HEALTHY ENTERTAINMENT

صحت مند تفریح شجر ممنوع نہیں!

انسان کی طبیعت میں تفریح کی طرف میلان فطری امر ہے۔ اسلام عملی دین ہے اور اس کاتعلق انسان کے روز مرہ کے معمولات اور حقائق سے ہے۔ وہ انسان کو فرشتہ سمجھنے کے بجائے اسے فانی مخلوق سمجھتے ہوئے اس کی ضروریات کا خیال رکھتا ہے۔ وہ انسان سے اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ فقط عبادت کرتا رہے۔ جس طرح انسان کے جسم کو غذا اور پانی کی حاجت ہوتی ہے، اسی طرح اس میں اپنے تھکے جسم اور دماغ کو بھی آرام پہنچانے کی خواہش جنم لیتی ہے۔ دراصل زندگی میں ترجیحات مقرر کرنا ضروری ہے۔ یعنی جو وقت عبادت کے لیے ہے، وہ عبادت کے لیے ہی مخصوص ہو اور جو اوقات دیگر کاموں کے لیے ہیں وہ بھی اسلامی طریقوں کے مطابق ادا کیے جائیں۔ اس طرح اگر تفریح اسلامی اصول مدنظر رکھتے ہوئے کی جائے، تو وہ نہ صرف جائز ہے بلکہ عبادت ہی کے زمرے میں آئے گی۔

سیرت النبویؐ

آنحضرتؐ کی حیاتِ مبارکہ اس کی بہترین مثال ہے۔ آپؐ جب لوگوں سے ملتے یا ان کی گفتگو میں حصہ لیتےتو ایک عام انسان ہی کی طرح اچھی باتوں سے تفریح لیتے اور مذاق پر مسکراتے۔ ایک بوڑھی عورت نے آپؐ سے درخواست کی کہ اللہ سے دعا کریں کہ وہ جنت میں جائے۔ آپؐ نے فرمایا کہ کوئی بھی بوڑھی عورت جنت میں نہیں جائے گی۔ عورت یہ سن کر رونے لگی کہ وہ جنت میں نہیں جائے گی۔ آپؐ نےپھر اس پر واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’اللہ تعالیٰ تمام بوڑھی عورتوں کو دوبارہ جوان کرکے جنت میں داخل کریں گے۔‘‘ یہ واقعہ اس بات کا شاہد ہے کہ آپؐ مذاق کیا کرتے اور اس سے محظوظ ہوتے تھے۔

صحابہ کرامؓ کا دور

آنحضرتﷺ کی پیروی کرتے ہوئے صحابہ کرامؓ بھی مزاح، ہنسی اور کھیلوں کو اپنی زندگی میں شامل رکھتے تھے تاکہ اپنے ذہن وجسم کو آرام پہنچاسکیں۔ حضرت علیؓ کا قول ہے کہ ’’جسم کی طرح ذہن بھی تھک جاتے ہیں، سو مزاح کے ذریعےاس کا علاج کرو یا اپنے دماغ کو وقتاً فوقتاً تازہ کرتے رہو کیوںکہ تھکا ہوا ذہن اندھا ہوتا ہے۔‘‘

ان میں سے درج ذیل آج بھی کھیلے جاسکتے ہیں:

تیر اندازی، گھڑ سواری، کشتی ،پیدل دوڑ اور تلوار زنی اور جنگی مشقیں اس زمانے کے خاص کھیل بھی تھے اور فن بھی۔ اس زمانے میں ہر فرد فوجی ہوتا تھا، اسے لیے جنگی مشق اور جسمانی ورزش معمول ہوتی تھی۔

پیدل دوڑ کے حوالے سے آنحضرتؐ لوگوں کو تربیت دیا کرتے اور ان کا حوصلہ بڑھاتے تھے۔ حضرت علیؓ لوگوں میں سب سے زیادہ تیز رفتار تھے۔ آنحضرت ؐ حضرت عائشہؓ کے ساتھ اکثر دوڑ لگایا کرتے تھے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیںکہ وہ اکثر آنحضرتؐ کے ساتھ دوڑلگایا کرتی اور جیت جاتی تھیں۔ بعد میں حضرت عائشہؓ کا وزن کچھ بڑھ گیا، تب آنحضرتؐ جیت جایا کرتے تھے۔ آنحضرتؐ کشتی بھی لڑا کرتے تھے۔

ان واقعات سے مجتہدین یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اگر دوڑ مردوں کے درمیان یا پھر مردوں کی اپنی محرمات کے ساتھ ہو تو وہ جائز ہے۔ اسی طرح کے دیگر کھیل جن سے انسان کی عظمت اور تقویٰ میں کوئی حرف نہ آتا ہو، جائز ہیں۔ اسلام تفریح کے سلسلے میں کچھ رہنما اصول متعین کرتا ہے:

(1) تفریح ہمیں عبادت اور اللہ کی فرمانبرداری سے غافل نہ کرے۔

(2) تفریح وقت کا زیاں نہ بن جائے۔

(3) عادت نہ بنے کہ ہمیں ہر وقت تفریح کی ضرورت ہو اور اس کے بغیر چین نہ آئے۔

(4) وہ ہمیں ایسی مصروفیات سے نہ ہٹا دے جو ہماری دینی اور دنیاوی ضروریات کے لیے لازمی ہوں۔

(5) تفریحات کے ذرائع غیر اسلامی نہ ہوں۔

(6) وقت قیمتی ہے۔

(7) ہمارا کام اور کوشش اہم ہے۔

مذکورہ بالا اصولوں کے توسط سے دین اسلام نے ایسا احاطہ فراہم کیا ہے کہ جس کے دائرے میں رہ کر ہر طرح کی تفریح کی جاسکتی ہے۔ اسلام تفریح پر کوئی قدغن نہیں لگاتا مگر اسے احاطے سے باہر نہیں نکلنا چاہیے۔ مشکل یہ ہے کہ ہم نے مذہب کے اعتبار سے کلیے بنالیے ہیں۔ مثلاً جن شخص مذہب سے رغبت رکھتا ہے، ہم عموماً اسے معاشرے سے الگ حصہ سمجھتے ہیں۔ اپنا لباس اور وضع قطع مختلف ہونے کی وجہ سے وہ نمایاں بھی نظر آتا ہے۔ لہٰذا اگر ایسا شخص کسی کھیل یا تفریح میں حصہ لے، تم ہم اسے عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں۔ کچھ خود اس طبقے نے تفریح کو اپنے لیے شجر ممنوعہ بنا لیا ہے۔ اسے ڈر ہوتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔

تفریح سے دوری کے اثرات

فطرت سے دوری انسانی بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تفریح سے دور رہنے کی وجہ سے رفتہ رفتہ انسان کے اندر ایسی تبدیلیاں جنم لیتی ہیں جو اس کی شخصیت کا حصہ بن کر پہلے انسان پھر معاشرہ کے لیے مضر ثابت ہوتی ہیں۔ہمارے معاشرے کا ایک بڑا طبقہ تفریح کو وقت کا زیاں سمجھتا ہے، نتیجہ یہ ہے کہ ان کی زندگی میں سے تفریح نکل چکی ہے۔ کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جو وقت کی کمی کے باعث تفریح سے دور رہتے ہیں۔ پھر دیگر تفریح کے ذرائع مثلاً انٹرنیٹ، کیبل، ٹیلی وژن وغیرہ نے ہمیں صحت مند تفریح سے دور کردیا ہے۔

دن بھر کام کاج میں مصروف رہنے کے بعد ہم اپنے تھکے ہارے ذہن کو فلموں، ڈراموں اور اشتہاروں کی بھرمار کے سامنے کردیتے ہیں۔ ان میں تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے مناظر، جو آج کل کی فلموں اور اشتہارات کا خاصہ ہیں، ہمارے ذہن کو یکسو نہیں ہونے دیتے اور اسے مصروف تر رکھتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ فارغ اوقات میں یا چھٹی کے دن ہم رشتے داروں اور احباب سے ملنے کے بجائے ٹی وی کے سامنے براجمان ہوجاتے ہیں۔ یوں جو وقت بیوی، بچوں، گھر والوں، رشتے داروں اور احباب کے ساتھ گزارنا چاہیے، وہ فضول سی تفریح میں محو ہوکر گزرتا ہے۔

تھکا ذہن

فی زمانہ انسان کی مختلف النوع مصروفیات نے اسے مشین بنادیا ہے۔ ہر وقت کام کرنے کی جستجو میں انسان کا جسم اور ذہن دونوں تھک جاتے ہیں، جس طرح تھکن کی وجہ سے انسانی جسم میں کام کرنے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے، اسی طرح انسانی ذہن بھی تھکنے کے بعد کام کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ اس کی سوچنے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے اور اکثر آسان بات بھی سمجھ میں نہیں آتی۔ تھکے ہوئے ذہن کی مثال اندھے کی سی ہے جسے کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ ایسے ذہن کو فقط آرام اور تفریح ہی دوبارہ فعال کرسکتی ہے۔

کارکردگی میں کمی

اگر کوئی شخص مسلسل کام کرتا رہے اور اپنے جسم ودماغ کو آرام نہ دے، تو رفتہ رفتہ اس کے کام کرنے کی صلاحیت گھٹنے لگتی ہے۔ مزید برآں وہ جو کام کرتا ہے، اس کا معیار بھی پہلے جیسا نہیں رہتا۔ تفریح کیے بغیر انسان جو بھی کام کرے، اس کی کارکردگی میں رفتہ رفتہ کمی آنے لگتی ہے۔

تفریح کے بغیر

مسلسل کام انسان کو ذہنی تناؤ (ڈپریشن) کا شکار بنادیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے میں ایسے مریضوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ ذہنی تناؤ کے علاج کے دوران ڈاکٹر ایک ہفتےمیں کم از کم تین روز ورزش کرنے اور پیدل چلنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

ذہنی تھکن دور کیے بغیر مسلسل کام کرنے کی وجہ سے انسان چڑچڑا بھی ہوجاتا ہے۔ وہ ہر ایک کو کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے۔ اسے کوئی بھی چیز اچھی نہیں لگتی۔ کام کی یکسانیت اور ماحول کا تسلسل بھی انسان کا مزاج اکھڑ بنادیتا ہے۔ اس چڑچڑے پن کا منفی اثر خود انسان کے علاوہ ارد گرد کے لوگوں پر بھی پڑتا ہے۔ خصوصاً یہ ازدواجی زندگی کے لیے سم قاتل ہے۔ ہر ایک کو جھڑکنا اور ذرا سی بات پر ناراض ہونا اسی چڑچڑے پن کا نتیجہ ہے۔ نتیجتاً نہ تو گھر کا ماحول صحت مند رہتا ہے اور نہ ہی دفتر کا۔ تعلقات میں خاص قسم کا تناؤ آجاتا ہے۔ لوگ دور دور رہنے لگتے ہیں اور یوں انسان اکیلا رہ جاتا ہے۔

وقت کیسے نکالا جائے؟

تفریح سے دوری کی سب سے بڑی وجہ وقت کی کمی سمجھی جاتی ہے۔ ہر جگہ اسی بات کا رونا رویا جاتا ہے کہ وقت کہاں سے لائیں۔ضروری کاموں کے لیے وقت نہیں ملتا، تفریح کے لیے کہاں سے نکالیں۔ یہ مسئلہ بڑے شہروں میں نمایاں ہے۔ وہاں وقت کی کمی پوری کرنے کے لیے لوگوں نے کام کی رفتار تیز کردی اور اوقات بڑھادیے۔ مگر اس سے وقت بچنا تو کجا، کام اور بڑھ گیا۔ زندگی کی رفتار میں اضافے کے باعث فطرت کے ساتھ ہم آہنگی متاثر ہونے لگی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نہ تو وقت ہی قابو میں رہا اور نہ کام میں کمی واقع ہوئی۔

وقت تو ایک دن میں وہی 24 گھنٹے ہیں اسے بڑھایا نہیں جاسکتا، ہاں البتہ بھاگ بھاگ کر ہم زیادہ کام کرلیتے ہیں۔ تاہم وقت کو قابو نہیں کیا جاسکتا، وہ منجمد ہے البتہ انسان خود کو قابوکرسکتا ہے۔ انسان کے اس خود مرتب انتظام میں اس بات کا بڑا دخل ہے کہ وہ اپنی ترجیحات صحیح مقرر کرے، یہ دیکھے کہ زندگی کو ایک متوازن انداز میں گزارنے کے لیے کیا کرنا ضروری ہے۔ مثلاً لوگوں سے تعلقات میں بہتری، خصوصاً افراد خانہ اور عزیز و اقارب سے، اپنی ذات کا اپنے اوپر حق سمجھنا وغیرہ۔ بس یوں سمجھئے کہ تمام شعبہ ہائے زندگی میں ایک توازن پیدا کرنا ہی خود انتظامی ہے اور اسی توازن کا نام خوبصورتی ہے۔

افراد خانہ کے ساتھ وقت گزارنا

عموماً لوگ اس بات کا شعور نہیں رکھتے کہ افرادِ خانہ کے ساتھ وقت گزارنا کتنا اہم ہے۔ ماں باپ اگر ساتھ رہتے ہیں تو ہر روز ان کے ساتھ کچھ وقت گزارنا کئی فوائد دیتا ہے۔ ایک تو مختلف مسائل کے حل میں ان کے تجربے سے مدد ملتی ہے پھر ایک دلی تعلق قائم رہتا ہے۔ ان کے بعض مشورے نہایت مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔ بچوں بیوی کے لیے بھی وقت نکالنا نہایت ضروری ہے۔ انہیں اس بات کا احساس رہتا ہے کہ آپ ان کی زندگی کا حصہ ہیں۔ یہی احساس رشتوں کی مضبوطی کا باعث بنتا ہے۔ سارے دن کی پریشانیاںاور تفکرات کے بعد افرادِ خانہ کے ساتھ بسر کیا ہوا وقت پریشر ککر کے نکاس کی طرح ہے جس سے پریشانی کے سب بخارات نکل جاتے ہیں۔

رشتے داروں سے تعلقات وملاقات

رشتے داروں اور دوستوں سے وقتاً فوقتاً ملاقات نہایت ضروری ہے۔ یہ تعلقات انسان کی جذباتی قوت میں اضافہ کرتے ہیں۔ آپ کی جن ذہنی ضروریات کی تسکین گھر والوں سے نہیں ہوپاتی وہ دوستوں اور عزیز واقارب سے ملنے سے ہوجاتی ہے۔

فی زمانہ انسان تیزی سے فطرت سے دور اور مصنوعی ماحول سے قریب ہوتا جارہا ہے۔ فطرت سے یہ دوری اور روز مرہ کی مصروفیات دودھاری تلوار کی طرح انسان کی روح کو کاٹ رہی ہیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ آج کے بیشتر انسانوں نے عرصہ دراز سے سورج کو طلوع ہوتے ہوئے نہیں دیکھا شہروں میں تو یہ عام بات ہے۔ ہمارا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم ذہنی تناؤ اور روحانی تناؤ کے مابین فرق نہیں جانتے اور کبھی کبھی ذہنی طور پر پُرسکون ہونے کے باوجود آپ بے چینی محسوس کرتے ہیں۔ ایسا عموماً روحانی تناؤ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ آپ فطرت سے جتنا زیادہ قریب ہوں گے، اتنا ہی روحانی سکون محسوس کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ سمندر، پہاڑ،سبزہ، بارش، آبشار، پرندے وغیرہ آپ کو مسرت بخشتے ہیں۔

فطرت سے یہ قربت روحانی سکون کا باعث ہے۔ ہفتہ یا پندرہ روز میں ایک مرتبہ شہر کے ہنگاموں سے دور ایسی جگہ وقت گزارنا سکون بخشتا ہے جہاں فطری مناظر بھرپور انداز میں جلوہ گر ہوں۔

تفریح کا نظام الاوقات

تفریح کو زندگی کا ایک لازمی جز سمجھتے ہوئے اس کا نظام الاوقات تیار کرنا ضروری ہے۔ مثلاً روزانہ کسی دوست سے مل لینا یا کسی پارک میں چلے جانا۔ ہر ہفتے ایک بار کسی رشتے دار سے ملنا یا کھانے پر کہیں باہر چلے جانا مناسب ہے۔ اسی طرح مہینے میں ایک آدھ مرتبہ پکنک منالینا کافی ہے۔ سال میں ایک مرتبہ چند دنوں کے لیے کسی پُرفضا مقام پر تفریح کرنے جائیے۔ ان باتوں سے روز مرہ کے کاموں میں تبدیلی آتی ہے اور یہی خوبصورتی پیدا کرتی ہے، وگرنہ یکسانیت زندگی کو بے مزہ کردیتی ہے۔

مطالعہ کیجیے

میلانِ طبع کے حساب سے روزانہ مطالعہ کیجیے، اس سے کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ ایک طرف تو انسان کے علم میں اضافہ ہوتا ہے دوسری طرف فکر کے نئے نئے زاویے سامنے آتے ہیں۔ یوں انسان کی بصیرت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ اکثر اپنے جذبات اور احساسات کی تشریح نہیں کرپاتا، ادب کے مطالعے سے نہ صرف اسے اپنے احساسات و جذبات سے کلی آگاہی حاصل ہوتی ہے بلکہ وہ ان کے اظہار کے طریقوں سے بھی بہرہ مند ہوجاتا ہے۔ علاوہ ازیں مطالعہ انسان کو بہت سی ذہنی الجھنوںاور نفسیاتی دباؤ سے آزادی دلاتا اور پرسکون کرتا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
محمد شمیم مرتضیٰ

تبصرہ کیجیے