2

انتخابی نتائج کے بعد

آخری مرحلے کا انتخاب مکمل ہونے والا ہے۔ یہ شمارہ جب تک آپ کے ہاتھوں میں پہنچے گا پارلیمانی انتخاب کا اعلان ہوچکا ہوگا اور ملک کو نئی حکومت مل چکی ہوگی۔

اس بار کے انتخابات میں جس طرح عوام نے تبدیلی کے لیے جتن کیے ہیں وہ بڑے سخت گزرے۔ الیکشن کمیشن کا رویہ، ای وی ایم کی شکایتیں، اپوزیشن کو ہراساں کرنے کی کوششیں اور اقتدار کی طاقت کے سلسلے میں تجزیہ نگار کی بھی لکھتے رہے ہیں اور اپوزیشن پارٹیاں بھی اس پر احتجاج درج کراتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مذکورہ اندیشوں کے سبب تجزیہ نگار عوام کا واضح تبدیلی کا موڈ دیکھنے کے باوجود اقتدار کی مکمل تبدیلی کرنے سے گریز کررہے ہیں۔ کچھ لوگوںکا خیال ہے کہ موجودہ سرکار جارہی ہے، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ معلق پارلیمان کا دور پھر سے آرہا ہے اور علاقائی پارٹیوں کا رول اور اہمیت بڑھے گی جبکہ کچھ لوگ موجودہ حکومت کے ہی دوبارہ آنے کا ’اندیشہ‘ ظاہر کررہے ہیں۔ ہاں ان کے خیال میں سیٹیں تو کم ہوں گی مگر حکومت انہی کی ہوگی۔ جبکہ برسرِ اقتدار پارٹی اس بار چار سو سے زیادہ سیٹیں لانے کا دعویٰ کررہی ہے۔ بڑے اعتماد کے ساتھ اور اس اعتماد کی معلوم اور نامعلوم وجوہات ہوسکتی ہیں۔ جو کچھ بھی ہو ۲۳؍مئی تک واضح ہوجائے گا اور ابھی ہم جو اندازے لگا رہے ہیں وہ سب یکسر مسترد ہوکر حقیقت سامنے آچکی ہوگی۔

مسلمانوں کے بارے میں یہ تصور ہے کہ وہ اس وقت برسرِ اقتدار پارٹی کی مخالف ہے۔ یہ درست بھی ہے کہ برسرِ اقتدار گروہ کی بنیادی سوچ ہی مسلم مخالفت پر مبنی ہے اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں بلکہ جگ ظاہر ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن کی سربراہ اور ملک کی بڑی قدآور پارٹی کا نگریس ہے جسے لوگ سیکولر اقدار کی حامل اور غیر فرقہ پرست پارٹی کی حیثیت سے جانتے اور تسلیم کرتے ہیں۔ اب اقتدار میں ان دونوں کی قیادت والے اتحاد میں سے کوئی ایک برسرِ اقتدار آئے گا۔ اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ کوئی تیسرا محاذ ملک کی باگ ڈور سنبھالے۔

ہم نے کانگریس پارٹی کے اقتدار میں تقریباً نصف صدی گزاری ہے اور اب مسلم مخالف سمجھی جانے والی پارٹی کے دور میں بھی پانچ سال گزار دیے۔ جبکہ اس سے پہلے بھی پانچ سال سے کچھ کم مدت کا اقتدار بھی ان کا ہم نے دیکھا ہے۔ حالانکہ وہ اٹل و اڈوانی جی کا دور تھا اور یہ مودی جی اور امت شاہ کا دور ہے اور دونوں بہت مختلف ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ کانگریس کے دور میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے لیے فضا میں گھٹن کم رہتی ہے اور موجودہ حکومت کے دور میں یہ گھٹن بہت بڑھ جاتی ہے اور کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ سانس لینے میں دشواری ہورہی ہے۔ ملکی فضا میں زہر تو پہلے سے پھیل ہی رہا ہے اور پھیلایا جارہا ہے مگر فرقہ پرست طاقتوں کے دور میں یہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ جبکہ سیکولر طاقتوں کے دور میں بھی یہ باقی رہتا ہے مگر دباؤ میں کمی محسوس کی جاتی ہے۔ اس حیثیت سے ہم اگر صرف اقلیت ہونے کی بنیاد پر سوچیں تو ہمیں حکومت کی تبدیلی زیادہ خوشگوار لگتی ہے لیکن ہم اپنے قارئین سے کہنا چاہیں گے کہ حکومت کسی کی بھی آئے ہمیں نہ بہت زیادہ پریشان، مایوس اور شکست خوردہ ہونے کی ضرورت ہے اور نہ ہی بہت زیادہ خوش اور اس طرح مطمئن ہوجانے کی کہ پانچ سال کے لیے خوشی کے نشے میں مست ہوکر سوجائیں۔

ہم نے مودی و امت شاہ کی جوڑی کے دور میں پانچ سال گزار دیے، اس دوران مسلمانوں کو ماپ لنچنگ کے علاوہ کوئی نئی مصیبت نہیں جھیلنی پڑی سب کی سب پرانی مصیبتیں تھیں جو جاری رہیں۔ اس کے برخلاف ملک نے بے شمار نئی مصیبتوں کا سامنا کیا۔ عوام پر اس دوران کیا کیا گزری یہ سب کے سامنے ہے۔ اس دور کی سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ملک و قوم کو بھی متنوع نقصانات اٹھانے پڑے اور ملک کے معتبر اور کلیدی سول اداروں کی ساکھ اور وقاربھی داؤ پر لگ گیا۔اگر ہم جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ مسلمانوںکو کم ملک کو زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام تبدیلی کے خواہش مند نظر آتے ہیں اور جب مسلمانوں سے زیادہ نقصان ملک کو پہنچا ہے تو ہمیں سوچنا بھی ملکی مفاد میں چاہیے کہ ملک کے مفاد میں ہی ہمارا مفاد ہے۔ ہمارے خیال میں اب سیاست کے تناظر میں مسلمانوں کو ’ملی‘سیاست سے نکل کی ملکی سیاست میں داخل ہونا چاہیے اور ملک اور اہلِ ملک کے مفاد کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے۔ اس طرح ہم ملک کے مفاد کی بھی حفاظت کرسکیں گے اور فرقہ پرست طاقتوں کو بھی منہ توڑ جواب دے پائیں گے۔

برسرِ اقتدار کوئی بھی پارٹی رہے ایک طرف تو وہ دستور کی رسی سے بندھی ہے اور دوسری طرف وہ اپنے سیاسی مفادات کی جمع تفریق کے اصولوں سے۔ اس حیثیت سے نہ تو فرقہ پرست طاقتیں یہاں سے کوشش کے باوجود اقلیتوں کا خاتمہ کرسکتی ہیں اور نہ دوسری سیکولر طاقتیں انہیں ترقی کے بامِ عروج پر پہنچا سکتی ہیں۔ حالانکہ مخالف طاقتیں کچھ نقصان اور سیکولر طاقتیں کچھ فائدہ پہنچاتی رہی ہیں مگر ملتوں کی ترقی اور عروج میں سیاسی اکائیوں اور حکومتی کوششوں سے کہیں زیادہ بڑا اور کہیں زیادہ اہم رول خود ان اکائیوں کی اپنی کوششوں اور ان کی قیادت کی اسٹریٹجی ، فراست، دیانت اور جدوجہد کا ہو تا ہے۔ متنوع سطح کی ان کی اپنی کوششیں ہی ان کے مستقبل کو سنوارتی اور ترقی و بہتری سے ہم کنار کرتی ہیں۔

اس حقیقت کے پیش نظر ہم مسلمانوں کو عام طور پر اور ان کی قیادت اور باشعور اور صاحب استطاعت کو خاص طور پرمتوجہ کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اس فکر سے آگے بڑھ کر کہ، کس کی حکومت بنتی ہے اور وہ مسلمانوں کو کیا دیتی ہے اور کیا چھینتی ہے، انفرادی اور اجتماعی لائحۂ عمل بنانے کی طرف متوجہ ہوں اوراپنی ترقی اور بہتری کی خود راہیں تلاش کریں اور اس پر چلنے کا شوق پیدا کریں۔ ہمارے خیال میں مسلمانوں کی پسماندگی اسی وجہ سے اپنی جگہ قائم ہے کہ انھوںنے پچھلے ستر سالوںمیں صرف حکومتوں کی طرف دیکھا ہے اور انہی سے توقعات رکھی ہیں۔ اس کے نتیجہ میں اس کے حالات یا تو بہتر ہی نہیں ہوتے، یا اسی قدر سدھر کے جتنے سیاسی پارٹیوں کے فارمولے میں سیٹ ہوتے تھے۔

اس کی دلیل کے طور پر ہم ہندوستان کے جنوبی خطوں کی مثالیں جزوی طور پر پیش کرسکتے ہیں جہاں باشعور افراد نے مسلمانوں کی بہتری اور ان کے مختلف الجہات ارتقاء کے لیے منصوبہ بندی اور ادارہ سازی کی اور بہتری کو بہ چشم خود دیکھا۔

حکومت کسی کی بھی بنے کچھ مسائل اور مشکلات بہ حیثیت مسلمان اقلیت ہمارے لیے باقی اور قائم رہیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم ان مسائل سے نبرد آزماد ہونے میں ہی اپنی ساری طاقت و صلاحیت لگادیں گے یا حالات کے اچھا بنانے کی کوششوں کے لیے بھی کچھ کام کریں گے۔ اگر یہی روش رہی تو کوئی بھی حکومت ہمارے حالات اور مستقبل کو نہیں سنوار پائے گی۔

لہٰذا اب وقت ہے محرومی، مایوسی اور شکوہ شکایت سے نکل کر اپنے ارتقاء اور اپنی بہتری کے لیے خود کچھ کرنے کا کہ ستر سال ہم نے حکومتوں کی طرف دیکھنے میں گزار دیے۔

جب ہم خود بہتر کرنے کی سوچ دیتے ہیں تو ہماری قیادت کا رول بہت ہم اور وسیع ہوجاتا ہے کیونکہ وہی عوام کی رہنما اور ذہن ساز ہوتی ہے۔ بدقستی سے ہماری قیادت بھی اسی روش پر قائم رہی ہے اور اس نے ہمیشہ مسلمانوں کو اقتدار وقت سے خریدو فروخت کرنے کے لیے اسے استعمال کیا ہے۔ اب اس بات کی ضرورت ہے کہ قیادت کا احتساب بھی ہو اور اس کی اصلاح بھی۔ شکست خوردہ اور بے شعور عوام کو باشعور اور حوصلہ مند قیادت نئی زندگی سے ہم کنار کرتی ہے اور ناکارہ اور مفاد پرست قیادت کو ایک باشعور نسل اور حوصلہ مند قوم لگام دیتی ہے۔ ہمیں دونوں کام بیک وقت انجام دینے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہماری مدد فرمائے۔

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

تبصرہ کیجیے