خواتین کی ترقی میں خواتین کا رول

اسلام ایک ایسا معاشرہ تعمیر کرانا چاہتا ہے، جہاں ایک دوسرے سے ہمدردی اور غم گساری کا ماحول ہو۔ سماج کے باشعور اور خوش حال افراد مل کر کمزوروں اور پیچھے رہ جانے والوں کے لیے سوچیں اور ان کی فکری اور معاشی سطح کو بلند کریں۔ مرد اور عورت کے باہمی تعاون اور مل کر اللہ کی رضا کی خاطر محنت کرنے سے معاشرہ ترقی پاسکتا ہے۔ حلقہ نسواں کی ترقی تو پوری طرح عورت ہی کے ذمہ آتی ہے۔ مرد ان کے مسائل کو حل کرنے کی اور کوشش کریں گے تو کامیاب کسی حد تک ہوجائیں گے مگر سو فیصد کامیابی اور بہترین نتائج اسی وقت حاصل ہو سکتے ہیں جب عورت خود ڈٹ کر حکمت کے ساتھ اس کی کوشش کرے۔

آج سماج میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کا نظام عام ہو رہا ہے، جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید غریب ہو رہا ہے۔ ہر طرف غربت کا سمندر اور مالداری کے جزیرے نظر آرہے ہیں۔ ایسے میں پوری دنیا اسلام کے معاشی نظام کی طرف دیکھ بھی رہی ہے اور کچھ ممالک اسے اختیار بھی کر رہے ہیں۔ خواتین کو بھی چاہیے کہ وہ معیشت کے میدان میں اپنے آپ کو پیچھے نہ رکھیں۔ آپؐ کے دور میں مدینہ کی مارکیٹ میں جہاں مردوں کے لیے جگہ تھی وہیں عورتوں کے لیے بھی ایک مختص جگہ تھی جہاں خواتین اپنی مصنوعات کو فروخت کیا کرتی تھیں۔

آج بھی ایسی خواتین مارکیٹ قائم کرنے کی ضرورت ہے، جن میں خواتین کی بنائی ہوئی مصنوعات اور ان کی ایجادات کے ساتھ ان کی تخلیقی صلاحیت کی نمائندگی کرنے والے پروڈکٹس موجود ہوں۔

یہ حقیقت ہے کہ اسلام میں عورت کے لیے کمانا لازمی نہیں لیکن اگر ضرورت اور حالات تقاضہ کریں تو اسلام اس کی بھرپور اجازت بھی دیتا ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر خود کی ضرورت نہ بھی ہو تب بھی اپنی صلاحیت سے دوسری مظلوم اور مجبور خواتین کو فائدہ پہنچانے کی غرض سے ایسا کرنا ایک مستحب اور پسندیدہ کام قرار پائے گا۔ اس کارِ خیر کے لیے بھی اسلام بھرپور تعاون کرتا ہے۔ ایسا وقت اپنی صلاحیت کا صحیح نہج پر استعمال کرنا ضروری ہے۔خود صحابیات اور ازواجِ مطہرات میں ایسی نمایاں مثالیں ہمیں ملتی ہیں کہ جو کچھ بھی وہ جانتی تھیں، جیسے سینا پرونا، چمڑے کی مصنوعات بنانا، عطر سازی اور طب و جراحت وغیرہ وہ ان صلاحیتوں اور علوم و فنون کو انسانوں کی خدمت اور غریبوں اور محتاجوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے صدقہ کے نظریے سے استعمال کرتی تھیں۔ خواتین کی تعمیر و ترقی کے لیے آج خواتین کو خاص انداز میں سوچنے اور منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔

ہمارے نزدیک خواتین کے ساتھ جڑے ہوئے تین مسائل بہت اہم ہیں اور ہم جب خواتین کی تعمیر و ترقی کے بارے میں سوچیں تو ان تین محاذوں کو ترجیحی طور پر اختیار کیا جانا چاہیے۔ (۱) جہالت اور ناخواندگی (۲)غربت اور مفلوک الحالی (۳) دین سے غفلت اور بے شعوری۔

جہالت اور ناخواندگی کسی بھی سماج کی پیشانی پر بدنما داغ ہے اور اگر مسلم سماج کی ملکی سطح پر بات کی جائے تو یہ نوعیت اور کیفیت دونوں اعتبار سے اور زیادہ سنگین صورت لیے ہوئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم مسلم خواتین کو اس محاذ پر ڈٹ جانے کے لیے تیار کریں۔

خواتین میں تعلیم کی شرح کو بڑھانا اور اس سلسلے میں بے داری پیدا کرنا مردوں سے زیادہ خواتین کے لیے آسان بھی ہے اور ضروری بھی۔ اس لیے ہم اپنی باشعور خواتین کو یہ بتانا چاہیں گے کہ وہ اس مہم کے لیے آگے آئیں۔ گلی گلی اور محلے محلے گھوم کر گھروں کا سروے کریں۔ کچی بستیوں اور پسماندہ علاقوں میں جاکر دیکھیں اور وہاں پر ان کے لیے تعلیم کا نظام کھڑا کریں۔ اس کے لیے ہم دو طرفہ کوششیں کرسکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہاں کی پڑھی لکھی لڑکیوں اور خواتین کو اس بات کے لیے آمادہ کریں کہ وہ اپنے محلے اور اپنے علاقے میں خواتین میں صد فیصد تعلیم اور خواندگی کا ہدف حاصل کرنے کے لیے اپنے گھروں کو اسکول کی شکل دیں۔ دوسری طرف حکومت اور انتظامیہ کو اس جانب متوجہ کرتے ہوئے اس بات کے لیے کامیاب فالو اپ کریں کہ وہ ایسے علاقوں میں لڑکیوں کے لیے خصوصی اسکول قائم کرے۔ سرکاری نظام میں ایسا کرنے کی پروویزنس موجود ہیں۔

اگر ہم اپنے علاقے اور اپنے شہر میں ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو خواتین کی تعمیر و ترقی کے لیے یہ پہلا مرحلہ ہوگا، جسے ہم انجام دلانے میں کامیاب ہوجائیں گی۔

دوسرا محاذ ان پسماندہ اور غریب و مفلوک الحال خواتین کی حالت کو بہتر بنانے کا ہے جو مختلف وجوہات سے معاشی پستی کا شکار ہیں اور اس کے سبب ان کا انسانی وقار اور بعض اوقات عزت و عصمت تک داؤ پر لگنے کا خطرہ رہتا ہے۔ ایسی خواتین کی معاشی ضرورت کی تکمیل کے لیے مقامی سطح پر باشعور مسلم خواتین ایسے سیلف ہیلپ گروپ بنائیں جو انہیں باوقار روزگار فراہم کریں۔ یہ کام کچھ باشعور اہل خیر کے تعاون سے بھی انجام دیا جاسکتا ہے، کوآپریٹیو سوسائٹیاں بنا کر بھی انجام دیا جاسکتا ہے اور اسلام کے نظامِ زکوٰۃ کے ذریعے بھی یہ کارِ خیر قائم کیا جاسکتا ہے۔

آج ہمارے معاشرے میں نماز روزہ اور حج کے لیے تو بہت ترغیب دی جاتی ہے لیکن زکوٰۃ کے تفصیلات سے بہت کم عورتیں واقف ہیں۔ جب کہ پہلی تین عبادتیں تو بندہ کو رب سے ملاتی ہیں اور زکوٰۃ وہ عبادت ہے جو بندہ کو بندہ سے ملاتی ہے۔ اسلام کیوں کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کا مجموعہ ہے اس لیے اس کے نظامِ زندگی میں زکوۃ کی بڑی اہمیت ہے۔ اگر صرف زیورات کی زکوۃ تمام مسلم خواتین باقاعدگی سے ادا کرنے کا نظم بنالیں تو بہت سارا کام اسی کے ذریعے ہوجائے گا۔ اور اگر یہ کام اجتماعی طور پر کریں گے تو پھر اس کے دیرپا نتائج بھی ظاہر ہوں گے، محلے میں اجتماعی زکوٰۃ کا رواج عام ہوجائے تو پھر غریب محلوں کی پریشانیاں چاہے وہ تعلیم سے متعلق ہوں یا معاش سے متعلق، ختم ہوجائیںگی۔ پس ماندگی تو ختم ہو ہی جائے گی بلکہ سود جیسی قباحت کو محلے میں جنم لینے کی ہمت نہ ہوگی۔

خواتین میں دینی شعور کی بے انتہا کمی پائی جاتی ہے اور جب دینی شعور کی کمی ہے تو پھر سیاسی، سماجی، معاشرتی اور دیگر مسائل کی سوچ سمجھ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسلم سماج نے مختلف باتوں کا سہارا لے کر، جن کو دین کا نام دیا گیا ہے، خواتین کو اجتماعی مراکز سے کاٹ دیا ہے اور دین کے نام پر انہیں محض سنی سنائی باتیں ہی، دین باور کرائی ہیں یا پھر سماجی روایات کو ہی وہ دین سمجھ کر بیٹھی ہیں، حالاں کہ وہ دین ہیں ہی نہیں۔ اس لیے وقت کا تقاضہ ہے کہ مسلم سماج ، مسلم خواتین میں دینی شعور کی بے داری کے لیے مختلف النوع مواقع پیدا کرے۔ مساجد اور اجتماعی اداروں میں ان کے لیے جگہ فراہم کی جائے اور انہیں سماجی خدمات سے جوڑا جائے اور اس کام میں انہیں بھی شریک کیا جائے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو نہ ان کے اندر بیداری اور شعور پیدا ہوسکے گا اور نہ ہی خواتین کی تعمیر اور ترقی کا کام انجام پائے گا۔

دوسری طرف صارفیت اور Consumerism نے پورے سماج کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ اس لیے انہیں اس کے نقصانات سے واقف کرانا بھی نہایت ضروری ہوگیا ہے۔ ان کے اندر یہ شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ جتنی چادر ہو اتنا ہی پیر پھیلائیں۔ بچت کا طریقہ بھی بتائیں، تاکہ وقت ضرورت قرض کے بوجھ سے بچ سکیں۔ سماج میں مسرفانہ روایات کو ختم کرنے کی کوشش خود خواتین کو کرنا ہوگی، کیوں کہ یہی خواتین ان رسومات کو جنم دیتی ہیں۔ شادی بیاہ ہو یا دیگر مواقع ان پر جو اسراف ہوتا ہے اور جو پیسہ بیکار دکھاوے کے لیے استعمال ہوتا ہے وہ سب عورت ہی کرتی ہے۔ اگر وہ ایسا کرتی ہے تو اس کو ختم کرنے کی ذمے داری بھی اسی پر ہے۔

ہر چیز کا ایک معیار اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے۔ شعور کے لیے بھی ایک معیار قائم ہے۔ بنی اسرائیل کی معزولی کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ وہ لایشعرون۔ شعور نہیں رکھتے تھے۔ سماج میں بیدار، متحرک و فعال اور آنکھ کھول کر جینا اگر ہے تو شعور کی پختگی لازمی ہے اور یہی وہ کام ہے جس کے لیے خواتین کو میدان میں آنا چاہیے۔

شیئر کیجیے
Default image
فاخرہ عتیق (وانم باڑی)