2

مسلم عورت بہ حیثیت شہری

جدید جمہوریت سے پہلے انسانوں کے درمیان شہریت سے متعلق جتنے بھی تصورات اور نظریات فلسفے یا تجربے کے طور سے متعارف ہوئے ان تمام میں شہریت کا تصور بہت محدود اور سماج کے ایک خاص طبقے کے لئے مخصوص تھا۔ چنانچہ یونانی تاریخ میں افلاطون کا مثالی سماج کا تصور ہو یا پھر مسلم تاریخ میں فارابی کا مدینہ فاضلہ کا تصور ہو یا مغربی مفکرین میں ہابس یا لاک کے نظریات ہوں، ان تمام میں مکمل شہریت کا اطلاق ایک مخصوص طبقے ہی کے لئے تھا۔ انیسویں صدی کے اوائل میں پہلی بار عورتوں کو برابر کا شہری قرار دینے اور ان کے لئے حق رائے دہندگی کو منظور کرنے کی مہمیں چلیں اور بیسویں صدی کے اختتام تک اکثر مغربی ممالک میں عورتوں کو مکمل شہری تسلیم کیا گیا اور الیکشن میں ان کو برابر کا موقع ملا۔

شہریت کے تعلق سے مختلف ماہروں نے مختلف تعریفیں کی ہیں اور مختصر میں شہریت کی تعریف یوں کر سکتے ہیں: حقوق اور ذمہ داریوں کا ایک مجموعہ جو افراد کو ایک مخصوص قانونی تشخص فراہم کرے۔ ان حقوق اور فرائض کو محفوظ کرنے اور ان کو استحکام دینے کے لئے کچھ سماجی اداروں کا قیام وجود میں لایا جاتا ہے جس میں عدلیہ، پارلیامنٹ اور رفاہی ادارے قابل ذکر ہیں۔

شہریت کی بنیاد پر جو حقوق اور ذمہ داریاں زیر بحث آتے ہیں ان کو تین شعبوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: سیاسی ، معاشی اور ثقافتی۔

ہمارے پیش نظر سیاسی حقوق اور فرائض پر مسلم عورت کے تناظر میں اپنی گفتگو کو محدود رکھنا ہے۔

شہریت پر جب سیاسی زاویہ سے گفتگو کی جائے تو اس میں سر فہرست سیاسی حقوق، سیاسی آزادی، حکومت میں شراکت اور حق رائے دہندگی کا ذکر آتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ جمہوریت نے عورتوں کے غیر معمولی قسم کی آزادی اور حقوق فراہم کئے ہیں۔ البتہ یہ دیکھنا اہم ہوجاتا ہے کہ ان آزادی اور حقوق کا استعمال کس طور سے مفید اور قابل عمل ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ہی اس کے کیا اثرات زندگی کے دوسرے گوشوں پر پڑ رہے ہیں۔ ساتھ ہی یہ دیکھنا بھی نہایت ضروری ہے کہ ان حقوق کے ذریعے عورتوں کو واقعی کیا اختیارات اور طاقت حاصل ہوئی ہے۔ اور پھر یہ کہ ان حقوق کے ذریعے جمہوری نظام میں عورتوں کی کیا خدمات اور اثرات پیش کیے جا سکتے ہیں۔ خود عورتوں کو ان حقوق اور فرائض میں کن چیزوں پر ترجیحی بنیاد پر توجہ کرنی چاہئے۔

چونکہ گفتگو مسلم عورت کے حوالے سے ہے تو یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ اسلام نے عورتوں کے لئے پبلک لائف یا سماجی زندگی کو کہیں بھی شجر ممنوعہ نہیں قرار دیا ہے اور نہ ہی ان کی خدمات کو گھر کی چہار دیواری کے اندر محدود کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ صرف تاریخی مرحلہ اور سماجی ڈھانچہ ہے جو مرد و خواتین کے اختیارات اور حقوق متعین کرتا ہے اور یہ تاریخ منحصر ہوتی ہے اسباب اور وسائل پر جو ان اختیارات اور حقوق کے طے کرنے اور رو بہ عمل لانے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ چنانچہ اگر کوئی موجودہ دور کے پیمانوں سے قدیم سماج کے رویوں کو جانچنا اور ان پر فیصلہ کرنا شروع کردے تو یہ اس کے سماجی ارتقا اور تاریخی تدریج سے ناواقفیت کی دلیل ہوگی۔ چنانچہ ایک بڑے مسلم اکالر مختار شنقیطی عورتوں کے سربراہ مملکت سے متعلق گفتگو میں تمام گوشوں کا جائزہ لینے کے بعد کہتے ہیں کہ یہ ایک تاریخی واقعہ تو ہے کہ عورت کبھی سربراہ مملکت نہیں بنی مگر اس کے حق میں کوئی شرعی ممانعت نہیں ہے۔ اس حقیقت کو طارق رمضان نے اور وضاحت سے پیش کیا ہے کہ تاریخ انسانی میں کچھ بہت استثنائی مثالوں کو ہٹادو جہاں عورت طاقتور کے طور پر اور حاکم کے طور پر رہی ہے تو مشرق و مغرب کی پوری تاریخ میں کسی بھی معاشرے میں عورت کو برابری کا درجہ نہیں ملا ہے اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس کی اپنی وجوہات اور اسباب ہیں۔ بات چونکہ سربراہ مملکت کی نکل آئی ہے تو اس تعلق سے ڈاکٹر عنایت اللہ سبحانی کی تحقیق کا ذکر کرنا شاید اہم ہو جس میں انہوں نے قرآن و سنت کے تمام دلائل کا جائزہ لے کر یہ واضح کیا ہے کہ اصولی طور سے عورت کے سربراہ مملکت بننے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

چنانچہ ایک مسلم عورت کے لئے سیاسی میدان کی گفتگو میں حصہ لینا اس کی ایک فطری سیاسی اور سماجی ذمہ داری ہے اور اس کے لیے اس ذمہ داری کو قبول کرنا سماجی فریضہ ہے۔

شہریت کی بنیاد در اصل اس مفروضے پر ہے کہ حکومت کی طاقت اور اس کے فیصلے عوام کے مشوروں اور ان کے ہاتھ میں ہونگے۔ حکومت کی پالیسیاں عوام کی تجاویز اور ان کی صوابدید پر ہونگی۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی معاشرے کی عوام میں کم و بیش نصف حصہ عورتوں پر مشتمل ہوگا اور عورتوں کے لئے کیا پالیسیاں اہم ہونگی اور ان میں کتنا حصہ ان سے متعلق ہوگا اور وہ کیا چیزیں ہونگی جو ان کے لئے مناسب اور ضروری ہونگی یہ فیصلہ خود ان سے بہتر کوئی اور نہیں کر سکتا۔ ایسے میں عورتوں کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ خود اپنی آواز بنیں اور اپنے مناسب حال حکومت کی پالیسیوں پر اثر انداز ہوں۔ چنانچہ اس سلسلے میں درج ذیل حقوق کا ان کو خیال کرنا ہوگا اور حقوق کے تعلق سے اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کی انجام دہی ان پر سماجی حیثیت سے واجب ہوگی۔

حق رائے دہی

سیاسی میدان میں حق رائے دہی کا آفاقی ہونا دور حاضر کی ایک بڑی خصوصیت ہے جس کا اعتراف ہر طبقے اور ہر نظریہ والوں نے برملا طور سے کیا ہے۔ در اصل اس سے پہلے حکومت کا انحصار یا تو فوجی غلبے پر تھا یا مخصوص طبقے کی صوابدید پر لیکن رائے دہی کے حق نے حکومت کی تشکیل کا فریضہ براہ راست عوام کے ہاتھوں میں کر دیا۔ ایسے میں اب ہر شہری کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بہتر سے بہتر لوگوں کے ہاتھوں میں حکومت کی باگ دوڑ پہنچانے کے لئے اپنے حق کا استعمال کرے۔ اچھی، انصاف پسند اور رفاہی حکومت کا آنا صرف سماج کے مردوں کا مسئلہ نہیں بلکہ اس میں بحیثیت شہری عورتوں کی بھی اتنی دلچسپی ہونی چاہئے جتنی سماج کے کسی اور طبقے کی ہو سکتی ہے۔ البتہ یہاں بھی عورتوں کو اپنے حق کے استعمال میں بہت سمجھداری اور عقلمندی دکھانے کی ضرورت ہے۔ عورتوں کو بھی اور مردوں کو بھی حق رائے دہی میں ہر طرح کی جذباتیت اور سادہ لوحی سے اوپر اٹھ کے ترجیح اور اہمیت کی بنیاد پر اپنے حق کو استعمال کر نا چاہئے۔ مثال کے طور پر عورتوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لئے ایسا ممکن ہے کہ ایک پارٹی اپنے امیدواروں میں کچھ عورتوں کو بھی شامل کرے مگر اپنی پالیسیوں اور منشور میں وہ سراسر عورتوں کے تحفظ اور ترقی کی مخالف ہو مگر عورتوں کے ووٹ اس وجہ سے اسے مل جائیں کہ اس کی امیدوار ایک عورت ہے۔ عموما ووٹ پالیٹکس میں اس طرح کے ہتھکنڈے کا استعمال بہت عام ہے۔ مسلمانوں کے لئے جمہوریت میں ایک بڑا چیلینج یہی ہے کہ وہ بجائے منشور اور اس کے مشمولات پر توجہ دے عموما جذباتی چیزوں پر توجہ کر کے کچھ مسلم ناموں کو تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن ایسی پالیسیاں پاس کرانے میں یکسر ناکام رہتے ہیں جہاں ہر ایک کو بلا تعصب کامیابی کے راستے حاصل ہوں اور وہ سماج کے ہر ایک طبقہ کو ساتھ لے کرترقی کی راہ پر گامزن ہو۔

حکومت میں شراکت

عورت کو یہ حق بحیثیت شہری بلا شبہہ حاصل ہیں کہ وہ اگر صلاحیت مند ہے اور ملک و سماج کی ترقی میں کوئی اہم رول ادا کر سکتی ہے تو وہ حکومت میں شرکت کی کوشش کرے۔ حکومت میں شرکت کے مختلف طریقے ہو سکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ الیکشن میں اتر کر عوام کی تائید لے اور حکومتی اداروں میں داخل ہو۔ لیکن اگر وہ اس کے بغیر بھی حکومت میں شرکت کرنا چاہتی ہے اور اپنا رول ادا کرنا چاہتی ہے تو اس کے لئے سول سوسائٹی بہت اہم ہے۔ بلکہ حقیقت میں سول سوسائٹی کا رول جمہوریت میں باقاعدہ حکومتی اداروں سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ سول سوسائٹی کے ذریعے وہ اپنے مطالبات حکومت کے سامنے پیش کر سکتی ہیں۔ حکومت سے اپنے حق میں بل پیش کرا سکتی ہیں۔

حکومت کا محاسبہ

چونکہ حکومت کی پالیسیوں اور کارکردگی پر نظر رکھنے میں عورت کی بھی برابر کی دلچسپی ہونی چاہئے اور اس کے محاسبے میں بھی عورت کا پورا دخل ہونا چاہئے۔ عورتوں کو حکومت کی کارکردگی سے پوری واقفیت ہونی چاہئے اور جہاں بھی کوئی عمل سماج کے لئے نقصان دہ ہو یا خصوصی طور پر عورتوں پر اس کے غلط اثرات پڑ رہے ہوں تو اس کو فورا اس کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے۔ عورت کی یہ شہری ذمہ داری ہے کہ وہ محاسبے میں اپنا رول ادا کرے۔

حکومتی فیصلے کو چیلنج

جمہوریت کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہاں عدلیہ اور دستور حکومت پر نگہبانی کرتے ہیں۔ جمہوریت کو دراصل قانون کی بالادستی سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔ چنانچہ ایک شہری کی حیثیت سے عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ اگر سیاسی سرگرمیوں میں حکومت کی کوئی روش دستور کے خلاف ہو تو ایسے میں وہ اس کو عدلیہ میں چیلینج کرے اور اور اس کی اصلاح کی کوشش کرے۔

ایک ایسے نظام میں جہاں قانون کی بالا دستی ہو، عورتوں کو تمام شہری حقوق حاصل ہوں اور طاقت کا سرچشمہ عوام کی رائے ہو تو ایسے میں عورتوں کو ملے حقوق ان پر ذمہ داریوں کا تقاضا کرتے ہیں۔ حقوق در اصل ذمہ داریوں کے عائد ہونے کی علامت ہیں۔ اگر عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ووٹ دے سکتی ہے تو اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اچھی حکومت کی تشکیل میں اپنا ووٹ ڈالے۔ اگر عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ حکومت کی پالیسیوں پر اثر انداز ہو تو اس پر سماجی طور سے واجب ہوگا کی اچھی پالیسیوں کے فروغ میں اپنا رول ادا کرے۔ اچھی پالیسیوں تک پہنچنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ اگر عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ حکومت کا محاسبہ کرے تو اس پر یہ فرض عائد ہوگا کی وہ حکومت کی کرکردگیوں پر نظر بھی رکھے اور اس کا محاسبہ کرے۔ اگر اس کو یہ حق حاصل ہے کہ حکومت کی خلاف دستور سرگرمیوں کو چیلنج کرے تو اس پر واجب ہوگا کہ وہ دستور کو پڑھے اور جہاں حکومت دستور سے صرف نظر کرے وہاں وہ اس کا مقابلہ کرے۔

اس پوری گفتگو میں عورتوں کے لئے شہری حقوق اور قانون کی تعلیم حاصل کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ موجودہ دور معلومات اور علوم کا دور ہے۔ یہاں اسی کے پاس طاقت ہوتی ہے جس کے پاس معلومات ہوتی ہیں اور جس کے پاس معلومات ہوتی ہیں وہی عزت اور کامیابی کی زندگی گزارتا ہے۔ مسلم خواتین میں اس سلسلے میں بیداری بے حد ضروری ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ عورت کے اوپر گھریلو بہت سی ذمہ داریاں ہیں جن کو ترجیح دینا عورت کے لئے اور ساتھ ہی ایک خوشحال فیملی کے لئے نہایت ضروری ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اب سماجی ڈھانچہ تاریخ کے دوسرے ادوار سے یکسر مختلف ہے اور وسائل بھی اب بہت وافر اور تیز اثر ہیں۔ اب قومی شعور اور گھریلو شعور میں اگر یک گونہ توازن قائم کرنے کی کوشش کی جائے تو عورت بہت آسانی سے اپنے سیاسی اور سماجی کردار سے بھی نبرد آزما ہو سکتی ہے اور ساتھ ہی گھریلو ذمے داریوں کی بھی پوری رعایت کر سکتی ہے۔

البتہ ترجیح بالکل واضح ہونی چاہئے۔ اس سلسلے میں مسلم سماج یا مشرقی سماج کے بدلتے ہوئے سماجی ڈھانچے میں اپنا خود ماڈل تیار کرنا ہوگا۔ اس معاملے میں مغربی ماڈل اس طور سے ہمارے لئے قابل عمل نہیں ہو سکتا کہ ان کے یہاں سیاسی کردار اور سماجی ذمہ داریوں کے لئے فیملی ڈھانچے کو بڑی حد تک قربان کر دیا گیا۔ ایک عورت کے لئے سیاسی حقوق اور سیاسی سرگرمیاں اس کے گھریلو رول سے زیادہ اہم قرار دے دی گئیں۔ سیاسی برابری کے نام پر غیر فطری طرز زندگی وجود میں لایا گیا۔ البتہ اب مغربی سماج بھی اس سلسلے میں کھوئے ہوئے خاندان کے تعلق سے فکر مند ہونا شروع ہو گیا ہے اور اس کا سب سے بڑا اشارہ جدیدیت اور روایت کے معاملے میں ان کا بدلتا ہوا رویہ ہے جہاں اب وہ روایتوں کو بھی جدیدیت کے لئے ایک اہم اور ضروری حصہ ماننے کو تیار ہونے لگے ہیں۔

مسلم خواتین کے لئے خصوصا ہندوستان کے موجودہ تناظر میں اب سیاسی ذمہ داری یک گونہ بڑھ جاتی ہے جب کہ حکومت کو لے کر فسطائی اور فرقہ پرست طاقتیں پورا زور لگانے میں مصروف ہیں اور ملک کی خوبصورت فضا کو متعفن اور نفرت آمیز بنانے پر تلی ہیں۔ ایسے میں مسلم خواتین کا کردار اور ان کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ بھی اپنی طاقت کا شعور بیدار کریں اور جمہوری نظام میں جہاں ہر شہری اپنی برابر اہمیت رکھتا ہے اپنی طاقت کا مظاہرہ کریں۔

شیئر کیجیے
Default image
ذو القرنین حیدر سبحانی

تبصرہ کیجیے