اپاہج

میرے بابا میری دادی کی اکلوتی اولاد تھے۔ دادی کہتی تھیں کہ میری ماں جب بیاہ کر ان کے گھر آئیں تب ابا کی عمر بہ مشکل بیس برس رہی ہوگی۔ اولاد کی خواہش میں بابا کی شادی دادی نے کم عمری میں ہی کرا دی تھی۔ گھر کا چھوٹا سا آنگن وسعت میں اب کشادہ معلوم پڑتا تھا۔ گھر میں خوب چہل پہل تھی۔ مسرت و شادمانی نے در و بام کوروشن کر دیا تھا۔ بابا رحیم بخش میری اماں صفیہ کو بہت مانتے تھے۔

وقت تیزی سے برف کی مانند پگھلتا چلا گیا پانچ سال یوں ہی دیکھتے دیکھتے گزر گئے اور بابا کے گھر کوئی اولاد نہ ہوئی۔ خوشیاں دھیرے دھیرے غموںمیں بدلنے لگیں۔ ابا اور اماں کے بیچ اب پہلے جیسا وہ دائمی پیار اور لافانی محبت باقی نہ رہی تھی. بات بات پر غصہ کرنا اور معمولی سی بات پر آپس میں الجھ پڑنا دونوں کامعمول بن گیا۔ میری ماں اپنے ہی گھر میں اب ایک بندھوا نوکرانی بن گئی۔کئی ڈاکٹرس، حکیم اور وید کو دکھانے کے بعد پورا گھر تھک ہار کر مایوس ہو چکا تھا۔ کوئی مزار، پیر، فقیر اور ولی کا در ایسا نہ تھا جہاں دادی نے اماں ابا کی حاضری نہ لگوائی ہو اور منت نہ مانی ہو۔ کوئی درگاہ، خانقاہ، چوکھٹ و آستانہ ایسا نہ بچا تھا جہاں دادی نے پوتے کی خاطر حاضری نہ دی ہو اور مرادیں نہ مانگی ہوں۔ ہر قسم کی جڑی بوٹیوں کے استعمال اور ٹونے ٹوٹکے، گنڈے تعویز اور عامل سے رابطہ کے بعد آخرکار نا امیدہو کر دادی نے ہار مان لی تھی۔ گھر کا وہی آنگن اب اپنی کشادگی کے باوجود پھر سے تنگ و تاریک ہو گیا تھا۔ دن میں سورج کی کرنیں جسموں میں حلول کر کے تپش پیدا کرتی تھیں تو شام ہوتے ہی اندھیرے کاٹنے کو دوڑتے تھے اور رات ڈراؤنی معلوم ہوتی تھی۔ تبھی خدا کے فضل نے اچانک رحم مادر میں میرا وجود بخشا۔

اماں پھر سے سب کی چہیتی ہو گئیں ۔ اب اماں کے کھانے پینے، سونے جاگنے، اٹھنے اور بیٹھنے کا خیال دادی کا اولین ترجیح تھا۔ ماں کے تئیں بابا کا سخت گیر رویہ اب بالکل بدل چکا تھا۔ ان کی خوشی کا کیا کہنا کہ اب ان کے قدم مسرت سے لبریز ہو کر زمین پر نہ پڑتے تھے۔

نو ماہ بعد ایک رات میری پیدائش ہوئی۔ تائی کامنی نے نوزائیدہ بچے کو ماں کی گود میں رکھتے ہوئے منھ بنا کر مبارک باد پیش کی۔ ’’بیٹا پیدا ہوا ہے۔‘‘ کہتی ہوئی تائی کے چہرے پر افسردگی دیکھ کر بھی ماں کچھ سمجھ نہ پائی لیکن انھیں ایک لمحے کو تشویش ضرور لاحق ہوئی۔ انھوں نے پہلے بچے پر ایک نظر ڈالی اور من ہی من میں خوش ہو کر کہنے لگیں:’’ کتنا خوبصورت اور گول مٹول ہے، ایک دم گورا چٹا بالکل اپنے باپ پر گیا ہے۔‘‘ پھر ماں نے ڈرتے ہوئے تائی سے پوچھا سب کچھ ٹھیک تو ہے نا تائی؟ ہاں، سب ٹھیک ہی ہے، بچے کے دونوں پیر مڑے ہوئے ہیں تھوڑا بڑا ہونے پر علاج کروانا ہوگا، شاید آپریشن کرنے کے بعد ٹھیک ہو جائیں۔

میرے بابا کو جب پتہ چلا کہ ان کا بچہ اپاہج پیدا ہوا ہے تب انھوں نے سر کو دروازے پر زور زور سے مارتے ہوئے خدا کو برا بھلا کہا اور دونوں ہاتھوں سے سر پیٹتے ہوئے لکڑی کی ایک ٹوٹی کرسی پر دونوں پیر اوپر اٹھائے اکڑوں بیٹھ گئے اور تقدیر کو کوسنے لگے۔

’’اے اللہ کس بات کا بدلہ تو نے مجھ سے لیا اور مجھے یہ کیسی سزا دی ہے؟ اس سے تو بہتر تھا کہ تو مجھے ایک بیٹی ہی دے دیتا؟ میں سماج کو کیا منھ دکھاوں گا؟‘‘

یہ کہتے کہتے وہ زاروقطار رونے لگے اور غم سے نڈھال ہو کر پاس ہی پڑی ایک چارپائی پر دراز ہو گئے۔

میری دادی دنیا دیکھی ہوئی ذی شعور اور عقلمند عورت تھیں۔ ایک شکستہ دل لیے ہوئے بھی مایوسی و نا امیدی کو انھوں نے اپنے آس پاس نہ بھٹکنے دیا۔ اپنے بیٹے کو تسلی دیتے ہوئے کہنے لگیں :’’خدا کا شکر ادا کر اس کے ہر حکم میں کوئی نہ کوئی مصلحت ضرور چھپی ہوتی ہے اور کہیں نہ کہیں کوئی خیر کا پہلو ضرور نمایاں ہوتا ہے۔‘‘پھر انھوں نے فوراً ہی میرے علاج کا عندیہ دیا اور کھیت بیچ کر علاج کرنے کا فیصلہ اسی وقت آن کی آن میں سنا ڈالا۔

میرے بابا رحیم بخش جو خالص کسان تھے اور پڑھائی لکھائی سے جن کا دور دور تک کوئی واسطہ نہ تھا، ان کے گھر میری پیدائش نحوست اور بد شگونی سے پر ثابت ہوئی۔ کمرے کی فضا میری ولادت سے مکدر ہو گئی تھی۔ ان کے گھر کی ساری رونق کو میرے وجود نے درہم برہم کر دی تھی۔ میں رحم مادر میں ایک بوجھ تھا۔ جب میرا اس دنیا میں ظہور ہوا تب تائی نے میرے گال پر تھپکیاں لگا کر اور میرے منھ میں انگلی ڈال کر مجھے رلانے کی کوشش کی، میری پہلی چیخ نے میرے ماں باپ کی خوشیوں کو یک لخت ہی نگل لیا اور میرے منحوس وجود نے میرے گھر کی نارسائی و نامرادی کا احاطہ کر لیا۔ میری ماں میرے درد زہ کی سخت تکلیف اٹھانے کے باوجود بھی کسی کے مبارکباد کی مستحق نہ ٹھہری، لیکن دادی کہتی تھیں کہ وہ مجھے دیکھ کر کافی مطمئن اور پر سکون تھیں۔

میں جیسے جیسے بڑا ہوتا گیا میرے دونوں پیر پیچھے کی جانب اور زیادہ مڑ گئے۔ میں بول نہیں پاتا تھا۔ میں دوسرے بچوں کو بات کرتے ہوئے حسرت سے دیکھتا اور ہکلاتا ہوا الفاظ جوڑنے کی کوشش کرتا لیکن ناکامی و نامرادی ہی میری تقدیر تھی پھر آنسوؤں کا سیلاب میری آنکھوں سے رواں ہو جاتا۔ دوسرے بچے نفرت و حقارت سے مجھے دیکھتے اور مجھ پر ہنستے۔ بدگمانی و بدظنی میری گھٹی میں پڑ کر میرے ساتھ جوان ہو رہی تھی۔

دو سال کے بعد میرے گھر والوں کو پہلی بار پتہ چلا کہ میں اپاہج کے ساتھ ساتھ توتلا بھی ہوں۔ایک دن میرے والدین مجھے شہر لے گئے ڈاکٹروں نے میرے پیر کا معائنہ کرنے کے بعد آپریشن کے تعلق سے میری کامیابی کی ضمانت لینے سے صاف صاف انکار کر دیا۔ میری دادی اس جانکاہ غم اور جاں فرسا صدمہ کی تاب نہ لاکر وقت سے پہلے ہی اس دنیا سے چل بسیں۔ گھر والوں نے مجھے پوری طرح سے اپاہج مان لیا۔ میرے توتلے پن کا علاج تو ممکن تھا لیکن میرے باپ نے غصہ میں تیور بدل کر سخت و سست کہتے ہوئے کہا ایک اپاہج کا گونگا رہنا ہی بہتر ہے۔ زندہ بھی رہا تو بول کر کیا کرے گا؟

سب نے حد درجہ مایوسی و ناامیدی میں میرے علاج سے ہاتھ کھینچ لیا۔ اس میں ان کی غربت کا بھی کہیں نہ کہیں دخل ضرور تھا کیونکہ میرے باپ کے پاس اتنا پیسہ نہ تھا کہ وہ لاکھوں لگا کر کسی بڑے شہر میں میرا علاج کراتا۔ میں اپنی ماں کی توجہ اور باپ کے پیار سے دن بہ دن محروم ہوتا گیا۔ میں ابا کی گھر میں آمد سے ڈر اور سہم کر کسی کونے میں دبک جاتا اور دیر تک وہیں گم سم پڑا رہتا۔

میں ابھی صحیح سے چلنا بھی سیکھ نہ پایا تھا کہ میری جگہ میری چھوٹی بہن نے لے لی۔ میں اب اپنے ہی گھر اور آنگن میں اور اپنی ہی زمین پر بوجھ بن گیا تھا۔ میرے لیے ماں کی تھوڑی بہت دیکھ ریکھ کے علاوہ سب اجنبی تھے۔میں اب رینگنے کی بجائے دیوار پکڑ کر چلنا سیکھ رہا تھا لیکن میرے چلنے اور گرنے میں دوسرے بچوں کی طرح میرے ماں باپ کے دل میں میرے لیے پیار کا کوئی غلغلہ اور محبت کا کوئی شائبہ باقی نہ بچا تھا، بلکہ میری اس ہلچل کے اندر ایک کرب اور ایک تکلیف پوشیدہ تھی۔ میں جس چیز پر اپنا حق جتاتا اسے فوراً ہی چھین کر میری بہن کو دے دیا جاتا۔ میں دھیرے دھیرے بہت زیادہ چڑچڑا اور ضدی ہو گیا۔ میرے اس درد کو کون سمجھتا؟ سب مجھ سے لاتعلق ہو گئے تھے۔ میری تکلیف کون سنتا سب نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس رکھی تھیں۔ بھوک و پیاس کی خاطر رونے پر اسے میری ضد تصور کیا جانے لگا۔ میرے رونے، چلانے، تڑپنے، ایڑیاں رگڑنے اور بال نوچنے پر دودھ کی گندی سی بوتل میرے منھ میں ٹھونس دی جاتی جسے پینا یا گرانا میری ذمہ داری تھی۔ میں دودھ پی کر بھی تسکین سے محروم رہتا۔ میری محرومی قابل دید تھی۔

میرے حصے کے میری ماں کے دودھ پر اب میری بہن کا قبضہ تھا۔ میں اپنے ماں باپ کا نہایت ہی بدنصیب اور ابھاگا بچہ تھا۔ دھیرے دھیرے میرا ہنسنا اور مسکرانا بھی سب پر ناگوار گزرنے لگا۔ گو کہ میں بہت چھوٹا تھا لیکن ان سب کا ایسا روکھا و ترش رویہ میرے وجود کو اندر ہی اندر کھا رہا تھا۔ اس میں میری غلطی کا ذرہ برابر کوئی دخل نہ تھا۔

میری عمر اب چار سال سے زائد ہو چکی تھی۔ میں قدرت کا ایک شاہکار تھا جیسے اور شاہکار ہوا کرتے ہیں، فرق صرف اتنا تھا کہ میں دوسرے بچوں کی طرح اپنے پیروں پر چلنے والا اور بولنے والا بچہ نہ رہا تھا۔ میرا اٹھنا، بیٹھنا، سونا، جاگنا، نہانا اور رفع حاجت اب سب کے لیے بوجھ بن چکا تھا۔ چنانچہ ایک دن بابا کی مرضی سے، جس میں میری ماں کی رضا شامل نہ تھی، یہ طے پایا کہ مجھے یتیم خانے میں ڈال دیا جائے گا اور میں وہیں ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا جاؤں گا۔ اس طرح ایک دن گاؤں سے کچھ دور ایک شہر کے یتیم خانے میں مجھے چھوڑ دیا گیا۔میرے ماں باپ مجھے یتیم خانے میں چھوڑ کر دروازے سے باہر نکل آئے۔ میری ماں نے پلٹ کر مجھے کئی بار دیکھا اور اپنے آنسو پوچھتی ہوئی مغموم ہوکر وہاں سے رخصت ہو گئی۔ تب میں پوری قوت لگا کر زور سے چیخا۔ میرا گلا اب کھل چکا تھا۔ میرے حلق میں پھنسی جھلی پھٹ چکی تھی اور میری لکنت ختم ہو گئی تھی، لیکن میری آواز فضا میں تحلیل ہو گئی جسے صرف میری سماعتوں نے ہی سنا اور پہچانا۔ میں روتا رہا بلکتا رہا چیختا رہا چلاتا رہا لیکن سب لاحاصل اور بے سود ثابت ہوا۔ جسے اپنوں نے ہی غیروں کے رحم و کرم پر بے یارو مددگار اور تن تنہا چھوڑ دیا ہو اس کی تکلیف کون سنے اور اس کے دکھ کا مداوا کون کرے؟

یتیم خانے کے رحم دل انچارج نے میرے سر پر شفقت کا ہاتھ پھیرا، میرے منھ کو چوما، پیشانی کا بوسہ لیا اور میرے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر مجھ سے ازراہ ہمدردی کہا ’’تو بڑا خوش نصیب بچہ ہے۔‘‘ ایک غیر کے منھ سے اپنی خوش نصیبی کا لفظ سن کر پہلی بار میری آنکھوں سے خوشی کے آنسو چھلک پڑے۔یتیم خانے کے انچارج نے کسی کو فون لگایا چند گھنٹے بعد دروازے پر ایک کار آکر رکی۔ ایک ڈاکٹر اور ان کی بیگم کار سے باہر آئیں۔ انھوں نے مجھے غور سے دیکھا، پھر میرا معائنہ کیا، مجھے تسلی دی۔ پیار سے میرے سر پر ہاتھ پھیرا، مجھ سے مختصر باتیں کیں اور کچھ کھانے کو دیا۔ معمولی سی کاغذی کاروائی کے بعد میں اب ہمیشہ کے لیے ان کا ہو گیا کیونکہ انھوں نے مجھے گود لے لیاتھا۔ ایک اپاہج کو گھر اور کسی کا سہارا مل گیا تھا۔

یتیم خانے کے انچارج سے کسی کو اپنا نام و پتہ بتانے سے منع کرتے ہوئے وہ تھوڑی دیر بعد میرے ساتھ وہاں سے رخصت ہو گئے۔

انھوں نے میری پرورش اور تعلیم و تربیت میں کوئی کمی نہ چھوڑی۔ زندگی کی ساری تلخیوں کو ان کے لاڈ و پیار نے کافور کر دیا تھا۔ دل آزاری کی ساری ہی پرانی یادوں پر اب پیار و محبت کا غلبہ تھا۔ وقت پنکھ لگا کر تیزی سے اڑ گیا۔ میری بہن سکینہ کی شادی ہو چکی تھی۔ سکینہ کا شوہر سنجیونی ہسپتال میں میل نرس تھا۔ سکینہ کا آج ہی ہسپتال میں داخلہ ہوا تھا، وہ ماں بننے والی تھی۔

رات کے تین بج رہے تھے۔ میرے ابا اور اماں اور سکینہ کے ساس سسر ہسپتال میں بے چینی و بے صبری کے عالم میں بار بار کبھی گھڑی کی طرف تو کبھی دروازے کی جانب دیکھ رہے تھے۔تبھی دروازہ کھلا اور ایک نرس بچے کو گود میں لیے چند لمحے کو باہر آئی اس نے میری ماں سے پوچھا تم نانی ہو؟ ہاں کہتے ہی میری ماں کی گود میں بچے کو دیتے ہوئے مسکرا کر مبارکباد پیش کی اور کہنے لگی ’’تمہارا نواسہ قسمت سے بچ گیا بڑا مقدر والا ہوگا۔‘‘ پھر بچے کو ماں کی گود سے لے کر دادی کی گود میں دیتے ہوئے بولی تیرا پوتا بڑا نصیب والا ہے۔ بچے دانی میں بچہ الٹا ہو گیا تھا وہ تو ایمرجنسی میں ڈاکٹر نصیر کو بلانا پڑا یہ ان کا احسان و کرم ہے کہ زچہ و بچہ دونوں بخیر و عافیت ہیں۔ سب نے یک لخت ہی کہا ’’شکریہ نرس صاحبہ! ہم سب آپ کے بے حد شکر گزار ہیں خدا آپ کا بھلا کرے۔‘‘نرس نے ڈاکٹر کو آواز لگاتے ہوئے کہا میرا نھیں ڈاکٹر نصیر کا شکریہ ادا کریں یہ سب ان کی محنت و مشقت اور بروقت حاضری سے ممکن ہوا۔ خدا کا شکر ہے کہ وہ عین وقت پر یہاں پہنچ گئے۔ تبھی ایک لنگڑا ڈاکٹر لڑکھڑاتا ہوا اندر سے باہر آیا! ایک اپاہج ڈاکٹر! میری ماں صفیہ اور بابا رحیم بخش کو قدرے تجسس اور تھوڑی سی بات چیت کے بعد مجھے پہچانتے دیر نہ لگی، بابا مجھ سے لپٹ کر اتنا روئے کہ ہسپتال کا پورا عملہ جمع ہو گیا۔ کئی لوگ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے کہ کیا معاملہ ہے؟ بابا بار بار اپنی غلطی کی معافی مانگ کر مجھے شرمندہ کیے جا رہے تھے۔ ماں کی آنکھوں سے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے وہ بت بنی کھڑی تھیں۔ میں نے ان کو گلے لگایا ان کا سر چوما۔ یقیناً اس منظر کو ضبط تحریر میں لانا میرے لیے آج ممکن نہیں۔ بہن بھی ہمت جٹا کر اپنے شوہر کے سہارے تھوڑے سے وقفے کو آ کھڑی ہوئی۔ میں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا، اسے دعائیں دیں اور اس کی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو اپنے ہاتھوں سے پونچھ ڈالا۔

آج گھر کی اس سوگوار فضا اور ہسپتال کے اداس ماحول کو جس اپاہج کے وجود نے نہایت غمگین اور رنجیدہ کر دیا تھا، وقت نے اسے پوری طرح فرحت و انبساط اور مسرت و نشاط میں بدل ڈالا تھا۔

شیئر کیجیے
Default image
تاج الدین محمد