5

کاش

رات بعد تہجد نیند کا ایسا غلبہ ہوا کہ ہم وہیں سوگئے، خواب میں کیا دیکھتے ہیں۔ ایک آنسو کی صدارت میں مجلس کی کارروائی چل رہی ہے۔ خدا کی قدرت دیکھئے کہ زبان تو ان کی تھی پر ہم خوب سمجھ رہے تھیـ۔ سب آنسو باری باری اپنا تعارف کرواتے ہوئے اپنی جگہ لے رہے تھے۔ روداد کچھ اس طرح ہے:

(۱) میں اس نوجوان کی آنکھ سے ٹپکا ہوا آنسو ہوں، جس نے خود بھوکا رہ کر مہمان سائل کو پیٹ بھر کھلایا پھر سجدہ شکر بجا لاتے اور مجھے دباتے ہوئے کہہ رہا تھا، اے مالک! مجھ سے مہمان نوازی کا حق ادا نہ ہوا۔

(۲) اس آنسو نے بڑے ہی فخر سے کہا میں اس بیوہ کے سجدہ شکر کا آنسو ہوں جس کو اچانک یہ خبر ملی کی اس کا شوہر میدان جنگ میں شہید نہیں ہوا بلکہ غازی بن کر آرہا ہے۔

(۳) میں اس بیوہ ماں کی خوشی کا آنسو ہوں جس نے بیٹے کے سر پر سہرا باندھا اور پھر گلے لگا کر ڈھیر ساری دعائیں دیتی ہوئی سجدہ میں گر پڑی۔

(۴) میں اس بہن کی آنکھ کا آنسو ہوں جو بھائی کے آئی اے ایس امتحان میں امتیازی کامیابی پر سجدہ شکر میں نکل آئے۔

(۵) میں اس شخص کا آنسو ہوں جو پہلے مشرک ہوا پھر مرتد ہوا اور اب بھری مجلس میں صدق دل سے توبہ کی، کلمہ طیبہ بار بار دہراتے ہوئے سجدہ ریز ہوکر بے ہوش ہوگیا۔

(۶) میں اس شخص کا آنسو ہوں جو انجانے میں یتیم کا دل دکھا بیٹھا اور پھر سچائی جان کر اس یتیم کے صدق دل سے معاف کرنے کے باوجود بارگاہ ایزدی میں گریہ و زاری کرتے ہوئے زار و قطار رو رہا تھا۔

(۷) میں اس نمازی کا آنسو ہوں جس کی نماز فجر میں تکبیر اولیٰ فوت ہوئی جس کے غم میں روتے ہوئے اس کا برا حال ہوا۔

(۸) میں اس خوش نصیب کا آنسو ہوں جسے خواب میں حضور اقدسﷺ کا دیدار ہوا جو دن بھر درود شریف پڑھتے ہوئے خوشی سے پاگل ہوا جا رہا تھا۔

(۹) میں اس یتیم کی آنکھ سے ٹپکا ہوا آنسو ہوں جو تکمیل حفظ قرآن پر دستار بندی کے بعد ماں باپ کی مغفرت کی دعا کرتے ہوئے رو رہا تھا۔

مجلس کا اختتام درود و سلام پر ہوا، سب نے مل کر دعا کی اور اس زور سے آمین کہا کہ ہم نیند سے بیدار ہوئے۔

کاش! کوئی ولی صفت ان آنسوؤں کا مقام و مرتبہ بارگاہِ الٰہی میں کیا ہوگا، اس گناہ گار کو سمجھائے تو…‘‘l

شیئر کیجیے
Default image
محمد مصطفی علی انصاری

تبصرہ کیجیے