5

خواتین میں کچھ منفی رجحانات کا ازالہ

اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت سارے وسائل عطا کیے ہیں جن کا استعمال کر کے ہم خواتین، اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکتی ہیں اورخود بھی خوش و خرم زندگی گزار سکتی ہیں اور دوسروں کو بھی خوشی دے سکتی ہیں۔ عورتوں کا حسن صرف ان کے چہرہ کا حسن نہیں ہوتا بلکہ نسوانی شخصیت مکمل طور پرفطرت کے جمالیاتی پہلو کی مظہر ہوتی ہے۔ اُن کی محبت،ایثار اور ان کے لطیف جذبات سارے معاشرہ کو پرسکون اور پر مسرت بنانے کا سبب بنتے ہیں۔ اسکے برعکس اگرعورتیں تنائو کی شکار ہوجائیں، مزاج میں چڑ چڑا پن ہو، غصہ، حسد اور احساس کمتری جیسی عادتوں میں وہ مبتلا ہوجائیں تو خاندانوں اور معاشروں کا سکون غارت ہوجاتا ہے۔ عورت کے اپنے بہترین عادات و اطوار اور اخلاق کی وجہ سے اسکا گھر جنت نظیر بھی بن سکتا ہے اور اسکی منفی سوچ کی وجہ سے اسکا گھر جہنم کا نقشہ بھی پیش کرسکتا ہے۔

اسلام اس بات کو سخت ناپسند کرتا ہے کہ مر د وعورت ایک دوسرے کے مد مقابل اور ایک دوسرے کے حریف بن کر رہیں اور فیمینزم کے نام پر اور نسائی تحریکوں کے نام پر دونوں جنسوں کے درمیان حقوق کی کشمکش کی فضا بنی رہے۔ اسلام مردوں اور عورتوں کو ایک دوسرے کا رفیق قرار دیتا ہے جو نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کرتے ہیں۔ اسلام نے مردوں اور عورتوں کے حقوق و فرائض پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور اسلام چاہتا ہے کہ دونوں اپنے اپنے دائروں میں کام کرتے ہوئے ایک صالح اور پاکیزہ معاشرہ کی تعمیر میں اپنا رول ادا کریں۔

دوسری طرف اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ جو حقوق اسلام نے عورتوں کو دیئے ہیں ، ہمارا روایتی معاشرہ عملاً وہ حقوق نہیں دیتا۔ اسلام نے عورت کو اتنا بلند مقام اور عزت و تحفظ بخشا ہے کہ جس کا مقابلہ کوئی جدید و قدیم سماج نہیں کرسکتا ۔ اگر ہمارے معاشرے عورت سے متعلق اسلام کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوجائیں تو اس کی برکتیںساری دنیا کو اسلام کی طرف متوجہ کرنے کے لئے کافی ہوں گی۔ ہمارے معاشرہ میں عورت کے مقام کو اسلام کی تعلیمات کے مطابق بلند کرنے کا یہ کام مردوں ، عورتوں ، سب کو مل جل کر کرنا ہے۔ عام مشاہدہ یہ ہے کہ اس معاملہ میں بڑی رکاوٹیں خود عورتوں کی جانب سے کھڑی کی جاتی ہیں۔

بے شک عورت کے ساتھ جب بھی نا انصافی ہوتی ہے تو اس میں مرد کا بھی اہم رول ہوتا ہے لیکن معلومات و تجربات سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ گھریلو زندگی سے لے کر پروفیشنل مقامات تک ،جب بھی عورت ظلم کی شکار ہوتی ہے تو اس میں اکثرکہیں نہ کہیں ایک اور عورت کا ہاتھ بھی ہوتا ہے۔ اس مضمون میں عورتوں کے اسی منفی رول کو زیر بحث لایا گیا ہے کہ کس طرح خود عورتیں سماج میں عورتوں کے رول کو بلند کرنے کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔

چند سال پہلے امریکی مصنفہ کیلی ویلن کی ایک کتاب بہت مشہور ہوئی تھی۔The Twisted Sisterhood: Unraveling the Dark legacy of Female Friendshipsجس میں مصنفہ نے سروے کے نتائج اور متعد د واقعات اور اعداد و شمار کے حوالوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ عورتوں کی ترقی کی راہ میں اکثر عورتیں ہی رکاوٹ بنتی ہیں۔ کیلی کے سروے کے مطابق پچاسی فیصد عورتیں دیگر عورتوں کی ہراسانی کے سبب تنائو کی شکار رہتی ہیں۔ اٹھاسی فیصد عورتوں نے دیگر عورتوں کی جانب سے کمینگی Meannessاور دیگر منفی رویّوں کی اذیت برداشت کی ہے۔ ان عورتوں میں خاندان کی دیگر ارکان ، سسرالی رشتہ دار خواتین اور ساتھ میں کام کرنے والی عورتیں وغیرہ سب شامل ہیں۔ کیلی کی اس کتاب نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ عام پر نسائی تحریکیں، عورتوں پر ظلم کے لئے مردوں کو ذمہ دار سمجھتی رہی ہیں لیکن اس اسٹڈی نے یہ ثابت کیا کہ ایسا نہیں ہے۔ عورتوں کی کمزوری اور مظلومیت اکثر خود عورتوں ہی کی وجہ سے ہوتی ہے۔

ماہرین نفسیات کے مطابق عورتوں کے اندر دیگر عورتوں سے موازنہ کرنےUpward Social Comparison اور ان سے خود کو بہتر ثابت کرنے کا داعیہ پایا جاتا ہے۔ یہ داعیہ ان کے اندرمنفی جذبات یعنی غصہ، نفرت، حسد وغیرہ کو بھی پروان چڑھا سکتا ہے۔ مثلاً یونیورسٹی آف ٹیکساس کے نفسیاتی سائنسدان جیم کنفیر Jaime Confer کی اسٹڈی میں سات فیصد مرد، دیگر مردوں کے تئیں حسد میں مبتلا پائے گئے جبکہ دیگر خواتین کے تئیں ایسے جذبات رکھنے والی خواتین کا تناسب تقریبا اٹھاون فیصد تھا۔ مردکسی خاتون کو ، یعنی دوسری جنس کو اپنے سے آگے بڑھتے ہوئے دیکھ نہیں سکتے لیکن عورتیں دیگر عورتوں یعنی اپنی ہی جنس کو اپنے سے آگے بڑھنے نہیں دینا چاہتیں۔اس طرح مرد، دیگر مردوں کے حسد سے بھی محفوظ رہتے ہیں اور خواتین کے بھی۔ جب کہ خواتین مردوں کے بھی حسد کا شکار رہتی ہیں اور خواتین کے بھی۔ آگے نہ بڑھنے دینے کا یہ داعیہ الگ الگ جگہوں پر الگ الگ صورتوں میں ظہور پذیر ہوتا ہے۔ کام کی جگہوں پر دوسری عورتوں کی ترقی اور ان کی کامیابی سے جلن اور حسد کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ ساس اور بہو کے درمیان بیٹے یا شوہر سے قربت کی لڑائی شروع ہوجاتی ہے۔دیورانیوں اور جٹھانیوں میں گھر کے معاملات پر کنٹرول کی کشمکش ہونے لگتی ہے۔وغیرہ۔ لیکن اس کا نتیجہ بالعموم یہی نکلتا ہے کہ عورتیں دیگر عورتوں کی سماجی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔

عورتیں اور سماجی روایات

عورتوں کو اسلام کے دیئے گئے حقوق کی ادائیگی میں اکثر ہمارے سماج کی روایتیں رکاوٹ بنتی ہیں۔ یہ روایتیں مسلمان سماج پر دیگر سماجوں، مذاہب اور مقامی رواجوں کے اثرات سے تشکیل پائی ہیں اور سماج میں ان کی جڑیں گہری ہیں۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ایسی کسی روایت کو خاطر میں نہ لائیں جو اسلام کی تعلیمات سے متصادم ہو۔اب اس کاشعور عام ہوا ہے اور بہت سے گھروں میں ایسی غلط روایتوں کو ختم کرنے کی کوشش بھی ہوتی ہے لیکن عام طور پر خواتین ان روایات کی بہت بڑی محافظ بن کر سامنے آجاتی ہیں۔ یہ روایتیں، عورت کو پسماندہ اور مظلوم بنائے رکھنے میں اہم رول ادا کرتی ہیں۔

ان روایتوں میں اس وقت سب سے اہم اور تباہ کن روایت شادی بیاہ سے متعلق روایات اور رواج ہیں۔ اسلام نے نکاح کو انتہائی آسان بنایا ہے۔ مرد و عورت کا ایجاب و قبول، مہر کی ادائیگی اور دو گواہوں کی گواہی، نکاح کے لئے کافی ہے۔ نکاح میں عورت یا اس کے خاندان کی جانب سے ایک پیسہ کا بھی خرچ درکارنہیں ہے۔نکاح کی یہ آسانی عورت کی طاقت بڑھاتی ہے۔ اس کی وجہ سے ماں باپ پر لڑکی بوجھ نہیں بن پاتی۔ ہمیشہ لڑکوں کا نہیں بلکہ لڑکیوں کا ڈیمانڈ زیادہ رہتا ہے۔ طلاق عورت کے لئے نہیں مرد کے لئے باعث نقصان ہوتی ہے اور وہ طلاق دینے سے پہلے دس بار سوچنے پر مجبور ہوتا ہے۔ مطلقہ اور بیوہ عورتوں کی شادیاں نہایت آسان ہوجاتی ہیں۔رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کے معاشرے میں ایسی ہی صورت حال تھی۔ آج جو لڑکیوں کی شادی مشکل ہوگئی ہے،لڑکیوں کے ماں باپ کو دب کر رہنا پڑتا ہے اور خود لڑکیاں سسرال میں ہر طرح کے ظلم و استحصال کو برداشت کرتے رہنے پر خود کو مجبور پاتی ہیں، یہ ایک غیر فطری صورت حال ہے اور اس کا بڑا سبب شادیوں کا مشکل ہونا ہے۔

آسان نکاح کی تحریکیں برسہا برس سے چل رہی ہیں۔ لیکن اس راستہ میں اکثر رکاوٹ عورتوں کی جانب سے ہی ہوتی ہے۔ شادی کی روایتوں کو وہ بہت عزیز رکھتی ہیں۔ جہیز دیئے بغیر بیٹی کو رخصت کرنا عار سمجھتی ہیں۔ بیٹے کے سسرال سے مناسب جہیز نہ ملے تو اسے اپنے بیٹے کی اوراپنے خاندان کی توہین سمجھتی ہیں۔یہ ضروری سمجھتی ہیں کہ ان کی بیٹی کی شادی کی دعوت، دیگر رشتہ داروں کی دعوتوں سے زیادہ عالیشان اور بھاری بھر کم ہو۔ عالیشان دعوتوں اور پر تکلف تقاریب سے اپنے جذبات اور ارمان وابستہ کرلیتی ہیں۔بے معنی اور غیر معقول رسوم کوجان سے زیادہ عزیز رکھتی ہیں۔ان باتوں کو ایسا جذباتی مسئلہ بنالیتی ہیں کہ اصلاح پسند مردوں کے لئے بھی اصلاحی اقدامات نہایت دشوار ہوجاتے ہیں۔یہ خواتین یہ نہیں سمجھ پاتیں کہ دو چار دن کے ان غیر معقول جذبات اور ’ارمانوں‘ کی وجہ سے وہ اگلی نسل کی لڑکیوں کی زندگیاں مشکل سے مشکل تر بنارہی ہیں۔ اور اسلامی نکاح کی روح کو ختم کرنے کا ذریعہ اور سبب بن رہی ہیں۔

بیوائیں اور مطلقہ عورتیں ،دیگر عورتوں کے طعنوں کے خوف سے ہی نکاح ثانی سے رکی رہتی ہیں۔ طعنہ دینے والی عورتیں اچھی طرح جانتی ہیں کہ بلند مرتبہ صحابیاتؓ نے اپنے جلیل القدر شوہروں کی رحلت کے بعدبھی نکاح کئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود، ہندوانہ اثرات کی وجہ سے، وہ ایسی شادیوں کوخود بھی معیوب سمجھتی ہیں اور سماج میں ایسے رجحان کو فروغ دیتی ہیں جس کی وجہ سے دیگر بیوائیں ومطلقات بھی اس کی ہمت نہیں کرپاتیں۔ بیواوں اور مطلقات کا نکاح نہ ہوپانا ، یہ بھی آج ہمارے سماج میں عورتوں کی کمزوری کا ایک بڑا سبب ہے۔

عورتوں کی کمزوری کا ایک بڑ ا سبب عورت کو اس کے مالی حقوق سے محروم کرنا ہے۔ اسلام نے عورت کو جو مالی حقوق دیئے ہیں، اس کاتصور بھی جدید معاشروں کے لئے محال ہے۔ اسلام نے عورت کو پورے حقوق دیئے ہیں لیکن کوئی مالی ذمہ داری اس پر نہیںعائد کی ہے۔ اللہ تعالی نے صاف صاف فرمادیا ہے کہ عورت کا مال اس کا اپنا مال ہے۔اس کے شوہر یا سسرالی رشتہ دار کو کوئی حق نہیں کہ وہ زبردستی اس مال کے مالک بننے کی کوشش کریں۔

’’ور جو کچھ اللہ نے تم میں سے کسی کو دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ دیا ہے اس کی تمنا نہ کرو جو کچھ مَردوں نے کمایا ہے اْس کے مطابق ان کا حصہ ہے اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ۔‘‘

بیوی اور شوہر کا مال بھی جدا جدا ہونا اور اپنے اپنے مالک کے تصرف میں ہونا ضروری ہے کہ بہت سے شرعی احکام کا اس پر انحصار ہے۔شوہر کو اپنے مال میں سے زکوۃ کا حساب کرنا ہے اور بیوی کو اپنے مال میں سے۔ شوہر کا مال اس کے انتقال کے بعد اس کے ورثا میں تقسیم ہوگا اور بیوی کا مال اس کے ورثا میں۔ اس لئے اسلام کے مطابق یہ درست نہیں ہے کہ بیوی کا مال شوہر کے مال کے ساتھ مل جائے اور اس کے مال پر بھی شوہر قابض ہوجائے۔مہر بیوی کا مال ہے۔ اس کے شوہر یا ماں باپ کی جانب سے دیئے گئے ہدایا اس کا مال ہیں۔اس کو وراثت میں ملنے والا مال اس کی اپنی ملکیت ہے۔ پھر اگرعورت تجارت یا ملازمت وغیرہ کے ذریعہ مال کماتی ہے تو یہ بھی اس کا حق ہے۔ اوربیوی کا نفقہ اس کے شوہر پر واجب ہے۔ اس طرح اس اسلامی اسکیم میں عورت مالی لحاظ سے بہت طاقتور Empoweredہے۔

ہمارے نظام معاشرت میں عورتوں کے مال پر شوہر اور اس سے آگے بڑھ کر اس کے پورے سسرال کا زبردستی غاصب ہوجانا بہت عام بات ہے۔ جہیز کے طور پر جو کچھ عورت کو ملتا ہے وہ سسرال کی ملکیت سمجھا جاتا ہے۔ ایک دفعہ ایک غیر مسلم لیڈی ڈاکٹر کی رودداد پڑھی تھی کہ اس کی ساری آمدنی روزانہ اس کی ساس لے لیتی ہے، اور صرف پچاس روپے روزانہ اس کے جیب خرچ کے لئے لوٹاتی ہے۔ یہ صورت حال بہت سے مسلم گھرانوں میں بھی پائی جاتی ہے، جہاں کام کرنے والی خواتین سے ُان کی ساسیں اُن کی ساری آمدنی ہتھیالیتی ہیں۔ اس رواج کے ذریعہ صرف وہ اپنی بہووں پر ظلم نہیں کرتیں،اپنی بیٹیوں پر بھی اسی طرح کے رواجی ظلم کی راہیں ہموار کرتی ہیں اور نسل در نسل اس ظلم کے تسلسل کا ذریعہ بنتی ہیں ۔

سب سے بڑا مسئلہ وراثت میں عورت کے حصہ سے متعلق ہے۔ اسلامی قانون کے مطابق ماں، بیٹی اور بیوی کو ہر صورت میں مرنے والے کے مال اور جائیداد سے حصہ ملتا ہے۔ ان کے علاوہ بہت سی صورتوں میں دیگر رشتہ دار خواتین مثلاً بہن،پوتی وغیرہ کو بھی حصہ ملتا ہے۔ شاید آج بھی چند گنے چنے گھرانے ہی ایسے ہوں گے جہاں عورتوں کو یہ حصہ دیا جاتا ہے ۔ قرآن نے وراثت کے احکام کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے اور ان احکام کی خلاف ورزی پر بڑی خوفناک وعید سنائی ہے۔ لیکن اس کے باوجود عورتوں کو وراثت کے مال میں حصہ دینے کا عام رواج دیندار گھرانوں میں بھی نہیں ہوپایا ہے۔ اکثر گھرانوں میںاس ادائیگی میں عورتیں ہی رکاوٹ بنتی ہیں۔ گھرکے بزرگ کے انتقال کے بعد بیوہ ماںکو اس بات سے تکلیف ہوتی ہے کہ اس کے مرحوم شوہر کی جائیداد تقسیم ہو۔ حالانکہ یہ شریعت کا حکم ہے۔ پھر جب تقسیم کا مرحلہ آتا ہے تو بیٹوں کی بیویوں کو یہ پسند نہیں آتا کہ ان کی نندوں کو حصہ دیا جائے وہ حساب لگانا شروع کرتی ہیں کہ کس نند کی شادی پر ان کے میاں نے کتنا خرچ کیا تھا۔ بہت سی بیویوں کو چونکہ ان کے اپنے باپوں سے حصہ نہیں ملا ہوتا ہے اس لئے وہ اس کا انتقام اپنی نندوں کا حصہ مار کر لینا چاہتی ہیں حالانکہ انہیں اپنا حصہ، اپنے بھائیوں سے وصول کرنا چاہیے نہ کہ نندوں کا حصہ ناجائز طور پر۔ یہ مسئلہ اس وقت اور بھی پیچیدہ ہوجاتا ہے جب مرنے والا زرعی زمینیں چھوڑ کر مرے یا ایسا کاروبار چھوڑ کر مرے جس کی یافت خاندان کی کفالت کا ذریعہ ہے۔

وراثت کے احکام شریعت کے احکام ہیں۔ ان کی خلاف ورزی خدا کے غضب کو بھڑکانے کا ذریعہ بن سکتی ہے اور دنیا میں بھی بے برکتی کا سبب بنتی ہے اورآخرت میں بھی عذاب کا۔ جہاں تک ہمارے موضوع کا تعلق ہے ، وراثت کے احکام ، عورت کو مالی استحکام عطا کرتے ہیں۔ اگر عورت کی اپنی کوئی آمدنی نہ بھی ہو تب بھی ، ایک متوسط گھرانے میں خاتون کو ان ذرائع سے اتنا مال مل جاتا ہے کہ اس کوضروری معاشی قوت حاصل ہوجاتی ہے۔ جو عورتیں، اپنے چھوٹے سے وقتی مفاد کے لئے شریعت کے خلاف غلط رواج کو فروغ دیتی ہیں وہ کروڑوں مسلمان عورتوں کو کمزور کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ ان میں سے بہت سی عورتیں بیوگی کی وجہ سے، طلاق کی وجہ سے یا شوہر کے ظلم کی وجہ سیے بے سہارا ہوجاتی ہیں اور ایسی صورت میں ان کے جائز حقوق ان کو نہ ملیں تو نہایت کسمپرسی کی زندگی پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ اس صورت حال کے لئے ہمارے غیر شرعی رواج ذمہ دار ہیں اور یقینا وہ مرد و خواتین بھی ذمہ دار ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے بغاوت کرکے ایسے رواجوں کو فروغ دینے کا ذریعہ بنتے ہیں۔

اسی طرح کا معاملہ معاشرت سے متعلق ان بہت سارے حقوق کا ہے جو اسلام نے عورت کو دیئے ہیں۔

اسلام عورت کو یہ حق دیتا ہے کہ اس کی شادی اس کی مرضی کے خلاف نہ ہو۔ بہت سے گھرانوں میں ماں باپ اسے اپنی انا کا مسئلہ بنالیتے ہیں۔ لڑکی کے جذبات کا بالکل خیال نہیں رکھتے۔ ذات پات، خاندانی معیار وغیرہ کے پیمانوں کو غیرمتوازن اہمیت دیتے ہیں۔ آج بھی ایسے گھرانے موجود ہیں جہاں رشتہ طے کرتے وقت لڑکی سے اس کی رائے تک نہیں لی جاتی۔ گھر میں زور و شور سے شادی کی تیاری ہوتی رہتی ہے اور لڑکی کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ اس کا ہونے والا شوہر کون ہے۔ ایجاب و قبول محض ایک رسم بن جاتی ہے، اس لئے کہ اس موقع پر انکار کرنا یا اپنی رائے دینا لڑکی کے لئے عملاً ممکن نہیں رہتا۔ یہ ماں کی ذمہ داری ہے کہ وہ رشتہ طے کرنے سے پہلے لڑکی سے تفصیل سے بات کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کا دولہا اس کی مرضی سے طے ہو۔

اسلام بیوی کو نان و نفقہ کا حق دیتا ہے۔یعنی اس کے اپنے اور شوہر کے معیار زندگی کے مطابق مناسب سہولتیں اس کو میسر ہوں۔ یہ نہیں کہ بہو کو خادمہ سمجھا جائے اور سارے گھر اور سسرال کی خدمت کا بوجھ اس پر لاد دیا جائے۔اسلام پرائیویسی کا حق دیتا ہے۔ حجاب کو ضروری قراردیتا ہے۔ دیور، جیٹھ ، نندوئی وغیرہ سب غیر محرم رشتہ دار ہیں۔اسلامی معاشرت کا یہ لازمی تقاضہ ہے کہ ان کے سلسلہ میں مناسب فاصلہ کو یقینی بنایا جائے۔مناسب پرائیویسی کے بغیر، ان رشتہ داروں کے ساتھ رہنے پر مجبور کرنا، یا ان کی خدمت پر مجبور کرنا،ان سے بے تکلف ہونے پر مجبور کرنا یا ایسا رہن سہن جس میں ان رشتہ داروں سے مناسب فاصلہ بنائے رکھنا ممکن نہ ہو، یقینا اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اسلام کی ان کی تعلیمات پر عمل ہو تواُن بہت سی خرافات اور مظالم سے بچا جاسکتا ہے جو مقامی معاشروں کے اثرات سے اب مسلمان گھروں میں بھی در آئے ہیں۔عام طور پر گھر کی معاشرت پر گھر کی بزرگ خاتون یعنی ساس کا کنٹرول ہوتا ہے۔ غلط روایتوں کے تحفظ کے لئے بھی وہی ذمہ دار ہوتی ہے۔بہت سی عورتیں اپنے لڑکوں کے درمیان بھائی چارہ اور مستحکم تعلقات کے لئے یہ ضروری سمجھتی ہیں کہ وہ سب اور ان کی بیویاں ایک ہی گھر میں بہت زیادہ بے تکلف بن کر رہیں۔ نہ اسلام اس کی اجازت دیتا ہے اور نہ بھائیوں کے درمیان بھائی چارہ کے لئے یہ ضروری ہے۔ بزرگ خواتین چاہیں توان روایتوں کی اصلاح اور پاکیزہ اسلامی معاشرتی قدروں کا فروغ ان کے لئے مشکل نہیں ہوتا۔

تعلقات کی بہتری اور خواتین

یہ تو حقوق و فرائض کی بحث ہوئی۔ انسانی تعلقات صرف حقوق و فرائض کے قانونی توازن سے مستحکم نہیں ہوسکتے۔ خاص طور پر مضبوط خاندانوں کی بنیاد کے لئے حقوق و فرائض کا توازن بھی ضروری ہے اور اس کے علاوہ، ایک دوسرے کے لئے محبت، احترام، اعتماد، ایثار جیسے جذبات بھی ضروری ہیں۔ خاندانی زندگی میں انتشار کا اصل سبب منفی جذبات ہوتے ہیں۔ایسا انتشار یقینا عورت کو ہی نقصان پہنچاتا ہے اور اس کو کمزور کردیتا ہے۔ مطالعات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اکثر ان منفی جذبات کے فروغ میں بھی خواتین کا رول ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں طلاق کے اکثر واقعات کی پشت پر کسی عورت کا ہی ہاتھ ہوتا ہے ۔ساس اور بہو کے تعلقات تو ہمارے ملک میں ناولوں سے لے کرفلموں اور سیریلوں تک کا پسندیدہ موضوع ہے۔ اکثر ساس اور بہو کے تعلقات ، ماں بیٹے اور شوہر بیوی کے تعلقات پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر ساس سمجھداری سے کام نہ لے تو وہ اپنے بیٹے کی ازدواجی زندگی کو تلخ بنادیتی ہے۔ کبھی وہ خود بیٹے کوطلاق کے لئے مجبور کرتی ہے اور کبھی ایسے حالات پیدا کردیتی ہے، جن کا حتمی نتیجہ شوہر اور بیوی کی جدائی ہی کی صورت میں نکلتا ہے۔ کئی صورتوں میں شوہر کی بہنیں اور دیگر رشتہ دار خواتین بھی طلاق کا سبب بنتی ہیں۔

خاندانی نظام کے انتشار کے ذریعہ عورت کو کمزور کرنے میں صرف ساس اور سسرالی رشتہ داروں کا ہی ہاتھ نہیں ہوتا، خود لڑکی اور اس کی ماں کا بھی بہت سی صورتوں میں بہت خراب رول ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرہ میں ساس ، نند، دیورانی ، جیٹھانی اور دیگر سسرالی رشتہ داروں سے متعلق ایسے غلط تصورات عام ہیں کہ ایک لڑکی اپنے لاشعور میں انہی تصورات کو لے کر سسرال میں قدم رکھتی ہے۔ اگر لاشعور میں ان رشتوں کی کوئی خاص تصویر نقش ہوجائے تو رویوں پر اس کا اثر لازما ًپڑتا ہے۔ وہ ہر سسرالی رشتہ دار کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ ان کی معمولی ناراضگی میں بھی اسے ظلم اور زیادتی کا احساس ہونے لگتا ہے۔ ہر معاملہ میں وہ سسرال اور میکہ کے درمیان فرق کرنے کی عادی ہوجاتی ہے۔ ایسے رویوں سے تلخیوں کا پیدا ہونا فطری ہے۔ اور اکثر لاشعور کے یہ نقوش مائیں اُ س روز مرہ کی گفتگو کے ذریعہ بناتی ہیں جو وہ اپنے گھروں میں کرتی رہتی ہیں۔ ماں خود اپنے سسرال اور سسرالی رشتہ داروں کے تئیں ہمیشہ منفی باتوں کا اظہار کرتی رہے یا چن چن کر ایسے گھرانوں کا ذکر کرتی رہے جہاں سسرال والے ظالم ہیں تو کم عمر لڑکی کا نوخیز ذہن، سسرال کے بارے میں کچھ خاص تصورات پیدا کرلے گا۔ یہ تصورات، اُ س معصوم لڑکی کو نئی زندگی کے چیلنجوں کے لئے نااہل بنادے گا۔ اس کی جذباتی ذہانت کم ہوجائے گی۔ پھر وہ سسرال میں جائے گی تو اس کی منفی سوچ پورے ماحول کو تلخ بنادے گی۔ جذباتی ذہانت کی کمی آدمی کو کمزور vulnerableبنادیتی ہے۔ سسرال والے بھی سمجھد ار نہ ہوں تو پھر تلخیاں بڑھتی ہیں اور نتیجہ یا تو علیحدگی کی صورت میں نکلتا ہے یا مظالم کی صورت میں۔

اگر خواتین اسلام کی تعلیمات کو اپنے گھروں میں نافذ کرنے کے لئے کمربستہ ہوجائیں اور یہ طئے کرلیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے مقابلہ میں نہ ریت رواجوں کو خاطر میں لائیں گی نہ اپنے تنگ نظر وقتی مفادات کو، تو خود بخود صورت حال بدلے گی۔ اور یہی خواتین کی ذمہ داری ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک مشہور حدیث میں فرمایاہے۔ (تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور اپنے زیر نگرانی کے سلسلہ میں جواب دہ ہے) آپ نے اس حدیث میں دیگر لوگوں کے تذکرہ کے ساتھ ساتھ یہ بھی فرمایا ہے کہ و المرأۃ راعیۃ علٰی بیت بعلہاوولدہ و ھی مسئولۃ عنھم (یعنی عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں کی نگران ہے اور ان کے سلسلہ میں جواب دہ ہے) اس لئے اگر کوئی خاتون گھر کی ذمہ دار ہے تو اس گھر میں صحیح روایتوں اور پاکیزہ اسلامی معاشرت کے فروغ کی وہ ذمہ دار ہے اور اس ذمہ داری کے سلسلہ میں وہ اللہ کے سامنے جواب دہ ہے۔

آج الحمد للہ ایسی خواتین کی بھی کمی نہیں ہے جو اس صورت حال کو بدلنے میں اہم رول ادا کررہی ہیں۔ ماؤں جیسی شفقت لٹانے والی ساسیں بھی موجود ہیں۔ میں ایسی کئی بزرگ خواتین کو جانتی ہوں جنہوں نے تن تنہا پورے خاندان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ بیٹیوں کا وراثت میں حصہ ادا کریں۔جنہوں نے اپنے خاندانوں سے غلط رسوم و رواج ختم کئے۔شادیوں کو آسان بنایا۔ اپنے گھرکے رہن سہن اور طور طریقوں کو شریعت کی تعلیمات کے مطابق تبدیل کیا۔ یہ مثالیں عام ہوں اور خواتین، شریعت پر عمل کا بیڑا اٹھا کر آگے بڑھیں توہمارے گھر اور خاندان ان شاء اللہ، دنیا میں جنت کے نمونے بنیں گے اور عورت کو اس کا وہ حقیقی اور متوازن مقام ملے گا جو اسلام نے دیا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر نازنین سعادت

تبصرہ کیجیے