زندگی کے سفر میں

ایران اور برطانیہ کا فرق

میںلندن کے ایک ہسپتال میں پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا ایک مریض کی برونکوسکوپی (ایک ایسا عمل جس میں ایک آلے کے ذریعے سانس کی نالی سے پھیپھڑوں کے اندر تک دیکھا جاسکتا ہے) انجام دینے کی تیاری کر رہا تھا۔ میڈیکل کے طلبا کے علاوہ نرسنگ کی طالبات بھی اس عمل کو دیکھنے کے لیے جمع تھیں۔ میں نے اپنے گرد نظر دوڑائی تو آشنا صورتوں کے علاوہ ایک نئی صورت پر نظر ٹک گئی۔ مشرقی چہرہ، گوری رنگت اور بڑی بڑی سیاہ آنکھیں، میں نے پوچھا: ’’شیراز سے ہو؟‘‘

بولی: ’’جی ہاں! مگر ایک غیر ملکی ہوکر آپ نے کیسے پہچانا؟‘‘

میں ابھی جواب نہیں دے پایا تھا کہ بولی شاید بات یہ ہے:

آئینہ رنگ من عکسی کسی است

مجھے اتنا خوب صورت اور برمحل جواب سن کر حیرت ہوئی۔ پوچھا: ’’یہ آپ کے اپنے الفاظ ہیں یا کسی شاعر کا مصرعہ؟‘‘

وہ بولی: ’’جواب میرا تھا مگر الفاظ مولوی کے تھے۔‘‘ (ایران میں مولانا رومی کو مولوی کے نام سے پکارا جاتا ہے)۔

میںنے حیرت سے کہا: ’’مجھے معلوم نہ تھا کہ مولانا رومی ایسے شعر بھی کہتے تھے۔‘‘

بولی: ’’مولوی کا یہ رنگ بھی دیکھ لو۔‘‘

میں پندرہ منٹ بعد عمل ختم کر کے ہاتھ دھو رہا تھا کہ ایک کاغذ پر اس ایرانی دو شیزہ نے مولانا علیہ الرحمہ کی ایک پوری غزل میرے ہاتھ میں کھڑے کھڑے تھمادی۔

یہ تو ہوئی ایران کی بات یہاں طویل جنگ و جدل کے بعد بھی جس سے بھی حافظ یا سعدی کا شعر پوچھو تو پوری غزل سنا ڈالتا ہے۔

اب انگلستان والوں کا حال بھی سن لیجیے۔ میں لندن سے ٹرین میں لیسٹر جا رہا تھا، جہاں میں اپنے شعبے کی خصوصی تربیت لے رہا تھا۔ کمپارٹمنٹ میں ایک خالص انگریز جوان بھی اپنی ٹائی اور سوٹ کے ساتھ چمک رہا تھا۔ حال احوال کے بعد معلوم ہوا کہ موصوف آکسفورڈ میں ادبیات کے ایک خاص موضوع پر ڈاکٹریٹ کر رہے ہیں۔ میں نے کہا: ’’شیکسپیئر کی شاعری پر ہمیں کچھ درس دیجیے۔‘‘

حیرت سے بولے: ’’شیکسپیئر؟ اچھا اچھا، اب یاد آیا۔ اسکول میں اس کے کچھ ڈرامے اور شعر پڑھائے گئے تھے مگر جب اسکول سے نکلے تو پھر اس کے بعد شیکسپیئر سے کوئی واسطہ نہیں پڑا۔‘‘ رات گئی بات گئی۔

ایک انار سو بیمار

میں وی آنا سے میونخ جانے والی ٹرین پر سوار تھا۔ اکا دکا آسٹروی اور جرمن مسافر سوار تھے۔ ان میں پندرہ سولہ سال کی ایک کم سن لڑکی بھی تھی۔ یورپ کی ٹرین کا کمپارٹمنٹ چھ سات مسافروں سے زیادہ کے لیے جگہ نہیں رکھتا اس لیے مسافر جلد گھل مل جاتے ہیں۔ حال احوال سے معلوم ہوا کہ یوروپی ممالک میں رائج نظام کے مطابق موصوفہ اپنی گرمیوں کی چھٹیاں انگلستان کے کسی گھرانے میں گزار کر اپنے گھر واپس جا رہی ہیں۔ چوں کہ میرا وہ یورپ کا پہلا سفر تھا چنانچہ ازراہ تجسس پوچھ بیٹھا: ’’آپ کے اسکول میں لڑکے اور لڑکیاں اکٹھے پڑھتے ہیں؟‘‘

اس نے اثبات میں سرہلایا تو میں نے دوسرا سوال پوچھا: ’’لڑکوں اور لڑکیوں کی نسبت کیا ہے؟‘‘

جواب دیا: ’’ایک اور چھبیس‘‘ یعنی ایک لڑکا اور چھبیس لڑکیاں ہیں۔

مشرقی ہونے کے ناطے میں نے کہا: ’’پھر تو اس لڑکے کے وارے نیارے ہوں گے۔‘‘

ہنستے ہوئے بولی: ’’بیچارہ لڑکا! جب سے ہماری کلاس شروع ہوئی ہے، کلاس کا واحد لڑکا ہونے کی وجہ سے ہر قسم کے مردانہ کام اسی کو انجام دینے پڑتے ہیں مثلا چاک لانا، تختہ سیاہ صاف کرنا اور حاضری لینا وغیرہ۔ کئی دنوں تک اس بیچارے نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا مگر کب تک؟ آخر کار وہ لڑکا چھبیس لڑکیوں کی کلاس چھوڑ کر بھاگ گیا۔‘‘

کتے اور دادا کا ماتم

میں اپنی خصوصی تعلیم کے دوران انگلستان میں ایک گھرانے کے ہاں ٹھہرا ہوا تھا۔ وہ اکیلے میاں بیوی تھے اور انتہائی شریف لیکن ان کی کتیا انتہائی شریر تھی۔ آخر کیوں نہ ہوتی؟ یورپ میں کسی نے بھی مجھ سے میرے والد کا نام نہیں پوچھا۔ انگریزی بولنے والے ممالک میں ’’آپ کے والد کون ہیں؟‘‘ قسم کا سوال انتہائی غیر ضروری اور بعض اوقات ذاتی معاملے میں دخل کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ وہاں اکثر ایسے گھرانے ہیں جن کے باسیوں کو اپنے شجر ہ نسب کی خبر نہیں اور نہ ہی وہ اس کے بارے میں سوچتے ہیں۔ ان کے گھر میں سب سے ’’پوتر اور عزیز وہ لمبا کاغذ ہوتا ہے جسے انھوں نے اپنے سب سے محفوظ صندوق میں رکھا ہوتا ہے اور جس میں ان کے کتے یا کتیوں کا حسب و نسب تقریباً سات نسلوں تک درج ہوتا ہے۔ یہ ان کے گھر کی سب سے متبرک اور قابل فخر دستاویز سمجھی جاتی ہے۔

بات ہو رہی تھی اس شریر کتیا کی۔ جب ہر روز آنے جانے میں وہ کتیا ہمارے راستے میں حائل ہوئی تو ایک روز میں نے سختی سے اسے دھتکار دیا۔ اس پر صاحب خانہ خاتون کافی ناراض ہوئیں مگر چونکہ انگریز تھیں اس لیے شور و غل کے بجائے ایک سادہ سی مثال کے ذریعے ہمیں سمجھایا۔‘‘ ہم لوگوں کو اپنے کتے بے حد عزیز ہوتے ہیں۔ اپنے عزیزوں سے بھی عزیز تر۔‘‘ جب انھوں نے میرے چہرے کی طرف دیکھا اور محسوس کیا کہ ابھی بات میرے پلے نہیں پڑی تو بولی: ’’دیکھو ڈاکٹر! ہمارے دادا جان فوت ہوئے تو ہم نے تین روز تک ماتم کیا اور سیاہ لباس پہنے مگر جب ہمارا کتا ٹونی مرا تو ہم نے سات دن ماتم کیا اور سیاہ لباس پہنے!‘‘

باذوق شاگرد

میں تہران کے ایک یونیورسٹی ہسپتال میں چکر لگا رہا تھا۔ میرے ساتھ شاگرد ڈاکٹروں کی فوج ظفر موج تھی۔ مجھے بتایا گیا کہ آج صد رمملکت خامنہ ای ہسپتال کا دورہ کر رہے ہیں اور مخصوص جنگی زخمیوں کی عیادت کریں گے ( اس وقت ایران عراق جنگ جاری تھی) ہمارے وارڈ کے چند کمروں میں بھی جنگی زخمی تھے اور صاف ظاہر تھا کہ صدر مملکت ادھر بھی آئیں گے مگر جہاں روایات مستحکم اور اچھی ہوں وہاں ہر شخص اپنے کام سے کام رکھتا ہے چنانچہ میں بھی اپنا کام کر رہا تھا یعنی پڑھانا اور علاج کرنا۔

میںایک مریض کی حالت شاگردوں کو سمجھانے میں مشغول تھا کہ جناب خامنہ ای سہواً ہمارے کمرے میں آگئے۔ ایک ہی نظر سے وہ بھانپ گئے کہ یہ کمرہ جنگی زخمیوں کا نہیں بلکہ عام مریضوں کا ہے۔ ہمیں دیکھ کر انھوں نے بھر پور لہجے میں ’’السلام علیکم‘‘ کہا جس کا ہم سب نے بھی جواب دیا۔ پھر وہ اپنے کام یعنی جنگی زخمیوں کی عیادت کے لیے چلے گئے اور میں اپنے کام میں جٹ گیا۔ جب پڑھانا ختم ہوا تو ایک شاگرد ڈاکٹر میرے پاس آئے اور حیرت سے فارسی میں کہا: ’’چہ شد کہ زیادہ تحویل نہ کردی؟‘‘ (یعنی کیا سبب تھا کہ آپ نے صدر کو زیادہ لفٹ نہیں دی)

میں نے کہا: ’’میں صدر مملکت کا ایک عالم اور ادیب کی حیثیت سے احترام کرتا ہوں اور خصوصاً یونیورسٹی میں علامہ اقبال پر ان کی دو تین گھنٹے کی عالمانہ تقریر سننے کے بعد میرے دل میں ان کا مقام اور بھی اونچا ہوگیا ہے مگر سلام کا جواب تو سلام ہی ہے۔‘‘

وہ تو خیر مطمئن ہوکر چلے گئے مگر میرے باذوق شاگردوں کو کون لگام دیتا؟ میں در اصل اپنے کام کے دوران کسی کی دخل اندازی برداشت نہیں کرتا تھا۔ میری اس عادت کا انھوں نے ایک لطیفہ بنا دیا جو بڑی مشکل سے مجھ تک پہنچا۔ لطیفہ کچھ یوں ہے کہ جب صدر خامنہ ای اس کمرے میں غلطی سے داخل ہوئے جہاں ڈاکٹر بختاور پڑھا رہے تھے تو صدر نے سوچا کہ آئے ہیں تو حسب رواج مریضوں سے خطاب کرتے چلیں۔ خطاب کے لیے انھوں نے منہ کھولا ہی تھا کہ ڈاکٹر صاحب نے دور سے پکارا، شش! براہ کرم چپ رہیں، جماعت پڑھائی میں مصروف ہے۔‘‘

میرا رنگ، میرا سرمایہ

یورپ میں سفید چمڑی سب سے بڑا عیب سمجھی جاتی ہے۔ برطانیہ میں میرے سامنے ایک انتہائی گوری نرس کو ’’سفید سورنی‘‘ کا طعنہ دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر انگریز لڑکیاں سارا سال کام کر کے رقم پس انداز کرتی ہیں تاکہ دو ماہ کی تعطیلات گرما اسپین، اٹلی، یونان یا مراکش کے آفتابی ساحل پر لیٹ کر گزاریں اور یوں ان کے گورے رنگ میں کچھ ملاحت آجائے جسے یہ لوگ Tanning کہتے ہیں۔ اکثر لڑکیاں اس شوق میں اپنا نازک بدن جھلسوا کر آجاتی ہیں مگر ’شوق کا کوئی مول نہیں۔ اس کے برعکس ہماری سانولی سلونی لڑکیاں ایسی کریم کی تلاش میں دنیا جہان ایک کر دیتی ہیں جو ان کا رنگ سفید کرسکے۔ میں نے اپنی ایک عزیزہ سے پوچھا: ’’انگلینڈ سے آپ کے لیے کیا تحفہ بھیجو۔‘‘

کہنے لگی: ’’ہوسکے تو رنگ گورا کرنے والی کریم کی ایک شیشی بھیج دینا۔‘‘ میں اور میری ایرانی بیوی نے سارا انگلینڈ چھان مارا مگر ہمیں رنگ گورا کرنے والی کریم نہ مل سکی جب کہ گوری جلد کو سیاہ کرنے والی سینکڑوں اقسام کی کریمیں موجود تھیں۔

جولائی کا مہینہ تھا اور ایفل ٹاور کی لفٹ سے ہم چند مرد و زن اوپر جا رہے تھے۔ پیرس کی گرمی زوروں پر تھی اور ایک جوان انگریز چھوکری اپنا پسینہ پونچھتے ہوئے گرمی کا شکوہ کر رہی تھی۔ میں نے کہا: ’’تم اپنا تمام اندوختہ خرچ کر کے اسی گرمی ہی کے لیے تو یہاں آئی ہو پھر شکوہ کیسا؟‘‘

میرے سوال کا جواب دینے کے بجائے اس نے سب لوگوں کے سامنے میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا: ’’سچ سچ بتاؤ، یہ سانولا رنگ تم نے کہاں سے اور کیسے پایا؟‘‘

میں نے جواب دیا۔ ’’اس کے لیے میں اپنے مرحوم والدین کا ممنون ہوں۔‘‘

بولی: ’’کیا اس رنگ کو بیچوگے؟‘‘

جواب ایک بار پھر حاضر تھا: ’’ہرگز نہیں، کسی قیمت پر بھی نہیں۔‘‘ میں نے دیکھا کہ مختلف ملکوں سے آئے ہوئے سیاح اوٹ میں کھڑے ان جملوں سے پوری طرح محظوظ ہو رہے تھے۔

تخریب اور تعمیر

۱۹۷۴ کا زمانہ تھا۔پورے علاقے میں سیلاب نے تباہی مچائی ہوئی تھی۔ ایسے میں ہمارے میڈیکل کالج میں ہم فائنل ایئر کے طلبا نے ڈاکٹر جمال مرحوم کے ساتھ مل کر سیلاب زدگان کی طبی امداد کا پروگرام بنایا۔ اس بڑھاپے میں بھی وہ ہم جوانوں کے ساتھ قریہ قریہ گئے۔ جو کچھ ہوسکا وہ ہم لوگوں نے کیا۔

آخر کار جب ہم کالج واپس آگئے تو ایک دن مرحوم ڈاکٹر جمال نے ہمیں اطلاع دی کہ حکومت نے ہمیں اس خدمت کے صلے میں فی طالب علم کے حساب سے بیس روپے معاوضہ دیا ہے۔ ہم سب نے بیک آواز کہا کہ ہم نے یہ خدمت کسی لالچ یا معاوضے کے لیے نہیں بلکہ محض قومی خدمت کے جذبے کے تحت کی تھی۔

اس پر وہ جہاندیدہ بزرگ مسکرائے اور بولے: ’’تم نوجوان او رجذباتی ہو او رمعاوضہ لینے سے شرماتے ہو۔ تم نے تو بہرحال خدمت کی ہے اور ایک معمولی رقم بطور معاوضہ دی جا رہی ہے جب کہ کئی ایسے بھی ہیں جنھوں نے سیلاب زدگان کی امدادی رقوم کو مالِ غنیمت کی طرح ہڑپ کرلیا ہے اس تناظر میں آپ کا حق حلال معاوضہ کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘

وہ پھر کہنے لگے: ’’جب سیلاب آتا ہے تو کئی دیہات مٹ جاتے ہیں اور کئی نئی کوٹھیاں وجود میں آجاتی ہیں۔‘‘

کہتے ہیں کہ ایران کے سابق شاہ کے والد رضا شاہ ایک بار فوجی یونٹوں کا معائنہ کر رہے تھے، وہ خود بھی ایک عام فوجی سے اس مقام تک پہنچے تھے اس لیے فوجیوں سے گھل مل جاتے تھے۔ چند فوجیوں نے گلہ کیا کہ کھانا ناقص مل رہا ہے۔ انھوں نے جب خرچ ہونے والی رقم پوچھی تو وہ کھانے کے لیے کافی تھی… کافی رقم مگر ناقص کھانا وہ ہنس پڑے۔

انھوں نے فوجیوں کو ایک قطار میں کھڑا کیا پھر پہلے فوجی کو برف کی ایک بڑی ڈلی دے کر کہا کہ ایک دوسرے کے ذریعے آخری فوجی تک پہنچا دو۔ جب آخری سپاہی تک برف کی یہ ڈلی پہنچی تو چند قطرے ہی اس کی ہتھیلی تک آسکے۔

یہ دکھا کر رضا شاہ نے فوجیوں سے کہا: ’’حکومت تو بڑی ڈلی (رقم) بھیجتی ہے، مگر اس کا زیادہ تر حصہ درمیانی ہاتھوں میں پگھل کر رہ جاتا ہے اور آپ کے حصے میں اس کے آخری قطرے ہی آتے ہیں۔‘‘

تاجروں اور دلالوں کا بھی کم و بیش وہی رویہ ہے جو حکومتی اداروں کا غریبوں کی مدد کے وقت ہوتا ہے۔ بقول شخصے: ع

یہی رہا معیارِ دیانت تو کل کا تاجر

برف کے باٹ لیے دھوپ میں بیٹھا ہوگا

(اردو ڈائجسٹ سے ماخوذ)

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر بخت آور خان