4

رفاہِ عامہ اور سماجی خدمت و رہ نمائی

شہر کے ایک علاقے میں رہنے والے ایک تعلیم یافتہ صاحب کی بیٹی کو کتے نے کاٹ لیا۔ ظاہر ہے انہیں شدید تکلیف ہوئی اور غصہ بھی آیا۔ انھوں نے اپنے ایک دوست کو فون کر کے اس واقعے کی اطلاع دی اور غصہ اور ذہنی الجھن میں وزیر اعلیٰ تک کو کوسنا شروع کر دیا۔ دوست نے انھیں تسلی دی اور کہا کہ اس میں وزیر اعلیٰ کیا کرے گا یہ تو مقامی کارپوریشن کی ذمے داری ہے۔ آپ اس کے افسران کو توجہ دلائیں۔ مگر ان کا غصہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ دوست صاحب نے ان سے گفتگو کے بعد مقامی کارپوریٹر کو فون لگایا اور صورتِ حال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ علاقے میں کتوں کا خوف بہت بڑھ گیا ہے اور بچوں کا گھر سے نکلنا محال ہے۔ کارپوریٹر نے اپنی ذمے داری محسوس کرتے ہوئے اگلے ہی دن آوارہ کتوں کو پکڑنے والا اسٹاف بھیج دیا جو اس علاقے سے کئی درجن کتوںکو پکڑ کر لے گیا اور لوگوں کو اس کے خوف سے نجات مل گئی۔

ایک علاقے میں پانی کی شدید قلت تھی اور خواتین کو کافی پریشانیوں کا سامنا تھا۔ محلہ کی ایک بزرگ خاتون نے دوسری خواتین سے بات کی اور ایک دن آٹھ دس خواتین کے ساتھ ڈی ایم آفس پہنچ گئیں۔ اس سے صورت حال بیان کی اور مسئلے کا حل کرنے کا مطالبہ کیا۔ مذکورہ افسر نے ان کی بات کو دھیان سے سنا اور فورا متعلقہ افسران کو ہدایت کی۔ آپ یقین جانئے تین دن کے اندر اندر اس علاقے میں پانی کا نلکا بھی لگا دیا گیا اور چند ہی ہفتوں میں مرکزی جگہ پر بور ویل پر ہنڈپمپ بھی لگ گیا۔

یہ دو واقعات سماجی خدمت کی ایسی مثالیں ہیں جن میں بغیر مالی وسائل اور جدوجہد کے مسائل کا حل مل گیا۔ یہ مثالیں اس طور پر بھی دیکھی جاسکتی ہیں کہ اگر ہم بیدار اور کچھ فعال ہوں تو اپنے علاقے ہی کے نہیں بہت سے دیگر مسائل بھی سرکاری سطح پر بہ آسانی حل کراسکتے ہیں۔

سماجی خدمت اور رفاہِ عامہ کے کاموں کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ بہ ذات خود،لوگوں کے مالی تعاون سے یا رفاہ عامہ کا کام کرنے والے اداروں کے ذریعے لوگوں کو فائدہ پہنچانے والے پروگرام اور پروجیکٹ انجام دیں جب کہ دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہم لوگوں کو ان کو مسائل کے حل کے لیے مناسب رہنمائی کریں اور لوگ خود آگے بڑھ کر سمجھائے گئے راستوں پر چل کر اپنے مسائل کا حل کرالیں۔ رفاہ عامہ کے کام اور لوگوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا کیوں کہ بنیادی طور پر حکومت اور انتظامیہ کا کام ہے، اس لیے زیادہ بہتر اور آسان یہ ہے کہ لوگوں کو ان کے بارے میں آگاہ اور بیدار کیا جائے اور انہیں بتایا جائے کہ حکومتی سطح پر کس کام کے لیے انتظامیہ کے کس شعبے سے رابطہ کیا جائے اور متعلق افسر کون ہوتا ہے جو اس کام کے لیے ذمہ دار اور جواب دہ ہے۔ اگر متعلق افسر کام کو انجام نہیں دے تو پھر اگلا مرحلہ کیا ہو اس سلسلے کی جانکاری بھی ضروری ہے۔ اس نظام میں اس بات کا بھی امکان ہے کام فورا مختصر عرصے میں یا دیر سویر ہوجائے اور اس بات کا بھی امکان رہتا ہے کہ کام میں زیادہ مدت اور طویل عرصے کے ساتھ ساتھ کچھ بھاگ دوڑ کرنی پڑے لیکن اگر ہمت اور لگن کے ساتھ درست پیروی کی جائے تو مسائل حل ہوجاتے ہیں۔

سماجی خدمت و رہ نمائی کے میدان میں کام کرنے والوں کے لیے لازمی ہے کہ وہ قانون اور ضابطوں سے اچھی طرح واقف ہوں تاکہ کوئی سرکاری افسر یا کارکن انہیں قانون و ضوابط کا حوالہ دے کر پریشان کرنے یا ٹالنے کی کوشش نہ کرے۔ اسی طرح بہت سے کاموں کے لیے خاص طور پر جو مقامی انتظامیہ یا شہر کی میونسپلٹی یا کارپوریشن سے متعلق ہوں، ان کے بارے میں اکثر مقامی کارپوریٹر یا وارڈ ممبر کو توجہ دلادینا ہی کافی ہوتا ہے۔ اگر ہم بیدار ہوں اور اپنے حقوق و اختیارات کا علم رکھتے ہوں تو محض لوگوں کی رہنمائی کر کے سماج کی بڑی خدمت انجام دے سکتے ہیں۔

جہاں تک سماجی خدمت کے ان بڑے کاموں کو انجام دینے کی بات ہے جن میں مالی اخراجات درکار ہوتے ہیں تو یہ ادارہ سازی کا کام ہے اور اس کے انتظامی امور کے لیے جہاں مالیات کی ضرورت ہوتی ہے وہیں کچھ فعال، بے لوث اور محنت و لگن سے کام کرنے والے افراد اور کارکنان کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو سماجی خدمت کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے، اپنی صلاحیتوں اور وقت کی قربانی دے کر لوگوں کو فائدہ پہنچائیں، لوگوں میں بیداری پیدا کریں، علم و شعور میں اضافہ کریں اور انسانوں کی خدمت کا کام اجر الٰہی کے لیے انجام دیں۔

ہماری مسلم خواتین کو مذکورہ دونوں قسم کے محاذوں پر سماجی خدمت کا منصوبہ بنانے اور اس کے لیے فعال رول ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسا اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہندوستانی خواتین کے مسائل عام طور پر اور مسلم خواتین کے لیے مسائل خاص طور پر ایسے ہیں جہاں خواتین کا فعال کردار ہی مسائل کو حل بھی کرسکتا ہے اور مسئلہ کی جڑ تک بھی وہی پہنچ سکتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں خواتین کے ایسے بے شمار اداروں نے سماج میں اپنی شناخت بنائی ہے جنھوں نے لاکھوں خواتین کے معاشرتی، سماجی، گھریلو اور معاشی مسائل حل کیے ہیں اور وہ اس رخ پر مسلسل گامزن ہیں۔ ان گروپس میں سیلف ہیلپ گروپ بنا کر سماج کی غریب و بے سہارا خواتین کو روزگار مہیا کرنے سے لے کر گھریلو تشدد سے ڈنڈے کے بل پر خواتین کو نجات دلانے والے گروپ تک شامل ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خواتین یقینا سماج میں ایک بڑی طاقت ہیں اور اگر وہ آگے بڑھیں تو ان کی طاقت میں مزید اضافہ ممکن ہے۔ اس مضمون میں ہم چند ایسے محاذوں کا ذکر کرنا چاہیں گے جو مسلم خواتین سے فعال رول کا مطالبہ کرتے ہیں۔

تعلیم

ہندوستان ایسا ملک ہے جو دنیا بھر کی ناخواندہ آبادی کا نصف سے زیادہ بوجھ اپنی کمر پر اٹھائے ہوئے ہے۔ اس میںمسلم سماج کا حصہ دوسرے طبقات کی بہ نسبت زیادہ ہے۔ اگر بات مسلم خواتین میں تعلیم کی ہو تو یہ شرح ناخواندگی ان کے درمیان اور زیادہ نظر آتی ہے۔ اگر ہم اسلام کا نظریہ دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ اس نے علم کے حصول کو ہر مرد و عورت پر لازم ٹھہرایا اور دورِ نبوت میں بچوں، بڑوں، عورتوں، مردوں یہاں تک کہ لونڈیوں اور غلاموں تک کو تعلیم یافتہ کرنے کی مہم چلائی گئی۔ مگر ہمارے معاشرے کا حادثہ یہ ہے کہ ایسی تاریخ اور تعلیمات رکھنے والی امت اس میدان میں بچھڑ گئی ہے ایسے حالات میں امت کے افراد کو عام طور پر اور امت کی خواتین خاص طور پر تعلیم یافتہ کرنے کی زبردست مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ سماجی خدمت کے میدان میں کام کرنے والی خواتین کو چاہیے کہ وہ اس محاذ پر بہ طور خاص توجہ دیں کہ ایک طرف یہ پسماندگی سے نجات کا واحد راستہ ہے دوسری طرف ایک باشعور اور تعلیم یافتہ نسل پروان چڑھانے کی ضمانت بھی ہے۔

اس کی بنیادی شکل یہ ہوسکتی ہے کہ ہماری تعلیم یافتہ خواتین کے گھر مفت لازمی تعلیم کے مراکز بن جائیں، ہماری خواتین اور پڑھی لکھی لڑکیاں اپنے گھروں کو ایسے اداروں میں تبدیل کرلیں جہاں آس پڑوس کی خواتین کو تعلیم کی دولت ملے اور وہ اپنے لیے یہ ہدف بنائیں کہ ان کے گاؤں، محلے یا علاقے کی کوئی بھی لڑکی ناخواندگی کے ساتھ اپنے باپ کے گھر سے رخصت نہ ہو۔ جب کہ اس کی معروف شکل یہ ہوسکتی ہے کہ سماج کی فعال اور بااثر خواتین ایسے چھوٹے چھوٹے ادارے قائم کریں جہاں ہر عورت آسانی سے لازمی تعلیم حاصل کرسکے۔ اگر مقامی سطح پر شروع میں چند خواتین ہی اس کام کا بیڑا اٹھالیں تو دیکھتے ہی دیکھتے یہ ایک تحریک کی شکل اختیار کرلے گی اور ہم اپنی خواتین کو تعلیم یافتہ کر کے سماج کی ایک بڑی خدمات انجام دے سکیں گے۔

خواتین کی معیشت

ہندوستان میںمسلمان معاشی اعتبار سے یوں بھی کافی پیچھے ہیں اور ان خواتین کے حالات تو اور زیادہ ناگفتہ بہ ہیں جن کے یہاں مختلف اسباب سے کمانے والے افراد نہیں ہیں۔ اس گروپ میں بیوائیں اور یتیم لڑکیاں بھی ہوسکتی ہیں اور مطلقہ اور معذور شوہروں کی بیویاں اور بچے بھی۔ اسلام ایسے لوگوں کا سہارا بننے اور ان کی کفالت کو بڑے اجر والی نیکی قرار دیتا ہے۔ یہ سماجی خدمت کا ایسا میدان ہے جس میں خواتین زیادہ بہتر انداز میں کام کرسکتی ہیں۔ لہٰذا باشعور خواتین کو چاہیے کہ وہ ایسے خاندانوں کو معاشی اعتبار سے خود کفیل بنانے اور ان کو باعزت روزگار فراہم کرنے کے مواقع مہیا کرائیں۔ یہ کام وہ دیگر رفاہی اداروں، اہل خیر حضرات کے ذریعے خود اس کے لیے تنظیم یا گروپ بنا کر کر سکتی ہیں۔ ہمارے سماج میں ایسی مثالیں ہیں جہاں باعزم خواتین نے محض چند ہزار روپے سے کام شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے انھوںنے دسیوں، بیسیوں اور پھر سیکڑوں خواتین کے لیے خود کفیل ہونے کے حالات بنا دیے۔ یہ کام شاپنگ بیگ اور پیپر کے لفافے بنانے سے شروع ہوسکتا ہے اور پھر کنزیومر پروڈکٹ تک کی تیاری اس کے دائرے میں سما جاتی ہے۔ ہمارے سامنے ایک ناخواندہ خاتون کی مثال ہے، جس نے خاکی کاغذ کے لفافے بنانے سے شروعات کی اور محض پانچ خواتین کو ساتھ لے کر کام شروع کیا اور اب وہ شاپنگ بیگ سے لے کر مختلف النوع لذیذ نمکین تیار کراکر فروخت کرتی ہیں اور ان کی ٹیم میں اس وقت ۶۰ خواتین کام کرتی ہیں۔

وانم باڑی کی ایک باعزم خاتون نے کلکتہ کے معروف ادارے ’’صنعت و تجارت‘‘ سے چند خواتین کو ٹریننگ دلا کر ہائی جین پروڈکٹس بنانے شروع کیے۔ ان کی مارکیٹنگ کا انتظام کیا اور اس وقت وہ ۱۶۰ سے زیادہ خواتین کے ساتھ ڈس واش، فلور کلینر، فینائل، لیکویڈ اور پاؤڈر سرف بنا کر مارکیٹ میں فروخت کر رہی ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ اس پورے نظام میں صرف خواتین ہی کام کرتی ہیں۔ ان کا ایک شو روم بھی ہے جہاں خواتین کی دست کاری کے نمونے بھی دستیاب ہوتے ہیں۔

اس تجربے کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ وہ خواتین جن کے اندر سماجی خدمت کا جذبہ ہے وہ اس سے مزید جذبہ اور عملی رہ نمائی حاصل کرسکیں۔

فیملی نظام کا استحکام

مغربی کلچر اور ان کے طرزِ فکر و عمل نے خاندان کے ادارے پر غیر معمولی طور پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ وہاں خاندان کا ادارہ بری طرح ٹوٹ پھوٹ اور انتشار کی زد میں ہے۔ شادی جو ایک معروف معاشرتی و سماجی بندھن تھا اب بوجھ لگنے لگا ہے، جو شادیاں ہوتی بھی ہیں ان میں طلاق کی شرح آسمان چھو رہی ہے۔ ایسے میں لوگ شادی کے بغیر ہی لیو ان ریلیشن، میںرہ کر زندگی گزارنے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ یہ تشویش ناک صورت حال مغربی دنیا کی ہے، اور ہمارا سماج بھی جیسے جیسے اس راہ پر آگے بڑھ رہا ہے اس کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔

اس کے علاوہ بھاگ دوڑ کی مادہ پرستانہ زندگی نے انسان کا سکون چین چھین لیا ہے اور ذہنی امراض انسانوں کو تیزی سے اپنی گرفت میں لے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے صحت سے متعلق ادارے کے مطابق دنیا کا ہر چوتھا انسان ذہنی بیماریوں کی کسی نہ کسی صورت میں مبتلا ہے۔ ڈپریشن، تناؤ اور بے چینی و غصہ عام ہو رہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ نوعمر بچے بھی اس میں گرفتار پائے جاتے ہیں۔ ایسے میں انسانوں کے لیے سکون کا انتظام کرنا اور ان کی زندگیوں کو اطمینان بخش بنانے کی فکر اگر ہم مسلمان نہیں کریں گے تو کون کرے گا۔ اس کا سب سے پہلا اثر فیملی سسٹم یا خاندانی نظام پر پڑتا ہے۔ شوہر بیوی، بچے اور رشتہ دار سبھی اس بے سکونی سے متاثر ہوتے ہیں۔ یہ بات تو ہم جانتے ہیں کہ فیملی کے کسی ایک کا سکون ختم ہونا پورے خاندان کے سکون کو غارت کر دیتا ہے۔

اس وقت سماج کا بڑا اہم محاذ خاندانی نظام کو استحکام فراہم کرنے کا ہے۔ اور خاندانی نظام کو فساد اور ٹوٹ پھوٹ سے بچانے میں فیملی کونسلنگ کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ ہماری خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنے معاشرے میں موجود ایسے افراد اور خاندانوں کے لیے کونسلنگ کا باقاعدہ نظام قائم کریں جہاں خاندان کے وجود کو خطرہ ہے۔

مسلم سماج میں بھی طلاق کی شرح بڑھنے لگی ہے اور ایک ساتھ تین طلاق دینا خود ذہنی تناؤ اور ڈپریشن کی علامت ہے۔ ایسی صورتِ حال میں جہاں میاں بیوی اور ان کے بچے اذیت کے ساتھ جی رہے ہوں، صلح صفائی کرانا اللہ تعالیٰ کو بھی محبوب ہے اور بندوں کی بڑی خدمت بھی۔

اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ سماجی خدمت کے میدان میں کام کرنے والی خواتین کونسلنگ اور ازدواجی و خاندانی مسائل کے حل کے لیے بھی منظم کوشش کریں۔

آخری بات

خواتین سماج کی بڑی طاقت ہیں۔ خواتین نے اپنی طاقت کو منوایا ہے۔ ووٹ کی طاقت کے ذریعے بھی اور ڈنڈے کی طاقت کے ذریعے بھی۔ گزشتہ دنوں بہا رکے وزیر اعلیٰ نے شراب بندی کے موضوع پر ہی الیکشن جیتا تھا۔ اس الیکشن میں ان خواتین نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا تھا جو اپنے شوہروں کی شراب کی لت سے پریشان تھیں۔ نتیش کمار نے اس بات کو سمجھ لیا اور انہیں خواتین کا کافی سپورٹ حاصل ہوا۔ اسی طرح متحدہ آندھرا پردیش کی خواتین نے کئی سال پہلے شراب کے خلاف مہم چلائی اور انہیں کامیابی ملی۔ یہ خواتین کی جدوجہد کا دوسرا پہلو ہے جب کہ تیسرا پہلو گلابی گینگ جیسے گروپس ہیں جو لاٹھی ڈنڈے کے بل پر خواتین کو شوہروں کے تشدد اور مردوں کی شراب نوشی سے نجات دلاتے ہیں۔ گلابی گینگ خواتین کا ایسا گروپ ہے جس کی تمام ممبر خواتین گلابی رنگ کی ساڑی پہنتی اور لٹھ (بڑا ڈنڈا) لے کر چلتی ہیں۔ انہیں جہاں کہیں سے بھی شکایت ملتی ہے کہ کسی عورت پر اس کا شوہریا کوئی اور تشدد کر رہا ہے وہ وہاں جا دھمکتی ہیں اور اس قدر لٹھ برساتی ہیں کہ وہ معافی مانگنے اور آئندہ توبہ کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔

ظاہر ہے کہ ہم مسلم خواتین کو گلابی گینگ جیسا رویہ ابنانے کو نہیں کہہ سکتے کیوں کہ یہ قانون اور اخلاق سے گرتی ہوئی بات ہے لیکن اتنا ضرور کہہ سکتے ہیں کہ مسلم خواتین بھی ایک طاقت ہیں اور سماج میں جہاں کہیں بھی ظلم ہو، ناانصافی ہو، جنسی زیادتی ہو اس کے خلاف مسلم خواتین کی آواز سب سے بلند ہونی چاہیے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب مسلم خواتین باشعور ہوں اور باشعور بنانے کے لیے سماج کی زبردست خدمت کرنی ہوگی اور ابھی تو اس خدمت کی شروعات ہی ہے اگر مزید منظم ہو تو پھر بہتر مستقبل کا خواب شرمندۂ تعبیر ضرور ہوگا۔

شیئر کیجیے
Default image
زینب حسین غزالی

تبصرہ کیجیے