QAIDI

بے گناہ قیدی

شہر دھماکوں کی زد میں تھا ہر شخص ڈرا سہما اپنے گھر میں قید تھا۔ سارے شہر پر ایک ہفتہ سے جو خوف کے بادل چھائے تھے اب وہ دھیرے دھیرے چھٹ رہے تھے۔

یہ سنہری دوپہر تھی۔ وہ اپنے بیٹے کی دوا لینے میڈیکل پر پہنچا تھا۔ تین دن سے کرفیو کے باعث وہ اپنے بیٹے کو دواخانہ میں داخل نہیں کرا سکا تھا جیسے ہی پولس فورس کی طرف سے تھوڑی راحت ملی اس نے بیٹے کے لیے ڈاکٹر سے دوا تجویز کرائی تھی۔

میڈیکل کی لائن میں کھڑا سوچ رہا تھا کہ کچھ پھل بھی ساتھ لیتا جائے گا۔ اس کے تخیل میں مزاحمت اس وقت ہوئی جب کسی نے اس کے کندھے ہاتھ اور گردن کو بری طرح جکڑا۔

اسے کچھ سمجھ نہیں آیا تھا کہ اچانک یہ سب کیا ہورہا ہے مگر جیسے ہی اس کے ہوش بحال ہوئے، اسے معلوم ہوگیا کہ وہ دھر لیا گیا ہے۔

ہاں وہ دھر لیا گیا تھا۔ گرفتاری تو وہ کہلاتی ہے جو اصول و ضوابط کا پاس و لحاظ کر کے کی جائے یہ تو سرِ بازار ایک نوجوان پر ظلم کا پھندا کسا گیا تھا۔

اس نے بھی تو بہت مزاحمت کی تھی۔ وہ گڑگڑایا نہیں تھا بالکہ اس نے اپنے حق میں آواز بلند کی تھی مگر شاید اس کے بالمقابل ہٹے کٹے بندے، بہرے، اندھے اور احساس سے عاری تھے۔ ایک مرتبہ پھر وہاں موجود لوگوںنے’’خاموش تماشائی‘‘کی بہترین اداکاری کرنے کی سند وصول کی تھی۔ کچھ نے اپنے فون سے اس منظر کو ریکارڈ کیا تھا تاکہ سوشل میڈیا پر فالور کوبڑھا سکیں۔

عبداللہ کے گھروالوں پر قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔ گرفتاری کے دوسرے ہی دن اسے نوکری سے معطل کر دیا گیا تھا۔ بوڑھے والدین اور اس کی شریک حیات غم زدہ تھے ۔بچے پریشان اور بے چین ہو رہے تھے۔ رشتے داروں نے یوں منہ موڑ لیا تھا جیسے وہ ان کا رشتہ دار نہیں کوئی اجنبی ہو۔ وہ لوگ جو کل تک عبداللہ کے اخلاق کا دم بھرتے تھے آج اس کے گھر والوں سے کوئی رابطہ نہیں رکھنا چاہ رہے تھے۔ وہ اس بات سے خوف زدہ تھے۔ یہ رویہ دیکھ اور سوچ کر اس کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ وہ پتھریلی زمین پر سر ٹکا کر اپنے خدا سے انصاف کا طالب تھا اور اگلے چند لمحوں میں ہی اسے سکینت حاصل ہو گئی تھی۔ پچھلے چند سالوں میں بہت کچھ بدل گیا تھا۔ اس کے بچے بڑے ہوگئے تھے اور اس کے ہوتے ہوئے بھی بے سہارا تھے۔ اس کی شریک حیات واقعی میں بہادر اور جرات والی خاتون تھی اس نے ہر ملاقات میں اسے ہمت دلائی تھی اور رب کی مدد کی یقین دہانی کرائی تھی۔ بیسوں غم چھپا کر اس سے ہمیشہ خندہ پیشانی سے ملاقات کی تھی تاکہ اسے قید میں اپنے اہل و عیال کی اذیت و پریشانی کی ذہنی تکلیف نہ ہو۔ لیکن وہ بھی آنکھیں رکھتا تھا اسے بھی نظر آتا تھا، وہ بھی احساس رکھتاتھا، اگر اس کے ساتھ قید کی مجبوری نہ ہوتی تو وہ بھی اپنے اہل وعیال کے ساتھ خوش حال زندگی گزار رہا ہوتا۔ اپنے بیٹے کی رہائی کے انتظار میں ہی اس کے والد دار فانی سے کوچ کر گئے اوروہ ان کے آخری دیدار سے بھی محروم رہا۔ جن ناکردہ گناہوں کا اس پر الزام لگا تھا آج وہ الزام جھوٹے ثابت ہوچکے تھے اور اسے باعزت بری کردیا گیا تھا۔

یہ صبح کا منظر ہے۔ خوبصورت سنہری دھوپ اپنی روشنی پھیلا رہی ہے۔وہ خوش قسمت ہے کہ اسے دس سال اور کئی ماہ قید میں رہنے کے بعد رہائی مل رہی ہے۔ ناکردہ گناہ کے عوض اسے اپنی قیمتی زندگی کے دس سال جیل میں گزارنے پڑے۔ وہ یہ دیکھ کر حیران تھا کہ آج کے اخبار سے اس کی رہائی کی ایک کالمی چھوٹی سی خبر چھپی ہے۔ جس میں لکھا ہے کہ کیا نظام حکومت عبداللہ کی زندگی کے قیمتی دس سال لوٹا سکتا ہے؟

شیئر کیجیے
Default image
بازغہ قمرمرزا نجیب اقبال ، پوسد

تبصرہ کیجیے