گاندھی مارگ

گاندھی جینتی پروگرام میں باپو کی زندگی پر دیے گئے، بھاشنوں کو سن کر دل میں اتارلینے کے بعد وہ شخص جھلایا ہوا سیدھا ہمارے پاس چلا آیا۔ اُس کے اندر ہنسا بھری ہوئی تھی، بالکل فرضی دیش بھکت کی طرح۔ ہمارے پاس آکر اس نے پہلے ہنسا بھری سانسوں پر قابو پایا اور پھر ہاتھوں کو اپنی چوڑی کمر پر رکھ کر ہمیں گھورتے ہوئے نہایت تلخ لہجے میں پوچھا: ’’بتائیے مسٹر سچ سچ بتائیے! کیا ہمارا دیش گاندھی جی کے بنائے ہوئے مارگ پر چل رہا ہے؟‘‘

ہم اس کے تلخ لہجے پر صبر کرتے ہوئے اس کا غصے سے تمتمایا ہوا چہرہ دیکھتے رہے اور وہ ہمیں ایسے گھورتا رہا جیسے کسی بے گناہ کو پولیس مجرم سمجھ کر گھورتی ہے۔ ہم ایک شریف شہری کی طرح اس کی ’نگاہِ کرم‘ کو نظرانداز کرتے ہوئے ادب سے بولے: ’’صاحب! آپ یہ بات ان نیتاؤں سے پوچھئے جو دیش چلا رہے ہیں۔ وہ آپ کو پرفیکٹ بتادیں گے کہ ہمارے پیارے دیش نے گاندھی جی کے بتائے ہوئے مارگ پر کتنے کلومیٹر چہل قدمی کی اور کتنے کلو میٹر کی دوڑ لگائی۔‘‘ یہ کہہ کر ہم نے اسے اپنے دکھانے کے دانت دکھا دیے۔

ہماری بات سن کر اور ہمارے دانت دیکھ کر اس شخص کی تیوری پر اتنے بل آگئے کہ اس کی بھوئیں سکڑگئیں ، ہم اس کی سکڑی بھوئیں دیکھ کر اندر ہی اندر سمٹ گئے یعنی سنبھل گئے۔ ہمیں سنبھلتا دیکھ کر وہ ہم پر حملہ آور ہوگیا : ’’آپ کیسے لیکھک ہیں! اتنا بھی نہیں بتاسکتے کہ ہمارا دیش گاندھی جی کے بتائے ہوئے مارگ پر چل رہا ہے یا نہیں، گودی میڈیا والے لگتے ہیں آپ! دیش کے لیے آپ کے من میں پریم نہیں ہے اس لیے آپ دیش بھکت نہیں ہوسکتے، نہیں ہوسکتے، نہیں ہوسکتے۔‘‘ اُس نے تین بار نفی میں ہاتھ ہلا کر ہمارے کریکٹر پر دیش بھکت نہ ہونے کا لیبل لگادیا اور پھر حقارت آمیز نگاہ سے دیکھتے ہوئے چلا گیا۔

اس کے جانے کے بعد ہم نے سوچا کہ اگر ہم اسے سچ سچ بتادیتے کہ ہمارا پیارا اور نیارا دیش گاندھی جی کے بتائے ہوئے مارگ پر ہی چل رہا ہے تو وہ ہماری بات مانتا ہی نہیں۔ وہ تو اس موڈ میں نظر آرہا تھا کہ ہم اس کے سامنے یہ ثابت کردیں کہ ہمارا دیش گاندھی جی کے بتائے ہوئے مارگ پر تو بالکل نہیں چل رہا ہے بلکہ اس روڈ پر بھاگ رہا ہے جس کو دیش کی ہر پارٹی نے اپنے اپنے ٹھیکیداروں سے بنوایا ہے۔

چونکہ ہم غیر سرکاری لیکھک نہیں ہیں اس لیے آج ہم یہ ثابت کرکے ہی رہیں گے کہ ہمارا پیارا دیش گاندھی جی کے بتائے ہوئے مارگ پر چل ہی نہیں رہا ہے بلکہ دوڑ رہا ہے، بغیر بریک کے۔ سنیے:

گاندھی جی نے کہا تھا: ’’پونجی اپنے آپ میں بری نہیں ہے اس کے غلط استعمال میں ہی برائی ہے۔ کسی نہ کسی روپ میں پونجی کی ضرورت ہمیشہ رہے گی۔‘‘

گاندھی جی کی اس بات پر ہمارے کچھ نیتا، بزنس مین اور سماج کے ایک نمبری ذی حیثیت لوگوں نے پوری ایمانداری سے عمل کیا۔ پونجی کو کبھی بھی برا نہیں سمجھا۔ خوب پونجی جمع کی اور اس کا استعمال بھی نہیں کیا پھر غلط استعمال کا سوال کہاں سے پیدا ہوگا۔ انھوں نے تو زندگی میں دھن کی ضرورت و اہمیت کو سمجھتے ہوئے اپنی جمع پونجی بدیسی بنکوں میں رکھ دی جسے حزبِ مخالف کالا دھن کہہ کر بغلیں بجارہے ہیں۔ انہیں کیا معلوم دھن کالا، سفید نہیں ہوتا، دھن صرف دھن ہوتا ہے۔

مہاتما گاندھی نے دھن کی اہمیت کو کچھ اس طرح واضح کیا ہے: ’’جو وقت کو بچاتے ہیں وہ دھن بچاتے ہیں اور بچایا ہوا دھن کمائے ہوئے دھن کے برابر ہے۔‘‘

کیا ہمارے دیش کے نیتا ،تاجر، عہدہ دار، ٹھیکیدار، افسران اور ملازمین سارے کے سارے وقت اور دھن بجانے میں ماہر نہیں ہیں اور دھن کمانے، دھن بٹورنے کی انہیں دُھن نہیں؟!

گاندھی جی نے فرمایا تھا :’’پاپ سے نفرت کرو، پاپی سے پریم‘‘۔ ہمارے نیارے دیش کا ہر دیش پریمی پاپ سے سرعام نفرت کرتا ہوا دکھائی دے گا۔ آج کل پاپ سے نفرت کرنے کا پروگرام اتنا عام ہوگیا ہے کہ پاپی بھی وقتِ ضرورت پاپ سے نفرت کا اظہار کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ سر اٹھا اٹھا کر نفرت، مٹھیاں ہوا میں لہرا لہرا کر نفرت کا اظہاراور فلک شگاف نعرے لگا لگا کر نفرت کا اظہار۔ نفرت کے اظہار میں ہمارا پیارا دیش اتنا آگے بڑھ گیا ہے کہ نفرت و تعصب کی آگ دہکاکر اس کے خلاف بھی نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اب رہا پاپی سے پریم کا معاملہ تو چناؤ کے ذریعے ہم اکثر اس کی بہترین مثالیں پیش کرتے آرہے ہیں۔ ہر الیکشن میں کتنے داغی نیتا چناؤ جیت کر بھولی بھالی جنتا سے اپنی جئے جئے کار کرواتے نظر آتے ہیں۔

گاندھی جی کا ایک قول: ’’آدمی کی پہچان اس کے لباس سے نہیں بلکہ اس کے کردار سے ہوتی ہے‘‘ کتنا بڑا اُپدیش اور اہمیت کا حامل ہے۔

ہمارے کچھ نیتا تو گاندھی جی کے اس قول کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے نظر آرہے ہیں۔ نیتاؤں کے لباس کو ہی ہدف تنقید بنایا جارہا ہے۔ کردار سے چشم پوشی کی جارہی ہے۔ سرکار کو سوٹ بوٹ والی سرکار کہہ کر دل کے پھپھولے پھوڑے جارہے ہیں اور بے چاری جنتا کے کے دل و جگر پر چھریاں چلانے میں نیتا مگن ہیں۔

گاندھی جی نے کہا تھا: ’’ہمت رکھو، بھروسہ رکھو اور ناامیدی کو دل میں جگہ نہ دو۔‘‘

ہمارے پیارے نیتاؤں میں اتنی تو ہمت ہے ہی کہ وہ جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں اور جو کرتے ہیں وہ کہتے نہیں اور جنتا ان پر بھروسہ کرتی رہتی ہے۔ وہ بھی جنتا سے کبھی نا امید نہیںہوتے۔

’’انشن‘‘ کے پروگرام بھی ہمارے دیش میں موقع و محل کے اعتبار سے جاری رہتے ہیں جس سے کبھی حکومت ٹینشن میں آجاتی ہے تو کبھی ’’انشن‘‘ کرنے والے ٹینشن میں آجاتے ہیں۔

گاندھی جی کا ’’ستیہ گرہ‘‘ انگریز حکومت کے خلاف ایک پرامن تحریک تھی۔

آج بدعنوانی، دنگے، فسادات، کرپشن، آرکشن، گھوٹالوں اور گھپلوں وغیرہ کے ستیہ کی کھوج کرنے کے لیے کمیشن بنائے جاتے ہیں اور ستیہ کا پتہ لگا لینے کے بعد اس فائل پر ایسی گرہ لگادی جاتی ہے کہ کچھ بھی کرلو وہ کھلتی ہی نہیں۔ خیر! وہ ’’ستیہ گرہ‘‘ تھا اور آج ستیہ پر گرہ ہے۔ زمانے کے بدلاؤ کے ساتھ ساتھ فرق تو ہوتا ہی ہے نا؟

اسی فرق کی بناء پر کچھ نا سمجھ لوگ سمجھتےہیں کہ ہمارا پیارا و نیارا دیش گاندھی جی کے مارگ پر نہیں چل رہا ہے۔ دیش میں شہروں، مقاموں، سڑکوں کے نام بدلنے کی جاری پالیسی کے تحت سرکار کو ہمارا ایک اور نیک مشورہ ہے کہ دیش کی ساری سڑکوں، راستوں، گلیوں، پگڈنڈیوں اور چوراہوں کے نام بدل کر صرف ایک ہی نام رکھ دیا جائے۔ مہاتما گاندھی روڈ، مہاتما گاندھی چوک، مہاتما گاندھی گلی، مہاتما گاندھی پگڈنڈی تاکہ سرکاریں فخر سے اپنی چھاتی ٹھونک کر ساری دنیا کو بتاسکیں کہ ’’دیکھو! بھارت کا ہر انسان ہی نہیں، بھارت کا ہر پالتو جانور، بھارت کی بسیں، کاریں، ٹرک، موٹر سائیکلیں، ہتھ گاڑیاں، بیل گاڑیاں، آٹو رکشے وغیرہ وغیرہ گاندھی مارگ پر چل رہے ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
محمد طارق، کولہاپور