اور کھانے مل گیا

سلیم اپنے آپ کو سلیم الفطرت سمجھتا تھا ۔ بظاہر ذہد و تقوی پابند تھا ۔ تہجد گزار، کثرت سے دعائیں کرنے والا۔ الله نے اسبابِ دنیاوی سے بھی خوب نوازا تھا ۔ اچانک موسم زیست نے کروٹ لی اور کو حالات کچھ خراب سے ہوگئے،لیکن اتنا تو مل ہی رہا تھا کہ تھوڑی قناعت سے خوشگوار زندگی چل سکتی تھی ۔سلیم کو کچھ دن سے بے تحاشا بھوک لگی تھی۔ یہ بھوک بھی عجیب تھی کہ اب سلیم کو کچھ جلے ہوئے یا بھنے ہوئے گوشت نما چیز کھانے کو دل چاہ رہا تھا ۔ آج سلیم کو گوشت کھانے مل گیا۔ایک خوف ناک چہرے والے سفید لباس میں ملبوس، بہ بظاہر شریف النفس شخص نے ٹفن لاکر دیا تھا۔۔۔ پورے کھانے کے بعد سلیم نے یوں ہی پوچھ لیا کہ یہ گوشت کس جانور کا ہے تو سفید لباس والے نے کہا ۔۔۔ جانے دو تھوڑا حرام تھا تھوڑا حلال۔ سلیم نے بڑی نرمی سے کہا چلو ٹھیک ہے ۔ میرا رزق تھا ۔۔۔ الله نے دیا ۔۔۔ کھاتے وقت میری نیت صاف تھی۔

کیسا تھا ۔۔۔۔۔

عارفہ اپنے بیٹے کی تعلیم وتربیت کے لئے بہت فکر مند تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ وہ اپنے لخت جگر کی ایسی تربیت کرے کہ کوئی ٹوک نہ سکے۔وہ آج اپنے لخت جگر کاشف کو اپنے سینے سے لگائے کہنے لگی۔ بیٹا ہمیشہ رزق حلال ہی کھانا چاہے خواہ کم ہی کیوں نہ ہو،جب حرام پیٹ میں جاتا ہے تو فطرت صالح کو کھاجاتاہے۔تم نے علامہ اقبال کا قصہ تو سنا ہی ہوگا نا:

ان کی ماں کو شک ہوا کہ ان کے شوہر کی کمائی مشکوک ہے تو انہوں نے ایک بکری خریدی اور اس کے دودھ سے علامہ اقبال کی پرورش کی تب کہیں جاکر اقبال علامہ کہلائے ۔ اسی بات کو اقبال نے اپنے شعر میں بھی کہا کہ:

اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی

جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

کاشف بغور اپنے ماں کی بات سن رہا تھا۔ عارفہ نے کہا کہ بیٹا میں چاہتی ہوں کہ تم بھی بڑے قابل بنو، قائد بنو۔ کاشف نے عارفہ کی طرف دیکھا اور پوچھا:  امّاں! ابّا کی کمائی مشکوک تو نہیں ہے نا ؟ اچانک عارفہ کو ہچکی لگی اور اس نے کاشف سے کہا بیٹا پانی پلاؤ ۔ !!

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر احمد عروج مدثر

تبصرہ کیجیے