BUZURG

بچوں کی تربیت میں بزرگوں کا رول

پانچ سالہ دعا آئی اور اپنی دادی کی گود میں بیٹھ گئی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ دادی نے اسے گلے لگایا اور پیار سے پوچھا: کیا ہوا؟ امی نے مارا ہے؟ اس نے روتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا اور پھرد ادی کے سینے سے چمٹ گئی۔ دادی نے پیار سے کہا: تم نے کچھ کیا ہوگا! چل میں سمجھا دوں گی کہ میری رانی کو مت مارا کر۔ لے یہ بسکٹ کھا، اور پھر پیار سے ایک بسکٹ اٹھا کر اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔ بچی بسکٹ کھانے لگی۔

گھر کے بزرگوں کا، جنھیں ہم دادا دادی یا نانا نانی کہتے ہیں، اپنے پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کے ساتھ یہ جذباتی تعلق ہوتا ہے۔ اکثر بچے والدین سے کسی وجہ سے ڈانٹ کھانے کے بعد انہی کی پناہ میں آکر محبت اور اس ڈانٹ کا بدل تلاش کرتے ہیں۔ ایسا اس وجہ سے ہوتا ہے کہ یہ بزرگ اپنی اس تیسری نسل سے غیر مشروط محبت کرتے ہیں اور بچے بھی ’ہر برے وقت میں انہی کی پناہ‘ تلاش کرتے ہیں کیونکہ انہیں یہ معصومانہ یقین ہوتا ہے کہ یہ ان کو ہر خطرے سے بچالیں گے۔ یہ اعتماد ان کی محبت، جذباتی سپورٹ اور اس دوستانہ اور مشفقانہ رویے کے سبب ہوتا ہے جو ان کی طرف سے بچوں کو ملتا ہے۔ یہ جذباتی سپورٹ اور شفقت و محبت بچوں کا تو سرمایہ ہوتا ہی ہے، بز رگوں پر بچوں کا یہ اعتماد خود بزرگوں کا بھی سرمایہ ہوتا ہے، جس کے ذریعہ وہ اپنی اگلی نسل میں اپنےافکار و خیالات، زندگی کے تجربات اور معاشرتی و اخلاقی روایات منتقل کرتے ہیں یا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایک بات یہ بھی کہی جاتی ہے کہ ’’ماں باپ بچوں کی تربیت کرتے ہیں اور دادا دادی اور نانا نانی اسے برباد کردیتے ہیں۔‘‘ یہ بات بعض ایسی صورتوں میں، جہاں غیر ضروری لاڈ پیار تو ہو مگر شعور کی کمی ہو یا ماں باپ کے دادا دادی سے تعلقات خراب ہوں، درست ہوسکتی ہے مگر باشعور اور سمجھ دار بزرگ ایسا نہیں کرتے بلکہ اس صورت میں جب والدین کے پاس اپنے بچوں کے لیے وقت کی کمی ہو اور وہ ان کی تعلیم و تربیت کے لیے مطلوب وقت دے پانے میں ناکام ہوں تو یہ بزرگ ہی اس کی بھرپائی کرسکتے ہیں اور موجودہ زمانے میں تو ان کا رول خاصا اہم ہوگیا ہے جبکہ تنہا رہنے والے خاندانوں کی شہریانے کے سبب تعداد بڑھ رہی ہے اور والدین کے پاس اپنے بچوں کے لیے وقت نہیں ہے۔ بعض والدین سوچتے ہیںکہ جس طرح وہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کرتے اور کرنا چاہتے ہیں، بزرگ اس طرح نہیں کرتے یا نہیں کرسکتے۔ اس صورت میں ایک نزاع کی کیفیت پیدا ہونے کا امکان تو ہے مگر والدین کو سوچنا چاہیے کہ جن بزرگوں نے ان کی تعلیم و تربیت کرکے یہاں تک پہنچایا ہے وہ اس معاملے میں ان سے زیادہ تجربہ کار ہیں۔ وہ اپنی براہِ راست نسل کے مقابلے ان سے زیادہ محبت اور جذباتی لگاؤ رکھتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں کہا جاتا ہے کہ ’’اصل سے سودزیادہ پیارا ہوتا ہے‘‘ اس کا مطلب معروف مفکر ایگوراسٹراونسکی کا وہی قول ہے کہ ’’یہ بالکل فطری ہے کہ اکثر ہم اپنی دور کی نسل سے اپنی براہِ راست نسل کے مقابلے سے زیادہ قربت و محبت محسوس کرتے ہیں۔‘‘

دونوں باتیں اپنی جگہ حقیقت ہیں اور اصل بات یہ ہے کہ بزرگوں کو اپنی تیسری نسل کی تعلیم وتربیت میں اس بات کا خیال رکھنا ہے کہ وہ والدین سے بغاوت و سرتابی کے بجائے ان کا فرماں بردار اور اطاعت شعار بننے کی تربیت کریں اور بلند اخلاقی، معاشرتی اور اسلامی اخلاقیات کو اس نسل کے اندر بھی اسی طرح پروان چڑھانے کی کوشش کریں جس طرح انھوںنے اپنے بیٹے بیٹیوں کے سلسلے میں کی ہے۔ اس سلسلے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ والدین اور ان کے والدین کے درمیان بچوں کی تربیت کے خطوطِ کار اور اس کا فریم طے کرلیا جائے اور مل کر بچوں میں ان اقدار کو فروغ دیا جائے جو صحت مند ہوں اور متفق علیہ بھی ہوں۔ اس طرح گھر میں کسی بھی متنازعہ کیفیت کی روک تھام کی جاسکتی ہے۔ بہ صورتِ دیگر نئی نسل ایک اندرونی تصادم یا کنفلکٹ کا شکار ہوسکتی ہے اور اس کے منفی نتائج حاصل ہوں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ دادا دادی اور نانا نانی کی نظر میں ان کے یہ بچے دنیا کی سب سے اہم شخصیت ہوتے ہیں۔ وہ ان پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں اور ان کو سب سے بڑھ کر محبت، احترام اور جذباتی سپورٹ دے کر انہیں یہ طاقت فراہم کرتے اور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ وہ عملی زندگی میں اونچے خواب دیکھ سکیں اور اپنے خوابوں کی تعبیر تلاش کرسکیں۔ یہ بزرگ ان بچوں کی فطری صلاحیتوں کو پروان چڑھانے اور ذہانت اور تخلیقیت کے فروغ میں معاون ہوتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ ان بچوں سے کوئی ڈیمانڈ یا مطالبہ رکھنے کے بجائے محض خلوص و محبت کی بنیادپر یہ سب کچھ کرتے ہیں۔ جہاں بچوں کو بزرگوں کی صحبت، محبت اور رہنمائی میسر نہ ہو وہاں بچے تنہائی اور محرومی کا شکار ہوکر ان چیزوں کو دوسری جگہ تلاش کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ دوسری جگہیں الیکٹرانک گزیٹس اور غلط تربیت میں پلے ہوئے بچے بھی ہوسکتے ہیں۔ اس لیے لازم ہے کہ گھر کے بزرگ اپنے بچوں کو جذباتی محبت اور سپورٹ فراہم کریں۔ اسی طرح والدین کے لیے بھی محفوظ اور اچھا راستہ یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو گھر میں موجود بزرگوں سے جوڑنے کی کوشش کریں اور انہیں ان کا ادب و احترام، محبت و فرمانبرداری اور ان کی زندگی کے تجربات سے زیادہ سے زیادہ سیکھنے اور اپنی زندگی میں سمونے کی سوچ دیں۔

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

تبصرہ کیجیے