غربت کے خاتمہ میں زکوٰۃ کا رول

۳۰؍جولائی ۲۰۱۶ء کو یہ افسوس ناک خبر میڈیا کے ذریعے موصول ہوئی کہ مردم شماری ۲۰۱۱ کے مطابق ملک کے کل فقیروں کا چوتھائی حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے اور ان میں مسلم خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے۔

دسمبر ۲۰۱۴ کو آگرہ کے وید نگر میں ایک درد ناک واقعہ پیش آیا جو پورے ملک میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا۔ہوا یہ تھا کہ بنگال اور آسام سے آئے غریب مسلمان جو زیادہ تر ردی کے ڈھیر کو صاف کرنے والے، پرانی چیزوں کا کاروبار کرنے والے اور بعض مزدور پیشہ اور رکشا چلانے والے تھے، انہیں ورغلا کر اور بعض مراعات کا لالچ دے کر ہندومت میں لانے کی کوشش بعض فرقہ پرست تنظیموں نے کی او راسے ’’گھر واپسی‘‘ کا نام دیا گیا۔

کیا مذکورہ دونوں خبریں ملت اسلامیہ ہند کے زعماء، علماء اور درد مندوں کو کچھ کرنے اور اپنے اندرون میں جھانکنے اور خود دین اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں اس کو حل کرنے پر مجبور نہیں کرتیں؟

ملک میں مسلمانوں کی تعداد پوری آبادی کا 14.5 فی صد ہے۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ ملک کا غریب ترین طبقہ مانا جاتا ہے۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ (2004-5) نے نشان دہی کی ہے:

’’ایسے تو ملک کے مختلف صوبوں میں مسلمانوں کی معاشی و تعلیمی اور سماجی حالت میں یکسانیت نہیں ہے لیکن تمام ہی علاقوں میں پسماندگی اور بچھڑا پن ترقی کے تمام پہلوؤں میں نمایاں ہے۔‘‘ (باب۱۲،ص۲۳۷)

نیشنل کونسل فار اپلائیڈ اکنامکس ریسر (National Council for Applied Economic Research) نے بھی کئی چونکا دینے والے اعداد و شمار شائع کیے ہیں، جس کے مطابق شہری علاقوں میں بسنے والے دس مسلمانوں میں تین کی حالت خط افلاس سے نیچے ہے۔

نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات ڈاکٹر امرتیہ سین نے اپنے پراٹیچی انسٹی ٹیوٹ (pratichi Institute) اور گائیڈینس گلڈ کے ذریعے مغربی بنگال کے مسلمانوں کی حالت زار پر جو رپورٹ شائع کی ہے، اسے (SNAP)کا نام دیا گیا، جس کے بارے میں امرتیہ سین نے تعجب کا اظہا رکیا ہے کہ صوبہ مغربی بنگال کے غریبوں کی بہت بڑی تعداد مسلمانوں پر مشتمل ہے اور یہ ترقی کے لوازمات سے محروم ہیں اور ان کی طرف فوری توجہ کی ضرورت ہے۔

Living Reality of Muslim in west Bengal کے عنوان کے تحت پرائمری ریسرچ کے ذریعے انھوںنے ڈاٹا تیار کیا اور بتایا ہے کہ وہاں 47 فیصد مسلمان یومیہ اجرت پر مزوری کرتے ہیں اور ترقی کے زینوں میں سب سے نیچے ہیں۔ مسلمانوں کو اپنے گاؤں سے کم از کم چار کلو میٹر دور چل کر پرائمری ہیلتھ سنٹر جانا پڑتا ہے۔ خاص کر وہ بنیادی سہولیات: پانی، گندے نالوں کی کمی او ررسوئی گیس کی فراہمی سے محروم زندگی گزار رہے ہیں۔ موصوف نے اس بات کا اظہار کیا کہ انہیں اونچا اٹھانے کے لیے Affirmative Action کی سخت ضرورت ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ فقر و فاقہ اور غربت ایک ایسی مصیبت ہے، جس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے اور معاشرے کے مال دار اور ذی حیثیت طبقات کو اسے دور کرنے کے لیے مختلف طریقے اختیا رکرنے چاہئیں۔

فقر و فاقہ دراصل انحراف عقیدہ و ایمان کی طرف لے جاتا ہے۔ مخبر صادقﷺ نے فرمایا ہے:

’’فقر و فاقہ عنقریب کفر تک پہنچا دے گا۔‘‘ (بیہقی)

آپؐ نے اللہ سے اس سے پناہ کی دعا مانگی ہے:

’’اے اللہ! میں کفر و فاقہ سے پناہ مانگتا ہوں۔‘‘

دین اسلام نے معاشرہ کے غریب اور نادار افراد کو فراموش نہیں کیا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دولت مندوں کے مالوں میں ایک مقررہ حق رکھ دیا ہے، جو ایک فریضہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کو زکوٰۃ کہتے ہیں۔ زکوٰۃ کا مقصد یہ ہے کہ فقراء و مساکین کی تنگ دستی و محتاجی کو ختم کیا جائے۔ زکوٰۃ کے مصارف میں فقر اء و مساکین کو اولین حیثیت حاصل ہے بلکہ بعض مقامات پر نبی رحمتﷺ نے زکوٰۃ کا مصرف ہی یہ بتایا ہے کہ اسے فقراء و مساکین پر خرچ کیا جائے، جیسا کہ حضرت معاذ بن جبلؓ کو یمن بھیجتے ہوئے آپ نے انہیں حکم دیا تھا کہ وہ معاشرہ کے دولت مندوں سے زکوٰۃ لے کر غربا و مساکین میں تقسیم کردیں۔ امام ابو حنیفہؒ اور ان کے اصحاب کا مسلک یہ ہے کہ زکوٰۃ کا مصرف سوائے غریب اور فقیر کی اعانت کے اور کوئی نہیں ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ اسلام نے فقراء اور مساکین کی نگہ داشت کے مسئلہ کو اس طرح حل کیا ہے کہ جب تک اس پر عمل ہوتا رہا مسلم معاشرہ میں امیر وغریب کی لڑائی کا کوئی سوال تک پیدا نہ ہوا اور نہ ہی کسی فرد یا جماعت کو اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے کی ضرورت پیش آئی۔

زکوٰۃ اسلام کا تیسرا اہم ستون ہے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کے مالوں، حکومت اور معاشرہ کی ذمے داریوں میں فقراء و مساکین کے حقوق کی ضمانت دی ہے۔ آج ہم معاشرہ پر نظر ڈالیں تو الحمد للہ کلمہ شہادت کے تقاضوں پر عمل کرنے کے لیے محنت ہو رہی ہے۔ نماز کی اقامت اور اس کی ادائیگی کا اہتمام ہو رہا ہے، نہ صرف فرائض بلکہ نوافل میں چاشت، اشراق، اوابین اور صلوٰۃ التسبیح پر بھی زور دیا جارہا ہے۔ رمضان کے روزوں کے رکھنے حتی کہ شوال کے چھ روزے اور عاشورہ کے روزوں کی ترغیب دی جا رہی ہے، مالی عبادات میں حج کا شوق کافی بڑھا ہے اور عمرے کا بھی خوب اہتمام ہو رہا ہے لیکن ایتائے زکوٰۃ جو پس ماندگی کو دور کرنے کے لیے در اصل ملت کے فقرا و مساکین کا حق ہے اس کی طرف توجہ کی کمی ہے۔ اس غربت و پسماندگی کی وجہ سے مسلمان گھر واپسی،عیسائی مشنریز اور قادیانیوں کے ہتھکنڈوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ جس کا تذکرہ شروع ہی میں کیا جاچکا ہے۔ حال یہ ہے کہ زکوٰۃ کا اجتماعی نظم اور کن آٹھ مدات میں اس رقم کو خرچ کرنا ہے اس سے بھی ملت کا ایک بڑا طبقہ ناواقف ہے۔

قرآن مجید اور رسول اللہؐ کی تعلیمات کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ہمیں نماز کے ساتھ ہمیشہ زکوٰۃ کا مکلف بھی بنایا گیا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نماز اور زکوٰۃ کے درمیان گہرا ربط و تعلق ہے اور ایک مسلمان کے اسلام کی تکمیل ہی ان دونوں سے ہوتی ہے۔ نماز اسلام کا ستون ہے جس نے اسے قائم کیا اس نے دین کو قائم کیا اور جس نے اسے ڈھایا اس نے دین کی پوری عمارت کو منہدم کر دیا اور زکوٰۃ اسلام کا ایک پل ہے جو اس پر سے گزر گیا وہ نجات پاگیا اور جو ادھر ادھر ہوگیا وہ ہلاکت میں جا پڑا۔

عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں:

’’تمھیں نماز قائم کرنے اور زکوٰ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتا اس کی نماز ہی نہیں ہوتی۔‘‘

بعض اصحابِ رسول کہتے تھے کہ نماز اور زکوٰۃ اکٹھی فرض کی گئی ہیں ۔ ان دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا گیا۔ پھر انھوں نے یہ آیت پڑھی:

فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلوٰۃَ وَ آتُوا الزَّکٰوۃَ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ (التوبہ:۱۱)

’’پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو وہ دین میں تمہارے بھائی ہیں۔‘‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ نماز صرف اس صورت میں قبول ہوگی جب کہ نماز پڑھنے والا زکوٰۃ بھی ادا کرتا ہو۔ خلیفہ اول حضرت ابوبکرؓ کا فرمان ہے کہ خدا کی قسم جو زکوٰۃ اور نماز میں فرق کرے گا میں اس سے جنگ کروں گا۔‘‘

یہ خوش آئند بات ہے کہ ادھر چند سالوں سے زکوٰۃ کے تعلق سے علماء کرام اور عوام میں ایک نیا شعور پیدا ہوا ہے اور اب یہ ہر خاص و عام کی زبان پر ہے کہ نبی کریمﷺ کے دور میں زکوٰۃ کا نظام اجتماعی طور پر تھا اور کاتبین صدقات، خارصین (تخمینہ لگانے والے) اور عمال الحمیٰ کا تقرر ہوتا تھا۔ یہ بھی معلوم ہے کہ خلافت ابوبکرؓ میں مانعین زکوٰۃ کے خلاف خلیفہ راشد نے کلمہ گو ہونے کے باوجود ان سے جنگ کی تھی۔

لیکن ان سب کے باوجود آج بھی ہمارے ملک میں زکوٰۃ کے نظام و انصرام کی حالت کیا ہے؟ عام طو رپر عوام او رخواص کا ایک بڑا طبقہ بھی اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ فقیر کو یا اپنے مستحق رشتہ دار کو چند سو روپے، چند کلو اناج یا چند گز کپڑے دے دیے جائیں، جس سے وہ چند دن، ایک مہینہ یا دو مہینہ زیادہ سے زیادہ اپنی ضرورت پوری کرلیتا ہے اور اس کے بعد وہ پھر تنگ دست و تہی دست رہتا ہے اور ہمیشہ مدد کے لیے ہاتھ پھیلاتا رہتا ہے۔ بقول ایک صاحب علم کے: زکوٰۃ ان گولیوں کے مشابہ ہوجاتی ہے جو ایک محدود عرصہ تک مریض کو آرام پہنچاتی ہیں نہ کہ ان تیر بہ ہدف ادویہ کے مشابہ جو تکالیف اور امراض کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکتی ہیں۔

در اصل زکوٰۃ کے ذریعے فقیر و مسکین کی بحالیات (Rehabilitation) مقصود ہے۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں:

’’فقیر و مسکین کو اتنا مال دیا جائے جو انہیں ضرورت و احتیاج سے نکال کر استغناء اور عدم احتیاج سے ہم کنار کردے۔‘‘

مطلب یہ ہے کہ انہیں اتنا مال دیا جائے جو ہمیشہ کے لیے ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے کافی ہو۔ اس کے لیے انھوں نے قبیصہ بن محارق کی روایت کردہ حدیث سے استدلال کیا، جسے امام مسلم نے روایت کی ہے۔

اس کے علاوہ فقہائے کرام نے فقر و فاقہ کو ختم کرنے اور زکوٰۃ کو فقراء کو مال دار بنانے میں اسلام کے مقاصد کی وضاحت کی ہے۔ مثال کے طور پر اگر سائل کوئی دست کاری کا کام کرنا جانتا ہے تو اسے اتنا مال دیا جائے کہ وہ اس سے اپنی دست کاری چلا سکے یا آلاتِ دست کاری خرید سکے۔ یہ رقم اتنی ہو کہ اس کے نفع سے سائل کی ضروریاتِ زندگی قریب قریب پوری ہوجائیں۔ اسی طرح مختلف چھوٹے بڑے کاروباریوں کے لیے الگ الگ پیمانہ مقرر کیے جائیں۔ مثلاً کاشت کار ہو تو زکوٰۃ سے اتنی رقم دی جائے، جس سے وہ کوئی قطعہ اراضی خرید کر اس میں کھیتی باڑی کر سکے اور اس کی پیداوار سے ہمیشہ اس کا گزارہ چلتا رہے۔ حضرت عمرؓ نے فقرا و مساکین کے متعلق سے جو حکیمانہ پالیسی اختیار کی تھی اسی کے پیش نظر یہ رویہ اختیار کیا گیا۔ خلیفہ راشد نے فرمایا:

’’جب تم فقیر و مسکین کو دو تو اتنا دو کہ وہ تنگ دست نہ رہیں۔‘‘

حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص اپنی بدحالی کی شکایت لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپﷺ نے اسے فقر و افلاس سے بچانے کے لیے تین اونٹ عطا فرمائے۔ اس وقت اونٹ سب سے زیادہ نفع بخش اور قیمتی مال سمجھا جاتا تھا۔ فقیر کے بارے میں اپنی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا:

’’میں مستحق فقرا و مساکین کو بار بار صدقہ دوں گا، اگرچہ اس طرح ان میں سے کسی کے پاس سو اونٹ ہوجائیں۔‘‘ (کتاب الاموال)

مشہور فقیہ اور جلیل القدر تابعی عطاؒ فرماتے ہیں:

’’اگر کوئی شخص مسلمان کے کسی ایک ہی مستحق کنبہ کے اہل خانہ کو اپنے مال کی زکوٰۃ دے کر ان کے آرام و آسائش کا سامان کردے تو اس کا یہ عمل میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ہوگا۔‘‘

ابو عبیدہؒ جو اسلام کی مالی فقہ میں حجت سمجھے جاتے ہیں انھوں نے اپنی کتاب ’’الاموال‘‘ میں حضرت عطاؒ کے قول کو قابل ترجیح قرار دیا ہے جو قابل غور ہے۔

بعض نامور فقہائے کرام اس بات کے قائل ہیں کہ فقیر و مسکین کو زکوٰۃ کی اتنی رقم دی جائے جس سے ان کا اور ان کے اہل و عیال کا ایک سال تک کا گزارہ ہوسکے۔ خود آپؐ نے اپنے اہل و عیال کے لیے ایک سال کی خوراک ذخیرہ کی۔ (صحیح البخاری) اس کے علاوہ زکوٰۃ کی ادائیگی کا مقصد یہ ہے کہ فقیر و مسکین ایک معقول و مناسب معیار زندگی گزاریں، جو انسان کی انسانیت کے شایان شان ہو او رجسے اللہ تعالیٰ نے انسانیت اور استخلاف فی الارض سے سرفراز فرمایا ہے۔ معیارِ زندگی میں خورد و نوش، پوشاک (گرمی اور سردی کے لحاظ سے)، رہائش، علاج و معالجہ کی سہولیات اور اپنی جنسی ضروریات کے لیے نکاح وغیرہ شامل ہیں۔

آج کے دور میں ملیشیا اور جنوبی افریقہ جیسے ممالک میں اجتماعی نظم زکوٰۃ قائم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ تقسیم زکوٰۃ میں زکوٰۃ سے فائدہ اٹھانے والوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جسے وہ پیداآوری غریب (Productive Poor)اور غیر پیدا آوری غریب (Non Productive Poor)کا نام دیتے ہیں۔ غیر پیداآوری غریب میں عمر رسیدہ بوڑھے، بیوہ، اپاہج و معذور، دائم المریض وغیرہ ہوتے ہیں، جن کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا اور ان کی معاشی حالت خراب ہوتی ہے۔ ان کی مستقل اور مسلسل مدد کی جاتی ہے۔ ان پر زکوٰۃ کی پوری تعداد کا بیس سے پچیس فیصد صرف ہوتا ہے۔ البتہ باقی پچھتّر سے اسّی فیصد پیداآوری غریبوں پر خرچ ہوتا ہے۔ اس گروپ میں ایسے مرد و خواتین ہوتے ہیں جو سرمایہ کی کمی کی وجہ سے اپنا کاروبار نہیں کرسکتے۔ بعض ایسے ہوتے ہیں جن کو کوئی ہنر سکھایا جائے اور اس کے لیے مدد کی جائے تو وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکتے ہیں۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں مشین یا آلہ و اوزار فراہم کیے جائیں تو وہ خود کفیل ہوسکتے ہیں۔ ان کی مدد مسلسل اور مستقل نہیں جاتی بلکہ ان کی درخواستوں کی جانچ کر کے ایک بڑی رقم یک مشت یا قسط وار زکوٰۃ کی رقم سے دی جاتی ہے۔ اس طرح یہ لوگ بہت جلد خود کفیل ہوکر اپنے طور پر زکوٰۃ دینے کے قابل ہوجاتے ہیں۔

آخری بات

نظامِ زکوٰۃ اجتماعی کفالت (Social security) کے معاملے میں پہلی منظم قانون سازی ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ ہرمحتاج اور اس کے اہل و عیال کی خورد و نوش، لباس، رہائش اور زندگی کی دوسری ضروریات بغیر اسراف اور کنجوسی سے کام لیے پوری ہوجائیں۔

آج ملک میں ملت اسلامیہ کے اندر فقراء و مساکین اور حاجت مندوں کی کثرت ہے۔ اور بنیادی وسائل حیات سے محرومی ختم کرنے اور انہیں اکرام انسانیت کی سطح پر اونچا اٹھانے کی مسلسل سعی کی سخت ضرورت ہے۔جس کے لیے کلمہ اور نماز کو عام کرنے کی کوشش کی طرح ملک گیر سطح پر علماء و دانشوران قوم و ملت، پرعزم نوجوان اور مرد و خواتین کو ایک منصوبہ بند مہم زکوٰۃ کی اہمیت، دورِ نبویؐ اور دورِ خلفائے راشدین میں اس کے انتظام و انصرام کی کامیاب کوشش کا ذکر ہوتے ہوئے چلانے کی ضرورت ہے۔

پورے ملک کی پندرہ سے بیس کروڑ مسلم آبادی میں ایک تہائی بھی صاحب نصاب ہوں، تو ہزاروں کروڑروپے بیت المال میں جمع ہوسکتے ہیں۔ جن کے ذریعے Socio Economic سروے کرکے منصوبہ بندی کے ساتھ جنوبی افریقہ اور ملیشیا کے نمونوں کو سامنے رکھ کر غریبوں اور معذوروں کی مستقل مدد کی جاسکتی ہے اور محتاجوں کو سرمایہ، ہنر او رصنعت و تجارت کے وسائل کی فراہمی سے خود کفیل بنا کر صاحب نصاب کی سطح پر اٹھایا جاسکتا ہے۔ اس کا آغاز بستیوں اور شہر کے محلوں میں پانچ سے سات افراد کی کمیٹی سے کیا جاسکتا ہے او ریہ افراد ایسے ہوں کہ جن میں جذبۂ صادق (Spirits) بھی ہو اور مہارت و صلاحیت بھی۔ جذبۂ خالص او ربہتر صلاحیت کی حامل شخصیات آگے بڑھ کر اس کام کی ابتدا کریں تو ان شاء اللہ چند ہی برسوں سے اس کے مثبت و منافع بخش نتائج و اثرات رونما ہوسکتے ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ایچ- عبد الرقیب