BOOST

غزل

چار سمتوں کا سفر زندگی کر آئے گی

اپنی دہلیز پہ ہر راہ گذر آئے گی

تیز قدموں سے تمازت نئی در آئے گی

دھوپ میں شکل ہماری بھی نکھر آئے گی

دن میں پھیلا ہے سیاہی کا سمندر ہر سو

روشنی شام ڈھلے گی تو نظر آئے گی

کوئی امید ہے شاداب سی سینے میں مرے

لگتا ہے آج تری خیر خبر آئے گی

اور کمرے کی سیاہی ابھی بڑھنے دے مرے

رات کے بعد امیدوں کی سحر آئے گی

شہر دھنباد میں منھ زور بنی پھرتی ہے

موت کو دیکھ سکو گے تو نظر آئے گی

رات بھر نیند کو ہم نے یوں تسلّی دی نثارؔ

صبح روٹھے ہوئے لوگوں کی خبر آئے گی

شیئر کیجیے
Default image
احمد نثار، دھنیاد (جھارکھنڈ)

تبصرہ کیجیے