BOOST

بے روز گاری اور غربت

انسانیت کو در پیش مختلف سماجی اور معاشی مسائل کے لیے نصف انسانیت کے رول کو نظر انداز کرنا مسائل کے آدھے ادھورے حل کی جانب پیش قدمی کے مترادف ہے۔ غربت اور بے روزگاری ایک اہم سماجی مسئلہ ہے، جس کے حل میں خواتین کو شرکت ناگزیر محسوس ہوتی ہے۔ اس سلسلے کے جو ماڈل مغرب نے رائج کیے ہیں وہ اثرات کے اعتبار سے ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ اس لیے دنیا کسی ایسے ماڈل کی تلاش میں ہے جو ایسا متوازن ماڈل ہو جو خواتین کو سماجی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے میدانِ عمل میں بھی لائے اور ان کے عفت اور عصمت کے تحفظ کی ذمے داری بھی قبول کرے اور ان کو اپنے فطری حدود میں رہتے ہوئے انسانیت کی خدمت کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے یہ ماڈل صرف اسلام پیش کر سکتا ہے۔ قرونِ اولی کی مسلم خواتین یہ ماڈل پیش کرچکی ہیں۔

غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ ایک ایسا ہدف ہے جس کے لیے ہمہ جہت جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے جہاں معاشی اصلاحات صنعتی پالیسیوں کی تبدیلی اور وسائل کے مناسب استعمال کی ضرورت ہے وہیں سماجی بیداری اور تمام طبقات کا عملی اقدامات کرنا بھی ضروری ہے۔

ملی تناظر

ہندوستانی معیشت اگرچہ ترقی کرتی بتائی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود غربت اور بے روزگاری یہاں ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق دنیا میں ۸۷۲۳ ملین لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اس فہرست میں بھارت ۲۰۱۹ کے اختتام تک نائیجیریا اور کانگو جیسے چھوٹے ممالک سے بھی پیچھے ہوجائے گا۔ عالمی اشاریہ بھوک (GHI) کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان ۹۷ویں نمبر پر ہے۔ یہاں کی آبادی کا 28.5 فی صد حصہ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔ بے روزگاری کے اعداد و شمار بہ مطابق منسٹری فور لیبر اینڈ ایمپلائمنٹ 3.7 فی صد ہے ۷۷ فیصد خاندان ایسے ہیں جنھیں روز آنہ کام نہیں ملتا۔

بے روزگاری اور غربت: ملی تناظر

ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی مردم شماری ۲۰۱۱ کے مطابق ۱۷۲ ملین ہے۔ غربت اور بے روزگاری کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کی بڑی تعداد خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ نیشنل کونسل فور اپلائڈ اکونومکس رپورٹ (NCAER) کے مطابق شہری آبادی میںدس میں سے ہر تیسرا مسلمان غریب ہے جن کی ماہانہ آمدنی محض 550 روپے ہے۔ اسی طرح دیہی علاقوں میں ہر 5 میں سے ایک مسلم کی ماہانہ آمدنی ۳۳۸ روپے ہے۔ نیشنل سیمپل سروے آفس (NSSO) کی رپورٹ کی مطابق مسلمانوں کا ماہانہ فی کس خرچ کا تناسب ۹۸۰ روپے ہے جو دیگر تمام مذہبی گروہوں کے مقابلے میں کم ہے۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق مسلم فیملی کی سالانہ آمدنی کا تناسب 28,500 روپے ہے جو ہندوستان کے سب سے زیادہ دبے کچلے سمجھے جانے والے طبقات کے مساوی ہے۔

لیبر فورس سروے رپورٹ (LFSR) جسے NSSOنے جاری کیا ہے، اس کے مطابق مسلمان مردوں میں ہر ایک ہزار میں سے دیہی اور شہری علاقوں میں بالترتیب ۳۳۷ اور ۳۴۲ مسلم افراد کو روزگار میسر ہے Workes population repport (WPR) کے مطابق ہر ایک ہزار میں سے صرف 288 شہری مسلمانوں کو مستقل روزگار میسر ہے یہ تناسب تمام مذہبی گروپوں میں سب سے کم ہے۔

مردم شماری ۲۰۱۱ کے مطابق ملک میں بھکاریوں کی کل تعداد 3.7 Lalk ہے،ان میں سے پچیس فیصد مسلمان ہیں۔ اس رپورٹ پر تجزیہ کرتے ہوئے ایک انگریزی اخبار نے سرخی لگائی ہے کہ ’’بھارت کا ہر چوتھا بھکاری مسلمان ہے۔‘‘ یہ تمام اعداد و شمار ہندوستانی مسلمانوں کی معاشی اور معاشرتی زبوں حالی کی منہ بولتی تصویر پیش کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال کی تبدیلی کے لیے ملت کی جانب سے سنجیدہ کوشش وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس تبدیلی کے لیے تمام مسلمان بہ شمول مرد و خواتین کو اپنے رول کی ادائیگی کرنی ہوگی۔ اس سلسلے میں اسلام کا نقطہ نظر پیش کرنا ہمارا مقصد نہیں کہ اس موضوع پر اس شمارے میں تفصیلی بحث موجود ہے۔

مسلم خواتین کا کردار

ملک و ملت کی درپیش مسائل جن میں بے روزگاری اور غربت سرفہرست ہیں ان کے حل کے لیے مسلم خواتین بھی شرعی حدود کی پابندی کے ساتھ اہم رول ادا کرسکتی ہیں۔ ذیل میں بعض اصولی اور عملی پہلوؤں کی جانب نشان دہی کی جا رہی ہے۔ یہ مسئلہ ایک طویل مدتی منصوبہ بند جدوجہد کا متقاضی ہے۔ لیکن بعض بنیادی کام فوری توجہ کے مستحق ہیں۔

خاتمہ بذریعہ تعلیم

ایک جائزے کے مطابق گزشتہ پندرہ سالوں سے تقریبا نصف مسلم آبادی یا تو ناخواندہ ہے یا پرائمری تعلیم تک محدود ہے۔ تعلیم کی اسی کمی کو غربت اور بے روزگاری کی عمومی وجہ تصور کیا جاتا ہے۔ NSSO کی رپورٹ کے مطابق شہروں میں آباد مسلم مردوں میں ایک ہزار میں سے صرف ۱۵ مرد پوسٹ گریجویٹ ہیں۔ یہی حال مسلم خواتین کا بھی ہے۔ یہ تناسب دیگر اکائیوں سے چار گنا کم ہے۔ یہ رپورٹ مزید بتاتی ہے کہ مسلمانوں کا تناسب ہر ایک ہزار پر سکنڈری تعلیم میں ۶۲، ہائر سکنڈری میں ۹۰، اور گریجوٹ میں صرف ۹۱ رہ جاتا ہے۔

اس صورتِ حال کی تبدیلی کے لیے مسلم خواتین تعلیمی ترقی اور بیداری کے لیے منصوبہ بند مہم چلا سکتی ہیں اور انہیں چلانی چاہیے۔ اپنے گھر اور اطراف تعلیمی ماحول کو پروان چڑھانا خواتین کے لیے عملی بھی ہے اور آسان بھی۔ لڑکیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے۔ سچر کمیٹی نے علیحدہ مسلم لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کالجز اور اسکولس کی سفارش کی ہے تاکہ لڑکیاں مخلوط تعلیم کے نقصانات سے بچتے ہوئے اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکیں۔ ساتھ ہی گھریلو خواتین بھی مراسلاتی نظامِ تعلیم سے اپنی تعلیمی لیاقت میں اضافہ کرسکتی ہیں۔

اسلامی اقدار پر عمل

غربت اور بے روزگاری بعض سماجی اور نفسیاتی بیماریوں کو بھی جنم دیتی ہے، جو معاشرے میں منفی جذبات کی پرورش کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ضروریات کی تکمیل پر توجہ دینی چاہیے نہ کہ خواہشات کے پیچھے بھاگنا چاہیے کیوں کہ ضرورت فقیر کی بھی پوری ہو جاتی ہے اور خواہشات شاہوں کی بھی پوری نہیں ہوتیں۔

اسلامی اقدار کے دو اہم پہلو قناعت اور کفایت شعاری ہیں جس کو اپنا کر ایک خاندان اور ایک معاشرہ غربت کے باوجود باوقار زندگی گزار سکتا ہے۔ ان دونوں قدروں کے نہ ہونے سے اچھے خاصے متمول خاندان بھی غربت کے شکار ہو جاتے ہیں۔ خواتین کو اپنے گھر اور معاشرے میں اسلامی اصول زندگی کے سنہری اسباق کو عام کرنے کے لیے تحریک چلانی چاہیے جس کی ابتدا اپنی ذات اور اپنے گھر سے ہونی چاہیے۔

گھریلو صنعت کے تجربات

خواتین اپنے گھروں میں رہ کر مختلف ایسے پروجیکٹس شروع کر سکتی ہیں جن پر لاگت بھی کم ہو اور منافع بھی مناسب ملے۔ تمہارا شہر میں ’’بجٹ گٹ‘‘ نام سے خواتین باہم ایک دوسرے کے تعاون سے روزگار کے مواقع سے استفادہ کرتی ہیں۔ اس میں بعض نزاکتیں بھی ہیں جو مسائل کا سبب ہیں۔ ضرورت مند خواتین کی مشترکہ جدوجہد کے نتیجے میں بعض اہم تجربے خواتین کے ذریعے کامیابی سے چل رہے ہیں، جن کا مطالعہ کیا جانا چاہیے اور اسی طرز کی تجارتی پہل کے عملی پہلوؤں پر غور کیا جانا چاہیے۔ اس طرح کے تجربات میں سب سے اہم تجربہ Lijjat Papedماڈل ہے۔

خواتین کے ذریعے قائم کردہ ’’شری مہیلا گرہ ادیوگ لجت پاپڑ‘‘ ہندوستان کی معروف کو آپریٹیو سوسائٹی ہے۔ اس تنظیم کا مقصد عورتوں کو روزگار فراہم کر کے انہیں ترقی یافتہ بنانا ہے۔ ۱۹۵۹ میں ممبئی میں سات خواتین نے صرف ۸۰ روپے کے مالی سرمایہ سے اس تجربے کا آغاز کیا تھا۔ یہ پاپڑ بنانے کا کام ابتدا میں کرتے رہے اور اب دیگر چیزیں بھی بناتے ہیں۔ سال ۲۰۱۸ میں اس ادارے کا سالانہ ٹرن اوور ۸۰۰ کروڑ روپے رہا۔ یہ تنظیم آج ۴۳۰۰۰ خواتین کو روزگار فراہم کر رہی ہے۔ اس ماڈل کا تفصیلی مطالعہ کیا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی خواتین کی طرف سے چلایا جانے والا ایک دوسرا تجربہ ایلا بھٹ کی قیادت میں چلایا جانے والا SEWAہے۔ یہ بھی روزگار کی متلاشی خواتین کو ہر ممکن رہ نمائی کرتا ہے۔

سرکاری سہولیات اور مراعات

خواتین کی معاشی ترقی کے لیے حکومتی سطح پر مختلف اسکیمات چلائی جاتی ہیں، جن میں بعض مسلم خواتین کے لیے بھی شرعی حدود میں قابل استفادہ ہوتی ہیں۔ پیشہ ورانہ مہارت کے لیے بعض اہم کورسس بھی خواتین کے لیے چلائے جاتے ہیں۔

ڈائرکٹر جنرل آف ایمپلائمنٹ اینڈ ٹریننگ کے تحت وکیشنل ٹریننگ برائے خواتین چلائے جاتے ہیں۔ مرکزی اور علاقائی سنٹرز پر خواتین کے لیے ڈریس سازی، کمپیوٹر آپریٹر، فیشن ٹیکنا لوجی Hair & skin care, Haspitality & Cateringoاور اس طرح کے کئی کورسس چلائے جاتے ہیں۔ جس سے استفادہ کر کے اپنا ذاتی روزگار شروع کیا جاسکتا ہے۔

اسمال اسکیل انڈسٹری

بعض آسان، کم خرچ اور عملی بزنس صنعتیں اصحاب خیر کے تعاون سے شروع کی جاسکتی ہیں۔ مختلف پروجیکٹس کے منصوبے اور اس کے عملی نفاذ کے لیے رہ نمائی کے شعبے الحمد للہ سماج میں کام کر رہے ہیں۔

جماعت اسلامی مہاراشٹر نے شعبہ صنعت و تجارت کے تحت رفاہ چیمبر آف کامرس بنایا ہے۔ یہ شعبہ نئے بزنس پلان اس کے لیے سرمایہ کاری اور مصنوعات کی فروخت کے لیے مارکیٹ کی نشان دہی جیسے تمام مراحل میں عملی رہ نمائی فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح تمل ناڈو کے شہر وانم باڑی میں ہائی جین، پروڈکٹ بنا کر ابتدائی سطح پر ۱۶۰ خواتین کو باوقار روزگار مہیا کیا گیا ہے۔

ای کامرس نے گھر بیٹھے اپنی مصنوعات کے فروخت کے لیے ایک زبردست میدان فراہم کیا ہے۔ جہاں آپ اپنی ویب سائٹس بنا کر یا کسی تجارتی پورٹل پر بھی اپنی گھریلوں صنعت کو فروغ دے سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں علیحدہ سے رہ نمائی کی ضرورت ہے۔ یہ مضمون اس کا متحمل نہیں ہے۔

گھر بیٹھے بزنس کے ماڈلز

اس سلسلے میں حجابِ اسلامی کے سابقہ شماروں میں ایک مستقل سیریز کے تحت معلوماتی مضامین شائع ہوتے رہے ہیں۔ جس کی بعض بازخواندگی کی جائے تو بہتر ہے۔ بعض تجربات ، گفٹ شاپ، پارلر اور کمپیوٹر ڈیزائننگ کی شکل میں رائج ہیں۔

بہرحال مسلم خواتین کا اصل دائرہ کار ان کا اپنا گھر ہی ہے۔ ناگزیر ضروریات کے تحت ہی ان پر معاشی تگ و دو کی نوبت آتی ہے۔ اگر کوئی خاتون اپنے حسن انتظام کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اپنے گھر میں آسودگی اور معاشی ترقی کے اسباب مہیا کرسکتی ہے ایک گھر خوش حال رہے تو معاشرہ خوش حال بنتا ہے۔ اور ترقی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر خالد محسن

تبصرہ کیجیے