ہوا اس کی آنکھوں کی بینائی کم ہوگئی تھی جس کا اس نے علاج کرایا۔ نئی عینک لگوائی، پھر عینک بدلی، موتیا بند کا آپریشن کروایا، مگر بے سود۔ ایک وقت اس کی زندگی میں ایسا آگیا کہ اس کو آنکھوں کی ضرورت ہی نہیں رہی اپنا روزنامچہ پڑھنے کے لیے۔

اس کی بینائی چہرے کی آنکھوں سے دل کی آنکھوں میں اتر گئی تھی۔ بس تب ہی سے وہ بے چین رہنے لگا تھا، کیوں کہ دل کی آنکھیں اس کے اندر کے وجود کو دیکھ رہی تھیں۔

چہرے کی آنکھوں کےپٹ جب جی چاہے وہ بند کرلیتا تھا، لیکن دل کی آنکھوں کے پٹوں پر اس کا اختیار نہ تھا۔اسی طرح اُس کے کان، جو پہلے آہوں اور سسکیوں سے مانوس ہوچکے تھے، وہی کان اب ان آہوں اور سسکیوں کو جو اس کے ذہن کی کوٹھڑیوں میں صدائے بازگشت کی طرح گونجے جارہی تھیں، سننا گوارا نہیں کررہے تھے۔ سسکیوں اور آہوں کی آواز جب تیز ہوجاتی تب وہ اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیتا تھا، لیکن بے سود،کیونکہ آواز اس کی باطنی دنیا سے آرہی تھی، خارجی دنیا سے نہیں۔ اس کی خارجی دنیا تاریک ہوچکی تھی اور باطنی روشن۔

جب اس کی آنکھوں میں بینائی تھی، تب اس نے اپنی باطنی دنیا پر طائرانہ نظر تک نہ ڈالی تھی۔ اس کی نگاہیں خارجی دنیا میں کھوئی ہوئی تھیں، ایک بے ضابطہ نمائش میں الجھی ہوئی جس کا وہ خود معمار تھا۔ جہاں جائز وناجائز کا امتیاز نہیں رکھا گیا تھا، وہی نمائش اب اس کی باطنی دنیا میں سجی ہوئی تھی اور اس کے لیے جہنم بن گئی تھی جس کے شعلے اس کے بدن کو اندر ہی اند جلا رہے تھے۔ وہ چاہ کر بھی اپنے اندر دہکتی ہوئی جہنم کو سرد نہیں کرپارہا تھا۔

’’میں ، میرا نہیں ہوں! کتنی عجیب اور افسوس ناک بات ہے کہ میں خود اپنا نہیں ہوں … ! کس قدر اذیت دہ بات ہے۔!‘‘

’’میں کس کی قید میں ہوں؟ کس کی حکومت ہے مجھ پر!‘‘

’’اس کی، جس نے میرے گناہوں کی پردہ پوشی کرکے مجھے خاندان کا شریف انسان اور سماج کا باعزت وبا حیثیت شہری بنائے رکھا۔‘‘

’’میں کیا کروں… ؟ میرے اندر کا انسان مجھ سے بغاوت کر بیٹھا ہے۔‘‘ وہ مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا۔

آج سے عرصے پہلے جب وہ ہر طرح سے تندرست تھا، جب اس کی رگوں میں خون کی رفتار اس جوشیلے سمندر کی لہروں کی طرح تیز وتند تھی جو بڑی بڑی چٹانوں کے ٹکڑے کردیتی ہیں، ساحل کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیتی ہیں، تب کچھ کر گزرنے کی خواہش اس کے دل میں زوروں پر تھی۔ اسی خواہش کے زیرِ اثر اس نے وہ کیا جو اسے کبھی نہیں کرنا چاہیے تھا۔ سارے ناجائز فعل، جس سے اسے مسرت ہوتی، ایسی مسرت جو دائمی نہیں، مگر اس عارضی مسرت میں ہی وہ مگن تھا۔

اب اس کی زندگی کے ہرلمحے میں دہشت تھی اور ہر دہشت میں اس کے ماضی کا گھناؤنا عکس، جس سے نجات ناممکن تھی۔

’’مجھے اپنی زندگی ختم کردینی چاہیے!‘‘ اس نے بارہا یہی سوچا تھا، لیکن میں اپنی ساری زندگی ختم نہیں کرسکتا۔ مجھے اپنی زندگی سے نجات ناممکن ہے، ماضی سے نجات ناممکن ہے۔ احساسِ جرم سے نجات ناممکن ہے۔ نجات نہیں، گرفت ہے، جس سے فرار ناممکن ہے۔ روح کی موت کی طرح ناممکن! میںکہاں جاؤں؟‘‘

ایک سوال، جس کا اس کے پاس جواب تھا۔

جواب … خوف ناک!جواب … دردناک! جواب: جس میں اس کی سب سے بڑی دہشت مضمر تھی۔

’’نہیں … ! میں مرنا نہیں چاہتا … وہاں تو میرے گناہ تولے جائیں گے۔‘‘

’’میں زندہ رہنا چاہتا ہوں، مگر میں زندہ بھی نہیں رہنا چاہتا… !‘‘

اذیت دہ کشمکش … روحانی کرائسس۔

آج اس کے وجود میں روحانی کرائسس کافی بڑھ گیا تھا جو اس کے لیے ناقابلِ برداشت ہوچکا تھا۔ رات کے دو بج چکے تھے اور نیند اس سے کوسوں دور تھی۔ اس نے معمول کے مطابق نیند کی ایک گولی بھی کھالی تھی، لیکن گولی بےاثر ہوگئی تھی۔

میرے پاس اپنی نیند بھی نہیں ہے … گولی کی نیند، خریدی ہوئی نیند … کتنا بڑا المیہ ہے یہ، میں دنیا کا سب سے بڑا غریب ہوں۔

اس نے سرہانے رکھی ہوئی شیشی کو ٹٹولا جو نیند کی گولیوں سے بھری ہوئی تھی، اس میں سے ایک گولی نکال کر ہتھیلی پر رکھی پھر ایک سر دآہ کھینچ کر اسے پانی کے گھونٹ سے حلق کے نیچے اتار لیا اور پھر گلاس بھر پانی پی کر آنکھیں موند کر مخملی بستر پر لیٹ گیا۔

بستر پھر اسے کانٹوں کی طرح چبھنے لگا … وہ کانٹے اپنے پوتے کے ایک جملے سے اس کے بستر میں پیدا ہوگئے تھے۔ وہ جملہ جو اس نے آج اسکول سے آنے کے بعد اس سے کہا تھا۔

’’دادا جان! ہماری میڈم نے کہا ہے کہ بزرگ احترام کے لائق ہوتے ہیں ان کی عزت اور احترام کرنا چاہیے!‘‘

اپنے پوتے کے منھ سے یہ بات سن کر اس نے جواب میں کچھ نہیں کہا تھا، ہاں اس کے جملے نے اسے اندر تک تڑپا کر رکھ دیا تھا، جیسے وہ جملہ اس کے لیے ایک تیرہو، ایک خنجر جو ٹھیک اس کے دل میں پیوست ہوگیا ہو اور اس کی اذیت سے اسے نیند نہیں آرہی تھی۔ رات کے دو بج چکے تھے اور وہ بستر پر تکلیف دہ کروٹیں بدل رہا تھا۔

ایک مجبور عورت کا افسردہ چہرہ اس کی نگاہوں کے سامنے تھا۔ آنکھیں جھکی ہوئی — کفن جیسی سفید ساڑی میں وہ اپنے بدن کو اچھی طرح چھپائے، سر جھکائے اس کے سامنے کھڑی تھی اور وہ اس کی طرف شہوت بھری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔

عرصے سے وہ اس خوب صورت، حسین اور خوددار عورت کے مجبور ہونے کا منتظر تھا اور وہ آج اس کے پاس مجبور ہوکر آہی گئی تھی۔

اس عورت نے اپنی مجبوری اس کے سامنے پیش کی، اپنے بیوہ ہونے کا دکھ بیان کیا، اپنی مفلسی کا رونا رویا، اپنی بے روزگاری سے نجات مانگی اور اس نے اسے بے روزگاری سے نجات دلادی، اپنے اسکول میں ملازمت دے کر، لیکن اس عورت کو بے روزگاری سے نجات حاصل کرنے کے لیے اپنی عصمت کا صدقہ دینا پڑا تھا۔ وہ عورت اس کے پوتے کی ٹیچر تھی۔

’’دادا جان! ہماری میڈم نے کہا ہے کہ بزرگ احترام کے لائق ہوتے ہیں ان کی عزت اور احترام کرنا چاہیے!‘‘

’’نہیں … نہیں‘‘ وہ اپنے وجود میں چیخ اٹھا۔ ’’میں احترام کے لائق نہیں ہوں … میں بدچلن، بدکردار انسان ہوں!‘‘ وہ جھنجھلا کر بستر سے اٹھ بیٹھا اور فوراً سرہانے رکھی ہوئی نیند کی گولیوں سے بھری شیشی کو ہتھیلی پر انڈیلا اور ساری گولیاں پانی کے ساتھ نگل گیا۔

شیئر کیجیے
Default image
محمد طارق، امراؤتی

تبصرہ کیجیے