نام

بیس ہی بائیس سال کی عمر میں رانی بیوہ ہوگئی تھی۔‘‘

میرے دونوں دوست سلیم اور سلام بہت دلچسپی اور توجہ سے ان کی باتیں سن رہے تھے۔ لیکن میں بالکنی کی دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا محل کی دہلیز کے سامنے وسطی حصہ میں سیلانیوں کی بھیڑ میں کھڑے ان بچوں کو دیکھ رہا تھا، جو ایک دوسرے کی بانہہ میں بانہہ ڈالے غالبا اس چھوٹے سے محل پر اپنے زاویۂ نگاہ سے روشنی ڈال رہے تھے۔ ان کے الفاظ تو میں نہین سن رہا تھا لیکن محل کی طرف انگلی اٹھا کر اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کا انداز نہایت دلکش معلوم ہو رہا تھا۔

’’شہنشاہ اکبر کے جرنیل آصف خاں کو اس چھوٹی سی ریاست پر قبضہ کرنے کے لیے بے شمار انسانوں کی قربانیاں دینی پڑی تھیں، تب ہی وہ فتحیاب ہوسکا تھا لیکن پھر بھی رانی نے ہار تسلیم نہیں کی تھی۔‘‘

ان کی مدھم اور پروقار آواز سے بار بار میری توجہ ان کی طرف مبذول ہوجاتی تھی۔ لیکن وہ دونوں ان کی باتیں کچھ اتنی دلچسپی سے سن رہے تھے جیسے دنیا وما فیہا سے بے خبر ہوگئے ہوں۔ وہ خود بھی گونڈم قوم کی تواریخ سے پوری واقفیت رکھتے تھے اس لیے ان کی یہ محویت میرے لیے نہایت حیران کن تھی۔

شہر جبل پور سے پانچ کلو میٹر دور ’مدن محل‘ ست پڑہ پہاڑ کی سب سے اونچی چوٹی پر بنی ایک دو منزلہ عمارت کا نام ہے جسے گونڈ راجہ ’مدن شاہ‘ نے گیارہویں صدی عیسوی میں تعمیر کروایا تھا۔ محل کے کھنڈرات بھی اب منہدم ہوچکے ہیں۔ صرف ایک بلند چٹان پر دو منزلہ عمارت باقی ہے، جس کے نچلے حصہ میں کوئی کمرہ نہیں ہے۔ اوپر جانے کے لیے چٹان تراش کر دو طرف سے سیڑھیاں بنائی گئی ہیں۔ اب تو ایک راستہ بند کردیا گیا ہے صرف ایک ہی راستہ سے اوپر جایا جاسکتا ہے۔ کھلی چھت سے ملحق ایک کمرہ ہے اور لوگوں میں ’مدن محل‘ کے نام سے مشہور ہے۔

کسی زمانہ میں یہاں گونڈ راجہ دلپت شاہ کا دربار لگا کرتا تھا۔ اس کے مرنے کے بعد اس کی بیوہ رانی اور گادتی نے عنانِ حکومت سنبھال لی تھی۔ یہ ایک راج پوت خاندان کی پاکباز، دانش مند اور بہادر عورت تھی جس نے مغلوں کے ٹڈی دل لشکر کی صفیں الٹ دی تھیں اس کی بہادری اور نیک نامی کے بے شمار قصے آج بھی، گونڈوانہ کے علاقوں میں بہت ذوق و شوق سے سنے جاتے ہیں۔

’’فوجوں کی پسپائی دیکھ کر وہ اپنی جاں باز خادماؤں کے ساتھ سرنگ کے راستہ محل سے نکل کھڑی ہوئی، تاکہ گڑھا منڈلہ، پہنچ کر اور اپنی بچی کھچی فوج کو ازسرنو تربیت دے کر ایک بار پھر قسمت آزمائی کرسکے۔‘‘

’’اس نے مغلوں سے صلح کیوں نہیں کرلی؟‘‘ سلام نے پوچھا۔

’’صلح بادشاہوں کا سیوہ ہے۔‘‘ دادی جان نے جواب دیا۔ ’’وہ تو ساری رعیت کی ماں تھی، اور ہر ماں اپنے بچوں کی پرورش خود کرنا چاہتی ہے۔‘‘

عقبی دیوار سے دوڈھائی سوفٹ گہری ڈھلان بتدریج ایک وسیع میدان میں تبدیل ہوگئی تھی۔ جہاں میرے دونوں بھتیجے ہاتھ ہلاکر مجھے آواز دے رہے تھے… میں نے ان کی طرف مخاطب ہوکر کہا۔ ’’کہیں دور مت جانا! گم ہوجاؤگے۔‘‘

میری آواز کی بازگشت دور تک چٹانوں میں پھیلتی گئی۔ میں نے سوچا اس میدان میں کم و بیش دس ہزار آدمیوں سے بھی بغیر لاؤڈ اسپیکر کے مخاطب ہوا جاسکتا ہے۔ رانی نے بھی یہاں سے نہ جانے کتنے فرمان نافذ کیے کون جانتا ہے؟

’’رانی کا اکلوتا بیٹا بھی اس جنگ میں کام آگیا تھا۔‘‘

ان کے الفاظ میں پوشیدہ کرب میرے دل میں تیر کی طرح اتر گیا جیسے وہ رانی کی نہیں اپنی کہانی بیان کر رہی ہوں انھوں نے بھی تو شوہر کا جنازہ اپنی نظروں کے سامنے اٹھتے ہوئے دیکھا تھا۔ ان کے اکلوتے بیٹے نے بھی تو زندگی کی آخری سانس ان کے سامنے ہی لی تھی۔ میری نظروں سے پردے ہٹ رہے تھے، اور میں خاموش نگاہوں میں یادوں کی شمع فروزاں دیکھ رہا تھا۔

’’لیکن وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکی کیوں کہ مغلوں کو اس کے ارادوں کے علم ہوگیا تھا انھوں نے چاروں طرف سخت ناکہ بندی کردی تھی۔ ایک بار پھر میدانِ کارزار گرم ہوا۔ سر تن سے جداہوکر گرنے لگے۔ تلواریں خون میں نہا گئیں… لیکن اس بار رانی نے محسوس کرلیا کہ اب اس کا بچنا محال ہلے۔ آخر اس نے اپنی ہی کٹار سے اپنا پیٹ چاک کرلیا اور ذلت کی زندگی پر عزت کی موت کو ترجیح دی۔‘‘

میرا بھتیجہ سہیل، اپنے بھائی بہنوں کو ایک چٹان پر دائرہ کی شکل میں بٹھا کر فوٹو کھینچ رہا تھا لیکن ننھا شعیب بار بار اٹھ کر کھڑا ہو جاتا۔ آخر جھنجھلا کر اس نے اسے اپنی گود میں بھینچ لیا، اور ایک ہاتھ سے اس کا منہ کیمرہ کی طرف پھیر دیا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ واویلا مچاکر آسمان سر پر اٹھا لیتا، سہیل نے فوٹو کھینچ لیا تھا۔ محل کی اونچائیوں سے مجھے سب صاف نظر آرہا تھا۔

وادی جان کے بالوں کی طرح سفید کار تک کی کھلی کھلی دھوپ کی نرم نرم تمازت کا لطیف احساس آہستہ آہستہ رگ و پے میں سرایت کر رہا تھا۔ دو نوجوان لڑکیاں چھت سے ملحق کمرہ میں بنے روشن دانوں سے سات آٹھ میل کے رقبہ میں پھیلے شہر کا نظارہ کر رہی تھیں۔ یکایک ایک لڑکی نے پلٹ کر دیکھا اور ہمیں اپنی طرف متوجہ پاکر نہ جانے کیوں شرما گئی۔

سلیم بھائی نے مسکراتے ہوئے اس سے کہا: ’’ان روشن دانوں سے سارا شہر کسی اناڑی لی ٹیکٹ کے نقشہ کی طرح دکھائی دیتا ہے۔‘‘

ان کے اس ریمارک پر اس لڑکی نے تو کوئی جواب نہ دیا۔ لیکن اس کے ساتھ والی نے بے حد نکوت سے کہا۔ ’’ہمیں معلوم ہے۔ آپ کے شبد اور اپماؤں کی ضرورت نہیں۔ شکریہ!‘‘

یہ بے ساختہ ریمارک سن کر سلیم تو جھینپ گئے اور سلام ہنس دیا لیکن دادی جان نے پلٹ کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’شبد اور اپماؤں میں کیا رکھا ہے بیٹی! یہ سب تو بہانے ہیں۔ آدمی ملتا ہے بچھڑ جاتا ہے، صرف ایک یاد، ایک دھندلا سا خاکہ رہ جاتا ہے ذہن میں۔ تم اپنی یادوں میں تلخیاں کیوں سمیٹنا چاہتی ہو۔‘‘

غور و فکر میری عادت ہے اس لیے اکثر خاموش رہتا ہوں۔ میرے دونوں دوست میری اس عادت سے بخوبی واقف ہیں۔ لیکن آج وہ چاہتے ہیں کہ میں بھی کچھ کہوں اس لیے بار بار استفہامیہ نگاہوں سے مجھے دیکھنے لگتے ہیں۔ وہ دونوں لڑکیاں دائیں طرف سائڈ وال پر جھکی نیچے میدان میں کھڑی اپنی دوسری سہیلیوں کو اوپر آنے کے ل یے کہہ رہی تھیں۔

’’اب یہاں سے چلنا چاہیے۔‘‘ میںنے اپنے دوستوں سے کہا۔

’’ایسا معلوم ہوتا ہے، ہمارے یہاں آنے سے آپ لوگوں کو ڈسٹربنس ہوا ہے۔‘‘ تیکھے نقش و نگار والی لڑکی نے مجھ سے مخاطب ہوکر کہا۔ اس کی آواز میں پہلی جیسی کرختگی نہیں تھی۔‘‘ نہیں ایسی کوئی بات نہیں! ہم یہاں بہت دیر سے آئے ہوئے ہیں۔‘‘ اپنی عادت کے مطابق میں نے اپنے سر کو تھوڑا سا خم دے کر کہا۔ ’’ابھی دوسرے کھنڈر دیکھنے میں کافی وقت صرف ہوجائے گا۔‘‘

’’یہاں کھنڈر ہیں کہاں، سب کچھ تو منہدم ہوچکا ہے۔ صرف ایک ہی عمارت ہے جسے دیکھنے میں پندرہ بیس منٹ صرف کیے جاسکتے ہیں۔‘‘

’’یہ تو اپنے اپنے نقطہ نظر کی بات ہے۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا: ’’چچا غالب نے تو ایک بوند میں سمندر دیکھا تھا۔‘‘

سلام کے ہاتھوں کا سہارا لیے دادی جان اٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔ ان کے قدموں کی لرزش دیکھ کر اس لڑکی نے اشارہ کیا۔’’آپ کو انہیں یہاں نہیں لانا چاہیے تھا۔‘‘

’’ہمارے یہاں آنے کا سبب دادی جان ہی ہیں۔ ورنہ ان پتھروں میں ہمارے لیے بھی کوئی خاص کشش نہیں ہے۔‘‘ دادی جان سلام کا سہارا لیے شیڑھیوں تک پہنچ چکی تھیں۔ سلیم بھائی نیچے دور میدان میں ایک چٹان پر بیٹھے ہوئے بچوں کا نام لے لے کر واپس آنے کا اشارہ کر رہے تھے۔ ایک لمحہ خاموش رہ کر میں نے اپنی بات کی وضاحت کی، نہ جانے کیوں، مسلسل کئی دن سے دادی جان ’مدن محل‘ دیکھنے کے لیے اصرار کر رہی تھیں۔ بات آج کل پر ٹلتی رہی، آخر مجبور ہوکر انہیں یہاں لانا ہی پڑا۔‘‘

’’ایسا معلوم ہوتا ہے ضعیفی میں انسانی خواہشات بھی ضعیف ہوجاتی ہیں۔‘‘

’’معلوم نہیں!‘‘ میںنے کہا۔

سلیم بھائی کے بلانے پر بچے واپس آرہے تھے۔

میں جب نیچے پہنچا تو گھڑی ساڑھے تین بجا رہی تھی۔ جابجا، شکستہ اور گرتی ہوئی دیواروں کے سائے بتدریج بڑھتے جا رہے تھے۔ میرے دونوں دوست سیاہ چٹان کے ٹکڑے پر کھڑے آپس میں کچھ ڈسکشن (Discussion)کر رہے تھے۔

دادی جان چاروں طرف نظریں دوڑا کر جیسے کچھ یاد کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ میں جب ان کے نزدیک پہنچا تو انھوں نے سامنے ایک چبوترہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاـ۔ ’’وہاں پہلے ایک بڑا سا کمرہ ہوا کرتا تھا۔‘‘

’’آپ کو کیسے معلوم؟‘‘

’’میں ایک بار پہلے بھی یہاں آچکی ہوں۔‘‘ انھوں نے اپنی مدھم اور لرزتی ہوئی آواز میں انکشاف کیا۔ دوسری جنگ عظیم سے پہلے میں اپنی نند اور بھاوجوں کے ساتھ یہاں آئی تھی۔ میرے ساس، سسر، تینوں دیور، دیورانیاں، تمھارے دادا اور ہمارے تینوں ملازم بھی ساتھ آئے تھے پڑوسی دوارکا پرساد جی اور ان کی اہلیہ بہی اپنے بیٹے، بہوؤں اور خاندان کے دوسرے بہت سے لوگوں کے ساتھ یہ کھنڈرات دیکھنے ہمارے ساتھ آئی تھیں۔‘‘

میرے ذہن کے دریچوں میں قدیم مدھیہ پردیش کی تواریخ کا خاکہ ابھر رہا تھا۔ جب آریائی باشندوں نے شمالی ہندوستان پر قبضہ جمانے کے لیے دراوڑوں کو جنوب کی سمت دھکیل دیا تو ’’گونڈا، اور بھیل، قبائل نے ایک نئی جگہ قدم جمائے تھے اور دو نئے دیش آباد کے جنہیں بہت بہت برس بعد دنیا نے ’’چھتیس گڑھ‘‘ اور گونڈوانہ کے نام سے جانا تھا۔

’’اس وقت یہاں جنگلی جانوروں کی کثرت تھی اور ان پہاڑوں میں ’’لوانا جاتی‘‘ کے موالی بھی رہا کرتے تھے جو بھولے بھٹکے مسافروں کو قتل کر کے ان کا مال و اسباب لوٹ لے جاتے تھے۔‘‘ دادی جان گزرے زمانے کے حالات اس طرح بیان کر رہی تھیں جیسے یہ سب کل ہی کی بات ہو۔ اب تو پنجر زمین اور پتھروں کے سوا کچھ بھی باقی نہ رہا۔‘‘ دادی جان کی آواز میں یاسیت گھل رہی تھی۔ ’’یہ بچے کھچے کھنڈرات بھی جلد ہی ماضٰ کے دھندلکوں مین کھو جائیں گے۔‘‘

سیاہ چٹانوں اور اونچے اونچے ٹیلوں کے درمیان خاردار جھاڑیوں میں ننھے ننھے رخ پھول ہوا کے دوش پر اڑنے کی لاحاصل سعی کر رہے تھے۔ جس جگہ ہم لوگ بیٹھے ہوئے تھے وہاں سے بارہ دری کے کھنڈر صاف دکھائی دے رہے تھے۔ درو دیوارپر اُگی ہوئی دو، دو فٹ لمبی گھاس ہوا کے جھونکوں سے لہرا رہی تھی۔ دادی جان مجھ سے وہاں چلنے کے لیے کہتی ہیں اور میرے ہاتھوں کا سہارا لے کر کھڑی ہوجاتی ہیں۔

بارہ دری کی دیواروں کا پلاسٹر ادھڑ گیا تھا۔ بوسیدہ اینٹیں بھی اپنی جگہ سے کھسک رہی تھیں۔ لیکن چھت اور فرش پر کہیں کہیں فنکارانہ چھاپ اب بھی نمایاں تھی۔ دادی جان ایک ایک اینٹ کو اتنے انہماک سے دیکھ رہی تھیں جیسے ہر اینٹ پر کوئی رمز ھیات کندہ ہو۔ یکایک انھوں نے مغربی دیوار کی طرف اشارہ کیا۔

’’وہاں دیکھو، کوئی نام لکھا ہے؟‘‘

سپاٹ دیوار پر کہیں کوئی نام نظر نہیں آرہا تھا۔ میں نے ان کے جھریوں بھرے چہرے کی طرف متوجہ ہوکر جواب دیا۔ ’’یہاں تو کوئی نام نہیں ہے۔‘‘

’’مجھے تو صاف نظر آرہا تھا؟‘‘ پھر انھوں نے سلیم بھائی سے مکاطب ہوکر کہا ’’بیٹے سلیم، تم دیکھو۔ اس دیوار کے اوپری حصہ میں میرا نام لکھا ہوا ہے۔‘‘

سلیم بھائی نے اور نزدیک جاکر دیکھا تو انہیں بھی کچھ نظر نہ آیا۔ وہاں کچھ لکھا ہوتا تو دکھائی بھی دیتا۔ انھوں نے نفی میں سر ہلا دیا۔ ’’نہیں خالہ جان! یہاں کوئی نام نہیں ہے۔‘‘

’’ہے بیٹا! میری بوڑھی آنکھیں دیکھ رہی ہیں۔ تم نہیں دیکھ سکتے۔ تعجب ہے۔‘‘ پھر انھوں نے سلام کی طرف متوجہ ہوکر کہا۔ ’’بیٹے! ذرا تم بھی دیکھو، غور سے دیکھنا۔ شاید تمہیں دکھائی دے جائے۔‘‘

’’آپ کو مغالطہ ہوا ہے دادی جان! یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘

’’نہیں ہے!‘‘ ایک بار پھر انھوں نے چاروں طرف دیکھا جیسے کچھ یاد کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔

’’نہیں! یہی وہ جگہ ہے جہاں تمہارے جنت مکانی دادا نے میرا نام ایک چاقو کی مدد سے کھودا تھا۔‘‘

’’لیکن اب تو یہاں کچھ بھی نہیں ہے۔ دیوار کا پہلاسٹر ادھڑ چکا ہے۔ اینٹوں پر بھی کوئی نام نہیں ہے۔‘‘

سلام کے الفاظ دادی جان کے سینے میں گولی کی طرح پیوست ہوگئے۔ ان کا چہرہ متغیر ہوگیا۔ جیسے ان کی کوئی متاعِ عزیز کھو گئی ہو۔ ان کی آنکھوں کی چمک دفعتاً مدوم ہوگئی تھی جیسے گہری تاریکی میںکسی نے پھونک مار کر چراغ گل کر دیا ہو۔ ہم تینوں ہی اچانک یہ تغیر دیکھ کر گھبرا گئے تھے۔ سلیم اور سلام نے دادی جان کی بانہیں تھام لی تھیں ورنہ وہ لڑکھڑا گئی ہوتیں۔ ’’دادی جان! طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘ میں نے ان کے شانہ پر ہاتھ رکھ کر پوچھا۔ ’’گھر واپس چلیں؟‘‘ ’’اب تو چلنا ہی پڑے گا۔‘‘ نہ جانے کہاں کا درد ان کے چہرے پر سمٹ آیا تھا۔ انھوں نے افسردہ لہجہ میں کہا ’’اب یہاں رکھا ہی کیا ہے۔ کچھ بھی تو نہیں ہے۔‘‘

سلیم اور سلام کے درمیان کسی اساطیری کردار کی مانند وہ اپنے لرزتے سائے کے پیچھے چلی جا رہی تھیں۔ سورج مغربی افق پر جھک گیا تھا۔ پہاڑ اور درختوں کے سائے طویل ہو رہے تھے۔ دھوپ درختوں کی چوٹیوں کی طرف سمٹ گئی تھی۔

بھتیجے، بھتیجیاں ایک لمبا چکر کاٹ کر ہماری جانب دوڑی چلی آرہی ت ھیں۔ ننھا شعیب دوڑتا ہواآیا اور میرے قدموں سے لپٹ گیا۔ راشدہ میری بانہہ پکڑ کر جھوم گئی اور ہنستی ہوئی بولی۔

’’چچا جان! محل کی اونچی دیوار پر میںنے اپنا نام لکھ دیا ہے۔‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
محمود شیخ