5

صحت و صفائی کے فروغ

جہاں ہر شخص کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کا گھر خوب صورت، پرسکون اور صحت مند رہے وہیں ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ وہ جس علاقہ میں رہتا ہے وہ بھی مثالی ہو۔ لیکن آج کے دور میں یہ محض ایک خواہش ہی رہ گئی ہے کہ ’’ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے اپنے نظام کے مطابق ہمیں ایک صاف ستھرا اور صحت مند ماحول دیا ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک تحفہ ہے مگر ہم نے اپنی کوتاہیوں اور عدم احتیاط کے ذریعے گندہ اور غیر صحت مند بنا دیا ہے یا ہم بنا دیتے ہیں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اگر ہم چاہیں تو اپنے علاقے کو انفرادی آگہی اور منظم کوششوں سے صاف ستھرا ور صحت کے لیے موزوں ترین بنا سکتے ہیں۔ ہمارے یہاں بہت سے لوگ غیر صحت مند ماحول میں رہائش پذیر ہیں اور غیر معیاری طرزِ زندگی اپناتے ہیں جو نہ صرف بیماریوں کا سبب بنتا ہے بلکہ یہ صحت کے مسائل کو شدید اور سنگین بھی بناتا ہے۔

کسی بھی رہائشی علاقے یا ان میں رہنے والے افراد کو ہم عام طور پر تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔

۱- پوش ایریا: جہاں سماجی تقسیم کے مطابق اونچے طبقے کے لوگ رہتے ہیں۔ یہاں بڑے اور خوب صورت گھر ہوتے ہیں جو بڑے رقبہ پر پھیلے ہوتے ہیں۔ صاف ستھری سڑکیں ہوتی ہیں اور ہریالی نظر آتی ہے۔ اس طرح کا ایریا شہر کا بہت چھوٹا سا حصہ ہوتا ہے لیکن ہوتا ضرور ہے اور یہاں آلودگی کا مسئلہ، کچرے، گندگی کا مسئلہ اتنا نہیں ہوتا جتنا شہر کے دوسرے علاقوں میں ہوتا ہے۔

۲- مڈل کلاس فیملز کے علاقے میں عام قسم کے لوگ رہتے ہیں۔

۳- کچی پکی آبادیوں والے علاقے جہاں غریب اور سماج کے پسماندہ سمجھے جانے والے لوگ رہتے ہیں۔ ان کے نزدیک صرف پیٹ اہمیت رکھتا ہے۔ صحت کی بات ان کے نزدیک مالدار لوگوں کے سوچنے کی چیز ہے۔ حقیقت میں ایسے ہی لوگوں کو اس سلسلے میں بیدار اور باشعور بنانے کی ضرورت ہے اور یہی لوگ ہماری توجہ کے زیادہ حق دار ہیں۔

ہم اپنے گھر کو چاہے کتنا ہی صاف کیوں نہ کرلیں لیکن اگر ہم ایک ایسے علاقہ میں رہائش پذیر ہیں جہاں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر ہوں، جمع شدہ پانی ہو، دھول، دھواں اور گندگی ہو تو پھر ہمارے گھر میں ہر چند گھنٹوں بعد دھول جم جائے گی اور مچھر اور مکھیوں کی بہتات ہوجائے گی۔ اسی لیے جہاں ہم اپنے گھر کی صفائی اور صحت پر توجہ دے رہے ہیں وہیں ہمیں اپنے آس پاس کے علاقے میں بھی صحت و صفائی کے فروغ پر کام کرنا ہوگا۔

یہ بات قابل غور ہے کہ غیر صحت مند ماحول اور غیر معیاری طرزِ زندگی کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل اور بیماریوں سے ہندوستان میں سب سے زیادہ اموات ہوتی ہیں۔ حقیقت میں غیر صحت مند ماحول خطرناک اور جان لیوا بیماریوں مثلاً ٹی بی، دمہ، پھیپھڑوں کے کینسر اور سانس کی بیماریوں، مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں، مثلا ملیریا اور ڈینگی وغیرہ کے فروغ کا ذریعہ بنتا ہے۔

اکثر دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ ہم اپنے طور پر یہ سوچ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ایک ہمارے چاہنے سے کیا ہوگا؟ اب ہم تو اپنا کام کرلیں گے لیکن اس سے سارا محلہ یا سارا علاقہ تھوڑے ہی صاف ہوجائے گا۔ اگر ایسا ہے تو میں بتاؤں کہ یہی سوچ آپ کے محلے اور آپ کے علاقے کے تقریباً ہر فرد کی ہوگی۔ گندگی، غلاظت، کچرے کا ڈھیر، دھول دھواں، مچھر مکھیاں، چاروں طرف پھیلی عجیب سی بدبو اس سے ہر کوئی بیزار ہوتا ہے اور ہر کوئی اس سے چھٹکارہ پانا چاہتا ہے لیکن ہر کوئی یہی سوچتا ہے کہ میرے اکیلے کے چاہنے سے کیا ہوگا۔ اس لیے اس سوچ کو ختم کر کے ہمیں باشعور ہونا ہوگا اور دوسرو ں کو بھی یہی سمجھانا ہوگا۔ اگر ہماری اپنی سوچ اس سلسلے میں تبدیل ہوجائے اور ہم سماج میں صحت و صفائی سے متعلق بیداری کے لیے کام کریں تو گلی محلوں کی صورت تبدیل ہوسکتی ہے۔ مگر اس کے لیے حرکت و عمل اور ایک اجتماعی سوچ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا دین ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ پاکی و صفائی آدھا ایمان ہے اور اگر ہم اس پر یقین رکھتے ہیں تو ہمیں آگے بڑھنے کے لیے اتنا کافی ہے۔ چند ایک اقدامات کا ذکر درج ذیل میں کیا جارہا ہے جسے اگر عملی طور پر اپنایا جائے تو بہت ممکن ہے کہ بہتری ہوجائے گی اور سماج میں صفائی و صحت کو فروغ حاصل ہوگا۔

۱- انفرادی طور پر ہمیشہ یہ کوشش کریں کہ اپنے گھر سے نکلنے والا کوڑا کرکٹ دوسروں کے گھر کے سامنے یا عوامی جگہوں پر جیسے سڑک، چوراہے اور پارک وغیرہ میں نہ ڈالیں اورعلاقہ میں جو ایک جگہ مختص ہے اور ہونی ہی چاہیے وہیں سارا کوڑا کرکٹ ڈالا جائے۔ آج کل تو کارپوریشن کی کچڑا اٹھانے والی گاڑیاں گھر گھر جا رہی ہیں۔ اگر ہم ایسی سہولت کے باوجود گھر کا کوڑا کچرا یوں ہی پھینک دیتے ہیں تو سمجھ لیں کہ یہ ہمارے ایمان کے خلاف اور لوگوں کو تکلیف دینے کا ذریعہ ہے، جو دین کی بنیادی تعلیمات کے خلاف بھی ہے اور گناہ بھی، مگر ہم اسے گناہ اور تکلیف کا باعث تصور ہی نہیں کرتے۔

۲- آپ کے گھر میں جو کچن ہے وہاں دھویں کی نکاسی والی چمنی کو اونچائی پر لگائیں تاکہ دھواں کچن سے ہی باہر نکل جائے اور ایسا نہ ہو کہ آپ کے گھر کے اندر داخل ہو کر اطراف میں پھیلا جا رہا ہے۔ اس طرح ہوا آلودہ ہوجاتی ہے اور گھر کے افراد کے لیے بھی نقصان دہ ہے اور محلے پڑوس کے لوگوں کے لیے بھی تکلیف دہ اور نقصان دہ۔

۳- اپنے گھر کے اطراف کے لیے کم از کم اتنا تو ہم کرہی سکتے ہیں کہ اجتماعی طور پر محلے کے چند ایک افراد مل کر اس بات کی سختی سے کوشش کریں کہ ہمارے علاقے میں کہیں جمع شدہ پانی کئی روز تک باقی نہ رہے۔ کبھی ڈرینچ کی پائپ لائن پھٹ جاتی ہے یا لیک ہوجاتی ہے یا کسی اور وجہ سے پانی ایک ہوجاتا ہے تو پھر یہ مچھروں کی آماجگاہ بن جاتی ہے۔ اس ٹھہرے پانی میں پیدا ہونے والے مچھر سب سے زیادہ نقصان دہ ہوتے ہیں۔ ملیریا، ڈینگی، ہیموریجک شاک جیسی بہت سی بیماریاں اسی سے ہوتی ہیں، جس سے کئی لوگ موت کا شکار ہوجاتے ہیں تو کئی، ایک مفلوج ہوکر صحت مند زندگی کھو بیٹھتے ہیں۔ مچھر نہ صرف بیماریاں پیدا کرتے ہیں بلکہ بیماریوں کو پھیلانے میں بھی بہت اہم رول ادا کرتے ہیں۔

۴- درختوں کے پتوں سے ہونے والے کوڑے، جسے گندگی کہنا ہی مناسب نہیں کیوں کہ وہ صرف سوکھے پتے ہی ہوتے ہیں، کی وجہ سے اکثر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ لوگ بڑے بڑے سرسبز درخت کاٹ ڈالتے ہیں۔ اپنی صفائی نہ کرپانے کی وجہ سے ہم ماحول دوست درختوں کو جڑ سے اکھاڑ دیتے ہیں اور صحت دوست قدرتی تخلیق سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اور یوں فضائی آلودگی بڑھنے لگ جاتی ہے جو اس وقت ہمارے شہروں میں صحت کے لیے بڑا چیلنج بن گئی ہے۔ یہی فضائی آلودگی، دھواں اور دھول سانس کی بیماریوں اور پھیپھڑوں کے کینسر کو دعوت دیتی ہے اور جو شہر جتنا بڑا ہے وہ اسی قدر ان خطرات کی زد میں ہے۔ کوشش کریں کہ ہم خود بھی اپنے گھروں میں، گھر کے اطراف اور خالی جگہوں پر پیڑ پودے، درخت اور ہریالی لگائیں یہ نہ صرف علاقے کو خوب صورت بنا دیتے ہیں بلکہ ہوا کو صاف بھی کرتے رہتے ہیں۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ایک صحت مند درخت اپنے آس پاس کے کئی خاندانوں کے لیے زہریلی فضا سے محفوظ بنانے کا ذریعہ بنتا ہے۔

اب ایک اہم مسئلہ یہ دکھائی دیتا ہے کہ اجتماعی طور پر کیا کوشش کی جائے اور کیا سے زیادہ مناسب سوال یہ ہے کہ کیسے کی جائے؟ تو آپ نے سنا ہوگا کہ

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر

لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

تو سب سے پہلے قدم آپ اٹھائیے۔

اپنے محلے میں جن سے آپ کی میل ملاقات ہے ان سے بات کریں کہ ہفتہ میں یا پندرہ دن میں ایک مرتبہ سب مل کر اپنے علاقے کی صفائی کریں گے۔ اس کے لیے مددگار تلاش کرلیں۔ محلے کے نوجوان، آپ کے گھر کام کرنے والی بائی اور آپ اپنے گھر کے افراد کو اس کے لیے تیار کریں۔ محلے کی دیگر خواتین سے مل کر انھیں اس کام کے لیے آمادہ کریں۔ بہت ممکن ہے کہ بہت کم تعداد تیار ہو لیکن کوئی مسئلہ نہیں۔ بیداری اور ذہن سازی میں وقت لگتا ہے۔ جیسے جیسے لوگوں کی سوچ بدلے گی حالات میں بہتری آئے گی اور سماج و معاشرہ صفائی ستھرائی کی طرف مائل ہوگا۔

صفائی آدھا ایمان ہے اور اس کے لیے انفرادی اور اجتماعی کوششیں کرنا ہم پر فرض ہے تاکہ ہم اپنی نسلوں کو ایک صحت مند ماحول دے سکیں، ورنہ ایک گندگی و غلاظت سے بھرا اور آلودگی سے لت پت ماحول میں ہماری نسلیں اپنی ساری زندگی صرف بیماریوں سے لڑنے میں گزار دیں گی۔ جب کہ صاف ستھرا اور صحت مند ماحول انہیں ایک صحت مند سوچ دے گا، صحت مند جسم دے گا اور انھیں Productive بنائے گا اور اس طرح ملک و ملت اور انسانیت کی تعمیر میں وہ اپنا کردار ادا کرسکے گی۔

۵- خواتین بہ حیثیت ماں اور بہ حیثیت معمار نسل اس بات کو سمجھیں کہ نئی نسل تک ’’پاکی و صفائی نصف ایمان ہے‘‘ کی صحت مند سوچ منتقل کریں۔ بچوں کو ذہن نشین کرائیں کہ جہاں کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا صحت کی بقا کے لیے ضروری ہے وہیں ماحول، گھر کے آس پاس اور بالآخر پورے علاقے کو گندگی سے پاک و صاف رکھنا بھی ضروری ہے۔ یہ تصور بچوں اور اہل خانہ کے اندر اتنا پختہ ہونا چاہیے ہ وہ نہ صرف یہ کہ خود کہیں بھی گندگی اور کوڑا پھیلانے کا ذریعہ نہ بنیں بلکہ عام راستوں پر موجود کوڑے اور گندگی کو نیکی کا عمل سمجھ کر راستے سے ہٹا دیں۔ کیوں کہ ہمارا دین تکلیف دہ چیز کو راستے سے ہٹانے کو بھی صدقہ قرار دیتا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر سمیہ تحریم بنت امتیاز احمد

تبصرہ کیجیے