زندگی بدل گئی !

شوہر اچھا ہو بیوی بچوں کا خیال رکھتا ہو تو زندگی پرسکون ہوجاتی ہے مگر یہاں تو زبردستی نوکری پر بھیجو پھر خود بازار جاکر ضرورت کا سارا سامان خود اٹھاکر لاؤ پھر گھر کی صفائی، کھانا بنانا، بچوں کو اسکول چھوڑنا اور لانا سارا دن اسی میں گزر جاتا ہے یہاں تک کے امّی سے بات تک کرنے کا ٹائم نہیں ملتا مہینوں گزر جاتے ہیں امّی سے ملاقات ہوئے۔فائزہ نے دکھوں کا قصہ سنا کر سکون کا سانس لیا تو میں نے بھی تسلی دی کہ اللہ آسانی کرے تمھارے لیے۔

آج پھر کئی مہینوں بعد فائزہ سے ملاقات ہوئی تو پتہ چلا وہ گھر خالی کر کے دوسرے محلے میں چلی گئی ہے کرائے داروں کے لیے یہی پریشانی ہے۔ اللہ سب کو اپنا گھر نصیب کرے۔ فائزہ بڑی خوش اورپہلے سے بہت اچھی لگ رہی تھی خوش ہوکر بتانے لگی۔ میرے شوہر تو جی ایسے فرمابردار ہوئے ہیں کے بس پوچھو مت۔ ویسے میں نے پوچھا نہیں تھا پر فائزہ بتائے بغیر کہاں رہتی۔

خوشی خوشی بتانے لگی صبح وقت سے پہلے نوکری پر چلے جاتے ہیں ساتھ بچوں کو بھی اسکول چھوڑ دیتے ہیں گھر کی ساری ذمہ داری خود لے لی ہے۔ میں تو بس اب گھر میں رہتی ہوں اور اتنے محنتی ہوگئے ہیں کے رات رات بھر گھر نہیں آتے یہاں تک کے کئی کئی دن کام کے سلسلے میں شہر سے باہر رہتے ہیں اور میں اپنی امّی کے گھر آرام کرنے چلی جاتی ہوں۔ رزق میں ایسی برکت ہے کہ کبھی کبھی ہر چیز ڈبل آجاتی ہے پچھلے ہفتے دو سینڈل بلکل ایک جیسی لے آئے بس ایک نمبر چھوٹی تھی پھر وہ تبدیل کرنی پڑی۔ کبھی راشن میں بھی چیزیں ڈبل ہوجاتی ہیں بس اللہ کا کرم ہے۔ میں تو کونے والی نورین دادی کو دعائيں دیتی ہوں۔ یہ سب ان ہی کی وجہ سے ہوا ہے۔ انھوں نے مسجد کے مولوی صاحب کا پتہ دیا تھا۔ مولوی صاحب نے ایک وظیفہ بتایا تھا پڑھنے کو، وہ بھی تہجد میں بس پھر کیا تھا میری تو قسمت ہی پلٹ گئی۔ زندگی آسان ہوگئی ہے۔

مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ ایک وظیفے سے قسمت بدل گئی بھئی یہ کونسا وظیفہ ہے! چلو چھوڑو۔مگر فائزہ کہا مانتی بتائے بغیر۔ عربی کے چند الفاظ بڑے ادب سے سنائے اور چہرے پر ہاتھ پھیر کر تین بار آمین آمین آمین کہا۔ بس یہ وظیفہ پڑھ لو شوہر آپ کے قدموں میں اور ہاں کسی اور کو بھی بتا دیں اگر کوئی پریشان ہو تو کسی کا بھلا ہو جائے اچھی بات ہے۔ میرا نمبر بھی لے لیا اور پھر فائزہ مسکراتی ہوئی گھر روانہ ہو گئی۔

ہفتے بعد ہی ایک انجان نمبر سے فون آیا۔ ریسو کرنے پر فائزہ نے سلام دعا کی اور زور زور سے روتے ہوئے کہنے لگی میں تو لٹ گئی، بر باد ہوگئی، بس بہن میرا شوہر تو ہاتھ سے نکل گیا، پتہ نہیں کیا کمی تھی مجھ میں جو دوسری شادی کر لی۔ اللہ ہی سمجھے گا ایسی عورتوں کو جو شادی شدہ بچوں والے مردوں سے شادی کر لیتی ہیں۔ میں ہی کم عقل تھی بس دھیان ہی نہیں گیا کہ اتنی محبت، اتنا خیال اور گھر سے اتنے دن دور رہنا اچانک اتنی تبدیلی کیسے آگئی؟ میں ہی پاگل تھی جو ان سب باتوں پر غور نہیں کیا۔ وہ دو سینڈل غلطی سے نہیں آئی تھیں بلکہ ایک اس کلموہی کی تھی۔ بس اللہ ہی سمجھے گا ایسی عورتوں کو۔

مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ ہفتے بھر میں یہ کہانی پلٹ کیسے گئی۔ پھر یاد آیا کہ فائزہ کے شوہر کو کل مارکیٹ میں کسی لڑکی کے ساتھ دیکھا تو تھا، شاید وہی ہو۔ فائزہ کا دکھ زیادہ تھا پر تسلی دینا بھی ضروری تھی۔ فائزہ! جو بھی ہوا، اچھا نہیں ہوا پر دیکھو اسلام اجازت دیتا ہے اور تمہارے شوہر تو برابری بھی کر رہے ہیں بلکہ تمھارے کہنے کے مطابق پہلے سے بہت بہتر ہوگئے ہیں اور رزق میں برکت بھی ہوگئی ہے تو تم بھی درگزر کرو اور اپنے گھر میں سکون سے رہو۔

فائزہ اب اطمینان سے بول رہی تھی۔ بہن میں اپنے ہی گھر ہوں اورحالات سے سمجھوتہ کر لیا ہے۔ میں نے بس یہ بتانے کے لیے فون کیا تھا کہ جو وظیفہ میں نے تمھیں بتایا تھا وہ کسی اور مظلوم کو نہ بتانا۔ میں نے حیرت سے پوچھا وہ کیوں؟ فائزہ نے کہا کہ میرے بھائی کل ہی سعودی عرب سے آئے ہیں انھوں نےبتایا کہ اس وظیفےکا اردو ترجمہ یہ ہے۔ ’’یا اللہ میرے شوہر کو دوسری شادی کی توفیق دے اور رزق میں برکت دے اور ہم سب کے دلوں کو جوڑ دے، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے آمین آمین آمین۔‘‘

اس کے بعد فائزہ نے کال کاٹ دی۔ اور میرا ہنس ہنس کے برا حال ہوگیا۔ مولوی صاحب نے بھی کیا خوب وظیفہ بتایا۔ جب ہی کہتے ہیں بات کا مطلب لازماً پتہ ہونا چاہیے۔ ورنہ اسی طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔

شیئر کیجیے
Default image
آسیہ محمد عثمان

تبصرہ کیجیے