مشورہ حاضر ہے

پاؤں کی شدید گرمی

میری عمر چالیس سال ہے۔ میرے پاؤں بہت جلتے ہیں۔ رات کو مہندی لگا کر سوتا ہوں تو تھوڑا سکون ملتا ہے۔ چنگاریاں پاؤں سے نکلتی ہیں۔ میں بہت غریب آدمی ہوں۔ علاج نہیں کراسکتا، سستا اور آسان علاج بتائیے؟

٭مہندی لگانے سے سکون ملتا ہے۔ آپ تازہ مہندی خریدیے، ملاوٹ والی نہیں، دن میں دو بار جو کے ستو پی لیا کیجیے، اس سے فرق پڑے گا۔ بڑا گوشت نہ کھائیے، کسی ہومیو پیتھک ڈاکٹر سے سلفر۳۰ کی گولیاں بنوا کر ہر صبح دو یا تین گولیاں کھا لیجیے۔ اپنا پتہ لکھ بھیجئے، آب کو دوا بھجوا دوں گی۔ یہ گولیاں آپ کو بیس دن کھانی ہوں گی۔ چار پانچ روپے کی دوا آپ کے لیے کافی ہے۔

صبح کی نماز پڑھ کر سیر کیجئے۔ کوئی گراؤنڈ یا باغ قریب ہو تو ننگے پاؤں گھاس پر چلیے۔ نہار منہ تازہ پانی دو سے چار گلاس پی لیجیے، جسم کی حدت میں کمی آئے گی۔

ران کا زخم

میری داہنی ران میں زخم ہے جو ہر وقت رستا رہتا ہے۔ میںنے بہت سی ایلو پیتھک دوائیاں استعمال کیں دوبار آپریشن کرایا۔ تھوڑے دن زخم ٹھیک رہتا ہے، پھر دوبارہ ہو جاتا ہے۔ میںنے سنا ہے کہ ہومیو پیتھی میں اس کا علاج ہے۔ میں وادی کشمیر کے دور افتادہ گاؤں کا باشندہ ہوں۔ نزلہ بخار کی معمولی دوا لینے کے لیے دور جانا پڑتا ہے۔ میں ایک بے روزگار گریجویٹ ہوں، مجھے کسی اچھے ڈاکٹر سے مشوہر کر کے بتائیے میں کیا کروں۔ زخم کی وجہ سے بہت پریشان ہوں۔

٭ آپ نے زخم کے بارے میں وضاحت نہیں کی۔ کتنا بڑا ہے او راس میں سے مادہ کیسا رستا ہے۔ بہرحال میں آپ کو ڈاکٹر سے دوا لے کر بھجوا رہی ہوں۔

گیندے کے سوکھے پھول یا تازہ پھول مل جائیں تو دوچار پھول لے کر پانچ چھ کپ پانی میں پکائیے اور ٹھنڈا کر کے رکھ لیجیے۔ زخم کو اس سے دھولیجیے۔ نیم کے پتے ابال کر زخم دھوئیے، اس سے فائدہ ہوگا۔

آپ نے لکھا ہے بے روزگار ہوں۔ گاؤں میں چھوٹی موٹی دکان کھول لیجیے۔ اس میں آپ کئی چیزیں رکھ سکتے ہیں۔ تھوڑا بہت گزارہ تو ہو گا۔ نوکری تلاش کرتے رہیے پانچوں وقت نماز پڑھ کر دعا مانگئے۔ اللہ تعالیٰ رزق دینے والا ہے۔

معدے کا زخم

میری عمر بیس سال ہے۔ بی اے کا طالب علم ہوں۔ دس برس کی عمر سے معدے کی تکلیف تھی۔ اب ڈاکٹروں نے السر تشخیص کیا ہے۔ کئی دواؤں کے کورس کر چکاہوں۔ وقتی آرام آتا ہے، پھر دوبارہ تکلیف ہوجاتی ہے۔ میرا وزن صرف ۳۴ کلو گرام ہے۔

٭آپ کا السر ٹھیک ہوجائے تو آپ کا وزن بھی بڑھ جائے گا۔ آپ نے اپنا پتہ نہیںلکھا۔ ایک بار میںنے ملیٹھی کے بارے میں لکھا تھا۔ کئی لوگوںنے ملیٹھی استعمال کرنے کے بعد بتایا کہ ان کی صحت بہت بہتر ہے۔ آپ اپنا پتہ لکھا ہوا لفاطہ بھیجئے میں آپ کو دوا بھجوا دوں گی کیوں کہ آپ کے علاقے میں ڈاکٹر نہیں۔ دوسری بات یہ کہ آپ تیز مرچ مسالے چھوڑ دیجیے، جو یا جئی کا دلیہ ناشتے میں کھائیے، اس میں ایک چمچ شہد ملا لیجیے تو بہت بہتر ہوگا۔

آپ ایک پاؤ ملیٹھی ثابت خریدیے، چھلکا کسی تیز چاقو سے اتار کر ملیٹھی کو باریک کرلیجیے، بالکل باریک سفوف ہونا چاہیے۔ صبح و شام چائے کا آدھا چمچ ملیٹھی کھانا کھانے سے بیس منٹ پہلے پانی کے ساتھ کھائیے، ہوسکے تو رات کو عشا کی نماز پڑھ کر سونے سے پہلے بھی کھا لیجیے۔

نماز کی پابندی کیجیے، کم از کم دو ماہ ملیٹھی کا سفوف کھائیے پھر مجھے خط لکھیے۔ زیتون کا تیل بھی آپ کے لیے بے حد مفید ہے۔

آدھے سر کا درد

میں بی ایس سی کی طالبہ ہوں۔ سر میں درد کی وجہ سے بالکل نہیں پڑھ سکتی۔ بہت دوائیں کھائیں، آرام نہیں آیا۔ کوئی ٹوٹکہ بتائیے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ چھ سال سے علاج ہو رہا ہے، ماہانہ نظام کی خرابی ٹھیک نہیں ہوتی۔ اس کیلیے ہومیو پیتھک بتائیے۔

٭ بی بی! آپ اپنا پتہ لکھ دیتیں تو دوا لکھ کر بھیج دی جاتی۔ اب آپ پتہ لکھا ہوا لفاطہ بھجوائیے، سر کے درد کے لیے آپ بازار سے چاروں مغز منگوائیے، سات عدد بادام اور ایک چمچ بیج پیس کر دودھ میں ملائیے۔ روزانہ صبح پی لیا کیجیے۔ دماغی کمزوری کی وجہ سے یہ درد ہے، ٹھیک ہو جائے گا۔ کم از کم اکیس دن پینا ہے۔

بلڈ پریشر اور کمزوری

اس سے پہلے ہم نے آپ کے مضامین سے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔ ٹنڈے بازار میں دستیاب ہیں مگر ہمارے ہاں کوئی نہیں کھاتا۔ میری ساس کو ہائی بلڈ پریشر رہتا ہے۔ سسر کے پیشاب میں جلن ہوتی ہے۔ میرا بچہ جسمانی طور پر بہت کمزور ہے خود میرے سر میں ہر وقت درد رہتا ہے۔ حکیم نے بتایا ہے دماغی خشکی کی وجہ سے درد ہے۔ اس کے لیے کوئی ٹوٹکہ بتائیے آپ کے بتائے ہوئے ٹوٹکے بہت کارآمد ہیں اور بہت فائدہ ہوا ہے۔

٭ گرمی کے موسم میں اللہ تعالیٰ نے ایسی سبزیاں پیدا کی ہیں، جو موسم کے لحاظ سے انسانی جسم کو فائدہ دیتی ہیں۔ کھیرے ککڑی، گھیا، ٹنڈے، خرفہ وغیرہ اس میں شامل ہیں۔ ٹنڈے دیکھنے میں تو ٹنڈمنڈ سے لگتے ہیں مگر ان کے فوائد بے شمار ہیں۔ اس میں مختلف حیاتین ہیں جو ہمارے جسم کو توانائی دیتے ہیں۔ عام طور پر گرمی کے موسم میں ہائی بلڈ پریشر ہو جاتا ہے اور جو لوگ مریض ہوں، وہ زیادہ ہی پریشان ہوجاتے ہیں۔ چند روز ٹنڈے پکاکر کھانے سے یہ شکایت دور ہوجاتی ہے۔ ضروری نہیں آپ ٹنڈے گوشت میں پکائیں، ان کا سادہ سالن بنائیے۔ ٹنڈے اور ٹماٹر یا ٹینڈے اور پیاز پکائیے۔ زیادہ تکلیف ہوتو آپ ٹنڈے معمولی سے تیل میں بھون اور کالی مرچ چھڑک کر دہی کے ساتھ کھاسکتے ہیں۔

ٹنڈے کا اچار بھی پڑتا ہے۔ نرم نرم ٹنڈے لے کر چھیل کر ٹکڑے کرلیجیے اور کسی برتن میں نمک مرچ، ہلدی، رائی ملاکر دھوپ میں رکھ دیجیے۔ دن میں دوبار اسے چمچ سے الٹ پلٹ کیجیے۔ اس میں چٹکی بھر کلونجی اور چھلا ہوا لہسن بھی ملاسکتی ہیں۔ چوتھے دن اس میں تیل ابال کر ٹھنڈا کر کے ملا دیجیے۔ تین چار دن دھوپ میں رکھیے۔ ٹنڈے کا اچار تیار ہے۔ ٹنڈے سخت ہوں تو آپ انہیں کاٹ کر پانی میں ایک جوش دیجیے، اور کپڑے پر دھوپ میں تھوڑی دیر کے لیے رکھ دیجیے تاکہ پانی نکل جائے پھر اس میں مسالا ملا دیجیے۔

اپنی ساس کو ٹنڈے کا شوربہ کھلائیے۔ گرمی میں پانی کم پینے کی وجہ سے ہاتھ پاؤں جلتے ہیں۔ پیشاب کھل کر نہیں آتا۔ آپ کے سسر کو پیشاب کی سوزش ہے۔ اس کے لیے ٹنڈے بہترین دوا ہیں۔ ہفتے میں تین چار بار ٹنڈے ضرور پکائیے۔

جسمانی کمزوری بھی ٹنڈے کھانے سے دور ہوتی ہے۔ آپ ٹنڈے چھیل اور ہلکے سے ابال کر ٹھنڈے کر کے دہی کے ساتھ بچے کو کھلائیے۔ ٹنڈے گوشت کاسالن بڑا مزیدار ہوتا ہے۔ ٹنڈوں میں قیمہ بھر کر پکایا جاتا ہے۔ مختلف طریقوں سے ٹنڈے پکاکر بچے کو کھلائیے۔ آپ حیران ہوں گی اس کی جسمانی کمزوری دور ہوجائے گی اور وزن بڑھ جائے گا۔

آپ نے دماغی خشکی کی وجہ سے اپنے سر درد کی شکایت لکھی ہے۔ محترمہ! دماغ کے لیے ٹنڈے بڑے مفید ہیں۔ انھیں کھانے سے نیند بھی آتی ہے۔ آپ کی شکایات صرف غذا سے دور ہو جائیں گی۔ ٹنڈے گوشت کا شوربہ ابلے چاولوں کے ساتھ اچھا لگتا ہے۔ آپ کھائیے اور آرام آنے پر ضرور خط لکھیے۔

آپ سب لوگ اس عام سبزی کے کھانے ہی سے انشاء اللہ صحت یاب ہوجائیں گے۔ دیکھئے میں ٹنڈا معمولی سبزی ہے مگر اس کے فوائد بہت ہیں۔ آپ مرغی کے ٹکڑوں کے ساتھ ٹھنڈے ملا کر سینڈوچز بنا سکتی ہیں۔ بچوں کو بہت پسند آئیں گے۔

جسم کی شدید ترین بدبو

ایک ماں نے انتہائی پریشانی کے عالم میں سارے ڈاکٹروں سے مایوس ہوکر خط لکھا ہے کہ میری بیٹی کے جسم میں اتنی بدبو ہے کہ وہ جہاں سے گزرتی ہے پتہ چل جاتا ہے۔ اس کے کپڑے کہیں رکھے ہوں، ان سے بدبو اٹھتی رہتی ہے۔ کالج جاتی ہے تو لڑکیاں ناک پر دو پٹہ رکھ لیتی ہیں۔ اس کی کوئی سہیلی نہیں۔ گھر والے بھی علیحدہ رہتے ہیں۔

٭ان خاتون سے کہتی ہوں کہ ہومیو پیتھی میں اس کا علاج ہے اور بچی ٹھیک ہوجائے گی۔ انشاء اللہ خود بھی نماز پڑھئے اور اپنے بچوں کو بھی دین کی طرف راغب کیجیے۔ بچی سے کہیے قرآن پاک کی تلاوت باقاعدگی سے روز کرے، طہارت اور پاکیزگی کا خیال رکھے، دوا کھائے۔ وہ عام لڑکیوں کی طرح ہوجائے گی۔ شفا صرف خدا کے ہاتھ میں ہے۔

مختار کلیاں

میںنے ایک دعوت میں نئی چیز دیکھی۔ پوچھنے پر پتہ چلا یہ مختار کلیاں ہیں۔ مجھے نئی چیز لگی۔ کیا آپ بتا سکتی ہیں مختار کلیاں کیسے پکتی ہیں؟ اور کہاں ملتی ہیں؟

٭ مختار کلیاں اصل میں گھیا یا لوکی کے چھلکے ہیں۔ نرم لوکی لے کر اس کے چھلکے لمبے لمبے اتار کر رکھ لیتے ہیں، انہیں اچھی طرح دھوکر ادرک کی طرح باریک لمبے لچھے کاٹ لیتے ہیں۔ پھر گھی یا تیل میں بھون کر اوپر نمک مرچ چھڑک دیتے ہیں۔ کچھ لوگ کھٹائی بھی ملاتے ہیں۔ آپ چھلکے تل کر ان پر چاٹ مسالا بھی چھڑک سکتی ہیں ان کو مختار کلیاں کہا جاتا ہے۔ یہ چپس کی طرح کرکرے اور مزیدار ہوتے ہیں۔

پھل سے علاج

میرے شوہر کو چار پانچ سال سے پیچش ہے۔ پیٹ میں ہر وقت مروڑ رہتا ہے۔ کبھی کبھی درد کے ساتھ خون آتا ہے۔ دوائیاں کھاکھا کر پریشان ہوگئے ہیں۔ دست بھی آتے ہیں۔ پیٹ مسلسل خراب رہتا ہے۔ ان کی صحت خراب ہوتی جاتی ہے۔ کام میں دل نہیں لگتا۔ میں نے حکیم کا علاج بھی کرایا مگر کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ ہاضمہ کے لیے چورن بھی کھلائے مگر اب مرض پرانا ہوگیا ہے۔ اب وہ کوئی دوا نہیں کھاتے۔ پتلی کھچڑی اور شوربا غذا میں شامل ہے۔ آپ مجھے کوئی اور ٹوٹکا بتائیے جس سے ان کی یہ تکلیف دور ہوجائے۔

٭ غزالہ بی بی! آپ نے اپنے شوہر کی تکلالیف مفصل لکھی ہیں اور دواؤں کے نام بھی۔ اب آپ پھل سے علاج کیجیے۔ ’’بیل‘‘ ایک پھل ہے ۔اکثر ریڑھیوں پر یہ پھل مل جاتا ہے۔ آپ وہ منگوا لیجیے۔ اس کا چھلکا سخت ہوتا ہے۔ اندر سے ہلکا زرد یا پیلا گودا نکلتا ہے۔ اس کے تین چار حصے کر لیجیے۔ ایک حصے پر چینی چھڑک کر شوہر کو کھلا دیجیے۔ تقریبا ایک بیل کا گودا تمام دن میں دیجیے۔ اس کا مربہ بھی مل جاتاہے۔ بیل گری مربہ ہمدرد دوا خانہ یا کسی اچھے حکیم سے لے لیجیے وہ بھی کھلا سکتی ہیں۔ ڈیڑھ دو ماہ تک کھلائیے۔ پیٹ کی تکلیف دور ہوجائے گی۔

میرے والد کو ایک بار یہی تکلیف ہوئی۔ بہت علاج کرائے مگر مرض بڑھتا گیا۔ میرٹھ میں تائی اماں نے ان کا حال دیکھ کر فورا ڈھیر سارے بیل منگائے اور ان کو کھلانے شروع کیے۔ پھر انہوں نے گھر ہی میں اس کا مربہ بنایا ار والد صاحب کو دیا کہ کھانے کے بعد ایک قتلہ مربے کا ضرور لینا ہے۔ تقریبا دو مہینے یہ مربہ کھایا گیا۔ وہ بالکل ٹھیک ہوگئے۔ ہاضمہ درست رہا اور پھر کبھی مرتے دم تک یہ تکلیف نہ ہوئی۔

بھوک کسی کو نہ لگتی ہو تو انار کے دانوں پر نمک کالی مرچ پسی ہوئی چھڑک کر روزانہ کھانے سے فائدہ ہوتا ہے۔ پیچش کی ابتدا میں کیلے کی پھلی پر چینی اور اسپغول کی بھوسی لگا کر کھانے سے فائدہ ہو جاتا ہے۔ اسپغول کی بھوسی پیٹ کے امراض میں کام آتی ہے۔ اردو ڈائجسٹ میں غزائیت پر جو مضامین شائع ہوتے ہیں، ان میں بھی نسخے ہوتے ہیں۔

بیل ہمیشہ پختہ خریدئیے، کچا نہیں۔ ایک پھل توڑ کر دیکھ لیجیے کہ پکا ہوا ہے یا نہیں۔ اس کے کھانے سے پیٹ ٹھیک ہوجائے گا۔

پہلے زمانے میں بیٹھ کر سب دسترخوان پر کھانا کھاتے تھے۔ ایک ہی ہنڈیا پکتی تھی ہاتھ دھوکر بسم اللہ پڑھ کر کھانا کھاتے۔ آہستہ آہستہ چبا کر کھانا یا جاتا تھا۔ آج کے دور میں افراتفری کا سماں ہے جیسا بھی کھانا ملا۔ کھڑے کھڑے کھالیا۔ دعوتوں اور شادیوں میں عجیب طرح کھانا کھایا جاتا ہے۔ اپنے شوہر سے کہیے۔ کھانا کھاتے وقت اطمینان سے کھانا کھائیں اور دوپہر کے کھانے کے بعد پندرہ منٹ کے لیے قیلولہ ضرور کریں، اس سے بہت فرق پڑے گا۔

جوئیں کیسے ختم ہوں گی؟

ہمارے ہاں مہمان آئے۔ ان کے بچوں کے سر میں جوئیں تھیں۔ میرے بچوں کے سر میں پڑ گئیں۔ مہمان تو چلے گئے مگر جوؤں کا تحفہ ہمیں ایسا ملا ہے کہ ایک سال سے میں پریشانی میں مبتلا ہوں۔ روزانہ کنگھی کرتی ہوں۔ پھر اگلے روز کنگھی کرنے سے جوئیں نکلنے لگتی ہیں۔ ان کو مار مار کر میں تھک گئی ہوں۔ کئی شیمپو ٹرائی کرچکی مگر جوئیں ختم نہیں ہوتیں۔ میں نے کافور بھی تیل میں ملاکر لگایا۔ کوئی فرق نہیں پڑا۔ بتائیے کیا کروں؟

٭آپ پریشان نہ ہوں۔ ہم لوگ اصل میں باہ رکی بنی ہوئی چیزیں استعمال کرنے کے عادی ہوگئے ہیں۔ جوؤں کے لیے شیمپو استعمال نہ کیجیے۔ قدرت نے ہمارے ملک میں نیم جیسا فائدہ مند درخت پیدا کیا ہے۔ کسی پنساری یا حکیم سے آدھ کلو خشک نمبولیاں منگائیے۔ انہیں پیس لیجیے۔ اس میں پانی ملاکر مہندی کی طرح گھولیے۔ بچوں کے سر میں بالوں کی جڑوں میں یہ لیپ لگا کر چھٹی کے دن لگا رہنے دیجیے۔ رات کو سر دھو دیجیے۔ اگر رات کو بھی لگا رہے تو بہت اچھا ہے۔ آپ اگلے دن سر دھوئیں تو زیادہ بہتر ہے یا روزانہ لگا دیں۔ بہرحال دو ہفتے کے اس عمل سے جوؤں کی نسل ختم ہوجاتی ہے۔ ہماری ایک نوکرانی نے نمبولیاں پیس کر انہیں تھوڑے سے پانی میں بھگو کر ناریل کے تیل میں خوب پکالیا تھا۔ پانی خشک ہونے پر اتار کر رکھ لیا اور روزانہ اپنی بیٹیوں کے سر میں یہ تیل لگاتی رہی تو جوئیں ختم ہوگئیں۔

شیئر کیجیے
Default image
صغیرہ بانو شیریں