GOSHT

قربانی کا گوشت

فیض اللہ نے قربانی کرنے کی نیت پچھلی بقرعید پر اسی وقت کرلی تھی جب اس کے گھر دوست نے گوشت کی پوٹلی بھجوائی تھی۔ اس کا بیٹا دہلیز سے سیاہ پولیتھن کی پوٹلی لے کر دوڑتا ہوا آیا تھا ’’ابا— ! احمد چاچا نے گوشت بھجوایا ہے۔‘‘

فیض اللہ کھاٹ پر بیٹھا تھا۔ بولا : ’’جا—، ماں کے پاس دے آ۔‘‘

بیوی نے بیٹے کے ہاتھ سے گوشت کی پوٹلی لے کر فیض اللہ سے پوچھا تھا ’’کیوں جی! احمد بھائی بھی تمہاری ہی طرح رکشہ چلاتے ہیں، وہ جب قربانی دے سکتے ہیں تو تم کیوں نہیں؟!‘‘

جواب میں فیض اللہ چند سیکنڈ سر جھکائے، آنکھیں موندے خاموش بیٹھا رہا … پھر سر اٹھا کر بیوی کی طرف دیکھا : ’’ٹھیک ہے ، آنے والی بقرعید پر میں بھی قربانی کا جانور خریدوں گا۔‘‘ وہ بیوی سے پراعتماد لہجے میں بولا تھا۔

’’سچ ابا!‘‘ شوہر بیوی کے درمیان کھڑا بیٹا چہکا ’’پھر ہمارے ہاں بہت سارا گوشت آئے گا، اماں کباب بنائیں گی — کیوں اماں؟‘‘

’’ہاں بیٹا — ! میں تجھے وہ سب پکوان بناکر کھلاؤں گی جو گوشت سے بنتے ہیں!‘‘

بیٹے کا منہ پانی سے بھر گیا تھا۔ جسے ماں باپ نے نہیں دیکھا۔ اکلوتے بیٹے نے غٹ سے پانی نگل لیا اور آنے والی بقرعید کا انتظار کرنے لگا۔

انتظار ختم ہوا، عیدالاضحی کا چاند نظر آچکا تھا۔ فیض اللہ کے پاس اتنی رقم جمع نہیں تھی کہ وہ قربانی کا جانور خرید سکے۔ کسی نے اسے خبر دی کہ فلاں مولوی صاحب ایسے لوگوں کے لیے قربانی کاانتظام کردیتے ہیں جن کے پاس قربانی کا جانور خریدنے کی رقم نہیں ہوتی۔

فیض اللہ فوراً مولوی صاحب سے ملا اور ان کے پاس فی حصہ پندرہ سو روپے جمع کردایے۔

عید کی نماز ادا کرنے کے بعد وہ گھر آیا۔ اپنے دس سالہ بیٹے کو گلے لگایا، پیا رکیا۔ بیٹے نے پوچھا: ’’ابا قربانی کا گوشت کب لائیں گے؟‘‘

’’بیٹا — ! مولانا صاحب کے پاس قربانی کا ایک جانور تھوڑی ہے۔ درجن بھر سے زیادہ جانور خریدیے ہیں۔ ایسی مجھے خبر ملی ہے۔ اپنا حصہ کس جانور میں رکھا ہے یہ میں ان سے جاکر پوچھتا ہوں۔‘‘

’’سنو جی!‘‘ بیوی شوہر کی بات سن کر بولی ’’مولوی صاحب سے کہنا اس جانور کی قربانی پہلے کروا دو جس میں اپنا حصہ ہے۔‘‘

’’ٹھیک ہے!‘‘ وہ دالان سے آنگن میں آیا۔ بیوی پھر بولی: ’’گوشت کے لیے تھیلا تو لے جاؤ۔‘‘

وہ رک گیا۔ بیوی نے اسے تھیلا لا کر دیا جسے وہ بغل میں دبائے گھر سے نکلا۔ رکشے میں تھیلا ڈالا اور پھر رکشتے پر سوار ہوکر پیڈل گھمانے لگا۔ پیڈل کے ساتھ ہی اس کے ذہن میں بیٹے کی سال بھر پرانی بات گھومنے لگی۔ ’’ہمارے ہاں بہت سارا گوشت آئے گا۔ اماں کباب بنائیں گی!‘‘

بیٹے کی آواز نے جیسے اس کی سوکھی ٹانگوں میں غضب کی پھرتی بھردی تھی۔ وہ تیزی سے پیڈل گھمانے لگا۔ رکشہ اس سڑک پر دوڑ رہا تھا جو مدرسے کی طرف جاتی ہے ۔

کچھ ہی دیر میں وہ مدرسے کے گیٹ پر تھا۔ گیٹ پر مولوی صاحب کھڑے تھے۔ سفید عربی لباس میں ملبوس۔ سر پر صافہ بندھا ہوا۔ چہرہ پر مشت بھر سیاہ داڑھی۔ پیشانی پر سجدوں کا مٹیالا نشان۔

مولوی صاحب کو دیکھ کر فیض اللہ خوش ہوگیا۔ فوراً رکشے سے اترا۔ مولوی صاحب کی طرف بڑھا۔ ادب سے سلام کیا۔ ’’السلام علیکم!‘‘

’’وعلیکم السلام!‘‘ مولوی صاحب نے جواب دیا اور پھر بڑی خوش اخلاقی سے فرمایا: ’’فرمائیے!‘‘

فیض اللہ نے احتراماً ہاتھ سینے پر باندھے اور دبی آواز میں دریافت کیا’’مولوی صاحب! جس جانور میں آپ نے میرا حصہ رکھا ہے اس کی قربانی کب ہوگی۔ میں حصہ کا گوشت لینے آیا ہوں۔‘‘

’’حصے کے پیسے کتنے دیے تھے؟!‘‘ مولوی صاحب کی بھوئیں سکڑ گئی تھیں جس سے اُن کی سجدوں کے نشان والی پیشانی پر شکن ہوچکی تھی۔

’’پندرہ سو روپے!‘‘ فیض اللہ بے ساختہ بولا۔

مولوی صاحب آگ بگولا ہوگئے۔ تلخ لہجے میں بولے: ’’بورڈ نہیں پڑھا تم نے؟‘‘

’’کونسا بورڈ؟‘‘ فیض اللہ کا لہجہ تلخ نہیں تھا۔

’’یہ جو مدرسہ کی دیوار پر لگا ہے۔‘‘ مولوی صاحب نے مدرسے کی دیوار پر لگے بورڈ کی طرف اشارہ کرکے سخت لہجے میں کہا۔

’’مجھے پڑھنا نہیں آتا!‘‘ فیض اللہ کا لہجہ نرم تھا۔

’’ارے میاں! یہ بورڈ ہم نے جب بقرعید کا چاند نظر آیا تب ہی لگادیا تھا اس میں لکھا تھا۔ ’’پندرہ سو روپے میں بغیر گوشت کا فی حصہ اور پچیس سو روپے میں مع گوشت فی حصہ سمجھے!‘‘

فیض اللہ مولوی صاحب کا چہرہ تکنے لگا جس پر ناگواری کے تاثرات نمایاں تھے۔ وہ ہمت جٹا کر، تھوک نگل کر منمنایا ’’پھر بھی مولوی صاحب مجھے تھوڑا گوشت دے دیجیے!‘‘

’’ہاں—! وہ تو ہم دے دیں گے، لیکن ابھی نہیں دوپہر بعد آنا—!‘‘

’’نہیں — ابھی دے دیجیے نا!‘‘

فیض اللہ کو بضد دیکھ کر مولوی صاحب نے پینترا بدلا۔ سورۃالحج کی آیت چھتیس (36) جس میں قربانی کا گوشت کھانے، کھلانے کا تذکرہ تھا اسے نظر انداز کیا اور آیت 37 کا مفہوم اپنے انداز میں فیض اللہ کو اس طرح بتایا ’’میاں! قرآن شریف کبھی کھول کر دیکھا ہے! افسوس کہ تمہیں پڑھنا نہیں آتا۔ اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ اللہ کو نہ تو قربانی کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ اس کا خون بلکہ اللہ کو صرف تقویٰ پہنچتا ہے۔ تم کیا جانو تقویٰ کیا ہے؟ تم نے قربانی کا حصہ گوشت کے لیے رکھا تھا کیا؟‘‘ مولوی صاحب فیض اللہ کو ڈانٹنے کے انداز میں بولے۔

فیض اللہ جواب میں سر جھکائے خاموش کھڑا سوچتا رہا، پھر مسلمان قربانی کا گوشت کھاتے اور بانٹتے کیوں ہیں؟! مولوی صاحب سے یہ سوال کرنے کی اس میں ہمت نہیں تھی کیونکہ وہ ان پڑھ تھا، کبھی قرآن کھول کر نہیں دیکھا تھا۔ نہ درس قرآن میں بیٹھا تھا۔

’’ٹھیک ہے مولوی صاحب—!‘‘ مایوس ہوکر اس نے سلام کیا۔’’السلام علیکم!‘‘

مولوی صاحب نے جواب میں ’’وعلیکم السلام‘‘ کہا اور اپنی سیاہ داڑھی پر ہاتھ پھیر کر زیرلب مسکرانے لگے۔

شیئر کیجیے
Default image
محمد طارق، کولہاپور