نفسیاتی عوارض اور ان کے اسباب

انسان ایک جذباتی مخلوق Emotional Creature ہے۔ جہاں صحت مند زندگی کے لئے اسے صحت مند جسم کی ضرورت ہے وہیں صحت مند جذبات کی بھی ضرورت ہے۔ جس طرح جسم کا کوئی عضو کسی نقص کا شکار ہوجائے یا جسم کے کیمیائی اجزا کا توازن بگڑ جائے تو انسان طرح طرح کے جسمانی عوارض کا شکار ہوجاتا ہے اسی طرح جذبات کے توازن کا خلل انسان کو نفسیاتی مسائل سے دوچار کرتاہے۔

جاڑے بخار کی طرح ہلکے پھلکے نفسیاتی مسائل ہر انسان کو پیش آتے ہیں اور جاڑے بخارہی کی طرح انسان کی اعصابی قوت خود ہی ان پر قابو پالیتی ہے۔ لیکن جس طرح جاڑے بخار پر توجہ نہ دی جائے تو کبھی وہ بڑھ کر سنگین امراض بھی پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں اسی طرح چھوٹے موٹے نفسیاتی مسائل پر بروقت توجہ نہ دی جائے تو وہ بڑھ کر سنگین مرض disorder بن جاتے ہیں۔ بعض اوقات ایسے امراض کا سبب کوئی حادثہ یا کوئی بڑا واقعہ بھی ہوتا ہے۔ بعض امراض موروثی یا جسمانی مسائل کی وجہ سے بھی پیدا ہوتے ہیں۔ ایسے امراض پر فوری توجہ دینا اور ماہر معالجین سے رجوع کرکے ان کا علاج کرانا ضروری ہوتا ہے۔

اب ہمارے ملک میں ہی نہیں دنیا بھر میں نفسیاتی امراض تیزی سے بڑھ رہے ہیں ۔ گذشتہ سال ورلڈہیلتھ آرگنائزیشنWHO نے اپنی رپورٹ میں یہ انکشاف کرکے چونکادیا کہ دنیا میں سب سے زیادہ ذہنی مریض ہندوستان میں ہیں۔ ملک میں تقریبا پندرہ کروڑ لوگ ایسے نفسیاتی عوارض کا شکار ہیں جن کے علاج کی ضرورت ہے۔ ہمارے ملک میں خودکشی کی شرح بڑھ کردس فی لاکھ ہوچکی ہے اور نو عمر طلبہ و طالبات کی خودکشی کی شرح کے اعتبار سے بھی ہمارا ملک دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ جہاں یہ اعداد و شمار پریشان کن ہیں وہیں اس سے زیادہ پریشان کن یہ حقیقت ہے کہ ان پریشان حال لوگوں کے دکھوں کا مداوا کرنے سے ہمارا سماج قاصر ہے۔ لوگوں کو نفسیاتی معالج سے رجوع کرنے میں شرم محسوس ہوتی ہے۔سماج میں رائج غلط فہمیوں کی وجہ سے نفسیاتی معالج سے رجوع کرنے والے کو لوگ نارمل آدمی نہیں سمجھتے۔ خاندان کے لوگ جو دوسری کسی چھوٹی سے چھوٹی بیماری کے لئے بھی اچھے سے اچھے ڈاکٹر سے رجوع کراتے ہیں، نفسیاتی مسائل میں ڈاکٹر یا ماہر نفسیات سے رجوع کرنے سے جھجکتے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ میں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ ہمارے ملک میں پندرہ کروڑ نفسیاتی مریضوں میں سے محض تین کروڑ مریضوں کو نفسیاتی ڈاکٹر یا ماہر نفسیات کی کی پیشہ وارانہ خدمات حاصل ہوپاتی ہیں۔ باقی اسی فیصد یعنی بارہ کروڑمریض، بغیر کسی علاج کے جذباتی جہنم میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ایک سو بیس کروڑ کی آبادی والے ملک میں نفسیاتی معالجین کی تعداد محض 3827 ہے(لوک سبھا میں وزیر صحت کی جانب سے دیئے گئے اعداد وشمار) ۔

آج کے مضمون میں ہم کچھ نفسیاتی امراض کا تعارف کرارہے ہیں۔ہمارے قریبی لوگوں میں سے کسی کے اندر اس طرح کی علامتیں نظر آئیں تو نفسیاتی معالج سے رجوع کرنے میں ہم نہ جھجکیں۔ اللہ تعالی نے مرض بھی پیدا کیا ہے اور اس کی شفا بھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مَا خلق اللہُ دَائً اِلّا و قد خلق لہ دوائاللہ تعالی نے کوئی ایسی بیماری پیدا نہیں فرمائی جس کی دوا نہ پیدا کی ہو۔ چنانچہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم بیماریوں کا علاج اور شفا تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ یہ بات جہاں جسمانی عوارض کے لئے درست ہے وہیں نفسیاتی عوارض کے لئے بھی درست ہے۔ نفسیاتی عارضہ بھی جسمانی عارضہ کی طرح ایک آزمائش ہے۔ اس میں نہ شرمانے کی ضرورت ہے اور نہ اسے چھپانے کی بلکہ بروقت توجہ دے کر اس کے علاج کی فکر کرنی چاہیے۔

۱۔ اعصابی نشونما سے متعلق عوارضNeurodevelopmental Disorders

یہ وہ عوارض ہیں جن کا تعلق زیادہ تر بچوں سے ہوتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالی رحم مادر میں اور پھر پیدائش کے بعد بلوغ تک بچوں کا جسم اور ان کے دماغ کی نشونما کرتا رہتا ہے۔ بعض بچوں میں منشائے الہی سے نشونما کا یہ عمل ناقص رہ جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے بچے پیدائشی نقائص کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ کبھی ان کے دل، یاکسی اور عضو رئیسہ میں خلل رہ جاتا ہے تو کبھی ہاتھ پائوں میں کوئی نقص رہ جاتا ہے۔ اسی طرح بعض بچوں کے دماغ یا اعصابی نظام میں کوئی نقص رہ جاتا ہے۔ بعض بچے پیدائش کے وقت تو صحت مند رہتے ہیں لیکن عمر کے ساتھ ان کے دماغ کی نشونما فطری رفتار سے نہیں ہوپاتی۔اس طرح کے نشونما سے متعلق نقائص کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے کچھ امراض ذیل میں درج کئے جارہے ہیں۔

i) عذر ذہنی Intellectual disability : یہ عارضہ اٹھارہ سال کی عمر تک کسی بھی مرحلہ میں درپیش ہوسکتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں بچہ کی ذہنی صلاحیت اپنے ہم عمر بچوں سے کافی کم رہ جاتی ہے۔ آئی کیو ٹسٹ کے ذریعہ ذہنی صلاحیت کا پتہ لگایا جاتا ہے۔ذہین بچوں کا آئی کیو بہت اچھا ہوتا ہے۔ کم ذہین بچوں کا کم ہوتا ہے ۔لیکن جب ایک خاص سطح سے کم ہوجاتا ہے تو اسے مرض مانا جاتا ہے۔ ایسے بچے معمول کی صحت مند زندگی بھی آزادانہ نہیں گذارسکتے اور روزمرہ کے عام معاملات میں بھی ان کا ذہن درست فیصلے کرنے اور معاملات کو سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے۔

ii) مواصلاتی عوارضCommunication Disorders:اس کے نتیجہ میں الفاظ ، زبان اور بات چیت کی صلاحیت پر اثر پڑتا ہے۔ زبان سے متعلق عوارض میں بچہ زبان کے صحیح استعمال سے معذور ہوتا ہے۔ عمر کی مناسبت سے الفاظ کے مناسب ذخیرہ پر قدرت سے محروم ہوتا ہے۔ صوتی عوارض میں وہ الفاظ کو صحیح طور پر سن کر پہچان نہیں پاتا۔ روانی سے متعلق عوارض میں اس کی زبان کی رفتار اور دماغ میں آنے والے الفاظ کی رفتار میں یکسانیت نہیں رہتی۔ وہ اٹک اٹک کر بولتا ہے یا اتنا تیز بولتا ہے کہ بات کسی کے سمجھ میں نہیں آتی۔

iii) اوٹزم :Autism یہ بچوں میں پایا جانے والا عام ذہنی عارضہ ہے جو ایک سال سے دو تین سال کی عمر میں محسوس کیا جاسکتا ہے اور بروقت نوٹس نہ لی جائے تو زندگی بھر کے لئے لاحق ہوسکتا ہے۔ اس مرض میں بچہ کی سماجی صلاحیت، بات چیت اور رویہ عام بچوں سے مختلف ہوتا ہے۔ اس مرض کے شکار بچے دوسرے بچوں کے ساتھ گھلنا ملنا اور کھیلنا پسند نہیں کرتے، بہت زیادہ تنہائی پسند ہوتے ہیں، آنکھ نہیں ملاتے اور اپنے اور دوسروں کے جذبات کو نہیں سمجھتے۔ اکثر بچے عمر کی مناسبت سے بولنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں۔ جب دیر سے بولنا شروع کرتے ہیں تو آواز روبوٹ کی طرح مشینی ہوتی ہے۔ کچھ کام شروع کرتے ہیں تو وہی کرتے رہتے ہیں۔ ہاتھ پاؤں مستقل ہلاتے رہتے ہیں۔ آواز، روشنی یا لمس کے معاملہ مین بہت زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ اس طرح کی علامتیں پائی جائیں تو یہ سیریس نفسیاتی عارضہ یعنی آوٹزم کی علامات ہوسکتی ہیں ۔ ان کا بروقت نوٹس لینا ضروری ہے۔

iv) اے ڈی ایچ ڈی:یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں مریض اپنے کام پر توجہ مرکوز نہیں کرسکتا حتیٰ کہ وہ کچھ وقت کے لیے ایک جگہ بیٹھ بھی نہیں سکتا۔ یا پھر غیر ضروری سرگرمی کرتا رہتا ہے۔ یہ بیماری بچوں میں زیادہ پائی جاتی ہے لیکن کبھی کبھی بڑے لوگوں میں بھی پائی جاتی ہے۔

۲۔ دو قطبیت Bipolar اور اس سے متعلق عوارض

یہ بیماری شدت جذبات کے چکروں cycling سے عبارت ہوتی ہے ۔ اس میں مریض کا موڈ اور اس کی توانائی کی سطح دو انتہائوں کے درمیان چکر لگاتی رہتی ہے۔ خبط Maniaکا دور چلتاہے تو مریض انتہائی سرگرم ہوجاتا ہے۔ اس کی خود اعتمادی اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ توانائی بھرپور ہوتی ہے ۔جس کی وجہ سے وہ حد سے زیادہ سرگرم Hyperہوجاتا ہے۔ بعض اوقات یہ حد سے زیادہ توانائی تخریبی یا نقصاندہ کاموں مثلا جرائم ، جوا، یا شاپنگ کا جنون جیسی علامتوں کی صورت میں بھی ظاہر ہونے لگتی ہے اور جب افسردگی کا دور آتا ہے تو مریض بالکل اداس depressedہوجاتا ہے۔ غم، احساس جرم، تھکان، بوریت، اور چرچڑے پن جیسے منفی احساسات اس کے اندر سے ساری زندگی نکال دیتے ہیں۔ کسی کام میں اس کی دلچسپی نہیں رہتی۔ نیند نہیں آتی اور خودکشی کے خیالات آنے لگتے ہیں۔مریض کئی کئی دن اپنی اسی حالت میں مبتلا رہتا ہے۔ اس طرح یہ دورے چند گھنٹوں سے لے کر کئی کئی دنوں تک جاری رہتے ہیں۔

۳۔ بے چینی Anxiety

حد سے زیادہ یا مستقل کسی بات کا خوف، پھر اس کی وجہ سے مستقل اندیشہ و تشویش اور بے چینی و اضطراب کی کیفیت بھی ایک مرض ہے۔ خوف دراصل کسی خطرہ کے جواب میں جذباتی رد عمل کا نام ہے۔ خطر ہ حقیقی بھی ہوسکتا ہے اور غلط مفروضہ بھی۔ یہ مرض مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ سماجی بے چینی Social Anxiety میں مبتلا شخص پورے سماج کے سلسلہ میں یہ خوف رکھتا ہے کہ سماج اس کا دشمن ہے۔ اس پر نظر رکھی جارہی ہے ، یا اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے اور کوئی اس کا ہمدرد نہیں ہے۔اس خوف کے نتیجہ میں سماجی تعلقات اس کے لئے مشکل ہوجاتے ہیں۔ بعض مخصوص خوف Phobiasلاحق ہوجاتے ہیں مثلا جھینگر یا چھپکلی کا خوف، اونچائی کا خوف، بارش یا بجلی کا خوف، پانی کا خوف، گاڑی چلانے سے خوف وغیرہ۔ بعض لوگوں کو اپنی کسی محبوب شخصیت سے جدا ہوجانے یا اسے کھودینے کا خوف Separation Anxiety لاحق ہوتا ہے۔ چنانچہ اس سے چند لمحوں کے لئے بھی دوری حد سے زیادہ بے چینی اور تشویش پیدا کردیتی ہے۔ وہ نظروں سے اوجھل ہوتو طرح طرح کے اندیشے لاحق ہونے لگتے ہیں۔بے چینی کا مرض بعض مریضوں میں وحشت کے دوروں Panic Attacksکا سبب بنتا ہے۔ کبھی اچانک اور بغیر کسی معلوم سبب کے ایسے دورے آجاتے ہیں اور پھر مریض ہمیشہ ایسے دورے کے خوف میں زندگی گذارنے لگتا ہے۔

۴۔ صدمہTrauma یا تنائو Stress

کسی حادثہ یا بڑے واقعہ کے بعد پیدا ہونے والا شدید تنائو بھی کبھی نفسیاتی عارضہ کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ایسا عارضہ عام طور پر کسی قدرتی آفت، جنگ، حادثہ یا کسی قریبی عزیز کی موت وغیرہ کے بعد لاحق ہوتا ہے۔ حادثہ کی یاد اچانک شدید تنائو یا وحشت کا دورہ پیدا کردے، یا آدمی مثبت جذبات کو محسوس کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھے، یا بار بار اس کی آنکھوں کے سامنے اس واقعہ کا منظر ایسے گھومنے لگے گویا وہ واقعہ پھر پیش آرہا ہے اور ان کیفیتوں سے واقعہ کے کئی کئی دن بعد بھی نجات نہ ملے تو یہ مرض کی علامات ہوسکتی ہیں۔ اس طرح کا عارضہ نئی صورت حال کے ساتھ ایڈجسٹ ہوتے ہوئے بھی پیش آسکتا ہے۔اسے ایڈجسٹمنٹ ڈس آرڈر کہتے ہیں۔ طلاق، نئی جاب، نئے شہر میں رہائش، بچوں میں نیا اسکول وغیرہ جیسی صورت حال اس طرح کا مسئلہ پیدا کرسکتی ہے۔

۵۔لاتعلقی سے متعلق عوارض Dissociative Disorder

ان عوارض میں آدمی اپنے شعور کے بعض حصوں (مثلاً یادداشت یا پہچان) سے لاتعلق ہوجاتا ہے۔ نسیان Amnesiaکے مرض میں کسی نفسیاتی صدمہ کے بعدآدمی یادداشت کے کچھ حصہ سے لاتعلق Dissociate ہوجاتا ہے،یعنی یادداشت کے اس حصہ سے اس کا تعلق باقی نہیں رہتا اور وہ اسے استعمال نہیں کرپاتا۔ بھولنے کا یہ عمل، عام بھول چوک سے مختلف اور بہت زیادہ شدید ہوتا ہے۔ آدمی اپنی زندگی کے کچھ حصہ کو مکمل طور پر فراموش کرجاتا ہے۔مثلا یہ حصہ اگر کسی خاص زمانہ سے متعلق ہو تو اس زمانہ کا کوئی واقعہ اسے یاد نہیں رہتا۔ اُس زمانہ میں جن لوگوں سے تعلق قائم ہوا ہے ان کے نام اور چہرے یاد نہیں رہتے۔ پہچان سے متعلق لاتعلقی کے عارضہDissciative Identity Disorder میں آدمی کے اندر بیک وقت دو شخصیتیں یا شناختیں آجاتی ہیں۔ وہ کسی اور شخصیت کا چولہ پہن لیتا ہے اور اُس کی زبان، اس کے تجربات ، اس کی یادداشت اور اسکے ماحول کے حوالہ سے رہنے اور بات کرنے لگتا ہے۔سزوفرینیا schizophreniaنامی مرض میں مریض کو کچھ انجان آوازیں سنائی دیتی ہیں یا اس کی اپنی شخصیت کے کئی روپ رہتے ہیںیا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس بیماری میں مبتلا شخص حقیقت کو قبول نہیں کرتا اور اس کے ساتھ کچھ غیرضروری فرضی یاغیر متعلق واقعات وابستہ ہوجاتے ہیں۔ اس نفسیاتی عارضہ میں مبتلا شخص کچھ ایسے حادثات بیان کرتا ہے جس پر ایک عام آدمی یقین نہیں کرتا مثلاً وہ ذکر کرتا ہے کہ اس کے گھر میں قتل ہوا ہے وہاں جاکر دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں ہے۔ اخبار میں پڑھا ہوا یا فلم میں دیکھا ہوا کوئی واقعہ اسے اپنا واقعہ لگتا ہے۔

۶۔ خوراک سے متعلق عوارض Eating Disorders

ان دنوں ، خوراک سے متعلق عوارض بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ بعض لوگ (خصوصاً نوجوان لڑکیاں اور خواتین ) اپنے وزن اور جسمانی ساخت کو لے کر بہت زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ اس حساسیتAnorexia Nervosa کی وجہ سے وہ کھانا پینا چھوڑ دیتے ہیں اور بالآخر اس نفسیاتی کیفیت کا شکار ہوجاتے ہیں کہ کھانے سے ان کو بیزارگی اور گھن ہوجاتی ہے۔اس کے نتیجہ میں وہ عدم تغذیہ malnutritionکا شکار ہوجاتے ہیں۔اس کی انتہائی شکل میں مریض کھانا بالکل چھوڑ دیتا ہے۔ اسے زبردستی کھانا کھلانا پڑتا ہے۔ بعض مریض سلاد کا ایک آدھ ٹکڑا کھالیتے ہیں ۔اس کے بالمقابل بعض نفسیاتی عوارض میں آدمی کو پیٹ بھرنے کا احساس نہیں رہتا۔پسندیدہ کھانے مل جائیں تو وہ بسیار خوری Binge-Eatingکے نتیجہ میں بیمارہوجاتے ہیں۔بعض امراض میں مثلاً Bulimia Nervosaمیں مریض بسیار خوری کے بعد قئے کرکے یا دوائوں کے ذریعہ کھائی ہوئی غذا نکالتے ہیں۔پکاPica نامی مرض میں مریض کو ایسی اشیاء کھانے کی شدید خواہش ہوتی ہے جو عام طور پر کھائی نہیں جاتیں اور اکثر نقصاندہ ہوتی ہیں۔ (مثلاً مٹی، چاک پیس،پینٹ، صابن وغیرہ)

۷۔نیند سے متعلق عوارض

Sleep Disorders

نیند سے متعلق عوارض میں سب سے زیادہ عام بے خوابی کا مرض ہے۔ یوں تو صحت مند لوگوں کی بھی کبھی تنائو کی حالت میں یا کسی اور وجہ سے نیند اچاٹ ہوجاتی ہے لیکن اگر یہ کیفیت بہت کثرت سے درپیش ہونے لگے اور شدید تنائو کے ساتھ کئی کئی گھنٹوں تک نیند اچاٹ ہوجائے اور اس کے نتیجہ میں نیند ناکافی ہو اورروز مرہ کے کاموں میں خلل ہونے لگے تو یہ ایک نفسیاتی عارضہ ہے اور اس کا بروقت علاج ضروری ہے۔ بے خوابی مرض بھی ہے اور دیگر بہت سارے نفسیاتی اور جسمانی امراض کاسبب بھی۔اس لئے یہ ضروری ہے کہ اس مرض کا فوری نوٹس لیا جائے اور بروقت اس کا علا ج کرایا جائے۔

اس کے مقابلہ میں دوسری انتہا افراط نیند hypersmniaہے جس میںآدمی بیٹھے بیٹھے اور کام کرتے کرتے کہیں بھی سوجاتا ہے۔ یا رات میں سوجاتا ہے تو صبح بہت دیر تک سوتا رہتا ہے اور جب جاگتا ہے تب بھی فریش نہیں رہتا۔بظاہر آٹھ دس گھنٹوں کی نیند مکمل کرنے کے بعد بھی اس کی آنکھوں میں خماراور عضلات میں تھکن باقی رہتی ہے۔

بعض امراض میں لوگ نیند میں خلاف معمول حرکتیں کرنے لگتے ہیں۔مثلاً نیند کی حالت میں اٹھ کر چلنے لگنا اور کہیں بھی نکل جانا Sleepwalking جو کبھی کبھی بہت خطرناک ہوسکتا ہے۔ ایسے لوگ دوسری تیسری منزل سے چلتے ہوئے زمین پر آگرتے ہیں، سڑک پر نکل کر گاڑیوں سے ٹکراجاتے ہیں، سفر کرتے ہوئے چلتی ہوئی ٹرین سے باہر نکل آتے ہیں۔یا نیند میں باتیں کرنے لگناSleep Talking یا نیند میں شدید خوف یا دہشت محسوس کرکے چیختے چلاتے ہوئے اٹھ بیٹھنا Sleep Terrorیا نیند کی حالت میں کھانے پینے لگنا Sleep Eating، یہ سب بھی نیند کی بیماریاں ہین جن کے علاج کے لئے ماہر نفسیات سے رجوع ضروری ہے۔

۸۔ لت یا نشہ Addiction

کسی چیز کی لت یا نشہ ایک سیریس نفسیاتی عارضہ ہے۔ اس کے نتیجہ میں آدمی کے دماغ کی اندرونی ساخت میںمضر تبدیلیاں واقع ہوجاتی ہیں اور مریض معمول کی صحت مند زندگی گذار نہیں پاتا۔لت سے متعلق امراض میں سب سے زیادہ عام تو شراب کا نشہ ہے۔ اس وقت خصوصا نوجوان طرح طرح کی اشیا ء کے غلط استعمال Substance Abuseکی لت کے بھی شکار ہورہے ہیں۔ منشیات narcoticsکی مختلف اقسام کے علاوہ ، تمباکو اور اس کے مختلف پروڈکٹ بعض دوائیں، بعض استعمال کی اشیاء کا غلط استعمال بھی لت کی شکل اختیار کرجاتا ہے۔ الیکڑانک کمیونکیشن کے آلات (کمپیوٹر، ٹیب،موبائیل، گیمس وغیرہ )کابہت زیادہ استعمال Gadgets Addiction بھی لت بن سکتا ہے اور پورنو گرافی میں تو لت بن جانے کی اچھی خاصی صلاحیت موجود ہے۔بعض نامناسب جنسی رویئے بھی لت بن جاتے ہیں۔

عام طور پر اس قسم کی غلط عادتوں کولوگ نفسیاتی عارضہ نہیں سمجھتے۔ اسے محض ایک اخلاقی خرابی سمجھتے ہیں اور دیگر اخلاقی خرابیوں کی طرح ان کو بھی محض تادیب و نصیحت کے ذریعہ دور کرنا چاہتے ہیں۔ اس قسم کی غلط عادتوں کی شروعات اخلاقی بگاڑ ہی سے ہوتی ہے اس لئے ابتدا ہی میں تادیب و تربیت کے ذریعہ ان کی روک تھام کی جانی چاہیے۔ لیکن اگر یہ پختہ ہوکر لت بن جائیں تو پھر پند و نصائح کافی نہیں ہوتے، نفسیاتی علاج ضروری ہوجاتا ہے۔

۹۔ اعصابی ادراکی عوارض

Neurocognitive Disorders

اگر کوئی صحت مند بالغ فرد اچانک شدید کنفیوژن محسوس کرنے لگے، اس کے فہم و ادراک کی صلاحیت متاثر ہوجائے،بعض عام باتیں سمجھ میں نہ آئیں، راستے سمجھ میں نہ آئیں، جانے پہچانے لوگوں کو بھی پہچاننا مشکل ہوجائے، بات کرنے کے لئے الفاظ نہ ملنے لگیں تو یہ بھی سیریس نفسیاتی عارضہ کی علامت ہوسکتی ہے۔ یہ الزائمیر اور پارکنسن جیسی بیماریوں کی علامت ہوسکتی ہے۔کسی سیریس انفیکشن کی علامت ہوسکتی ہے یا کسی اور بیماری کی بھی علامت ہوسکتی ہے۔

۱۰۔ شخصیت سے متعلق عوارض

Personality Disorders

یہ وہ عوارض ہیں جن میں مریض بظاہر کسی بیماری یا پریشانی میں مبتلا نہیں ہوتا لیکن اس کی شخصیت میں کچھ ایسا سیریس نقص رہ جاتا ہے جس کی وجہ سے معمول کی زندگی اس کے لئے مشکل ہوجاتی ہے یا اس کا رویہ اس کے ساتھ رہنے والوں کے لئے پریشان کن بن جاتا ہے۔ سماج دشمنی Antisocial Personality Disorderلوگوں کو مجرمانہ سرگرمیوں کی طرف مائل کرتی ہے۔ ایسا آدمی نہ تو دوسروں کے جذبات سمجھ سکتا ہے اور نہ اپنی کسی غلطی پر اسے کبھی کوئی پشیمانی ہوتی ہے۔

بعض امراض ((Borderline Personality Disorderمیں آدمی کے جذبات اور دوسرے انسانوں سے تعلقات غیر مستحکم unstableہوجاتے ہیں۔نہ محبت میں استقلال رہتا ہے نہ نفرت میں۔ بعض امراض (Dependence Disorder)میں لوگ کسی دوسرے فرد یا افراد پر حد سے زیادہ منحصر ہوجاتے ہیں۔حد سے زیادہ مایوسی، حد سے زیادہ منفی خیالات ورجحانات، بے اعتمادی وغیرہ جیسے رجحانات بھی نفسیاتی امراض ہیں۔ عام صحت مند لوگوں میں بھی یہ خصوصیات پائی جاسکتی ہیں لیکن جب یہ خصوصیات ایک خاص حد سے بڑھ جاتی ہیں اور اس کے نتیجہ میں یا تو مریض کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے اور وہ معمول کی زندگی گذارنے کے لائق نہیں رہتا یا اس کے ساتھ رہنے والون کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے تو اسے مرض سمجھا جاتا ہے۔ اور ایسی صورت میں ماہر نفسیات سے رجوع ضروری ہوجاتا ہے۔

نفسیاتی عوارض کی وجوہات

نفسیاتی بیماری کی کوئی ایک وجہ نہیں ہوتی بلکہ کئی حیاتیاتی، جسمانی (Biology)نفسیاتی اور ماحولیاتی اسباب ہوتے ہیں۔ ہر نفسیاتی بیماری کے اسباب الگ ہوتے ہیں۔ حیاتیاتی اسباب میں سب سے اہم جینیاتی اسباب ہیں۔ یعنی بعض نفسیاتی امراض جین کے ذریعہ موروثی طور پر بھی منتقل ہوتے ہیں۔کسی کے خاندان میں اگر کوئی نفسیاتی طور پر بیمار ہو تو اس شخص کو بھی یہ بیماری لاحق ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ بعض مرض پھیلانے والے جرثومے Pathogens بھی نفسیاتی امراض کا سبب بنتے ہیں۔ جسم کوخصوصاً سر کو لگنے والی مار بھی بعض امراض پیدا کرسکتی ہے۔ دوران حمل پیش آنے والے مسائل آئندہ جینین کے لئے دیگر امراض کی طرح نفسیاتی امراض کا بھی سبب بنتے ہیں۔ الکوہل، منشیات اور بعض دوائوں اور دیگر کیمیائی اشیا کا غلط یا زیادہ استعمال بھی ایسے مسائل پیدا کرسکتا ہے۔ ماحولیاتی مسائل میں کبھی کبھار غیر متوازن غذا کی وجہ سے یا ایسے ماحول میں رہنے سے جس میں منفی رجحانات زیادہ پائے جاتے ہوں، اس قسم کی بیماری لاحق ہوتی ہے۔بعض زہریلی اشیا کا کھانے پینے میں شامل ہوجانا، صدمات، حادثات ، ناکامیاں، غربت، جنگ ، تنازعات، تنائو سے پر زندگی، وغیرہ جیسے امور بھی نفسیاتی مسائل کا سبب بنتے ہیں۔

این ایل پی کے ماہرین کے نزدیک ان نفسیاتی مسائل کا اصل سبب ہمارا لاشعور ہوتا ہے۔ ہمارے زندگی کے واقعات و حادثات ہمارے لاشعور میں نقش ہوتے جاتے ہیں۔ ا ن کے نتیجہ میںدنیا اور دنیا کے احوال کو دیکھنے کا ہمارا اپنا زاویہ تشکیل پاتا ہے۔ لاشعور میں نقش بعض تصاویر ہمارے لئے مسائل پیدا کرتی رہتی ہیں۔ یہی اکثر نفسیاتی مسائل کی جڑ ہے۔ ہم نے زندگی میں کوئی حادثہ دیکھا ہے تو چند دنوں بعد ہم اسے بھول جاتے ہیں۔ شعوری طور پر نہ وہ حادثہ یاد رہتا ہے اور نہ اس کی تفصیلات ۔ لیکن لاشعور میں نقش اس کی تصویر ہم کو نفسیاتی الجھنوں اور امراض میں گرفتار کرسکتی ہے۔ این ایل پی تکنیکوں کے ذریعہ لاشعور کی دوبارہ پروگرامنگ کی جاتی ہے۔ اور ایسی ،مسائل پیدا کرنے والی تصویروں اور یادوںسے لاشعور کو صاف کیا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں مرض سے آدمی کو نجات ملتی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر نازنین سعادت