بے ہاتھوں والا پتھر باز

طولکرم فلسطین کا ایک پُرامن قصبہ ہے۔ اسی قصبے کے چوک میں جہاں خاموشی کا ڈیرہ تھا، دفعتاً ایک بکتر بند گاڑی آکر رکی۔ اس میں سے کئی اسرائیلی فوجی سروں پر خود پہنے تیزی سے نیچے اترے اور چاروں سڑکوں پر اپنی اپنی رائفلیں تان کر کھڑے ہوگئے۔

انھوں نے اپنی پوزیشنیں سنبھالی ہی تھیں کہ اچانک ان پر پتھروں کی بارش شروع ہوگئی۔ مخالف سمت سے چھوٹے چھوٹے معصوم لڑکے ان پر پتھر برسا رہے تھے۔ یہ غیر متوقع حملہ ان فرعون صفت اسرائیلیوں کو مشتعل کرنے کا بہانہ بن گیا، آناً فاناً ان بہادر سورماؤں کی رائفلوں کے دہانے اسی سمت آگ اگلنے لگے۔ ان کی آتشیں گولیوںنے معصوم بچوں اور کمزور عورتوں کے سینے چھلنی کردیے۔ اندھا دھند فائرنگ سے ہر طرف آگ کے شعلے بھڑک اٹھے اور ہر مکان سے بچوں اور عورتوں کی دردناک چیخیں بلندہونے لگیں۔

بچوں اور عورتوں کے اس مقتل میں سے زخموں سے چور ایک بچہ اپنی ماں کو ڈھونڈتا ہوا ادھر آنکلا۔ اسرائیلی دستوں کا کمانڈر اسے دیکھ کر بڑی فرعونیت سے اس کی طرف بڑھا اورطنز آمیز لہجے میں اس سے مخاطب ہوا:

’’تمہارا کیا خیال ہے کہ تمہارے یہ پتھر ہماری شعلے اگلتی بندوقوں اور کلاشنکوفوں کو خاموش کردیں گے؟‘‘

’’کیوں نہیں؟ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ حضرت داؤدؑ نے جالوت کو پتھر ہی سے ہلاک کیا تھا؟‘‘ بچے نے فوراً پلٹ کر جواب دیا۔

کمانڈر طنز سے بولا: ’’وہ تو نبی تھے۔‘‘

’’لیکن نبی ہونے سے پہلے وہ ایک لڑکا تھے۔‘‘ بچے نے اپنی اکھڑتی سانس درست کرتے ہوئے کہا۔ پھر پتھر انھوں نے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے مارا تھا۔‘‘

ظالم اسرائیلی سے جب کوئی جواب نہ بن پڑا، تو اس نے دلیر بچے کے منہ پر زور دار طمانچہ رسید کیا اور اپنے دستے کو حکم دیا : ’’سامنے والے گھر کا دروازہ توڑو اور اس نقاب پوش آدمی کو پکڑ کر لاؤ جو پیلی چادر میں ملفوف ابھی ایک لمحہ پہلے داخل ہوا ہے۔ مجھے لگتا ہے وہی ان کا سرغنہ ہے،’ اسی کی سرکردگی میں بچوں نے ہم پر پتھروں کی بارش کی ہے۔ اسے اس جرأت کا مزہ چکھا دو۔‘‘

یہ سن کر وہ بچہ چلایا:’’نہیں نہیں کمانڈر! اس گھر میں میری ماں کے سوا کوئی نہیں۔ اسے قتل نہ کرو، اس کے بجائے مجھے قتل کردو۔‘‘ یہ کہہ کر بچہ رونے اور گڑگڑانے لگا اور سنگ دل کمانڈر سے التجائیں کرنے لگا کہ اس کی ماں کو چھوڑ دیا جائے۔

جب اسے محسوس ہوا کہ اس کی آہ وزاری ان سنگ دلوں پر کوئی اثر نہیں کررہی ہے اور وہ ظالم گھر کی طرف بڑھتے جارہے ہیں، تو دوڑ کر دروازے میں ان کا راستہ روک کر کھڑا ہوگیا۔ اسرائیلی دستے کے ایک بے رحم فوجی نے اپنی بندوق کی آخری گولی بچے کے سر میں داغ کر خون میں نہلا دیا۔ معصوم وہیں ڈھیر ہوگیا۔ اب پورا دستہ گھر میں داخل ہوا۔ آگے آگے کمانڈر تھا۔وہ جونہی آگے بڑھا صحن کے عین درمیان اسے نقاب پوش کھڑا نظر آیا۔

کمانڈر نے اسے دیکھتے ہی اس پر گولی چلادی اور وہ بھی وہیں شہید ہوگیا۔ اس نے پھر ایک سپاہی کو حکم دیا کہ مردے کے چہرے سے نقاب ہٹائے۔

ایک فوجی نقاب پوش کی طرف بڑھا اور اس کے چہرے سے نقاب الٹ دی۔ پھر گھبرا کر پیچھے ہٹا اور مرتعش لہجے میں گویا ہوا ’’یہ تو عورت ہے!‘‘

یہ سن کر کمانڈر کچھ دیر سوچ میں پڑ گیا پھر فوراً بولا:  ’’عورت ہے یا مرد، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس کی چادر ہٹا کر دیکھو کہ اس کے ہاتھوں میں کیا ہے؟‘‘

فوجی نے فوراً حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس کے کندھوں سے چادر اتار دی پھر یک دم دہشت زدہ ہوکر پیچھے ہٹا اور کانپتی ہوئی آواز میں کہا: ’’اُف خدایا! اس کے تو ….‘‘ جملہ اس کے حلق میں پھنس گیا۔

کمانڈر نے غصے سے پوچھا: ’’آگے تو بولو اس کےہاتھ میں کیا ہے؟‘‘

’’اس کے تو دونوں بازوں ہی نہیں۔‘‘ اس نے جواب دیا۔(ماخوذ)

شیئر کیجیے
Default image
عربی سے ترجمہ: محمود درویش