3

مشورہ حاضر ہے!

پیلے دانت

ہمارے گھر میں سب بچوں کے دانت پیلے ہیں۔ میں مہنگے ٹوتھ پیسٹ خرید نہیں سکتا، مجھے پیلاہٹ دور کرنے کا کوئی اچھا سا نسخہ بتائیے۔

٭ ہمارے رسولﷺ نے مسواک کی تاکید فرمائی ہے جو لوگ مسواک کے عادی ہیں، ان کے دانت ٹھیک رہتے ہیں انہیں دانتوں کی کوئی بیماری نہیں ہوتی۔ آپ بچوں کو نیم یا کیکر کی مسواک دیں۔ اس سے ان کے دانت صحیح ہوجائیں گے۔ آپ نے لکھا ہے کہ منجن ایسا ہو جو کم پیسوں میں بن جائے۔

ایسا کیجیے کہ مکئی کا بھٹا لے کر اس کے دانے نکال لیجیے، پھر تین چار خالی بھٹے سکھائیے او رکیکر کے کوئلے جلا کر اس پر رکھ دیجیے۔ جب بھٹے جل چکیں تو ان کی راکھ لے کر اس میں تھوڑا سا نمک اور تھوڑی سی پھٹکری پیس کر ملا لیجیے۔ اب منجن تیا رہے۔ صبح شام انگلی سے اچھی طرح ملیے اور بیس منٹ تک کلی نہ کیجیے۔ جو لعاب نکلے وہ تھوک دیجیے، کیکر کے کوئلے نہ ملیں تو آپ مکئی کے بھٹے توے پر رکھ کر جلا سکتے ہیں۔

پنجاب میں کئی جگہ دیکھا ہے کہ روٹی جلا کر بھٹے کی راکھ میں نمک اور پھٹکری ملا کر منجن بناتے ہیں۔ اسی طرح بکرے کی گودے والی خالی نلیاں بادام کے چھلکوں کے ساتھ جلا کر اس میں کالی مرچ اور نمک ملا کر منجن بناتے بھی دیکھا ہے۔ دانتوں کا صاف ہونا ضروری ہے۔ بچوں کو صبح شام دانت صاف کرنے کی عادت ڈالیے اور تازہ مسواک کرنے کی تاکید کیجیے۔ مٹھی بھر نیم کے پتے توڑیے اور خشک کر کے پیس لیجیے۔ یہ سفوف منجن میں شامل کرلیجیے۔ یہ منجن دانتوں کی اسلاح اور صفائی کے لیے تیربہ ہدف ہے۔

پیٹ درد کا علاج

میرے پیٹ میں ہر وقت درد رہتا ہے۔ دواؤں سے وقتی آرام آتا ہے۔ سادہ غذا اور گرم دوا کھا کھا کر طبیعت اکتا گئی۔ اب میں کوئی دوا نہیں کھا رہا۔ کوئی آزمودہ ٹوٹکہ بتائیے۔

٭ آپ پیٹ کے درد سے خواہ مخواہ پریشان ہوگئے۔ آپ کی رپورٹیں ٹھیک ہیں۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ آپ نے شروع میں بازار کی تلی اور بھنی ہوئی غذائیں خوب کھائی ہوں جنھوں نے معدے کے نظام میں گڑبڑ کردی۔ آپ کی طرح کئی دوسرے قارئین بھی یہ شرطیں لگا دیتے ہیں کہ جڑی بوٹی یا معجون نہ ہو، ڈاکٹری دوا یا بازاری شربت نہ ہو۔ مجھے پھر بہت سوچ بچار کے بعد دوا تجویز کرنا پڑتی ہے۔

آپ کے لیے بھی کافی دیر سوچتی رہی آخر کار پپیتے کا خیال آیا۔ آج کل اس کا موسم بھی ہے۔ دو تین کچے سبز پپیتے لاکر اچھی طرح پانی سے دھوکر خشک کرلیجیے۔ چھلکا نہ اتارے، بس ہلکا سا کھرچ لیجیے۔ اب ان کے لمبائی کے رخ میں ٹکڑے کاٹ کر رکھ دیجیے۔ سرکہ (پھلوں والا) خریدیے۔ سرکہ سیب یا انگور کا ہونا چاہیے۔ شیشے کے مرتبان میں سرکہ ڈال کر اس میں پپیتے کے ٹکڑے ڈال دیجیے۔ سرکہ ٹکڑوں کے اوپر تک رہنا چاہیے۔ اب مرتبان دس دن کے لیے ڈھانک کر رکھ دیجیے۔ اب پپیتے کا ایک ٹکڑا نکال کر دن میں ایک بار کھالیجیے۔ جن لوگوں کی تلی بڑھ جائے، اسے ٹھیک کرنے کا یہ بڑا موثر علاج ہے۔ دو سے تین ہفتے تک کھانے سے تلی صحیح حالت میں آجاتی ہے۔ جگر کا فعل بھی درست ہو جاتا ہے۔ معدہ بھی صحیح ہوتا ہے، بھوک لگتی ہے، خون صالح بنتا ہے۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ معدہ ٹھیک رہے تو انسانی جسم صحیح رہتا ہے اور کوئی بیماری نہیں ہوتی۔

فوری طور پر ایک یا دو پپیتے کدو کش کرلیں۔ بیج نکال دیں۔ اب کسی شیشے یا اسٹیل کے برتن میں کدوکش کیے ہوئے لچھے پھیلادیں اور ان پر نمک چھڑک دیں۔ لاہوری نمک خوب پیس کر ڈالیں تو بہتر ہے۔ اب کسی کانٹے سے لچھوں کو اچھی طرح ملائیے پھر خشک ہونے کے لیے رکھ دیجیے۔ ایک آدھ دن دھوپ میںرکھیے، بعد کو دوبارہ تھوڑی سی دھوپ لگا دیجیے۔ پھر ہاتھ سے مل کر اسے شیشے کی خشک بوتل میں محفوظ کردیجیے۔ جب بھی پیٹ درد ہو، دو چٹکیاں پھانک لیجیے۔ تکلیف دور ہوجائے گی۔

پپیتا بہت فائدہ مند پھل ہے۔ کھانا کھانے کے بعد اگر اس کی دو تین قاشیں کھالیں تو کھانا ہضم ہو جاتا ہے۔ ہمیشہ کھانا کھانے سے پہلے بسم اللہ ضرور پڑھیے اور بعد کو اللہ کا شکر ادا کیجیے کہ اے اللہ تیرا شکر، تونے ہمیں کھلایا، پلایا اور مسلمان بنایا۔ بچوں کو بھی عادی بنائیے کہ وہ بسم اللہ پڑھ کر کھانا کھائیں۔

کھانا کھانے کے بعد پانی نہ پیجیے، پہلے پی لیں یا ایک گھنٹہ بعد پئیں۔ پانی بھی تین سانسوں مین پینا چاہیے، ایک دم نہیں۔ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں مگر صحت کے لیے ضروری ہیں۔ ان پر عمل کرنے سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔

شہد سرکے اور لہسن سے شفا

بحرین سے سید عمر کا فون آیا، انھوں نے بتایا ’’مجھے دل کی تکلیف تھی۔ کسی نے آپ کا مشورہ حاضر ہے، پڑھنے کو دیا، مین نے اس میں ایک نسخہ دیکھا، تو بنا کر استعمال کیا۔ الحمد للہ تین ماہ بعد میرا طبی معاینہ ہوا تو مجھے صحت مند بتایا گیا۔ میں اب بھی یہ نسخہ استعمال کرسکتا ہوں؟ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے، ایسے نسخوں سے بہت سے لوگوں کا بھلا ہوتا ہے۔

میں نے ان سے کہا کہ آپ نسخہ کا استعمال جاری رکھیں۔ ہفتہ میں دو تین بار کھالیں، تو تکلیف دوبارہ نہیں ہوگی۔

ایک اور صاحب کا فون بھی آیا۔ وہ کنیڈا سے آئے ہیں۔ انھوںنے بتایا ’’سرکہ، شہد اور لہسن سے مجھے بہت فائدہ ہوا ہے۔ اب اس میں رد و بدل کی تو ضرورت نہیں کیوں کہ نت نئی تحقیق تو ہوتی رہتی ہے۔ میں احتیاطاً ایک لہسن کا جوا بھی ساتھ کھا لیتا ہوں، آپ کے مشوروں سے دیار غیر میں بہت سے لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔

اس کے بعد محترمہ بہن ڈاکٹر ذکیہ بلگرامی کا فون آیا۔ انھوںنے بتایا: ’’میرے گھٹنوں میں درد تھا، میں نے سرکہ، شہد اور لہسن والا نسخہ استعمال کیا۔ اس سے الحمد للہ درد ٹھیک ہوگیا، اب مجھے تکلیف نہیں۔ مجھے اس نسخے سے بہت فائدہ ہوا۔‘‘

شفا دینے والا صرف اللہ ہے۔ اس کی ذات سے مایوس ہونا کفر ہے۔ لاکھوں روپے خرچ کرنے کے بجائے آپ لوگ آزمودہ ٹوٹکے استعمال کریں تو انشاء اللہ فائدہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ پر مکمل یقین رکھیں، نماز پڑھیں اور حقوق العباد ادا کریں۔ اللہ تعالیٰ بڑا رحیم و کریم ہے، وہ ہمارے گناہوں کو معاف کر کے شفا دیتا ہے۔

اگر کسی اور قاری کو بھی میرے مشورے سے فائدہ ہوا ہو تو وہ ہمیں ضرور لکھیں تاکہ دوسروں کا بھی بھلا ہوجائے۔ نسخہ یہ ہے:

ایک پیالی فروٹ سرکہ (سیب والا ملے تو بہتر ہے) ایک پیالی شہد خالص۔تازہ لہسن کے آٹھ جوے۔

لہسن کو مشین میں پیس لیں پھر شہد ڈال کر سرکہ ملائیں۔ آمیزہ شیشے کی بوتل میں بھر کر فریج کے نیچے والے خانے میں آٹھ دن رکھا رہنے دیں۔ بوتل ایک انچ خالی رکھیے، پوری نہ بھریے، نویں دن ناشتہ سے آدھ گھنٹہ پہلے ایک چمچ بھر مقدار آمیزہ کھالیجیے او رپھر ناشتہ کیجیے۔

یہ نسخہ انجائنا کے مریضوں کے لیے بہت مفید ہے۔ اس کے کھانے سے دل کی نالیاں کھل جاتی ہیں۔ کولسٹرول کم ہوتا ہے اور خون کا دباؤ (بی پی) معمول پر رہتا ہے۔

گھرکے دوسرے افراد بھی کھالیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ اسی طرح اگر گنٹھیا ہو، درد نے بے چین کر رکھا ہو، ورم یا سختی ہو تو مریض تازہ لہسن منگا کر چھیل لے۔ خود چھیلنا اچھی بات ہے، بازار سے چھلا ہوا لہسن نہ لیں وہ نقصان دہ ہے۔ ۱۰۰ گرام چھلا ہوا لہسن ۳۰۰ گرام خالص شہد میں اچھی طرح ملا کر آمیزہ شیشے کی بوتل میں بھرلیں۔ بوتل دو انچ خالی رہے۔ اب اس پر سبز رنگ کا شفاف کاغذ لگا دیجیے۔ بوتل سبز رنگ کی ملے، تو نہ بھی ٹھیک ہے۔ یہ نسخہ آپ صبح تیار کریں اور آمیزہ بوتل میں بھر کر ایسی جگہ رکھیں جہاں دھوپ سیدھی آتی ہو۔

دس دن تک یہ بوتل صبح سے لے کر مغرب تک دھوپ میں رکھیں۔ مغرب کے بعد اسے باورچی خانہ میں کسی اندھیری جگہ رکھ دیجیے۔ گیارہویں دن شہد استعمال کرسکتے ہیں۔ ایک چمچ بھر کر گرم پانی کی پیالی میں ملائیے اور ناشتہ سے آدھ گھنٹہ قبل پی جائیے۔ اس سے گنٹھیا کا درد ٹھیک ہوگا۔ دل کو تقویت ملے گی بلکہ خون کا دباؤ بھی ٹھیک ہوجائے گا۔ جسم سے سارے فاسد مادے اور فضلات آہستہ آہستہ خارج ہوں گے۔ ہڈیاں مضبوط ہوجائیں گی اور آپ خود اپنے آپ کو ہلکا پھلکا محسوس کریں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔

گنٹھیا کے متاثرہ جوڑوں کے لیے لہسن کے تیل کی مالش بھی بہت مفید ہے۔ چھلا ہوا آدھ پاؤ لہسن لیجیے، ایک پاؤ زیتون کے تیل میں جلا کر اتار لیجیے اور چھان کر رکھ لیجیے، اس تیل کی مالش کیجیے، آرام آئے گا۔ (نوٹ: شہد کو دھوپ میں دس دن رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ قدرتی حیاتین شامل ہونے سے وہ زیادہ فائدہ مند ہو جاتا ہے)۔

ہاتھوں پر جھریاں

میرے ہاتھوں پر بہت ساری جھریاں ہیں۔ جن سے ہاتھ بہت برے لگتے ہیں۔ چند ماہ سے آنکھوں کے نیچے بھی جھریاں پڑ رہی ہیں۔ اس کے ازالے کے لیے کچھ بتائیے۔

٭ اپنی غذا تبدیل کیجیے۔ جو کے دلیے میں شہد ڈال کر کھائیے، وٹامن بی ۶ کی گولیاں خریدیے۔ روزانہ ایک گولی کھائیے۔ گھیکوار کا پودا جسے کنوار گندل بھی کہتے ہیں، اس کے ایک دو گملے منگوا لیجیے۔ رات کو شاخ دھوکر بیچ میں سے لمبائی کے رخ کاٹیے، شروع میں تھوڑا سا پیلا پانی نکلے گا۔ اسے صاف کر کے شاخ دونوں ہاتھوں سے اچھی طرح دبا دبا کر ملئے تاکہ ہاتھوں کو سارا گودا لگ جائے۔ اب ہاتھ خشک ہونے دیجیے او رسوجائیے۔ اسی طرح آنکھوں کے نیچے بھی گھیکوار کا رس لگائیے۔

مستقل مزاجی سے ہر رات یہ کام کیجیے۔ ہوسکے تو دن میں بھی آدھ گھنٹہ کے لیے لگائیے۔ گلاب کا عرق ایک پیالی کی مقدار ناپ کر اس میں گلیسرین بہ مقدار آدھا چمچہ، پسی ہوئی پھٹکری دو چٹکیاں اور ایک لیموں کا رس نچوڑ کر رکھ لیجیے۔ جب بھی منہ ہاتھ دھوئیں انہیں خشک کر کے یہ اچھی طرح مل لیں، خاصا فرق پڑ جائے گا۔

اذیت پسند لڑکا

میں بہت شدت پسند اور اذیت پسند ہوں۔ پرانی چوٹیں اکھیڑتا رہتا ہوں۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد بھوک لگتی ہے۔ رات کو منہ سے لعاب گرتا ہے۔ منہ چھالوں سے بھرا رہتا ہے۔ گھر میں کوئی توجہ نہیں دیتا۔ سب مذاق اڑآتے ہیں۔ مناسب مشورہ دیجیے۔

٭آپ نے اپنے شہر کا نام نہیں لکھا ورنہ میں کسی حکیم یا ڈاکٹر کا پتا لکھ دیتی۔ سب سے پہلے آپ نماز پڑھنی شروع کیجیے پھر سیر کو جائیے۔ اس سے بہت جلد آپ کا مزاج ٹھیک ہوجائے گا۔ ہمدرد دواؤں کے کسی حکیم سے مل کر دوا لیجیے۔ معدے کی خرابی کے باعث چھالے پڑ جاتے ہیں۔ مہندی کے کچھ پتے لے کر دو گلاس پانی میں ابال لیں، رنگ سرخ ہوجائے گا۔

اسے چھان کر دن میں دو بار غرارے کیجیے۔ منہ کے چھالے دو تین دن میں ٹھیک ہوجائیں گے۔ پیٹ میں کیڑے ہوں تو منہ سے لعاب گرتا رہتا ہے۔ اب آڑو کا موسم آنے والا ہے۔ آدھ کلو آڑو روزانہ رات کو کھائیے، ایک سے دو ہفتے میں پیٹ کے کیڑے نکل جائیں گے۔ تین چار بڑے آڑو کھانے ہیں۔ طبیعت کا بوجھل پن بھی ختم ہوجائے گا۔

شیئر کیجیے
Default image
صغیرہ بانو شیریں

تبصرہ کیجیے