3

سیاسی دھوکہ

اچانک میرے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی۔ میں رات دیر سے ہوٹل پہنچا تھا۔ سفر کی تھکان کے باعث ابھی تک بستر پر لیٹا غنودگی کا لطف اٹھا رہا تھا۔ لیٹے ہی لیٹے کہا: ’’آئیے۔‘‘

دروازہ کھلا اور صاف ستھرے لباس میں ملبوس ایک ساٹھ پینسٹھ سالہ زمین دار اندر داخل ہوا۔ علیک سلیک کے بعد بولا:

’’سنا ہے کہ تم کسی اخبار کے نمائندے ہو؟‘‘

’’جی ہاں۔‘‘ میں نے جواب دیا۔

وہ کہنے لگا، اخباروں میں خبر آئی تھی کہ ہماری سیاسی جماعت کے تمام رکن مخالف جماعت میں شامل ہوگئے ہیں۔ شاید تم اس بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے آئے ہو۔‘‘

’’اآپ بالکل ٹھیک سمجھے۔‘‘

’’میں بھی اسی لیے صبح سویرے ہی یہاں آگیا تاکہ قبل اس کے کہ کوئی اور شخص جھوٹ سچ بتا کر تمہارے کان بھرے، میں خود تمہیں ساری حقیقت سے آگاہ کردوں۔ اس بارے میں جو کچھ میں جانتا ہوں، دوسرا کوئی نہیں جانتا۔‘‘

میں واقعی یہاں اس لیے آیا تھا کہ لوگوں سے پوچھ گچھ کر کے پتا چلایا جائے کہ یہاں کی سب سے بڑی اور مضبوط سیاسی جماعت کے تمام اراکین دوسری جماعت میں کیسے شامل ہوگئے۔

نووارد نے مزید تاخیر کے بغیر اپنا قصہ سناناشروع کر دیا۔ آپ بھی اس کی زبانی سنیے:

میرا نام باقر ہے، سب سے پہلے یہ بتادوں کہ ہم لوگ اب تک اپنی جماعت پر ہمیشہ کی طرح جان دیتے ہیں۔ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں اس سے جدا نہیں کرسکتی۔ جماعت بدلنے کی تمام افواہیں ہمارے دشمنوں نے پھیلائی ہیں، جو کچھ ہوا، وہ محض ایک چھوٹی سی غلطی کا نتیجہ ہے۔

ہوا یوں کہ انقرہ سے ہماری جماعت کے صدر دفتر سے اطلاع آئی کہ مخالف جماعت کے بہت بڑے رہنما، عثمان یہاں تشریف لا رہے ہیں۔ اب میں گھبرایا اور بھاگم بھاگ اپنی جماعت کے مقامی صدر کے پاس پہنچا اور انہیں مشورہ دیا ’’منظور صاحب، خدارا انقرہ والوں کو لکھئے کہ ہماری جماعت سے بھی کوئی بڑا رہنما یہاں بھیجے! ہم مخالف جماعت سے اس سلسلے میں مات کیوں کھائیں؟‘‘

منظور صاحب نے جواب دیا ’’باقر آغا‘‘ یہ مئی کا مہینہ ہے۔ جماعت کے سب رہنما پہلے ہی دوروں پر ہیں۔ مناسب وقت آنے پر ہمارا کوئی رہنما ضرور اس علاقے کے دورے پر آئے گا۔ ہم تم جماعت کے صدر دفتر کو مشورہ دینے والے کون ہیں؟‘‘

میں نے اصرار کیا ’’منظور صاحب! وہ جماعت کا کوئی کارکن ہی بھیج دیں، بس ذرا تقریر کرنا جانتا ہو۔ کوئی بات نہیں، اس کا کرایہ آمد و رفت اور یہاں کا خرچ میں خود برداشت کرلوں گا۔‘‘

’’باقر آغا! تم سمجھتے ہو کہ تقریر کرنا اور بھیڑ بکریاں چرانا ایک ہی بات ہے۔ میرے بھائی! ہر آدمی تقریر نہیں کرسکتا۔‘‘

’’چلو ہم تقریر کے بغیر بھی گزارا کرلیں گے۔ آپ صرف انقرہ سے ایک آدمی منگوادیں۔ ہم پنڈال میں اتنا مجمع اکٹھا کرلیں گے کہ نعروں اور تالیوں کے شور شرابے میں کسی کو سمجھ ہی نہیں آئے گی کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اگر وہ اسٹیج پر کھڑا ہوکر چند منٹ صرف ہونٹ ہی ہلا دے یا دو چار شعر سنا دے تو ہمارا کام بن جائے گا۔ پنڈال کے چاروں طرف لاؤڈ اسپیکر لگوا کر ہم اتنی بلند آواز میں مختلف ترانے بجائیں گے کہ کسی کو کان پڑی آواز سمجھ نہ آئے گی۔ ہم تو محض اپنی جماعت کا نام اونچا کرنا چاہتے ہیں۔ پورے قصبے کو جھنڈیوں اور محرابوں سے دلہن کی طرح سجائیں گے اور دنبے ذبح کریں گے۔ آخر ہمارے مخالفوں نے ہمیں سمجھ کیا رکھا ہے۔‘‘

’’لیکن…‘‘ باقر آغا مجھے مخاطب کر کے بولا: ’’منظور نے اپنی ہٹ دھرمی نہ چھوڑی۔ آخر آپ خود ہی انصاف کیجیے صحافی بھائی، مخالف جماعت کا رہ نما ہمارے قصبے میں آتا واشگاف تقریریں اور بلند و بالا نعرے لگتے، تو اس کے بعد ہم اپنا منہ لوگوں کو دکھانے کے قابل رہتے؟ ہمارے حمایتی ہمیں گدھوں پر سوار کر کے ہمارا جلوس نہ نکال دیتے! ہم ساری عمر کسی سے آنکھ ملا کر بات کرنے کے قابل نہ رہتے۔‘‘

باقر آغا تھوڑی خاموشی کے بعد پھر اپنا قصہ سنانے لگا:

’’میں نے پارٹی کے ایک اور پرانے کارکن حیدر آغا سے مل کر منصوبہ بنایا کہ باہر سے کسی ایسے شخص کو بلایا جائے جسے ہمارے علاقے کا کوئی آدمی جانتا نہ ہو۔ لوگوں پر یہی ظاہر کیا جائے کہ یہ شخص ہماری جماعت کا بہت بڑا رہ نما ہے۔ ہم اس سے تقریر کروائیں گے، اسے کارکنوں کے کندھوں پر اٹھوا کر قصبے کے ارد گرد چکر لگائیں گے اور اسے چلتا کردیں گے۔ ایک دفعہ وہ ہماری حدود سے نکل گیا تو ہم دعویٰ کرسکیں گے کہ ہمارا رہ نما مخالف جماعت کے مقابلے میں نہایت شاندار کامیابی حاصل کر کے گیا ہے لیکن اگر ہمارا کوئی رہ نما یہاں نہیں آیا، تو سمجھ لو کہ مخالف جماعت کی مونچھ ہمیشہ اوپر رہے گی اور ساتھ ہی انتخابات میں ان کی کامیابی یقینی ہوجائے گی۔

’’اگلے روز میں اپنی جماعت کے دفتر پہنچا تو پتا چلا کہ واقعی ہماری جماعت کا ایک رہ نما جمعرات کے دن ہمارے قصبے آرہا ہے۔ میں یہ خبر سن کر پھر سٹپٹایا او رکہا ’’بھئی یہ تو بڑی گڑبڑ ہوگئی۔ ہم یہ کیسے برداشت کرسکتے ہیں کہ پہلے مخالف جماعت کا رہ نما آئے اور بعد میں ہمارا۔ سارا قصبہ ایک روز پہلے دشمن کے نمائندے کا استقبال کرے گا، اس کے بعد ہمارا رہنما آیا تو کس کام کا؟ لوگوں کا جوش و خروش پہلے ہی روز ختم ہوچکا ہوگا۔ ہمارے رہنما کو کوئی گھاس بھی نہیں ڈالے گا۔

’’منظور میری بات سن کر ناراض ہونے لگے ’’باقر، تم شکر نہیں کرتے کہ ہمارا رہنما بھی آرہا ہے۔ اس پر الٹا حجت بازی کر رہے ہو؟‘‘

’’اچھا منظور اپنا رہنما جمعرات کو آتا ہے تو ضرور آئے ہم انشاء اللہ مخالف جماعت کے رہنما کو بدھ کے دن یہاں نہیں آنے دیں گے۔ وہ آیا بھی تو ہمارے رہ نما کے بعد ہی آئے گا۔‘‘

اب میں دفتر سے سیدھا چار اسٹیشن پیچھے واقع بیگو وال اسٹیشن پہنچا۔ وہاں کا اسٹیشن ماسٹر یوسف مرزا ہمارے ہی قصبے کا رہنے والا ہے اور ہماری جماعت کا آدمی ہے۔ میں نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا: ’’یوسف بیٹے! مخالف جماعت کا ایک رہ نما بدھ کو ہمارے ہاں آرہا ہے، میں اس سلسلے میں تمہارے ذمے ایک کام لگانے لگا ہوں۔ وہ یہ کہ اس مردود کو کسی صورت جمعرات کی شام تک وہاں نہ پہنچنے دو۔‘‘

’’لیکن باقر آغا! میں اتنے بڑے آدمی کو کیسے روک سکتا ہوں؟‘‘

مجھے یوسف کی بات سن کر سخت غصہ آیا ’’ارے! نالائق تو اتنا بڑا بابو بنا پھرتا ہے، لیکن ایک مسافر کو دو دن کے لیے راستے میں نہیں روک سکتا۔ تو تو بالکل نکما آدمی نکلا۔‘‘

’’لیکن باقر آغا! میں یہ کام کیسے کرسکتا ہوں؟‘‘

’’بس ریل رو کے رکھو۔‘‘

’’توبہ کیجیے جناب، یہ تو بالکل ناممکن ہے۔‘‘

’’ناممکن کیسے ہے برخوردار! یہ کوئی میرا تمہارا نجی کام تو ہے نہیں، حکومت کا اپنا کام، جماعت کا کام ہے۔‘‘

’’آغا صاحب! میں گاڑی ایک ڈیڑھ گھنٹہ تو روک سکتا ہوں لیکن لگاتار دو روز گاڑی روکے رکھنا میرے بس میں نہیں۔‘‘

’’کمبخت، یقینا تم منافقت سے کام لے رہے ہو۔ اوپر اوپر سے ہماری جماعت کا ساتھ دینے کا دعویٰ کرتے ہو مگر دراصل مخالف جماعت کے آدمی ہو۔ اتنا بڑا بابو دو روز تو کیا دس روز گاڑی روکے رکھنے کون پوچھ سکتا ہے۔ بس کہہ دینا کہ آگے پٹری خراب ہے۔

’’باقر آغا! میں وعدہ تو نہیں کرتا البتہ اپنی طرف سے پوری کوشش کروں گا۔ یقین جانو میں سو فیصد اپنی جماعت کا حامی ہوں۔‘‘

میں بیگووال سے سیدھا اپنے قصبے کے ریلوے اسٹیشن پہنچا۔ وہاں سے ہمارا قصبہ بذریعہ کار ایک گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ یہاں میں نے ٹیکسی ڈرائیور خالد کو پکڑا اور کہا: ’’خالد بیٹے! تم تو دل و جان سے ہماری جماعت کے ساتھ ہونا!‘‘

’’آپ کیسی بات کر رہے ہیں باقر آغا؟ ہم سے بڑھ کر جماعت کا وفادار بھلا کون ہوسکتا ہے۔‘‘

’’تو پھر سنو برخوردار! دوسری جماعت کا ایک رہنما ہمارے قصبے میں آرہا ہے تم سب ڈرائیوروں کو ہدایت کر دو کہ کوئی اسے اپنی گاڑی پر نہ بٹھائے۔ تم خود اسے اپنی ٹیکسی پر بٹھا کر اسٹیشن سے قصبے تک لے جانے کی حامی بھرنا۔ میں قصبے تک پوری سڑک پر جگہ جگہ مرمت کے بہانے گہرے گڑھے کھدوادوں گا۔ تمہارا کام یہ ہوگا کہ ہر گڑھے پر پہنچ کر گاڑی اور مہمان کو زیادہ سے زیادہ وقت کھڑا رکھو۔ جہاں کوئی گڑھا نہ ملے، وہاں بھی کوئی بہانہ بنا کر گاڑی کھڑی کر دینا اور پھر جتنا وقت ضائع کرسکو، کرنا۔ کبھی کہنا کہ پٹرول ختم ہوگیا ہے، کبھی ڈائینمو جلنے کا بہانہ بنا دینا، کبھی پلگ صاف کرنے لگ جانا۔ الغرض مقصد یہ ہے کہ اس نامراد کو کسی نہ کسی بہانے زیادہ سے زیادہ عرصہ راستے میں رکھا جائے۔‘‘

ادھر سے فارغ ہوکر میں پانی فراہم کرنے والے پمپ انچارج سلیم کے پاس پہنچا اور اسے کہا ’’سلیم میاں، مخالف جماعت کا رہنما جب بھی یہاں آئے قصبہ بھر میں پانی کا ایک قطرہ نہ آئے۔ یاد رکھو اگر اس روز پانی کھولا، تو تمہاری آنکھین نکلوا دوں گا۔ اگر کوئی پوچھے تو کہہ دینا کہ پائپ پھٹ گیا یا موٹر خراب ہوگئی ہے۔ جب پیاس سے مردود کی زبان لکڑی کی طرح سوکھے گی، تو دیکھیں گے کہ تقریر کیسے کرتا ہے۔ ہاں، جب جمعرات کے دن اپنی جماعت کا رہنما یہاں پہنچے تو سارا قصبہ جل تھل ہونا چاہیے۔‘‘

سلیم کو اچھی طرح سمجھا کر میں بجلی گھر پہنچا۔ وہاں رجب مستری کو ڈھونڈا اور سمجھایا ’’رجب آغا غور سے سنو! جوں ہی مخالف جماعت کا رہ نما یہاں پہنچے، بجلی بند ہوجانی چاہیے۔ خبردار! جو کسی لاؤڈ اسپیکر سے ذرا سی آواز بھی نکلنے پائی۔ اگر کوئی زیادہ شور مچائے، تو کہہ دینا کہ ہمارا ڈیزل ختم ہوگیا ہے یا جنریٹر کے تار جل گئے ہیں لیکن جب اپنی جماعت کا رہنما آئے تو بجلی کی طاقت عام دنوں سے بھی دگنی ہونی چاہیے۔ پورا قصبہ یوں نظر آئے جیسے آسمان سے نور ٹپک رہا ہے۔‘‘

چوں کہ قصبہ کے تمام اہم شعبوں پر پہلے ہی اپنی جماعت کے کارکن مامور تھے، اس لیے مجھے اپنا منصوبہ کامیاب بنانے میں کوئی مشکل پیش نہ آئی۔ حسب توقع بدھ کو مخالف جماعت کا رہنما قصبہ میں نہیں پہنچا۔ میری خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ مین نے ارد گرد کے تمام دیہات میں اطلاع کرادی تھی۔ جمعرات کا دن آیا، تو دنیا ٹوٹ کر ہمارے ہاں اکٹھی ہوئی۔ ڈھول اور شہنائیوں کی آواز سے لوگوں کے کان پھٹے جاتے تھے۔ اتنے میں ہماری جماعت کا نمائندہ آپہنچا۔ ہمیں یقین تھا کہ مخالف جماعت کا رہنما ابھی راستے ہی میں دھکے کھا رہا ہوگا اور کسی حالت میں اگلی صبح سے پہلے نہیں پہنچ سکے گا۔ اپنے معزز مہمان کو خوش آمدید کہنے کی غرض سے جماعت کے دفتر تک ہر چند گز کے فاصلے پر کہیں دنبہ، کہیں بکرا اور کہین اونٹ ذبح کر کے جماعت سے وفاداری اور قربانی کے جذبے کا ثبوت مہیا کیا گیا۔ سڑک پر سارا راستہ قالین، نمدے اور غالیچے بچھے ہوئے تھے۔ گھروں اور دکانوں کو بڑے اہتمام سے سجایا گیا تھا۔ درختوں پر کوئی ٹہنی نہیں دکھائی دیتی تھی کیوں کہ ہر جگہ سبز ٹہنیاں کاٹ کر دروازے اور محرابیں بنا دی گئی تھیں۔ ہر سڑک اور گلی کے موڑ پر دو لاؤڈ اسپیکر پرجوش نغمے اگل رہے تھے۔ آواز اتنی اونچی تھی کہ لوگوں کے کانوں کے پردے پھٹے جاتے تھے۔ جوش میں آکر نوجوانوں نے معزز مہمان کے موٹر اپنے ہاتھوں سے ہوا میں اٹھالی۔اسٹیشن سے ہم پنڈال پہنچے۔ ہمارا رہنما اسٹیج پر آیا۔ ابھی اس نے ’’میرے پیارے ساتھیو!‘‘ ہی کہا تھا کہ لوگوں نے ’’زندہ باد‘‘ کے نعروں سے آسمان سر پر اٹھالیا۔ نعروں اور تالیوں کے شور میں کسی کو اس کی تقریر کا ایک لفظ سمجھ نہ آیا۔ ذرا شور کم ہوتا تو رہنما کے یہ کلمات ’’میرے دوستو!‘‘ یا ’’میرے عزیز ہم وطنو!‘‘ سنائی دیتے اور پھر ساتھ ہی فلک شگاف نعروں اور تالیوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوجاتا۔ پنڈال میں کوئی چالیس پچاس چھوٹے بڑے ڈھول ہوں گے جن کی ڈمڈم سے کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔

اس روز شام کے قریب جب ہمارا پروگرام ختم ہوا، تو خبر آئی کہ دوسری جماعت کا رہنما بھی آپہنچا ہے۔ ہمارے حساب میں معمولی سی غلطی کی وجہ سے وہ کمبخت ذرا جلدی پہنچ گیا ورنہ اسے اگلی صبح پہنچنا چاہیے تھا۔ بہرحال ہم لوگ خوش تھے کہ ہمارا مقصد حل ہوچکا۔

آنے والا رہنما یہ سوچ کر یہاں چلا آیا کہ شاید اس کے اعزاز میں جلسہ ہو رہا ہے۔ جب وہ اسٹیج پر آیا تو قصبہ کا پانی بند ہوچکا تھا، بجلی کٹ چکی تھی اور کسی لاؤڈ اسپیکر میں ذرہ بھر جان باقی نہ تھی۔ بے چارہ لیڈر اسٹیج پر آکر بڑی دیر ’’عزیز ہم وطنو!‘‘ پیارے ساتھیو‘‘ چلا چلا کر تھک گیا مگر پنڈال میں دو چار افراد کے سوا کوئی ہم وطن ، بھائی یا دوست موجود نہ تھا کہ وہ اپنی تقریر شروع کرسکتا۔ سب لوگ پہلے ہی تھک ہار کر اپنے اپنے گھر کو لوٹ چکے تھے۔ آخر غریب نے محسوس کرلیا کہ خالی پنڈال سے خطاب کرنا بے سود ہے، چنانچہ کھسیانا ہوکر اسٹیج سے اتر کر رفو چکر ہوگیا۔

میں کامیابی کے نشے میں چورگھر جاکر بیٹھا ہی تھا کہ منظور صاحب نے بلا بھیجا۔ وہاں پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دوسری جماعت کا رہنما منہ لٹکائے ان کے پاس بیٹھا ہے۔ ہمارے اپنے رہنما کا کہیں نام و نشان نہ تھا۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ ماجرا کیا ہے اتنے میں منظور صاحب بولے ’’باقرآغا!، تم نے یہ کیا حرکت کی ہے؟‘‘

میں نے معصومیت اور لاعلمی کا اظہا رکرتے ہوئے پوچھا ’’کون سی حرکت منظور صاحب!‘‘

وہ بڑے غصے سے چلا کر بولے ’’باقر آغا، خدارا سمجھنے کی کوشش کرو۔ یہ صاحب ہماری جماعت کے رہنما ہیں جنہیں انقرہ والوں نے ہماری ہی درخواست پر یہاں تقریر کرنے بھیجا تھا۔‘‘

’’تو پھر وہ دوسرا آدمی کون تھا جسے ہم کندھوں پر اٹھائے پھرتے رہے۔‘‘

’’وہ عثمان تھا، مخالف جماعت کا رہنما۔‘‘

’’اُف! میرے خدایا ہم سے اتنی بڑی غلطی سرزد ہوگئی؟ آخر یہ سب کچھ ہوا کیسے منظور صاحب؟ کیا اس کی کارکو سڑک پر جابجا گڑھوں کے کنارے گھنٹوں انتظار نہیں کرنا پڑا۔‘‘

میرے ان سوالوں کا جواب ہماری جماعت کے اصلی رہنما نے دیا: ’’یہ سب کچھ ضرورہوا باقر آغا مگر لگتا ہے جیسے ان مکار شخص نے تمہارے سارے منصوبے کی بھنک پہلے ہی پالی تھی۔ بے شک تم نے اس کی ریل اور کار رکوانے کا پورا پورا بندوبست کر رکھا تھا مگر تمہیں یہ خیال نہ آیا کہ اس کمبخت کا گدھا رکوانے کا بھی کوئی انتظام کرلیتیـ۔ وہ بدمعاش ایک گدھے پر سوار ہوکر چھوٹی چھوٹی پگڈنڈیوں اور پہاڑی راستوں سے ہوتا ہوا مجھ سے پہلے یہاں پہنچنے میں کامیاب ہوگیا اور تمہارے سب منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے۔‘‘

یہ سن کر میں نے سر پیٹ لیا اور اپنے آپ کو بڑی لعن طعن کی کہ ترک باشندہ ہوتے ہوئے بھی یہاں کی قوی سواری یعنی گدھے کے بارے میں کیوں نہ سوچا۔ مجھے آج تک کسی گدھے کی حق تلفی کی اس سے بڑی سزا نہیں ملی۔ ہم لوگوں سے رخصت ہونے سے پہلے اس رہنما نے مجھ سے یہ آخری سوال کیا ’’باقر آغا! اور جو کچھ ہوا سو ہوا، کیا تمہیں اس مردود کی تقریر سے بھی پتا نہ چل سکا کہ وہ مخالف جماعت کا آدمی ہے؟‘‘

میںنے جواب دیا: ’’جناب عالی، سیاسی رہنماؤں کی تقریریں کس گدھے کی سمجھ میں آتی ہیں؟ ادھر لوگوں کے نعرے اور تالیاں، ادھر ڈھول اور شہنائیوں کا شور و غوغا، ساری دنیا ’’عوامی حکومت زندہ باد‘‘، ’’جمہوریت زندہ باد‘‘ کے نعرے لگانے میں مصروف تھی۔ تقریر بھلا کون سن رہا تھا؟ آپ پورے قصبے والوں سے قسم لے لیں اگر کسی کو ’’میرے دوستو، اور ’’میرے عزیز بھائیو‘‘ کے سوا ایک لفظ سمجھ میں آیا ہو۔‘‘

یہ داستان سنا کر باقر آغا مجھ سے یوں مخاطب ہوا ’’تو میرے صحافی بھائی! اصل قصہ یہ ہے کہ ہم غلطی سے مخالف جماعت کے رہنما کو ’’زندہ باد‘‘ کرتے رہے اور آپ اخبار والوں نے بغیر سوچے سمجھے بڑی بڑی سرخیاں چھاپ دیں کہ فلاں قصبے میں ایک جماعت کے سارے رکن مخالف جماعت میں شامل ہوگئے۔ یہ سب جھوٹ اور سراسر بہتان ہے، اللہ کا شکر ہے کہ ہم سب ابھی تک بدستور اپنی جماعت کے وفادار رُکن ہیں۔‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
عزیزنے سن؍ مسعود اختر شیخ

تبصرہ کیجیے