BOOST

سماج کی تعمیر نو میں خواتین کا کردار

سماج مختلف قسم کے افراد کی ایک متحدہ اکائی ہے۔ جہاں مختلف سوچ رکھنے والے لوگ ایک ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ ان کے ذاتی مقاصد، حرکت وعمل اور انفرادی مقاصد کے حصول کے لیے کی جانے والی جدوجہد سے پورا سماج اور اس میں رہنے والے لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک شخص دولت مند بننے کا خواہش مند ہے اور وہ اس کے لیے سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہے تو یہ اس کا انفرادی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے اگر وہ کلرک ہے تو رشوت لے گا اور رشوت دینے والے پر ظلم کرے گا۔ اگر وہ چوری کرے گا تو سماج کے کسی آدمی کا ہی مال چرائے گا، اگر وہ جنس کی ہوس رانی کاغلام ہوگا تو سماج کے ہی کسی فرد کی بیوی، بیٹی یا بہود کو اپنا نشانہ بنائے گا، اسی طرح اگر وہ شراب سے لطف اندوز ہوگا تو یقینا دوسروں کو تنگ کرے گا، کسی کو گالی دے گا، کسی کو مارے گا اور اگر اس حالت میں گاڑی چلائے گا تو سڑک پر ایکسیڈنٹ کرے گا اور سماج کے ہی کسی نہ کسی فرد کی جان لے گا۔

ہم ان تمام چیزوں سے خود کو اس لیے غیر متعلق سمجھتے ہیں کیونکہ ہم براہِ راست کبھی اس قسم کے حادثات کا شکار نہیں ہوئے ہیں لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہم خود بھی اس کی زد میں کسی بھی وقت آسکتے ہیں۔ مگر سماج کے کم ہی افراد اس رخ پر سوچتے ہیں۔ حالانکہ سماج ایک کشتی کے مانند ہے جس پر بہت سارے لوگ سوار ہیں اور اگر ان سواروں میں سے کوئی ایک خبط الہواس انسان کشتی میں سوراخ کرنے لگے تو سب کی زندگیاں خطرے میں پڑجائیں گی اور ہر کوئی اسے روکنے کی کوشش کرے گا۔ یہ حقیقت ہمارے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اسی تمثیل کے ذریعہ بیان فرمائی ہے۔ آپ نے لوگوں کو تاکید کی ہے کہ دنیا میں اچھائی کا فروغ اور برائیوں سے روکنے کا عمل ہر فرد کے لیے اتنا ہی اہم ہے جتنا کشتی میں سوار لوگوں کا اس خبط الہواس انسان کو سوراخ کرنے سے روکنا۔

اب آپ ذرا اپنے ارد گرد کے ماحول پر نظر ڈالیے کیا ایسا نہیںلگتا کہ سماج کا تقریباً ہر فرد دوسروں کی گردن کاٹ کر اپنا قد بڑا کرنے کی کوششوں میں ہے۔ دوسروں کی جیب پر ڈاکہ ڈال کر اپنی تجوریاں بھرنے پرتلا ہے۔ اوروں کی عزت و وقار کو پامال کرکے اپنے جذبات سفلی کی تسکین میں مصروف ہے۔ اپنے عیش و آرام اور مفاد کے لیے دوسروں کی زندگیوں کو تنگ کرنے میں اسے کوئی جھجھک محسوس نہیں ہوتی اور افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ اس میں تعلیم یافتہ اور جاہل و ناخواندہ بھی، امیراور غریب بھی، اعلیٰ مراتب کے سیاست دان اور ذمہ داران ملک بھی اور عام آدمی بھی اور حد تو یہ ہے کہ دین اور دھرم کی دہائی دینے والے بھی یکساں طور پر ملوث نظر آتے ہیں۔ بہ قول حفیظؔ میرٹھی:

لال نہیں ہے کس کا منہ اس دور خون خواری ہیں

جیسے جس کے بازو ہیں، ویسی ہی اس کی پرواز

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سماج میں غلط اقداراور غلط نظریات رواج پاگئے ہیںاور ان میں بنیادی غلطی ’نظریۂ مفاد‘ کی ہے۔ جس نے جائز و ناجائز کے پیمانوں کو بدل ڈالا ہے۔ ان پیمانوں کی رو سے کسی بھی قوم، فرد یا جماعت کے لیے وہ جائز ٹھہرتا ہے جو اس کے ’مفاد‘ میں ہے ۔اس چیز نے انسانوں پر انسانوں کے ظلم اور قوموں پر طاقت ور قوموں کے ظلم کو رائج بھی کیا اور جاری بھی۔ اس رواج اور اجرائے مفاد پرستی نے زمین کو فتنہ و فساد سے بھر ڈالا۔ ظلم و جبر، چوری، ڈکیتی، عزتوں کی نیلامی، عصمتوں کی پامالی اور خواتین و مظلوم طبقۂ سماج کے خلاف مظالم و جرائم کاایک سیلاب ہے جس نے انسانوں کی زندگیوں کو جہنم بنادیا ہے اور وہ اس سماجی زندگی سے تنگ آکر یا تو مرنا چاہتے ہیں یاکسی ایسی دنیا میں روپوش ہوجانے کی خواہش کرتے ہیں جہاں آج کے انسان کا گزر نہ ہو۔ مگر یہ ممکن نہیں۔ اگر زندگی گزارنا بھی دشوار ہو اور فرار بھی ممکن نہ ہوتو صرف ایک راستہ باقی رہتا ہے وہ ہے تبدیلی کا راستہ، انقلاب کی راہ اور ذہن و فکر کو بدل ڈالنے کا طریقہ۔

ظاہر ہے ہم نہ موت چاہتے ہیں اور نہ فرار۔ اب ہمارے سامنے صرف اور صرف ایک راہ ہے کہ ہم سماج کے اس جَرجَر بوسیدہ قلعے کی تعمیرنو کریں اور اس کی دیواروں کو مضبوط بنیادوں پر پھر سے اس طرح تعمیر کریں کہ لوگ اسے بہترین پناہ گاہ سمجھ کر اپنا مسکن بنانے پر مجبور ہوجائیں۔

ہم سماج کی تعمیر نو اور ذہن و فکر کی تشکیل نو چاہتے ہیں اور موت و فرار کی خواہش مند انسانیت کے لیے تبدیلی کی راہ کھولنا چاہتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ ہم سماج پر یہ بھی واضح کریں کہ اس تعمیر نو کی بنیادیں کیاہیں۔

انسان اور انسانیت کی فلاح

ہم جن بنیادوں پر سماج کی تعمیر نو کرنا چاہتے ہیں ان میں سب سے پہلی اور اہم بنیاد تمام انسانوں کی فلاح اور ان کے لیے خیر خواہی ہے۔ اور یہ بنیاد ہمیں اس اسلام نے فراہم کی ہے، جو خدائے واحد اور خالقِ انسانیت کا فراہم کردہ ہے۔ اس کے مطابق تمام انسان ایک آدم کی اولاد ہیں اور سب برابر اور یکساں ہیں۔ رنگ، نسل، طبقہ، برادری یا اور کسی بھی بنیاد پر انسانوں کے درمیان تفریق اور اونچ نیچ اس کے نزدیک نہ صرف ناجائز ہے بلکہ انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے۔ اسلام ڈنکے کی چوٹ پر یہ اعلان کرتا ہے کہ ’’تم سب ایک آدم کی اولاد ہو اور آدم کی تخلیق مٹی سے ہوئی ہے۔‘‘ کسی گورے کو کالے پر اورکسی انگریز کو افریقی یا ایشیائی پر برتری کا کوئی حق نہیں۔ نہ کوئی امیر غریب سے اونچا ہے اور نہ کوئی عورت مرد سے کم تر ہے۔ ہاں اگر تفریق کی کوئی بنیاد ہوسکتی ہے تو صرف یہ کہ کون اپنے خدا اور پالن ہار کا زیادہ کہا ماننے والا اور انسانوں اور انسانیت کے لیے زیادہ مفید ہے۔ اور یہ بنیادانسانیت اور انسانوں کے لیے عزت و وقار کی راہ ہے،اور عظمت اور بلندی کاواحد راستہ ہے۔

امن و سکون

ہم جس نئے سماج کی تعمیر چاہتے ہیں اس کی دوسری بنیاد سماج کا امن و سکون اور تحفظ ہے۔ اس سماج میں ہر انسان خوف و دہشت اور ظلم و جبر سے مامون ہوگا، جو آج کے سماج میں مفقود ہے۔ دہشت گردی، ظلم و جبر اور بندوقوں کے سائے میں جینے والے لوگ اپنے گھروں میں، گھروں کے باہر سفر میں اور حضر میں ہر جگہ اس طرح محفوظ ہوں گے کہ انہیں خدا کے علاوہ کسی کا خوف نہ ہوگا۔ ذرا یاد کیجیے حضور نبی کریمؐ اورپیمبرِ انسانیت کے اس اعلان کو جب انھوں نے اہلِ عرب کو بشارت دی تھی کہ ہم ایسے وقت کے لیے جدوجہد کررہے ہیں’جب صنعاء سے حضر موت تک ایک بڑھیا سونا اچھالتی ہوئی تنہا سفر کرے گی اور اسے خدا کے علاوہ کسی کا ڈر نہ ہوگا۔‘ اس لیے ہم بھی اپنے سماج میں بسنے والوں کے سامنے یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہمارے اس نئے سماج میں کشمیر سے کنیا کماری تک اور آسام سے گجرات تک ایک بڑھیا تنہا سفر کرسکے گی اور اسے اپنے خدا کے علاوہ کسی کا ڈر نہ ہوگا۔

متوازن اور ترقی یافتہ سماج

ہم جس نئے سماج کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں اس کی اہم ترین خوبی اور اس کا سب سے بڑا حسن یہ ہے کہ وہ اعتدال، میانہ روی اور توازن پر مبنی ہوگا اور اپنے ماننے والوں کو ایک ’’ماڈریٹ‘‘ انسان کی صورت میں پیش کرے گا، جہاں مذہب اور روایات کے نام پر بے جا اور فرسودہ افکار و روایات کی کوئی گنجائش نہ ہوگی اور یہ سماج ان تمام بیڑیوں کو کاٹ ڈالے گا جو قدیم مذاہب نے دین کے حوالے سے انہیں پہنا رکھی ہیں۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی یہ اعلان کردیا ہے کہ ’’اللہ نے تمہی میں سے ایک رسول تمہارے پاس بھیجا ہے جو پاک اور طیب چیزوں کو تمہارے لیے حلال قرار دیتا ہے اور خبیث چیزوں کو حرام ٹھہراتا ہے اور ان بیڑیوں کو رفع کرتا ہے جو تم پر ڈال دی گئی تھیں۔‘‘

اسی طرح یہ سماج کوئی فرسودہ خیال اور بچھڑا ہوا سماج نہیں ہوگا بلکہ علم و حکمت کے خزانوں کا گرویدہ سماج ہوگا۔ یہ موجودہ دور کی ترقیات سے کہیں زیادہ افضل اور ارفع ہوگا۔ وہ سماج ان ترقیات میں ایک طرف تو اضافہ کرے گا دوسری طرف ان دورِ حاضر کی ترقیات کے زہریلے اثرات اور منفی نتائج سے بھی انسانیت کو محفوظ رکھنے کی تدابیر کرے گا۔

مذکورہ خصوصیات کے حامل سماج کی تعمیر و تشکیل میں سماج کی خواتین کا کردار کلیدی کردار ہے اور اس اہمیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اس میں مردوں کا کوئی رول نہیں۔ خواتین کے کردار کو کلیدی قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ خواتین انسانیت اور سماج کا نصف ہیں۔ اس نصف کو چھوڑ کر یا نظر انداز کرکے اگر بقیہ آدھا سماج اپنی سو فیصد جدوجہدلگا بھی دے تو نتائج زیادہ سے زیادہ پچاس فیصد یا اس سے کم ہی حاصل ہوسکیں گے۔ پھر اس تعمیرِ جدید اور تشکیل نو کے بہت سے محاذ ایسے ہیں جہاں مردوں کا گزر ہی ممکن نہیں۔ اس لیے اگر ہم واقعی ایک نئے سماج کی تعمیر و تشکیل چاہتے ہیں تو خواتین کا کردار بھی اتنا ہی اہم اور بڑا ہے جتنا مردوں کا بلکہ بعض پہلوؤں سے اس سے بھی زیادہ۔ شاید اسی حقیقت کا ادراک مشہور فاتح نیپولین بونا پارٹ نے کرلیا تھا اور کہا تھا ’’تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں اچھی قوم دو ںگا۔‘‘ اور شاید امام رازی نے خواتین کے اسی اہم کردار اور سماج و معاشرہ پر ان کے اثرات کو دیکھتے ہوئے کہا تھا کہ ’’جب ایک لڑکا تعلیم یافتہ ہوتا ہے تو صرف ایک لڑکا تعلیم یافتہ ہوتا ہے لیکن اگر ایک لڑکی تعلیم یافتہ ہوتی ہے تو ایک نسل تعلیم یافتہ ہوتی ہے۔‘‘ اور قرآن نے تو پہلے ہی صالح انقلاب اور سماجی تبدیلی کے لیے مرد و خواتین کے کردار کو واضح کردیاتھا۔’’مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے ’ولی‘ ہیں وہ نیکیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں۔‘‘

خواتین کے محاذ

انسانیت اور انسانوں کی فلاح کے نظریے پر قائم، امن و سکون اور عزت و وقار کی ضمانت لینے والے اور اعتدال پسند و ترقی یافتہ سماج کے اس نظریے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جہاں مردوں کی جدوجہد کے مختلف محاذ ہیں اسی طرح کئی ایسے محاذ ہیں جن پر ہماری خواتین کو پورے عزم وحوصلے، فکری شعور، اطمینانِ قلب اور تسلسل کے ساتھ جدوجہد کرنی ہے۔ یہ وہ محاذ ہیں جن پر ہمارے نزدیک صرف خواتین ہی کام کرسکتی ہیں اور انہیں کرنا چاہیے اوردوسری خواتین و حضرات کے اندر بھی یہ فکر پیدا کرنی چاہیے کہ وہ ان محاذوں پر ڈٹ جائیں۔

گھر کامحاذ

مغرب کے سماج میں خاندانی نظام کے تانے بانے بکھر چکے ہیں اور یہ اکائی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی ہے اور مشرق میں بکھراؤ اور ٹوٹ پھوٹ کا یہ عمل شروع ہوگیا ہے۔ کیوںکہ گھر سماج کی پہلی اور بنیادی اکائی ہے جہاں سے ہمارے نئے سماج کی تعمیر و تشکیل کا عمل شروع ہوتا ہے۔ اس لیے نئے سماج کی تعمیر کا عزم رکھنے والوں کو پہلے اپنے گھر کے سماج کی بنیادی اکائی کی تعمیر نو کرنی ہے اور دنیا کے سامنے ایک ماڈل کے طور پر اسے پیش کرنا ہے۔ ٹوٹ پھوٹ اور تنازعات کے شکار خاندانوں سے سماج کی تعمیر نو اور اس مثالی سماج کی تشکیل کے دعوے ایک بھونڈا مذاق ہی ہوں گے اور یہ خواب اس وقت تک شرمندئہ تعبیر نہ ہوسکے گا جب تک ہمارے خاندان مستحکم، اس کے افراد تعلیم یافتہ، اس کی نسلیں مہذب اور ان بنیادی خوبیوں کے نمائندے نہیں بن جاتے جو ہم پورے سماج میں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ہماری خواتین کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ ماں کی گود ان اقدار، افکار اور نظریات کے سانچے ہیں جن میں وہ اپنی اولاد کو ڈھالنا چاہتی ہیں۔ اس لیے ان کی ذمہ داری ہے کہ آنے والی نسلوں کو ان افکار و اقدار کے سانچوں میں ڈھال دیں جو وہ سماج میں رائج اور جاری دیکھنا چاہتی ہیں۔

سماج کا محاذ

مردوں کا نصف چھوڑ کر باقی پورا محاذ خواتین کی سرگرمیوں کا محاذ ہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ نئے سماج کی تعمیر کا عزم رکھنے والی خواتین اپنے گھر سے نکل کر پاس پڑوس اور اپنے شہر کو اپنا میدان عمل بنائیں اور سماج کے اندر ان مسائل، چیلنجز اور دشواریوں کا شعور پیدا کرنے کے ساتھ ان اقدار اور ان بنیادوں سے بھی اسے اچھی طرح واقف کرائیں جو نئے سماج کی بنیادیں ہیں۔ سماج کے مسائل یکساں ہیں لیکن لوگوں میں ان کا شعور اور احساس مختلف ہے۔ ہمیں سماج میں جاکر لوگوں کے اندر سماجی مسائل کا ایسا شعور پیدا کرنا ہے کہ وہ شعور انھیں ان مسائل کے حل کے لیے عملی جدوجہد پر آمادہ کردے۔ ہمارے سماج میں غربت و افلاس ہے، ناخواندگی اور جہالت ہے، توہم پرستی اور فرقہ واریت ہے، ذات پات اور اونچ نیچ ہے، خواتین کے خلاف جرائم اور سمای برائیاں ہیں جو لاکھوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتی ہیں۔ بیٹیوں کی توہین اور ان کا قتل اسی سماج کی مائیں انجام دیتی ہیں جہیز کے لیے دلہن اسی سماج میں جلائی جاتی ہیں۔ آخر ہم کب تک بے فکر اپنے گھروں میں رہیں اور ان برائیوں کے خلاف تحریک برپا نہ کریں؟ ہمیں موجودہ سماج کی خامیوں اور اس میں پیش آنے والی دشواریوں کے حوالے سے خواتین میں ایک طرف تو بیداری پیدا کرنی ہے دوسری طرف اس متبادل سماج کے خدوخال لوگوں کے سامنے واضح اور قابلِ فہم انداز میں پیش کرنے ہیں۔ یہی ہماری دعوت ہے اور یہی اس پورے پیغام کا خلاصہ ہے جو ہمارے اللہ نے کتاب ِ ہدایت کی صورت میں ہمیں دیا ہے۔ اور اس سلسلے کی آخری کڑی ان باشعور، باعزم اور میدانِ کار کی خواتین کو سماج کی تعمیرِ نو کے لیے منظم، متحد، متحرک و فعال بنانا ہے اور یہ ہماری وہ تحریک ہے جو انسانوں کو نئے نظام زندگی سے روشناس کرائے گی۔ ہماری اس تحریک میں ان تمام خواتین کو شامل ہونا چاہیے جو ہمارے سماج کا حصہ ہیں، اس تحریک کے ذریعے ہمیں مسلم سماج کے گھروں کی بھی اصلاح کرنی ہے اور مسلم وغیر مسلم خواتین کو ان سماجی مسائل سے بھی نجات دلانی ہے جن کا اوپر ذکر کیا گیا اور جن سے پورا سماج دو چار ہے۔

سیاست و معیشت

سیاست انسان کو امپاور کرنے اور با اختیار بنانے کا بہترین ہتھیار ہے۔ اور سماج پر اثر انداز ہونے اور اسے بدلنے کے لیے اس کااستعمال لازمی ہے۔ یہ بات اب بحث کا موضوع شاید نہیں ہونی چاہیے کہ عورت سیاست میں حصہ لے یا نہ لے۔ (عہدِ رسالت و صحابہ میں اس کے نظائر موجود ہیں) اس لیے کہ موجودہ زمانے نے سیاست کی حصہ داری کو سماجی اور فکری تبدیلی کا ذریعہ بنادیا ہے اور اس کا اثر غیر معمولی ہے۔ ایسے دور میں جب گرام پنچایتوں میں خواتین کے لیے پچاس فیصد تک رزرویشن دے دیا گیا ہے اور اسمبلیوں اور پارلیمان میں ۳۳ فیصد رزرویشن کی بات پورے ملک میں زیرِ بحث ہے، ہم اس بات کے متحمل نہیں ہوسکتے کہ اقتدار، طاقت اور اثر انداز ہونے کے اتنے بڑے ہتھیار کو استعمال کرنے سے گریز کریں۔

سماج کی تعمیر نو کا دعویٰ اور عزم و عمل رکھنے والی خواتین کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود کو اس قابل بنائیں کہ وہ اسلام کی پیش کردہ صالح اقدار کی بنیاد پر سماج میں اپنا مقام بناسکیں اور اقتدار حاصل کرکے نئے سماج کی تعمیر میں اہم رول ادا کریں۔

اسی سلسلہ کی ایک بات حلال اور جائز طریقے سے خاندان کی معاشی اور اقتصادی حالت کو بہتر بنانا بھی ہے۔ اسلام ہمیں جہاں استغنا سکھاتا ہے وہیں حلال و طیب رزق کے لیے جدوجہد کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ عہدِ صحابہ اور عہدِ رسالت سے روشنی و رہنمائی لیتے ہوئے ہمیں ان محاذوں پر ان تھک اور نتیجہ خیز جدوجہد کرنی ہے۔

دعوی ٰاور چیلنج

مذکورہ بنیادوں پر سماج کی تعمیر کے عزم کا اظہار ایک طرف تو ہمارا دعویٰ ہے لیکن دوسری طرف یہی دعویٰ ہمارے لیے چیلنج بھی ہے کہ ہم اس دعوے کو کس طرح عملی شکل دیتے ہیں۔ اہل اسلام اور اہل دعوت کو اسے چیلنج ہی کی شکل میں لینا چاہیے اور یہ واقعی ہے بھی چیلنج۔ اس لیے کہ حق و باطل کی کشمکش میں باطل ہمیشہ حق کے لیے چیلنج رہا ہے اور آج بھی سماج میں جاری، رائج اور فروغ پارہی اقدار ہمارے لیے چیلنج ہی ہیں۔

ہماری خواتین کے لیے لازمی ہے کہ وہ زمانے کے ان چیلنجوں کو سمجھیں بھی اور ان کے مقابلے کے لیے کمربستہ بھی ہوں اور اس راہ کی درپیش قربانیوں اور مشقتوں کو اٹھانے کا عزم مصمم بھی کریں۔ اگرانسانیت کا نصف یعنی خواتین سماج کی موجودہ صورتِ حال، وقت کے تقاضوں اور بہ حیثیت مسلمان اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ کر عزم و عمل کا پیکر نہیں بن جاتیں تو دنیا ان تاریکیوں میں مزید کچھ صدیاں بھٹکتی رہے گی اور اس کی ذمہ داری ہم اہلِ اسلام پر ہوگی۔

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

تبصرہ کیجیے