3

مسلمان خواتین کی دعوتی ذمہ داریاں

عورت مرد کی معاون اور مددگار ہے۔ وہ کفر و شرک اور معصیت میں بھی اس کا تعاون کرسکتی ہے اور اس کا تعاون اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے احکام کی بجا آوری میں بھی حاصل ہو سکتا ہے۔ اس کے اس تعاون کی بڑی اہمیت ہے اور اس کے دور رَس نتائج نکلتے ہیں۔ عورت چاہے تو ایک غلط رَو شوہر کو اس کی غلط روی میں اس حد تک پہنچا سکتی ہے کہ اس کے لیے واپسی دشوار ہو جائے۔ اسی طرح وہ چاہے تو دین کے معاملہ میں بھی مرد کی استقامت کا سبب بن سکتی ہے۔

پہلی مثال ابو لہب کی بیوی کی ہے۔ ابو لہب، رسول اللہؐ کابدترین دشمن تھا، آپ کو سخت سے سخت اذیتیں پہنچاتا رہتا تھا۔ اس کی بیوی اس معاملہ میں اس کی سب سے بڑی معاون اور مددگار تھی۔ وہ آپ کے خلاف جو منصوبہ بناتا اور جو اقدام کرتا اس کی تائید اسے حاصل ہوتی۔ ابو لہب کو اپنی دولت پر بھی بڑا ناز تھا۔ یہ دولت اس کے پاس بہت ہی ناپاک ذرائع سے آتی تھی۔ اس کے اکٹھا کرنے میں بھی اس کی بیوی کا ہاتھ تھا۔ ایک دنیا دار اور حریص عورت کی طرح وہ جائز و ناجائز ہر طریقہ سے دولت سمیٹنے کی اسے ترغیب دیتی رہتی تھی، اور کسی اچھے مقصد میں صرف کرنے سے اسے روکتی تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ دین کی مخالفت میں بڑھتا چلا گیا۔ رسول اللہؐ سے اس کی قرابت اور رشتہ داری تھی، لیکن اس رشتہ اور تعلق کی بھی اس نے کوئی رعایت نہیں کی اور اخلاق و شرافت کے سارے حدود توڑ ڈالے۔ اس کی بیوی نے نہ صرف یہ کہ اس غلط روی سے اسے باز رکھنے کی کوشش نہیں کی، بلکہ اس کی ہمت افزائی کرتی رہی اور ہر غلط اور غیر شریفانہ حرکت میں اس کی پشت پناہ بنی رہیـ۔

ٹوٹ گئے ابو لہب کے ہاتھ اور وہ تباہ ہوا۔ اس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا وہ اس کے کام نہ آیا۔ اب وہ دہکتی ہوئی آگ میں جائے گا اور (ساتھ ہی)اس کی بیوی بھی لکڑیوں کا گٹھر اٹھائے ہوئے۔ اس کی گردن میں کھجور کی چھال کی رسی پڑی ہوگی۔ (اللہب:۵)

دوسری مثال حضرت خدیجہؓ کی ہے۔ رسول اللہؐ کی بعثت کے بعد سب سے پہلے اسلام لائیں، اپنا مال و دولت سب کچھ دین کے لیے وقف کر دیا۔ اس راہ میں جو مشکلات آئیں بہ خوشی انہیں برداشت کیا، نازک سے نازک مرحلہ میں بھی صبر واستقامت کا ثبوت دیا۔ باہر کی دنیا میں رسول اللہؐ کی شدید مخالفت ہوتی تھی، لیکن گھر کے اندر حضرت خدیجہؓ آپؐ کی دل جوئی اور تسکین کا سامان فراہم کرتی تھیں اور ہر طرح آپؐ کی ہمت افزائی فرماتی تھیں۔ تاریخ میں حضرت خدیجہؓ کا نام رسول اللہؐ کی بہترین رفیقِ حیات اور راہِ حق کے بہترین معاون کی حیثیت سے ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگیا ہے۔ ہمارے قدیم اور مشہور مورخ ابن اسحق کہتے ہیں:

حضرت خدیجہؓ بنت خویلد آپؐ پر ایمان لائیں، اللہ کی طرف سے جو دین آپؐ لائے اس کی تصدیق کی، آپؐ کی تبلیغی جدوجہد میں آپؐ کی معاونت فرمائی۔ اللہ اور اس کے رسولؐ پر ایمان لانے اور آپؐ کی تعلیمات کو ماننے والوں میں پہلی شخصیت ان ہی کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعہ اپنے نبیؐ کا بوجھ ہلکا کیا۔ رسول اللہﷺ، اپنی تردید یا تکذیب یا کوئی بھی تکلیف دہ بات سنتے تو جس وقت آپؐ حضرت خدیجہؓ کے پاس پہنچتے تو اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے اسے دور فرماتا۔ وہ آپؐ کو ثابت قدم رکھتیں، آپؐ کا غم ہلکا کرتیں، آپ کی باتوں کی تصدیق کرتیں اور لوگوں کے رویے کی تحقیر اور مذمت فرماتیں۔ رحمہا اللہ (سیرۃ ابن ہشام: ۱/۹۵۲)

دینی امور میں میاںبیوی کا تعاون مطلوب ہے۔ اسلام کے نزدیک میاں بیوی کو دین کے معاملے میں ایک دوسرے کا معاون اور مددگار ہونا چاہیے۔

خاوند سے تعاون

شوہر اگر دین دار ہے، اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق پہچانتا ہے، اپنی حد تک دعوت و تبلیغ اور خلقِ خدا کی اصلاح میں سرگرم ہے تو عورت کا فرض ہے کہ ان تمام کاموں میں اس کی مدد کرے، اس کے لیے ہر ممکنہ سہولت فراہم کرے، امور خیر میں کبھی اس سے غفلت اور کوتاہی ہو تو نرمی اور محبت سے اسے توجہ دلائے، اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے جدوجہد کرنے اور اس کی خاطر وقت، آسائش و راحت اور روپے پیسے صرف کرنے کو اپنے لیے بھی اور شوہر کے لیے بھی بہت بڑی سعادت سمجھے، اس راہ میں جو مشکلات پیش آئیں انہیں صبر و سکون کے ساتھ برداشت کرے۔ کسی نیک بندہ کے لیے اس طرح کی بیوی دنیا کی سب سے بڑی دولت ہے۔ رسول اللہؐ سے دریافت کیا گیا کہ دنیا کی وہ بہترین دولت کیا ہے جسے انسان اپنے پاس رکھے۔ آپ نے فرمایا:

سب سے بہتر دولت ہے اللہ کا ذکر کرنے والی زبان، اس کا شکر کرنے والا دل اور ایسی صاحب ایمان بیوی جو ایمان کے راستے میں اس کی مدد کرے۔(ترمذی)

دین کے معاملے میں آدمی سے جو استقامت مطلوب ہے اس کے لیے بھی بیوی کے تعاون کی بڑی اہمیت ہے۔ صحابہ کرام نے دین کی راہ میں جس بے نظیر استقامت کا ثبوت دیا، اس کے پیچھے ان کی نیک اور خدا ترس بیویوں کا بھی ہاتھ رہا ہے۔ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے نازک سے نازک حالات میں بھی اپنے شوہروں کا ساتھ نہ چھوڑا اور انہوں نے جو بھی قدم اٹھایا اس کی انہوں نے تائید اور حمایت کی۔ تنگی ترشی، مخالفت اور کش مکش، ہجرت اور جہاد، ہر مرحلہ میں صحابہ کرامؓ کو ان کی بیویوں کا تعاون حاصل رہا۔ ایسی کوئی ایک بھی مثال نہیں ملتی کہ صحابہ کرامؓ کے لیے ان کی بیویاں کبھی زنجیر پا بن گئی ہوں اور ان کی راہ میں رکاوٹ ڈالی ہوں۔

ایک مسلمان عورت کے لیے اس وقت مسائل پیدا ہوتے ہیں، جب کہ شوہر کو دین سے دلچسپی نہ ہو، وہ تو دین کو مقدم رکھے اور شوہر اسے اہمیت نہ دے، وہ دین پر چلنا چاہے اور شوہر اس کی مخالفت کرے، وہ اپنے گھر اور ماحول کو اسلامی بنانے کی کوشش کرے اور شوہر اس کی راہ میں مزاحم ہو۔ جو خواتین اس صورتِ حال سے دو چار ہوں ان کو بڑے ہی صبر و ضبط اور حکمت و دانائی کے ساتھ اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔

اصلاح کی تدابیر

اس طرح کی خواتین کو چند باتوں کا خاص اہتمام کرنا چاہیے:

۱- جہاں تک ہوسکے وہ اللہ اور رسولؐ کے احکام پر خود عمل کریں۔ نماز، روزہ، صدقہ و خیرات، تلاوت، ذکر اور دوسری عبادات کا اہتمام کریں۔ لباس، وضع قطع، معاشرت اور آپس کے تعلقات میں اسلامی حدود کی پابند رہیں، اور اخلاق و سیرت کا بہتر نمونہ پیش کریں۔ یہ خاموش تبلیغ ہوگی۔ اگر شوہر میں دینی حِس زندہ ہو تو وہ اس سے متاثر ضرور ہوگا اور اس پر ضرور غور کرے گا۔

۲- اللہ تعالیٰ نے شوہر کے بڑے حقوق بتائے ہیں۔ ان حقوق کے ادا کرنے میں اپنی حد تک کوتاہی نہ کریں۔ معروف میں اس کی اطاعت کو ضروری سمجھیں، لیکن اگر وہ کسی معصیت کا حکم دے تو معذوری ظاہر کردیں اور نرمی سے سمجھا دیں کہ میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرسکتی۔ اس سے وقتی طور پر شوہر کی خفگی بھی مول لینی پڑے تو اسے برداشت کریں، اس سے دین کی اہمیت واضح ہوگی۔ شوہر کے ساتھ محبت، ہمدردی اور غم خواری کا رویہ رکھیں، اس کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھیں، اس کے مال و متاع کی اپنے مال و متاع کی طرح حفاظت کریں اور کسی بھی ایسے اقدام سے حتی الوسع احتراز کریں، جس سے تعلقات خراب ہوسکتے ہوں۔ شرافت و اخلاق سے بڑا ہتھیار آج تک انسان نے دریافت نہیں کیا ہے۔ اس سے بڑے سے بڑے مخالف کا دل جیتا جاسکتا ہے، اس لیے آپ کا اعلیٰ اخلاقی رویہ شوہر کے اندر تبدیلی لا سکتا ہے۔

۳- شوہر کے مرتبہ و مقام کی پوری رعایت کرتے ہوئے دل سوزی اور غم خواری کے ساتھ اس کی اصلاح کی کوشش جاری رکھیں۔ لیکن مستقل وعظ و نصیحت سے احتراز کریں۔ جب آمادگی محسوس ہو تو کوئی آیت یا حدیث یا سلف کا کوئی واقعہ سنا دیں۔ یا موثر انداز میں دین کا کوئی پہلو واضح کردیں، اسی طرح کبھی مناسبِ ذوق کوئی کتاب، رسالہ یا اخبار مطالعہ کے لیے دے دیں یا پڑھ کر سنا دیں۔ اس طرح آہستہ آہستہ ذہن کو موڑنے کی کوشش کریں۔ جلد بازی بے سود ہے۔

۴- اس سلسلہ میں بحث و تکرار، اعتراض و تنقید اور طنز و تعریض کسی طرح مفید نہیں ہے۔ تندی اور تیزی، غصہ اور خفگی کا اظہار بھی نقصان دہ ہے۔ اس سے مرد کے اندر ضد اور نفرت پیدا ہوسکتی ہے اور وہ اسلام سے زیادہ دور ہوسکتا ہے۔ چھوٹوں کی تنقید برداشت کرنا بڑے دل گردے کا کام ہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ دینی جذبہ بہت زیادہ قوی ہو، جہاں یہ جذبہ نہ ہو وہاں تنقید سے احتراز ہی کرنا چاہیے۔

۵- آدمی جس ماحول میں اٹھتا بیٹھتا ہے اس کا اس کے بنانے اور بگاڑنے میں بڑا دخل ہوتا ہے۔ اگر شوہر دین و اخلاق کو خراب کرنے والے کسی ماحول میں گِھر گیا ہے تو اس ماحول سے نکالنے کی پوری کوشش ہونی چاہیے۔ اس سے نکلے بغیر اصلاح آسان نہیں ہے۔ عورت اس معاملہ میں بہت معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ اگر وہ صبر و سکون سے کام لے اور گھر کے اندر کشش اور جاذبیت پیدا کرلے تو شوہر کو اس ماحول سے نکال سکتی ہے۔ ایسی صورت میں عام طور پر میاں بیوی کی علیحدگی کے بارے میں سوچا جاتا ہے۔ لیکن یہ آخری علاج ہے۔ اس سے پہلے ایک دین دار عورت کو شوہر کی اصلاح کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔

بچوں کی اصلاح

جہاں تک بچوں کا تعلق ہے، ماں ان کی نگراں اور سرپرست ہے۔ وہ معروف میں اس کی اطاعت کے پابند ہیں۔ اسے ان کی اصلاح و تربیت کا اخلاقی اور قانونی حق حاصل ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کی ایک مشہور روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

عورت نگراں ہے اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں کی اور ان کے بارے میں اس سے پوچھا جائے گا۔ (بخاری و مسلم)

ماں کی یہ دینی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو اسلام کی تعلیم دے، ان کو اسلام اور غیر اسلام کا فرق سمجھائے اور دین کا صحیح اور جامع تصور ان کے ذہنوں میں بٹھائے، ان کی سیرت و کردار کو اسلام کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرے، کفر و شرک اور بدعت سے اجتناب کی تعلیم دے، نماز روزہ اور دیگر احکامِ شرع کا پابند بنائے، ان کے اندر دنیا کی جگہ دین کی محبت پیدا کرے اور دین کی خدمت اور اسے سربلند کرنے کا جذبہ ابھارے۔ یہ دین جو ہم تک پہنچا ہے اس میں بڑا دخل ہماری ان ماؤں کا ہے جنہوں نے اسے ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچانے کی کوشش کی۔

آج ہمارے چاروں طرف غیر اسلامی فضا چھائی ہوئی ہے۔ انسان اسلام سے تو واقف نہیں ہوتا البتہ غیر اسلامی افکار کا اُسے شب و روز درس ملتا رہتا ہے۔ دین کی تعلیم اگر کہیں ملتی بھی ہے تو بہت ناقص اور ادھوری۔ اگر ہماری مائیں اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کریں تو ہمارے گھر دینی تعلیم کے بہترین مرکز بن جائیں۔ اس سے ایک طرف تو امت کو خدا ترس افراد، دین کے سچے خادم اور جاں نثار سپاہی ملتے رہیں گے اور دوسری طرف باہر کی دنیا میں مرد زیادہ بہتر طریقے سے دعوت و تبلیغ کا فرض انجام دے سکیں گے۔

خاندان کی اصلاح

شوہر اور بچوں کے علاوہ بھائی بہن اور خاندان کے دوسرے قریبی رشتے داروں کے درمیان بھی ایک مسلمان عورت کو دعوت و تبلیغ اور اصلاح و تربیت کا فرض انجام دینا چاہیے۔ اپنے بڑوں میں دین سے غفلت اور کوتاہی پائی جاتی ہے یا انہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں ہے تو ادب و احترام کے ساتھ انہیں اس کی طرف توجہ دلانی چاہیے۔ بڑوں کی غلطیوں پر نہ ٹوکنا یا سکوت اختیار کرلینا خیر خواہی نہیں ہے۔ جو چھوٹے ہیں ان کو دین کی اہمیت سمجھانی چاہیے۔ اگر وہ اسلام سے ناواقف ہیں تو اس کے مطالعہ کی ترغیب دینی چاہیے۔ اسلام کے بارے میں ان کی معلومات ناقص اور ادھوری ہوں تو ان کو صحیح اور مکمل معلومات فراہم کرنی چاہیے۔ وہ کسی غلط فہمی کا شکار ہوں تو اس کی اصلاح کرنی چاہیے۔ اگر ان میں کوئی دینی اور اخلاقی کم زوری ہو تو اسے پیار اور محبت سے دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ غرض یہ کہ اس معاملہ میں ان کی جو بھی مدد کی جاسکتی ہو کی جانی چاہیے۔

ماحول کی اصلاح

خاندان سے باہر بھی شرعی حدود کی رعایت کرتے ہوئے مسلمان خواتین کو دعوت و اصلاح کا فرض انجام دینا چاہیے۔ برائیاں ہمارے گھروں ہی میں نہیں پورے ماحول میں پھیل چکی ہیں۔ خدا بے زاری، عبادات سے غفلت، اخلاق میں گراوٹ، معاملات میں بگاڑ، ظلم و زیادتی، اونچ نیچ اور غلط رسم و رواج نے معاشرہ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اس کی اصلاح میں عورتوں کو بھی اپنا حصہ ادا کرنا چاہیے۔ وہ تقریروں کے ذریعے اور مقالے اور مضامین لکھ کر ان برائیوں کے خلاف فضا بھی بنا سکتی ہیں اور اسلامی تعلیمات سے روشناس بھی کرا سکتی ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
مولانا سید جلال الدین عمری

تبصرہ کیجیے