4

فیملی کونسلنگ اور تنازعات کے حل میں عورت کا کردار

ہم سب کے لئے جس طرح اچھی صحت بہت ضروری ہے اسی طرح صحت مند سوچ اور مثبت اور تعمیری جذبات بھی بہت ضروری ہیں۔ منفی جذبات اور منفی سوچ سے ہماری زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ہم ایسے کئی لوگوں کو جانتے ہیں جن کو اللہ نے سب کچھ دے رکھا ہے۔ مال و دولت، صحت، عزت، سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ان کی زندگیوں میں سکون نہیں ہے۔ رات کو نیند نہیں آتی، مستقل بے چینی و پریشانی لاحق رہتی ہے۔ یہ بہت بڑا عذاب ہے کہ آدمی کے پاس سب کچھ ہو لیکن وہ ان نعتوں کا لطف نہ لے سکے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ اصل دولت دل کی دولت ہے۔ آدمی کے اندر توکل اور غنا، جیسی صفات ہوں تو وہ مشکلات میں بھی خوش و خرم رہتا ہے۔جبکہ منفی جذبات زندگی کو جہنم بنادیتے ہیں۔ منفی جذبات سے نہ صرف ہماری زندگی خراب ہوتی ہے بلکہ ہمارے ساتھ رہنے والے دیگر لوگوں کی زندگیاںبھی اجیرن ہوجاتی ہیں ۔

ان جذبات پر اکثر انسان کو کنٹرول نہیں رہتا۔ان کا سرچشمہ انسان کا لاشعور ہوتا ہے۔ اور ہم اس سلسلہ مضامین میں متعدد بار بتا چکے ہیں کہ لاشعور کی تشکیل انسان کے تجربات و مشاہدات کے ذریعہ ہوتی ہے۔اور نئے تجربات و مشاہدات کے ذریعہ اس میں تبدیلی بھی لائی جاسکتی ہے۔ایک اچھا کونسلر وہ ہوتا ہے جو لاشعور کو مثبت تجربات سے گذارے اور صورت حال کا دوسرا رخ دکھا کر’دل کی دولت‘ سے مریض کو مالا مال کردے۔

کونسلنگ کے پروفیشل طریقوں پر اس سے پہلے ہم گفتگو کرچکے ہیں۔ زمانہ قدیم میں گھر کے بڑے بزرگ اور خاص طور پر خواتین یہ رول ادا کرتی تھیں۔ نانیاں اور دادیاں نہ صرف گھریلو ٹوٹکوں سے روزمرہ کی عام جسمانی بیماریوں کا علاج کردیتی تھیں بلکہ نفیساتی مسائل بھی حل کردیا کرتی تھیں۔قصے کہانیوں کے ذریعہ، کہاوتوں کے ذریعہ، خود اپنے تجربات بیان کرکے وہ زندگی کا مثبت تصور پید اکرتی تھیں اور حالات و مسائل سے مقابلہ کے گر سکھاتی تھیں۔

اس روایتی رول کی آج بھی ضرورت ہے۔ پروفیشنل کونسلر کا مرحلہ تو اس وقت درپیش ہوتا ہے جب مسئلہ زیادہ پیچیدہ ہوجائے۔ روز مرہ کے عام مسائل میں آدمی جذباتی سپورٹ کے لئے اپنے چاہنے والوں اور قریبی لوگوں ہی پر منحصر ہوتا ہے۔ بیٹے کے لئے اس کی بہترین کونسلر اس کی ماں ہوتی ہے۔بیوی ، شوہر کی دکھ سکھ کی ساتھی، اس کی اہم ترین رفیق اور اس کے لئے سب سے اہم جذباتی سہارا ہوتی ہے۔ بہنیں بھی اپنے بھائیوں کے لئے بھی بہت اہمیت رکھتی ہیں۔کبھی بیٹیاں اور بہوئیں بھی اپنے باپ اور خسر کے مسائل حل کردیتی ہیں۔اسی طرح ساس، نانی ، یہ سب خواتین اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کے مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کو صرف حیاتیاتی فرق کے ساتھ پیدا نہیں کیا بلکہ ان کے درمیان زبردست نفسیاتی او ر جذباتی فرق بھی رکھے ہیں۔ عورت کی نرم و نازک شخصیت اور اس کے لطیف جذبات کا اہم تمدنی رول بھی ہے۔ جذباتی تسکین اور علاج کا جو کام عورت کرسکتی ہے، وہ مرد نہیں کرسکتا۔اس کے دو بول، ایک مسکراہٹ اور کبھی چند آنسوگہرے جذباتی زخموں کو چند لمحوں میں مندمل کردیتے ہیں۔ لاشعور کو بدلنے میں ایک خاتون بہت اہم رول ادا کرسکتی ہے۔ وہ اگر اچھے اور امید افزا مناظر دکھائے تو اسے دیکھنا آدمی کے لئے آسان تر ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پروفیشنل کونسلنگ میں بھی خواتین زیادہ کامیاب ہوتی ہیں۔ ایک قریبی رشتہ دار خاتون ، جس سے محبت کا تعلق ہو وہ بہت سے ایسے کام انجام دے سکتی ہے جو پروفیشنل کونسلر نہیں کرسکتی۔

کونسلنگ کی ضرورت کب درپیش ہوتی ہے؟

کونسلنگ کی ضرورت عام طور پر نفسیاتی اور جذباتی مسائل میں پڑتی ہے۔ یہ مسائل کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ بعض مسائل وہ ہیں جنہیں باقاعدہ بیماری (Disorder)کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ تناؤ (Stress)پریشانی (Anxiety) دو قطبیت (BPD)سزوفرینیا، خوف(Phobias)، الزائمر، جنون و دیوانگی، دورے، وغیرہ بیماریاں ہیں ۔ ان کے علاج کے لئے اکثر دواؤں کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ان امراض کا علاج صرف گھریلو کونسلنگ سے ممکن نہیں ہے بلکہ پروفیشنل کونسلر یا ڈاکٹر کے مشورہ سے اور اس کی نگرانی میں ، ان کے علاج کے لئے گھر کے لوگوں کو بھی اہم رول ادا کرنا پڑتا ہے۔ عام طور پر ایسے امراض میں ڈاکٹرز قریبی رشتہ داروں سے بھی بات کرتے ہیں اور ان کو بھی بہت سے مشورے دیتے ہیں۔ علاج اور دوائیں تو ڈاکٹر دے گا لیکن اس کے مشورہ سے گھر پر مستقل کیئر اور مریض کو جذباتی سپورٹ فراہم کرنے کا کام گھر کی خواتین ہی کو کرنا پڑتا ہے۔ سب سے اہم رول بیوی کا ہوتا ہے۔ اس کے بعد بیٹیاں، بہوئیں اور دیگر رشتہ دار خواتین بھی اہم رول ادا کرتی ہیں۔ ان خواتین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ڈاکٹر سے تفصیل سے بات کریں۔ اپنے رول کو اچھی طرح سمجھیں۔ کس صورت حال سے کیسے نبٹنا ہے اور کن حالات میں کیا کرنا ہے؟ اس کو اچھی طرح سمجھ کر ذہانت کے ساتھ اس کو روبہ عمل لائیں۔

مسائل کی دوسری قسم وہ ہے جو عام صحت مند لوگوں کو درپیش ہوتے ہیں۔مایوسی، غصہ میں شدت،غم، موڈمیں تبدیلی، منفی خیالات و رجحانات، اعتماد کی کمی، احساس جرم، موہوم اندیشے ، توہمات، شک، چڑچڑاپن، غیر مستقل مزاجی، حسد و جلن، بوریت، احساس محرومی، احساس ذلت و توہین، نفرت،بے بسی، دل شکستگی، تذبذب، احساس تنہائی،شرم، بچوں کی تعلیم میں دلچسپی میں کمی، سیکھنے کی رفتار کا سست پڑجانا و غیرہ وغیرہ درجنوں منفی کیفیات ہیں جن میں کونسلنگ اور جذباتی سہارے کی ضرورت درپیش ہوتی ہے۔ہر شخص کی زندگی میں ایسے واقعات پیش آتے ہیں جو ان احساسات کو جنم دیتے ہیں۔ان واقعات میں صحت کی خرابی یا بیماری سب سے اہم ہے۔بیماری میں مریض کو اگر نفسیاتی مدد مل جائے تو اس بیماری کو قبول کرنے اور اس سے لڑنے میں اسے کافی مدد مل سکتی ہے ۔اسی طرح کسی عزیز کی موت یا بیماری،تجارت یا پیشہ وارانہ زندگی میں کسی بڑے خسارہ یا ناکامی سے دوچار ہوجائے، اس سے کوئی جرم، کسی پر ظلم یا ناانصافی یا گناہ سرزد ہوجائے، کوئی الزام لگے یا بدنامی ہوجائے، کسی قریبی شخص کے ذریعہ اعتماد مجروح ہوجائے،کوئی حادثہ ہوجائے یا کسی بڑے حادثہ کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھے، اس طرح کی دسیوں صورتیں ہیں جو آدمی کو وقتی طور پر شدید نفسیاتی مسائل سے دوچار کرسکتی ہیں۔لت یا نشہ، کسی کے ذریعہ ستائے جانے کا معاملہ، مقدمات، تنازعات او ر سب سے بڑھ کر ازدواجی اور خاندانی تنازعات میں آدمی کو کونسلنگ اور جذباتی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔

بچوں کی کونسلنگ

عورت ماں کے روپ میں ایک بہترین کونسلر ہوتی ہے ۔ اکثر کامیاب لوگ اپنی کامیابی کا سہرا اپنی ماں کے ہی سر باندھتے ہیں۔ ماں کی گود ہی بچہ کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے۔ اگر ماں سمجھدار اور سلجھی ہوئی شخصیت کی مالک ہو تو وہ اپنے بچے کی زندگی خوشیوں اور کامیابیوں سے معمورکرسکتی ہے ۔ ماں کالمس اور مسکراہٹ ایک ننھے منے بچے کے لیے بہت اہم ہوتا ہے ماں کوچاہئے کہ وہ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت اس معصوم بچے کے ساتھ گزارے تاکہ اسے تحفظ کا احساس بھی ہو اور وہ خوشی بھی محسوس کریں۔ چھوٹے بچوں کے لئے ماں کا قرب ہی ان کی جذباتی تسکین کے لئے کافی ہوتا ہے۔بچہ چاہے بڑا بھی ہو جائے اور اسکول جانا بھی شروع کردے اسے آپکا لمس ضرور ملے۔اپنے بچے کو اپنے گلے سے ضرور لگائیں ۔ریسرچ کہتی ہے کہ جب بچہ اپنی ماں کی آغوش میں آتا ہے تو اسکی تکلیف، غم، پریشانی سب ختم ہوجاتی ہے۔

اسکول جانے والے بچے کے سلسلہ میں ضروری ہے کہ اس کے مسائل سنے جائیں۔ ماں کا خاموشی اور توجہ کے ساتھ مسائل کا سننا ہی بچہ کو غیر معمولی جذباتی طمانیت اور طاقت فراہم کرتا ہے۔

اگر کسی نوجوان یا کا میاب انسان سے اس کی رہنمائی کرنے والی شخصیت کے تعلق سے پوچھیں تو وہ یہ ضرور بتائے گا کہ وہ آج ضرور جوان اور کامیاب شخصیت ہے لیکن جب بھی اسے ضرورت پڑے وہ اپنی مہربان ماں سے گائیڈئنس لینے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا کیوں کہ ماں اپنے بچوں کے لئے بہترین رول ماڈل کا کام کر سکتی اور ان کی ہمت افزائی کر سکتی ہے ۔ ماں اپنے بچے کا ذہن پڑھنا بہ خوبی جانتی ہے اپنے بچے کے درد کا، خوشی کا اسے خود بخود پتہ چل جاتا ہے۔

سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ بچوں کے لاشعور کی صحیح تربیت کی جائے ۔ ان کو اچھا دیکھنے، اچھا سننے اور مثبت طریقہ سے سوچنے کا عادی بنایا جائے۔ ان شاء اللہ ہم آئندہ بچوں کی نفسیاتی تربیت پر تفصیل سے لکھیں گے۔ یہاں صرف یہ بات عرض کرنی ہے کہ ماں اگر اپنے بچے کے مسائل میں دلچسپی لے، اس کی باتیں توجہ سے سنے اور اس کی رہنمائی کرے تو ماں سے بہتر اس کے لئے کوئی کونسلر نہیں ہوسکتی۔

ازدواجی تنازعات میں کونسلنگ

اللہ تعالی نے ازدواجی تنازعات کا حل یہ بتا یا ہے کہ پہلے میاں ، بیوی آپس میں اپنے تنازعات کو خوشدلی کے ساتھ اور ایک دوسرے سے عفو و درگذر کرتے ہوئے، حل کرلیں اور ایسا نہ ہو سکے توکسی تیسرے فریق کی مدد لیں جسے قرآن میں تحکیم کا اصول کہا جاتا ہے۔ وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِھِمَا فَابْعَثُوْا حَکَمًا مِّنْ اَھْلِہٖ وَ حَکَمًا مِّنْ اَھْلِھَا اِنْ یُّرِیْدَآ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰہُ بَیْنَھُمَا (اور اگر تم کو میاں اور بیوی کے درمیان تعلقات بگڑجانے کا اندیشہ ہو تو ایک حکم مرد کے رشتہ داروں مین سے اور ایک عورت کے رشتہ داروں میں سے مقرر کرد وہ دونوں اصلاح کرنا چاہیں تو اللہ موافقت کی صورت نکال دے گا۔

تحکیم کا یہ کام عام طور پر میاں بیوی کے رشتہ دار کرتے ہیں۔ گھر کی خواتین کو یہ فن آنا چاہیے کہ وہ اپنے عزیزوں کے ازداجی تنازعات کو خوش اسلوبی سے حل کرسکیں۔ کونسلنگ کے اس کام کے لئے ضروری ہے کہ ہم اسلام اور اسلامی شریعت سے بھی اچھی طرح واقف ہوں اورکونسلنگ کے جدید فنون کی بھی معلومات رکھیں۔ اکثر تنازعات کا سبب لاشعور اور اس کے نتیجہ میں بننے والا خاکہ ہوتا ہے۔ شوہر اور بیوی ایک ہی مسئلہ کو دو الگ طریقوں سے دیکھتے ہیں۔ یہ ٹکراؤ ان کے درمیان تصادم کا سبب بنتا ہے۔ اسی طرح کمیونکیشن کی خرابی اختلافات کا سبب بنتی ہے۔

کونسلنگ کرنے والی خواتین اگر یہ صلاحیت پیدا کریں کہ وہ میاں اور بیوی سے بات کرکے مسئلہ کی جڑ کو ان کے لاشعور میں تلاش کرسکیں تو بہت سے مسائل آسانی سے حل ہوسکتے ہیں۔ اس موضوع پر ہم نے اپنے مضمون ازدواجی تنازعات اور کونسلنگ میں تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ اس میں ہم نے درج ذیل مرحلے گنائے تھے۔ ان کو دہرادینا ، اس مضمون کی مناسبت سے بھی مناسب ہوگا۔

۱- پہلے تنازعہ کے اسباب کو سنیے۔ شوہر اور بیوی سے الگ الگ بھی سنیے اور دونوں کو ایک ساتھ بٹھا کر بھی سنیئے۔ سمجھنے کی کوشش کیجئے کہ اصل مسئلہ کیا ہے؟

۲۔ ان تصورات کو سمجھنے کی کوشش کیجئے جو دونوں کے دماغوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اگر کوئی غلط تصور کسی غلط رویہ کا سبب بن رہا ہے تو واقعات، مثالوں وغیرہ کے ذریعہ انہیں چیلنج کیجئے اور نئے حقیقت پسند تصورات ذہن نشین کرایئے۔مثلاً اگر بیوی کے ذہن میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ ہر ساس ظالم ہوتی ہے تو اسے اچھی ساسوں کی دسیوں مثالیں سنایئے اور کوشش کیجئے کہ اس کا تصور صحیح ہوجائے۔یہ کام ایک ماہر کونسلر متعلقہ فرد ہی کے ذریعہ کراتا ہے۔ یعنی کونسلر کی رہنمائی میں بیوی خود ایسی مثالوں کو یاد کرتی ہے، اپنے غلط تصور کو چیلنج کرتی ہے اور اس کے ذہن میں مثبت تبدیلی واقع ہوجاتی ہے۔

۳- خوشگوار دنوں کی یاد اور تجربہ کو تازہ کرایئے۔ یہ تنازعات کے حل اور شوہر ، بیوی کے درمیان نفسیاتی دور ی ختم کرنے کا آسان طریقہ ہے۔ اگر شوہر اور بیوی کے درمیان کبھی بہت اچھے تعلقات رہے ہوں، تو ان یادوں کو تازہ کرنے کا موقع دیجئے۔ انہیں ان لمحات میں لے کر جایئے۔ این ایل پی وغیرہ میں ایسی یادوں کو تازہ کراکے اینکر کرتے ہیں۔ یہ خوشگوار یادیں بہت بڑی طاقت ہوتی ہے جس سے رشتوں کی دراڑ اور تعلقات کے زخموں کو آسانی سے مندمل کیا جاسکتا ہے۔ ایک اچھا کونسلرشوہر اور بیوی کو ان لمحات میں پہنچادیتا ہے جب وہ ایک دوسرے پر جان چھڑکتے تھے۔

۴- ایک دوسرے کی خوبیوں اور احسانات کو یاد کرنا اور انہیں ذہن میں تازہ کرانا بھی ایک موثر نفسیاتی حربہ ہے۔ کونسلر سوالات کی مدد سے شوہر کے ذہن میں بیوی کی تمام خوبیوں کو تازہ کرائے۔ ہر وہ خوبی جسے اس نے کبھی پسند کیا ہو، چاہے اس کا تعلق اس کے مزاج و رویہ سے ہو یا حسن و خوبصورتی سے، شوہر کے تئیں اس کی محبت اور خلوص سے ہو یا کسی صلاحیت و لیاقت سے، ہر اچھی چیز کو وہ یاد کرے۔

۵- جو رویے اور خامیاں تعلقات میں خرابی کا سبب بن رہے ہیں، ان کی عام طور پر تین قسمیں ہوتی ہیں۔

کچھ تو وہ باتیں ہوتی ہیں جو غلط مفروضوں یا غلط تصورات کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ ان کا ذکر اوپر آگیا ہے۔ لاشعور کی تربیت کے ذریعہ انہیں بدلا جاسکتا ہے۔

کچھ مزاج کی مستقل کمزوریاں ہوتی ہیں۔ کوئی شوہر سست مزاج ہے۔ کوئی بیوی بہت باتونی ہے، ایسی کمزوریاں اگر تعلقات کو خراب کرنے کا سبب بن رہی ہیں تو ان کمزوریوں کو دور کرنا تو فوری ممکن نہیں ہوتا۔ ان کے سلسلہ میں قرآن کی ہدایت یہ ہے کہ فَاِنْ کَرِھْتُمُوْھُنَّ فَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّیَجْعَلَ اللّٰہُ فِیْہِ خَیْرًا کَثِیْرًا (اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو)۔ یہی رویہ کونسلر کو بھی اختیار کرنا چاہیے۔ اسے متعلقہ شوہر یا بیوی کے ذہن کو اس مقصد کے لیے تیار کرنا چاہیے کہ وہ اس کمزوری کو نظر انداز کریاور بھلادے۔ ذہن سے اس کو مٹادینے کے نفسیاتی طریقے موجود ہیں۔ ان طریقوں کا استعمال کرکے اسے مٹادینا چاہیے۔ اورکوشش کرنا چاہیے کہ ذہن بیوی یا شوہر کی شخصیت کے دیگر مثبت پہلوؤں پر متوجہ ہوجائے۔

۶- ان سارے مراحل کے بعد کونسلر کو اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ دونوں مطلوب بہتر مستقبل کے کسی خاکہ پر متفق ہوجائیں۔ دونوں ایک دوسرے سے اپنی توقعات لکھیں۔ کونسلر کوشش کرے کہ یہ توقعات کم سے کم ہوں اور قابل عمل اورحقیقت پسند ہوں۔ ان توقعات کی تکمیل کے منصوبہ پر بھی دونوں متفق ہوجائیں۔ کونسلر ان توقعات اور مستقبل کے مطلوب خاکہ کے سلسلہ میں دونوں کے ذہنوں کو تیار کرے۔

پریشانیوں اور مسائل میں کونسلنگ

یہ بات ہم بار بار لکھ رہے ہیں کہ ہمارے اکثر جذباتی مسائل ہمارے لاشعور کی وجہ سے ہوتے ہیں۔لاشعورکو بنانے والا شعور ہوتاہے۔ ہم کوئی کام شعور کے ساتھ بار بار کرتے ہیں تو وہ لاشعور کا حصہ بن جاتا ہے۔ ہم شعور کے ساتھ بار بار غصہ کرتے ہیں، یہاں تک کہ غصہ اور چڑ چڑے پن پر ہمارا کنٹرول باقی نہیں رہتا۔ہم کسی مسئلہ پر بہت زیادہ سوچتے ہیں اور اسے اپنے لئے ایک بڑی رکاوٹ سمجھنے لگتے ہیں تو وہ واقعی ایک رکاوٹ Limiting beliefبن جاتا ہے۔ان رکاوٹوں کو ہم پہچان لیں اور لاشعور کو بدلیں تو ہم خود کو بدل سکتے ہیں۔ لاشعور کو بدلنے کے لئے شعوری کوشش کرنی پڑتی ہے۔اللہ نے ہمیں وہ دماغ بھی دیا ہے جو مثبت چیزوں کو دیکھتا ہے اور وہ دماغ بھی دیا ہے، جو منفی چیزوں کو دیکھتا ہے۔ وہ دماغ بھی دیا ہے جو مسائل کو دیکھتا ہے اور ان کی گھمبیرتا کو محسوس کرتا ہے اور وہ دماغ بھی دیا ہے جو حل پر غور کرتا ہے۔یہ ہم پر منحصر ہوتا ہے کہ ہم کس دماغ سے زیادہ کام لیتی ہیں؟ بہت سے لوگ صرف پرابلمز پر بات کرتے ہیں۔ ساس کے مسائل، بچوں کی نافرمانیاں، میاں کی لاپرواہی، ٹریفک کا مسئلہ، موسم کی شدت، دنیا کی بد امنی، پلمبر کا ٹائم پر نہ آنا، الیکٹریشین کا زیادہ فیس چارج کرنا، بچوں کے اسکول کی خرابی، پڑوسی کا گندگی پھیلانا، فروٹس میں پہلے جیسے مزہ کا نہ ہونا، دودھ میں ملاوٹ، لائٹ کا بار بار جانا، صحت کی خرابی، نیند کا نہ آنا وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔ان میں سے بعض مسائل ہمارے کنٹرول کے باہر ہیں ان پر غیر ضروری بحث سے کیا حاصل؟ بعض مسائل ہمارے کنٹرول میں ہیں ان پر بھی بجائے کنٹرول کرنے کے ان کا ذکر کرنے اور بحث کرنے سے کیا حاصل؟ صرف مسائل کی تکرار اور ان سے منفی توانائی لینا اور اپنی طبعیت اور موڈ کو خراب کرنا، ایک نفسیات ہے۔ دماغ کے تنقیدی حصہ سے زیادہ کام لینے کا نتیجہ ہے۔اس کے مقابلہ میں دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ہم نتیجہ پر نظر رکھیں۔ ہم سوچیں کہ ہم کیا چاہتے ہیں؟ اور جو چاہتے ہیں۔ اس کو حاصل کرنے کی فکر کریں۔گھر کی خواتین کا بحیثیت کونسلر رول یہ ہے کہ وہ اس نتیجہ پر مرکوز سوچ کے لئے لوگوں کو تیار کریں۔ اگر آپ کے میاں ہمیشہ پریشان رہتے ہیں تو دیکھیں کہ ان کی پریشانی کا سبب ان کی کونسی سوچ ہے۔ اس سوچ کو مثبت اور حل پر مرکوز Solution Oriented رخ دیں۔ یہی مسئلہ کا حل ہے۔آپ کے میاں کڑھنا، جھنجلانا، غم کرنا، تقدیر کا ماتم کرنا چھوڑیں۔ جو چیز بدل سکتے ہیں اسے بدلنے کی جدوجہد کریں۔ جسے بدلنا ممکن نہ ہو اسے قبول کرلیں۔اور قبول کرکے یہ دیکھیں کہ ان حالات میں کیا کرسکتے ہیں۔ مسائل پر سوچنا چھوڑدیں۔مسائل کے حل پر سوچیں ۔

کونسلنگ نہیں کوچنگ

گھر کی خواتین کو کونسلنگ سے زیادہ کوچنگ کا کام کرنا چاہیے۔ کوچنگ میں اہدافoutcomesپر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔ اپنے بچوں اور میاں اور دیگر لوگوں کی مدد کیجئے کہ وہ اپنے لئے اہداف متعین کریں۔یہ اہداف زندگی کو بہتر بنانے سے متعلق ہوں۔ ان کا تعلق مزاج میں کسی تبدیلی سے متعلق ہوسکتا ہے، جذباتی صحت کو بہتر بنانے سے متعلق ہوسکتا ہے، عادتوں پر قابو پانے سے متعلق ہوسکتا ہے۔بیوی سے ، بچوں سے یا کسی اور انسان سے تعلقات کو بہتر بنانے سے متعلق ہوسکتا ہے۔ غرضیکہ زندگی کو بہتر بنانے سے متعلق کوئی بھی ہدف ہوسکتا ہے۔ آپ ہداف کی تعیین میں مدد کریں اور انہیں حاصل کرنے کی منصوبہ بند کوشش میں بھی مدد کریں۔ مثلاً سگریٹ نوشی کی عادت ترک کرنے کا ہدف، غصہ پر کنٹرول کا ہدف، خود اعتمادی کے ساتھ اسٹیج پر پرفارم کرنے کاہدف، شوہر یا بیوی کے ساتھ لڑائی جھگڑوں کوختم کرنے کا ہدف و غیرہ۔ کو نسلنگ میں زیادہ تر توجہ ماضی کے زخموں کو مندمل کرنے پر ہوتی ہے جبکہ کوچنگ میں مستقبل کو بہتر بنانے پر۔

اس طرح خواتین چاہیں تو وہ اپنے رشتہ داروں کو اپنی سمجھ داری اور سوجھ بوجھ سے زندگی کی مشکل جذباتی الجھنوں کو حل کرنے میں ان کی مدد کرسکتی ہیں اور ان کی زندگی کو خوشیوں کا گہوارہ بناسکتی ہیں۔ اس مضمون میں ہم نے صرف اس موضوع کے ضروری پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ جو بہنیں اس ضرورت کو سمجھتی ہیں ان کو ہمارا مشورہ ہے کہ وہ ہمارے اس کام کے تمام مضامین کو پڑھیں تو مختلف مسائل میں یہ کام کیسے کیا جاسکتا ہے، اس کی تفصیلی رہنمائی ان شاء اللہ ملے گی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر نازنین سعادت

تبصرہ کیجیے