BOOST

پیاس بجھاتے چلو! قسط-21

پھر اسی شام کو وہ مٹھائی کا بڑا سا ڈبہ لے کر پھپھو کے گھر گئے تھے۔ فائزہ نے بہت کوشش کی تھی کہ کسی طرح اس کا جانا ٹل جائے مگر کوئی صورت نہیں تھی۔ نہ ہی کوئی مناسب بہانہ، سو بادلِ نخواستہ وہ بھی امی ابو کے ساتھ ہولی تھی۔ پھپھو کے گھر سوائے اریب بھائی کے سارے لوگ موجود تھے۔ فائزہ نے سکھ کا سانس لیا، یوں بھی وہ راستہ بھر یہی دعا کرتی آئی تھی کہ اللہ کرے اریب بھائی سے سامنا نہ ہو۔ وہاں سب نے بہت جوش سے ان کا استقبال کیا۔ مبارک باد دی اور مٹھائی کھائی۔ شرمین بھابھی اور مسکان باجی نے ان کی بہترین مہمان نوازی کی اور پُرتکلف ناشتہ پیش کیا۔ ابو کی جاب کا سن کر تقریبا سبھی مسرت و انبساط کے احساس سے ہم کنار تھے۔

پھر تنزیلہ باجی اور مسکان باجی نے پارٹی کے لیے اتنا اصرار کیا کہ ان کی ضد پر حیدر مرتضیٰ کو ہاں کرتے ہی بنی، اور دعوت دو دن بعد اگلے سنڈے کی شام کو طے ہوگئی۔ لیکن حیدر نے واضح کر دیا تھا کہ یہ چھوٹی سی پارٹی صرف گھر میں منعقد ہوگی اور گرینڈ پارٹی تنخواہ ملنے کے بعد کسی اچھے سے ہوٹل میں دی جائے گی۔ وہ لوگ اس پر بھی بہ خوشی راضی تھے۔ فائزہ اور آمنہ مسکرا رہی تھیں اور سبھی خوش تھے۔ خاندان کے لوگوں کا یوں مل بیٹھنا اور ایک ساتھ شام گزارنے کا تصور ہی دل خوش کرنے والا تھا۔(بشرطے کہ ان محفلوں میں کوئی دل دکھانے والی اور پن چبھانے والی بات کر کے ہمارا موڈ نہ خراب کردے)۔

فضا آپو اور خرم بھائی جان کو بھی مدعو کرلیا گیا تھا۔ فضا اس دن بھی یعنی اتوار کو صبح سے آچکی تھیں تاکہ شام کی دعوت کی تیاری کرسکیں۔ خرم انہیں آفس جانے سے پہلے ڈراپ کرنے آئے تھے۔ گھر کے سامنے گاڑی سے اترتے ہوئے فضا نے انہیں پھر یاد دلایا۔’’دیکھیں، شام کو انس کو ضرور ساتھ لائیے گا۔ ابھی وہ اسکول میں تھا ورنہ میں خود اسے لے آتی۔ پلیز خرم صاحب۔‘‘

خرم بائیک کا ہینڈل پکڑے ہاں میں گردن جھلائے چلے جا رہے تھے جو نصیحت فضا راستہ بھر کرتی آئی تھیں اب پھر اس کا اعادہ کرنے لگی تھیں (آخر یہ عورتیں بولنے کی اتنی سوقین کیوں ہوتی ہیں اور کمال تو یہ ہے کہ یہ بولتے بولتے تھکتی بھی نہیں)۔‘‘ فضا آپو کو دیکھتے ہوئے وہ حیرت سے سوچ رہے تھے۔ فضا کا رخ ان کی طرف تھا اور گھر کے گیٹ کی طرف فضا کی پیٹھ تھی۔ ’’اوہ سلام امی جان۔‘‘

خرم نے سر اونچا کر کے بلند آواز میں فضا آپو کے سر کے پیچھے سے گیٹ کی طرف جھانک کر چہکتے ہوئے تائی جان کو سلام کیا تھا۔ فضا آپو گھبرا کر پلٹیں۔ ’’امی میں یاسر کے ڈیڈی سے کہہ رہی تھی کہ …‘‘

باقی الفاظ ان کے منہ میں رہ گئے کیوں کہ وہاں تائی جان تو کیا کوئی بھی نہ تھا۔

’’ہاہاہا۔‘‘ خرم نے دل کھول کر قہقہہ لگایا۔ فضا غصے سے واپس مڑیں۔

’’یہ کیا تھا؟‘‘

’’مذاق۔‘‘ وہ محظوظ ہوکر بولے: ’’کچھ نہیں، بس تمہارے منہ سے یاسر کے ڈیڈی سننا چاہتا تھا۔ ویسے تو جناب ہزر منتوں کے بعد بھی بولتی نہیں۔‘‘

’’اچھا۔‘‘ انھوں نے دانت پیسے۔‘‘ وہ تو امی کے حکم پر آپ کو ’’صاحب‘‘ کہہ کر مخاطب کر رہی ہوں اسے ہی غنیمت جانیں ورنہ سیدھے واپس خرم‘‘ پر آجاؤں گی۔‘‘ فضا نے دھمکی دی۔ اب چلتے بنیے۔ خرم ہسنتے ہوئے گاڑی آگے بڑھالے گئے۔

وہ بھی چمکتے چہرے اور مسکراتے لبوں کے ساتھ یاسر کو گود میں اٹھائے اندر چلی گئیں۔ شوہر کے ساتھ ہلکا پھلکا مذاق عورت کو سرشار کیے دیتا ہے اور جب بھی خرم انہیں اس طرح چھیڑتے یا ستاتے تو بظاہر وہ مصنوعی غصہ دکھاتیں لیکن در حقیقت انہیں اچھا لگتا خرم کا انہیں یوں تنگ کرنا۔ خرم کا شگفتہ مزاج انہیں کبھی اداس ہی نہیں ہونے دیتا اور ان کی گفتگو سے فضا کا موڈ بحال رہتا۔ اپنے دوسرے بھائیوں کے مقابلے خرم کافی خوش مزاج انسان تھے۔ اس لیے دیگر بھائیوں کی بیویوں کی بہ نسبت فضا کافی پراعتماد اور ٹینشن فری رہتی تھیں۔ شوہر کی طرف سے ملنے والے سپورٹ اور بے فکری کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے۔

جتنی ذمے دار وہ میکے میں تھیں سسرال جاکر مزید ذمے دار ہوگئی تھیں۔ آج بھی اندر آتے ہی انھوں نے کمر کسی اور کچن کے کاموں میں لگ گئیں۔ یوں بھی وہ میکہ آکر آرام کرنے والی لڑکیوں میں سے نہیں تھیں۔ عام دنوں مین بھی ان کی کوشش ہوتی کہ وہ اپنی امی اور صبا کا کام ہلکا کر جائیں۔

دعوت کا انتظام قیصر تایا جان کی طرف تھا۔ کیوں کہ ان کا پورشن نسبتاً کشادہ تھا اور کچن بھی فائزہ کے کچن سے بڑا تھا۔

کچن میں فائزہ اور صبا بھی ہیلپ کر رہی تھیں۔ البتہ باورچی خانے کی کمان تائی جان کے ہاتھ میں تھی۔ ہر کام ان کے آرڈر کے مطابق ہو رہا تھا۔ قورمہ کی ذمے داری آمنہ کی طرف تھی۔ بٹر چکن او رمیٹھا فضا آپو کو بنانا تھا ار تائی جان خود بریانی بنانے والی تھیں۔ رشین سلاد انھوںنے فائزہ کو تیا رکرنے کو کہا تھا۔ سہ پہر تک پھپھو کی فیملی کی ساری خواتین پہنچ گئیں تو گھر میں اچھی خاصی چہل پہل ہوگئی۔ پھپھو دادی کے پاس بیٹھ کر دیگر احوال دریافت کرنے لگیں اور شرمین بھابھی، تنزیلہ و مسکان باجی نے باورچی خانے کو رونق بخشی۔ سات آٹھ خواتین کی موجودگی سے وسیع کچن بھی تنگ پڑنے لگا تھا۔ فائزہ پلیٹ فارم پر ایک طرف کھڑی چوپنگ بورڈ پر گاجروں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر رہی تھی۔تنزیلہ باجی نے فضا آپو کی کسی بات پر قہقہہ لگایا تو فائزہ نے چونک کر بے ساختہ انہیں دیکھا پھر تائی جان کو، کیوں کہ تائی جان کو ان کا ہاہا ہو ہو، کرنا زہر لگتا تھا۔ حالاں کہ فضا آپو بھی ہنس رہی تھیں لیکن تنزیلہ باجی کا بلند بانگ مردانہ قہقہہ کانوں پر گراں گزر رہا تھا۔ ویسے بھی نندوں کی بیٹیوں کی کچن میں موجودگی انہیں کوفت میں مبتلا کرتی تھی۔ اول تو وہ دونوں بہنیں کسی کام کو ہاتھ لگاتی نہیں تھیں اور کبھی کچھ کرنے بھی لگ جاتیں تو ان کا طریقہ اور کام کرنے کا انداز دیکھ کر تائی جان کا خون ابل ابل جاتا۔ وہ بہت نفاست پسند خاتون تھیں اور انہیں ہر کام پرفیکٹ اور سلیقہ و صفائی سے چاہیے تھا۔ اس لیے وہ تنزیلہ و مسکان کے ہاتھوں سے کام لے لیتیں۔

’’تم لوگ مہمان ہو، یہ کیا کہ بچیاں آتے ہی کچن میں لگ گئیں، جاؤ تم لوگ ہنسو کھیلو۔‘‘

وہ بہت شیریں انداز میں کہہ کر انہیں وہاں سے ہٹا دیتیں۔ تائی جان کے اسی مزاج کی وجہ سے آمنہ بھی جیٹھانی کے سامنے دبی دبی سی رہتیں۔

لیکن ان کی گھر داری کی صلاحیت کی معترف بھی تھیں۔ اس لیے وہ چاہتی تھیں کہ فائزہ بھی اپنی تائی جان کی طرح امور خانہ داری میں طاق ہو جیسے صبا اور فضا تھیں۔

تائی جان نے قہر آلود نگاہیں ان پر ڈالیں اور منہ ہی منہ میں بڑبڑا کر صبا کو کسی بات پر خوامخواہ ڈانٹنے لگیں۔ بے چاری صبا، ہر وقت ان کی زد میں رہتی تھی، اس کے تو فرشتوں کو بھی خبر نہیں تھی کہ اچانک امی کو کس بات نے تپا دیا تھا۔ یاسرکے رونے کی آواز پر فضا باورچی خانے سے نکل گئی تھیں۔ یہ لڑکا مجھے سکون سے کام نہیں کرنے دے گا۔‘‘

فائزہ نے سیب اور گاجریں کاٹ لی تھیں اور فریج سے تازہ ملائی بھی نکال لی تھی لیکن اب اسے یاد نہیں آرہا تھا کہ رشین سلاد میں اور کیا کیا پڑتا ہے۔ اس نے وہ سلاد کھایا تو بہت دفعہ تھا لیکن تائی جان اس میں کون کون سے اجزا ڈالتی تھیں یہ بات وہ بھول گئی تھی۔

تائی جان سے دریافت کرنا تو اپنی بے عزتی کروانا تھا۔ صبا سے بھی نہیں پوچھ سکتی تھی کیوں کہ وہ تائی جان کے بالکل بغل میں کھڑی انہیں بریانی کے مختلف رنگ گھول کر دے رہی تھیں۔ وہ فضا آپو سے پوچھنے لاؤنج میں گئی وہاں تو آپو چڑچڑے یاسر کو چپ کرانے میں ہلکان ہوئی جا رہی تھیں جو لگاتار بس روئے جا رہا تھا۔

’’ارے یہ مہران کہاں غائب ہے بھئی…‘‘ اسے کہو یاسر کو باہر لے جائے کب سے فضا کو پریشان کر رہا ہے۔‘‘ پھپھو دادی کے قریب بیٹھی سر کو ادھر ادھر گھما کر مہران کو تلاشنے لگیں۔

لیکن مہران نہیں تھا۔

’’کوئی بات نہیں پھپھو۔ یہ مغرب کے وقت ایسے ہی روتا ہے۔‘‘

انہیں مصروف پاکر فائزہ صبا کے کمرے میں گئی وہاں اس کا موبائل چارج ہو رہا تھا۔ وہ بھلا کیسے بھول گئی تھی کہ آج کے دور میں ہر سوال کا جواب موبائل تھا۔ اس نے فورا یوٹیوب کھولا۔ صرف دو منٹ کا ویڈیو تھا اس نے دیکھا اور مطمئن ہوگئی۔

’’فائزہ کہاں بھاگ گئی؟ ایک کام نہیں ہوا اس لڑکی سے۔‘‘

’’امی اس نے سلاد بنالیا ہے۔‘‘ صبا فوراً اس کے دفاع کو کودی۔ ’’اور ٹھنڈا ہونے کے لیے فریج میں رکھ دیا ہے۔ ابھی آپ کے نزدیک کھڑی وہ پھل وغیرہ کاٹ رہی تھی۔ وہ تو رائتہ بھی بنا چکی ہے۔‘‘

’’لیکن وہ تو میں نے نہیں کہا تھا۔‘‘ ان کی ابروئیں اٹھیں۔‘‘

’’چاچو کو پسند ہے اس لیے بنایا ہوگا۔‘‘

تائی جان نے کچھ کہا تو نہیں البتہ چہرے پر ناگواری اور بے زاری کے تاثرات تھے۔ پتہ نہیں وہ ہر وقت ناخوش کیوں رہتی تھیں۔ فائزہ نے ان کی گفتگو سن لی تھی اس لیے وہ کچن کے دروازے سے واپس پلٹ گئی۔ ظاہر ہے اب وہ کچن میں اسی وقت جاسکتی تھی جب تائی جان وہاں سے نکل جاتیں کیوں کہ صبا کے مطابق وہ اپنا کام مکمل کرچکی تھی اور سبزیاں و پھلوں کے ٹکڑے فریج سے نکال کر اپنا آدھا ادھورا سلاد دکھا کر وہ تائی جان کو غصے کا موقع نہیں دینا چاہتی تھی۔ ورنہ فائزہ کے ساتھ صبا کی بھی شامت آجاتی۔

مغرب کی نماز کے بعد پھپھو کے گھر کے مرد حضرات اریب بھائی، ارحم بھائی اور پھپھا آپہنچے۔ ان کی آمد کے دس منٹ بعد خرم بھائی جان بھی آگئے لیکن ان کے ساتھ انس نہیں تھا۔ فضا نے چھوٹتے ہی ان سے انس کی بابت پوچھا کہ وہ اسے ساتھ کیوں نہیں لائے۔ ان کی تاکید کے باوجود۔

’’وہ مدرسے چلا گیا تھا۔ پھر بھابھی نے بھی اسے دعوت کا بتانے سے منع کیا تھا ورنہ اس کی خوامخواہ چھٹی ہوجاتی۔‘‘

کھانا شگفتہ ماحول میں کھایا گیا ۔ ارحم بھائی اور اریب وقتاً فوقتاً شگوفے چھوڑ رہے تھے۔ خرم بھائی جان وقار سے مسکرا رہے تھے۔ تین تین سسر صاحبان کی موجودگی میں وہ قدرتی طور پر ریزرو تھے۔ مہران حسبِ معمول سنجیدہ مگر مسرور تھا۔

کھانے کے بعد سب کو چائے پلوانے کے لیے فضا آپو اٹھنے لگیں مگر تائی جان نے منع کر دیا۔ انھوں نے یہ ذمے داری فائزہ کو سونپی تھی۔ فائزہ نے سب کو ادرک والی خوشبو دار چائے پیش کی۔ بہترین اور مزیدار ڈنر کرنے کے بعد سب آرام دہ حالت میں بیٹھے چائے کی چسکیاں لے رہے تھے۔ فائزہ اریب بھائی کو مکمل نظر انداز کیے ہوئے تھی اور سلام کے علاوہ ان سے کوئی بات چیت نہیں کی تھی۔ اسے پچھلی ملاقات پر ان کی حرکتیں ناگوار گزاری تھیں اور یہ ناگواری وہ ان پر ظاہر کرنا چاہتی تھی تاکہ آئندہ تمیز کے جامے میں رہیں۔ اور واقعی اس کا اکھڑ انداز دیکھ کر اریب بھائی کی اسے مخاطب کرنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی۔ انھوں نے اسے دزدیدہ نگاہوں سے دیکھنے کی ایک دوبار کوشش کی تھی مگر وہ اس زاویے سے بیٹھی تھی کہ ان کی نظریں اسے پا نہیں سکیں۔ تنزیلہ باجی کے ساتھ وہ اس طرح براجمان تھی کہ ان کے بھاری بھرکم وجود نے اسے پوری طرح چھپا دیا تھا۔ چلو جی تنزیلہ باجی کا موٹا ہونا کسی کام تو آیا۔ فائزہ کو اطمینان محسوس ہوا۔ پھپھا، قیصر تایا جان سے ابو کی جاب کی تفصیلات معلوم کر رہے تھے۔ تایا جان سونف پھانکتے ہوئے انہیں بتا رہے تھے کہ کیسے ان کے کولیگ کے ذریعے اس کمپنی سے رابطہ ہوا۔

’’یہ اچھا ہی ہوا کہ حیدر وہاں سے وائنڈاپ کر کے آگیا دیکھو یہاں اللہ نے راستہ کھول دیا۔‘‘ پھپھو ان کے جاب لگنے کی خبر سے بہت خوش تھیں۔

’’واقعی۔‘‘ سب نے تائید کی۔

’’میرا مالک بہت مہربان ہے۔ پروردگار تیرا لاکھ لاکھ شکر۔‘‘ دادی جذباتی ہو رہی تھیں بار بار اپنی آنکھیں پونچھتیں جو تشکر کے احساس سے بھیگ بھیگ جاتیں۔

’’ہاں آپا! اور سچ کہوں تو بس اب میرا بھی دل اوب گیا تھا وہاں سے۔ اور ہندوستان کے مسلمانوں کے بارے میں جو خبریں سننے کو ملتی تھیں وہ مزید بے چین کر دیتی تھیں۔ دیارِ غیر میں پنجرے میں بند پرندے کی طرح بے قراری سے بس پھڑپھڑاتے رہتے۔ دل چاہتا اڑ کر واپس اپنے وطن چلے جائیں، اپنوں کے قریب۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سلمیٰ نسرین

تبصرہ کیجیے