4

تحریک اسلامی میں عورت کا انفرادی کردار

کنتم خیر امۃ اخرجت للناسمیں بلا تفریق جنس امت مسلمہ کے منصب کا تذکرہ فرمایا گیا ہے۔ اس سے پہلے بنی اسرائیل اس منصب پر فائز تھے جن کو معزول کرنے کے بعد امت مسلمہ کو یہ منصب دیا گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے منصبی فریضے کو پس پشت ڈال چکے تھے۔

ہر زمانے کی طرح ساری دنیا کے انسان آج بھی اس بات کے محتاج ہیں کہ ان کی رہ نمائی کی جائے، انہیں فطرت کی طرف پلٹایا جائے اور گم رہیکی ظلمت میں بھٹکتی انسانیت کو سیدھا راستہ دکھایا جائے۔ فلاح آخرت و دنیا کیسے ممکن ہوسکتی ہے انہیں سمجھایا جائے۔ نبوت کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد یہ انبیائی کام امت کے کاندھوں پر ڈالا گیا تو اس میں صرف مردوں کو شریک نہیں کیا گیا بلکہ بار بار یایہا الذین آمنوا کہہ کر یہ احساس دلایا جا رہا ہے کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے کام میں دونوں برابر کے شریک اور اس کے لیے جواب دہ ہیں۔ زندگی کے ہر گوشے اور شعبے میں تبدیلی صرف مرد نہیں کرسکے۔ جن شعبوں اور گوشوں کی عورت ذمہ دار ہے، وہاں تبدیلی عورت ہی لاسکتی ہے اور یہ اسی کی ذمہ داری بھی ہے۔

تاریخ اسلام کے روشن دور میں عورت اپنی یہ ذمہ داری برابر ادا کرتی رہی۔ ازواج مطہرات اور صحابیات نے سماج میں ایک موثر رول ادا کیا تھا۔ آج عورت کو خود مسلم سماج میں سماجی سرگرمیوں اور دعوتی مشن سے دور کردیا گیا۔ بعض روایات کا مختلف مفہوم نکال کر اسے اس ذمے داری سے الگ کر دیا گیا۔ کہیں یہ کہا گیا کہ عورت ناقص العقل ہے جب کہ تاریخ گواہ ہے کہ سماج میں انقلاب برپا کرنے میں خواتین نے بڑے اور ایسے عظیم الشان رول ادا کیے ہیں جن کا بہت سے مرد تصور بھی نہیں کرسکتے۔ قرآن کریم میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے کی ایک حکمراں خاتون کا ذکر ہے، جس کی حکمت و دانائی نے نہ صرف اپنی سلطنت کو حضرت سلیمانؑ کے ہاتھوں تباہ ہونے سے بچالیا بلکہ پوری قوم کی ہدایت کا ذریعہ بن گئی۔ عہد رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی وہ کبھی درس و تدریس کا کام کرتی نظر آتی ہیں تو کبھی تجارت، کبھی تلوار اٹھاتی نظر آتی ہیں تو کبھی مرہم پٹی کرتی ہوتی ملتی ہیں۔ کبھی حق کی وکالت کرتی ہوئی ملتی ہیں تو کبھی اسلام کا علم بلند کرتی ہوئی۔ کبھی تجارت کی تو کبھی قلم اٹھایا۔ انھوں نے سماج میں جہاں ضرورت محسوس کی وہیں اپنے حصے کی ذمے داری کو سنبھال کر اسے انجام دیا۔

عورت کی سماجی و تحریکی سرگرمیاں

اس وقت ایک طرف تو اس بات کی ضرورت ہے کہ عام خواتین کی ذہن سازی کی جائے کہ دین کی تبلیغ و اشاعت ان پر بھی اسی طرح فرض ہے جس طرح مردوں پر ہے، دوسری طرف انہیں اس راہ میں آگے بڑھنے اور اس مشن میں حصہ داری نبھانے کے لیے عملاً تیار کیا جائے۔ اس وقت خواتین میں دین کا علم و شعور عام طور پر بہت کم ہے۔ ان کے دین کی ساری بنیاد رسوم و رواج اور سنی سنائی باتوں پر ہے۔ وہ اسلام کے اس تصور سے ناواقف ہیں کہ وہ پوری زندگی میں رہنمائی کرتا ہے اور اس کے احکام زندگی کے ہر گوشے اور ہر مرحلے کے لیے ہیں۔ وہ دین کی بنیادی تعلیمات اور نظریات کا علم نہیں رکھتیں۔ ایسے میں باشعور خواتین تحریک کی یہ ذمے داری ہے کہ انہیں مکمل دین سمجھائیں اور خواتین کی ذاتی ذمہ داری ہے کہ وہ دین کا مکمل علم حاصل کریں۔ ان کا ایسا کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اگر وہ دین کا کام نہیں کریں گی تو یا تو وہ کام ہونے سے رہ جائے گا یا پھر مردوں ہی کو انجام دینا ہوگا اور مردوں کے لیے اس کام میں بڑی دشواریاں اور مجبوریاں ہوتی ہیں جنھیں بہ آسانی سمجھا جاسکتا ہے۔

٭ اگر ہم سماج پر نظر ڈالیں تو عورت ہر طرف مظلوم و مجبور نظر آئے گی۔ اعلیٰ عہدوں اور اعلیٰ ڈگریوں کے ہوتے ہوئے بھی اس کا استحصال بند نہیں ہوا بلکہ مختلف شکلوں میں جاری ہے۔ دوسری طرف خواتین کے خلاف مختلف قسم کے جرائم کا سیلاب ہے، جو دنیا بھر میں ان کے باوقار وجود کو بہالے جانے کے لیے تیار ہے۔ ایسے میں مظلوم خواتین کی مدد اور انہیں جذباتی سپورٹ صرف اور صرف اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے والے ہی دے سکتے ہیں۔ یہ درست اور مناسب وقت ہے کہ دنیا کو بتایا جائے کہ اسلام کس طرح عورت کو عزت دیتا ہے۔

٭ اسلام، خواتین اور خاندان آج ایک اہم موضوع بن گیا ہے جہاں بہت سارے ایشوز اور معاملات کو لے کر ایک معرکہ برپا ہو گیا ہے۔ مفاد پرست اور شیطانی طاقتیں خاندانی نظام کو درہم برہم کرنے کے لیے کو شاں ہیں اور اس کے لیے انھوں نے بڑے خوب صورت اور لبھاؤنے پیکج تیا رکیے ہیں۔ اس کو بچانے کے لیے خود عورت کو آگے آنا ہوگا۔ خاندانی نظام داؤ پر لگا ہے کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ خاندانی نظام عورت کے لیے قید ہے اور اسے اس پر ظلم کرنے کے لیے بنایا گیا تو کبھی کمیونسٹ نظریات نے اسے بورزوا نظام کہا جو کمزور وں کا استحصال کرتا ہے۔ اس نظام کو برباد کرنے کے لیے کئی چالیں چلی گئیں۔ سب سے پہلے انھوں نے شادی کی اہمیت کو کم کیا۔ بغیر شادی کے بھی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے قانونی راستے نکالے۔ یہ بھی کہا گیا کہ زندگی گزارنے کے لیے عورت کی ضرورت نہیں بلکہ Robotsکافی ہیں۔ یہ خاندانی نظام کے لیے آخری درجے کی موت ہے۔ اس دور کی نظریاتی جنگ اگر عورت ہار گئی تو اس کا عزت و وقار دفن ہوجائے گا۔ اس لیے عورت کو خود اپنی شناخت اور تحفظ کے لیے اس کا مقابلہ کرنا ہوگا اور یہ مقابلہ صرف اس طرح کیا جاسکتا ہے کہ اسلام کے ماننے والی خواتین قولی و عملی شہادت دیں۔ لڑنا ہوگا۔ اسلام کے ہوتے ہوئے دوسرے نظام پنپ نہیں سکتے تھے مگر کیا کیجیے کہ وہ ترقی کی اس معراج کو پہنچ گئے جہاں ان کا جادو سرچڑھ کر بول رہا ہے۔

٭ تین طلاق کا غلط تصور اسلام او رمسلمان سماج دونوں کی پیشانی پر بدنما داغ ہے۔ اس داغ کو مٹانے کی ہمیں فکر کرنی ہوگی اور اپنی نسلوں کو اسلام کے نظام زندگی سے واقف کرانا ہوگا۔ دوسری طرف اپنی ہم وطن بہنوں کو بھی اسلام کے نظام معاشرت سے واقف کرانا ہوگا۔ یہ کام ہم جہاں کہیں بھی رہیں بہ آسانی کرسکتی ہیں مگر اس کے لیے اپنے اندر دین کا صحیح شعور اور علم پیدا کرنا ہوگا۔

٭ ہم وطن بہنوں میں دعوتی کام کرنا ہماری ایسی ذمے داری ہے جس پر ہماری آخرت کی کامیابی کا دار و مدار ہے۔ اس سلسلے میں ہم گھر بیٹھے بہت سارا کام کرسکتی ہیں بہ شرطے کہ ہمیں اس کی فکر ہو۔ موجودہ زمانے میں سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور پریس ہماری خدمت کے لیے موجود ہیں اور ہم اپنی گھریلو ذمے داریوں کو ادا کرتے ہوئے بھی اس میں کامیاب حصہ داری نبھا سکتی ہیں۔ اگر ہم نے اپنے آپ کو قلم اور ٹیکنا لوجی کے ہتھیار سے لیس کرلیا تو ہماری پہنچ بہت دور تک ہوسکتی ہے۔

٭ باشعور بہنیں اپنے علاقائی اور مادری زبان میں لکھنے کا کام کریں تو دعوت اسلامی کے لیے نئے راستے کھلیں گے۔ اس کے ذریعے ہم اسلام کا پیغام کامیابی کے ساتھ پہنچاسکیں گے اور اسلام کے بارے میں رائج اور پھیلائی جا رہی غلط فہمیوں کو بھی ختم کرسکیں گے۔

٭ آج کے دور میں بہت سارے کام بیک آفس سے ہوتے ہیں ہم خواتین منصوبہ بندی، رپورٹس، اکاؤنٹس اور دیگر بہت ساری ذمے داریوں کے لیے خود کو پیش کر کے نہ صرف تحریک اسلامی کے کام میں اپنا انفرادی رول ادا کرسکتی ہیں بلکہ تحریک کے لیے اعلیٰ درجے کا ہیومن ریسورس فراہم کر کے تحریک کا قیمتی سرمایہ بن سکتی ہیں۔

یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ یہ تمام ذمے داریاں ہمیں ہماری گھریلو ذمے داریوں سے فرار اور کوتاہی نہ سکھائیں۔ اس کے برعکس ہم اپنی ذات اور شخصیت، وقت اور صلاحیتوں کی تنظیم کرکے اور بہتر سے بہتر استعمال کرنے کا خود کواہل بنائیں۔

اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئیں تو یہ تحریک اسلامی میں ہمارا بہترین انفرادی رول ہوگا۔

انتہائی قابل غور بات یہ ہے کہ بچوں کی تربیت اور غلط ماحول سے ان کا تحفظ آج مشکل ترین کام ہوگیا ہے۔ برائیاں کھلے عام انجام پا رہی ہیں اور ان کا چرچہ بھی ہو رہا ہے۔ آئندہ نسل تک اسلامی اقدار کو منتقل کرنے کا کام صرف عورت ہی کرسکتی ہے۔ کل ہم خواتین کو Missionary کے ساتھ Visionaryبھی بننا ہوگا۔ ایک ذمے دار قائد، نیک وفا دار شہری اور ایک صالح تاجر بنانا عورت کا ہی کام ہے۔ اگر ہر عورت یہ قسم کھالے کہ اپنے وقت اور اپنی صلاحٰت کا کچھ حصہ اللہ کے دین کے لیے لگاؤں گی تو وہ دن دور نہیں جب ہم ایک روشن اور تابناک مستقبل دیکھیں گے۔ ایسا رول ادا کرنے پر اللہ کا وعدہ ہے کہ رحمت نازل ہوکر رہے گی۔ اس کے لیے عصر حاضر کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
فاخرہ عتیق (وانم باڑی)

تبصرہ کیجیے