باغباں

اتوار کا دن تھا ۔چُھٹی کا دن ہونے کی وجہ سے انعم کی آنکھ آج دیر سے کُھلی۔اُس کا چھوٹا بھائی انظر ابھی تک سو رہا تھا۔اُس نے چاروں طرف نظر دوڑائی مگر امّی کہیں نظر نہیں آئیں۔ اُس نے ویہیں سے آواز لگانی شروع کر دی ’’امّی۔۔۔امّی۔۔۔ آپ کہاں ہیں؟‘‘

اُسی وقت اُس کی والدہ گیلے ہاتھ صاف کرتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئیں۔ ’’ ہاں بیٹا کیوں چِلا رہی ہو؟‘‘

’’ امّی۔۔۔آج مجھے خالہ کے گھر جانا ہے ۔آپ بھی چلیے نا میرے ساتھ۔۔‘‘ انعم نے مچلتے ہوئے کہا۔

’’ نہیں بیٹا ۔۔میں نہیںجا سکتی مجھے آج گھر میں بہت کام ہیں‘‘ امّی نے اپنی مجبوری بتائی۔

انعم مہینے میں ایک دو بار اپنی خالہ کے یہاں ضرور جاتی تھی۔وہاں اُس کا دِل بہت لگتا تھا ،کیونکہ خالہ کے بچّے اُس کے ہم مزاج تھے۔

سب بچّے مِل کر طرح طرح کے کھیل کھیلتے تھے۔ ’’ ایسا کرو۔۔تم اپنے ابّو کے ساتھ چلی جائو ‘‘ اُس کی والدہ نے کہا۔انعم مان گئی۔

جیسے ہی انعم اور اُس کے ابّو اُس کی خالہ کے گھر کے نزدیک پہنچے،بے اختیار اُس کی نظر میونسپل پارک پر پڑی جو کہ کافی ہرا بھرا نظر آ رہا تھا۔اُس میں گُلاب اور دوسری قسم کے پھول کھلے رہتے تھے۔مونگرے کی کلیوں کی خوشبو تو چاروں طرف مہکتی رہتی تھی،جس سے آس پاس کی فضا بھی معطر ہو جاتی تھی ۔انعم پارک کے پاس آ کر لمبے لمبے سانس لیتی جیسے کہ وہ خوشبو کے ہر احساس کو اندر اُتارنا چاہتی ہو۔

انعم جب بھی اپنی خالہ کے گھر آتی تواپنے خالہ زاد بہن بھائیوں کے ساتھ میونسپل پارک میں ضرور آتی تھی۔وہاں اُسےایک اُدھیڑ عمر کا شخص ضرور مِلتا جو اس پارک میں کچھ نہ کچھ کام کر رہا ہوتاتھا۔کبھی وہ پیڑ پودوں کو پانی دے رہا ہوتا ،تو کبھی اُن کی کانٹ چھانٹ کر تا ہوا نظر آتا۔آہستہ آستہ اُس کی سمجھ میں آگیا کہ یہ شخص میونسپل پارک کی دیکھ بھال کرتا ہے۔پارک کے پاس ہی اُس کا گھر تھا۔

سب لوگ اُس کو شاہ صاحب کہہ کر بُلاتے تھے۔ خالہ کے گھر سب سے ملکر انعم آدھے گھنٹے بعد ہی پارک پہنچ گئی ،ساتھ میں اُس کا خالہ زاد بھائی بھی تھا جو اُس سے چھوٹا تھا۔ ہمیشہ کی طرح اُس نے پارک کا ایک چکر لگایااور چُپکے سے اُس شخص کی نظر سے بچ بچا کر گُلاب کے دو پھول توڑ کر اپنی پینٹ کی جیب میں رکھ لیے اور یہ بھی خیال رکھا کہ اُس کا خالہ زاد بھائی احتشام نہ دیکھ لے ورنہ وہ گھر جا کر اُس کی شکایت خالہ سے لگا دیتا۔

ایک گھنٹے کے بعد انعم خالہ کے گھر پارک سے لوٹ آئی۔کھانے وغیرہ سے فارغ ہو کر اُس کے ابّو واپس چلے گئے اور انعم اپنےخالہ زاد بہن بھائیوں کے ساتھ کھیلنے میں مصروف ہوگئی۔ایمن سے اُس کی خوب بنتی تھی ۔اُس کے ساتھ اُس نے ڈھیروں باتیں کیںاور بہت اچھا وقت گزارا۔ شام کو اُس کے ابّو جب لینے آئے،تو خالہ سے پھر آنے کا وعدہ کر کے اپنے گھر چلی آئی۔دِن بیتنے لگے اور انعم پڑھائی میں مشغول ہوگئی اور پھر امتحان سر پر آگئے تو مصروفیت اور بڑھ گئی۔اس وجہ سے اُس کا خالہ کو گھر آنا جانا کم ہوگیا۔بڑی کلاس میں داخل ہوئی تو مصروفیت اور بڑھ گئی۔کبھی خالہ بھی آ جاتی اور نہ آنے کی شکایتیں ہونے لگتیں۔

آج لگ بھگ ایک سال کے بعد وہ اپنی خالہ کے گھر آئی تھی۔جیسے ہی وہ خالہ کے گھر کے نزدیک پہنچی اُس کی نظر ہمیشہ کی طرح اس میونسپل پارک پر پڑی،مگر یہ کیا ۔۔۔۔پارک ویران سا دِکھائی دے رہا تھا۔

اُس کے مُنہ سے بے اختیار نِکلا’’یہ کیا ہوا ؟‘‘

نہ اُس میں رنگ بِرنگے پھول کھلے تھے نہ کہیں صاف صفائی نظر آ رہی تھی۔گھاس بھی کافی بڑھی ہوئی تھی ۔۔اور۔۔۔وہ شخص بھی کہیں نظر نہیں آ رہا تھا۔وہ خالہ کے گھر سے ہو کر جلد ہی پارک میں پہنچ گئی ،آج وہ اکیلی آئی تھی۔وہ پارک کے اندر داخل ہوئی ۔قریب ہی دو لوگ کھڑے آپس میں باتیں کر رہے تھے۔اُس نے پارک اندر گھومنا شروع کیا مگر اُس کا دل نہ لگا۔کیاریاں سوکھی پڑی تھیں۔ کئی پودوں کی ٹہنیاں بھی سوکھ رہی تھیںجیسے کافی دِنوں سے کسی نے پارک کی دیکھ بھال نہ کی ہو۔پارک اُجڑا سا نظر آرہا تھا۔

جیسے ہی انعم اُن دو آدمیوں کے پاس سے گُذری تو اُن کی باتیں اُس کے کان میں پڑیں’’ بڑے ہی بھلے اِنسان تھے شاہ صاحب‘‘’’بغیر کسی لالچ اور اُجرت کے اُنہوں نے پارک کی دیکھ بھال کیا کرتے،کتنا خیال رکھتے تھے۔وہ تھے تو بہار تھی اِس پارک میں‘‘ دوسرے شخص نے بھی کہا اور افسوس سے سر ہلانے لگا۔

’’ ٹھیک کہا۔۔۔شاہ صاحب کے اِس دُنیا سے جانے کے بعد کوئی بھی اِس پارک کی دیکھ بھال کرنے کو تیار نہیں۔۔‘‘ پہلے شخص نے کہا۔یہ سب سُن کر انعم اُداس ہوگئی۔خالہ کے گھر بھی اُس کا دِل نہ لگا ،اُن سب کے روکنے کے باوجود بھی وہ وہاں سے جلدی گھر لوٹ آئی۔گھر آ کر اُس نے اپنی امّی سے سارا ماجرا کہہ سُنایا۔

’’ بیٹے جِس باغ کا مالی نہ ہو وہ باغ جلد ہی اُجڑ جاتا ہے‘‘ انعم کی امّی نے اُسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا۔

تب انعم کی سمجھ میں آیا کہ اِس پارک کا باغباں اِس دُنیا سے جا چُکا ہے اور باغباں کے بغیر باغ کے کوئی معنی نہیں ہوتے۔

شیئر کیجیے
Default image
ناہید ندیم مالیر کوٹلہ پنجاب