مسلم خواتین

قرآن میں حجاب کی ہدایات

اسلام نے اپنا معاشرتی ڈھانچا خاندان کے ادارے پر استوار کیا ہے۔ خاندان کی بنیاد پر قائم ہونے والے معاشرے کی تعمیر و ترقی کے لیے ضروری ہے کہ عفت، عصمت اور حیا کو بنیادی اقدار کی حیثیت سے تسلیم کیا جائے۔ چنانچہ اسلام ان اقدار کو خاندان کے لیے لازم قرار دیتا اور معاشرے میں ان کی ترویج و ترقی پر زور دیتا ہے۔

قرآن مجید کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے پردے سے متعلق تین قسم کی ہدایات دی ہیں۔ پہلی قسم کی ہدایات ان جگہوں سے متعلق ہیں جہاں خواتین کو، ہر طرح کا تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ دوسری قسم کی ہدایات کا تعلق ان مقامات سے ہے جہاں خواتین گھروں کی طرح محفوظ نہیں ہوتیں بلکہ انھیں غیر سماجی عناصر کی جانب سے کسی ناشائستہ رویے کا خدشہ ہوتا ہے۔ تیسری قسم کی ہدایات پیغمبرؐ کی ازواج سے متعلق ہیں۔ہم یہاں ان تینوں نوعیتوں کے حوالے سے قرآن مجید کا نقطہ نظر پیش کرتے ہیں:

محفوظ مقامات کے لیے ہدایات

قرآن مجید نے محفوظ مقامات کو بیت مسکونہ اور بیت غیر مسکونہ کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔ ’بیت مسکونہ‘ سے مراد وہ جگہ ہے جہاں مستقل سکونت اختیار کی جاتی ہے۔ اس کی سب سے واضح مثال گھر ہیں۔ ان گھروں میں لوگ اپنے خاندان کے ساتھ قیام پذیر ہوتے اور اپنے شب و روز کا زیادہ تر وقت گزارتے ہیں۔ بیت غیر مسکونہ سے مراد وہ جگہ ہے جس میں ہر طرح کا تحفظ تو ہوتا ہے لیکن وہاں دن کا کچھ محدود وقت ہی گزارا جاتا ہے۔ تعلیمی ادارے اور دفاتر وغیرہ، بیت غیر مسکونہ کی مثالیں ہیں۔

قرآن مجید کے مطابق جب کوئی شخص اپنے اعزہ و اقربا سے ملنے کے لیے کسی کے گھر (بیت مسکونہ) میں جائے تو اسے چاہیے کہ وہ سب سے پہلے گھر والوں کو سلام کرے اور وضاحت کے ساتھ اپنا تعارف کروائے۔ اس سلام و تعارف سے افرادِ خانہ یہ طے کرسکیں گے کہ اس شخص کا گھر میں داخلہ موزوں ہے یا نہیں۔ اس سلسلے میں پیغمبرﷺ کی وہ ہدایت بھی پیش نظر رہنی چاہیے جو گھروں میں داخلے کی اجازت سے متعلق ہے۔ آپ کا فرمان ہے کہ جب کوئی شخص کسی سے ملنے کے لیے اس کے گھر جائے تو بلا اجازت گھر میں داخل نہ ہو، بلکہ دروازے پر دستک دے اور اجازت لے کر اندر داخل ہو۔ اگر پہلی دستک پر کوئی باہر نہ آئے اور اسے یہ خیال ہو کہ دستک کی آواز افرادِ خانہ تک نہیںپہنچی تو وہ دوسری بار اور پھر زیادہ سے زیادہ تیسری بار دروازہ کھٹکھٹائے۔ اس کے بعد بھی اگر اندر سے کوئی جواب نہ آئے تو دروازہ بار بار کھٹکھٹانے کے بجائے واپس ہوجائے۔ اگر صاحب خانہ دروازے پر آکر ملاقات سے معذرت کرے تو وہ دل میں تنگی محسوس کیے بغیر واپس چلا جائے۔ سلام و تعارف کی اس پابندی کے بعد ظاہر ہے کہ وہی لوگ گھروں میں داخل ہوسکتے ہیں جو اصحابِ خانہ کے رشتہ دار یا معتمد احباب ہوں۔ جہاں تک بیت غیر مسکونہ کا تعلق ہے تو اس میں داخلے کے لیے اس طرح کی کسی رسمی اجازت کی ضرورت نہیں۔

ان دونوں طرح کے محفوظ مقامات پر مردوں ار عورتوں کے لیے قرآن مجید کی دو ہدایات ہیں، ایک یہ کہ وہ ’غض بصر‘ سے کام لیں، یعنی خود کو بدنگاہی سے بچائیں اور اپنی نگاہوں پر شرم و حیا کا پہرہ بٹھائے رکھیں۔ دوسری ہدایت یہ ہے کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ یعنی شایستہ اور مہذب لباس پہنیں اور اپنے جسموں کو مناسب طریقے سے ڈھانپ کر رکھیں۔ ان دو ہدایات کے علاوہ ایک مزید ہدایت ہے، جو صرف خواتین کے لیے ہے۔ وہ ہدایت یہ ہے کہ خواتین اپنی زینتوں کی نمائش نہ کریں یعنی وہ اپنے زیور، سنگھار ارو زینت کی دوسری چیزوں کو دکھانے کی سعی نہ کریں، تاہم ان زینتوں کے ظاہر ہونے پر پابندی نہیں جنہیں چھپانا ممکن نہیں، مثلاً چہرے اور ہاتھوں میں پہننے والی زینتیں یا لباس کی آرائش کا سامان وغیرہ۔ زینتوں کو ممکن حد تک چھپانے کے لے قرآن مجید تلقین کرتا ہے کہ وہ اپنے سر کی اوڑھنیاں اپنے سینوں پر بھی اچھی طرح ڈال لیں۔ اور زمین پر اس طرح پاؤں مارتی ہوئی نہ چلیں کہ ان میں پہنے ہوئے زیورات کی جھنکار ارد گرد کے لوگوں کو متوجہ کرلے۔ خواتین کے لیے اس اضافی ضابطے کی پابندی صرف غیر محرموں ہی کے سامنے ہے۔ محرم رشتہ داروں کے سامنے زینتوں کے اظہار پر پابندی نہیں ہے۔ محفوظ مقامات کے پردے سے متعلق ان ہدایات کو قرآن مجید نے سورہ نور میں اس طرح بیان کیا ہے:

’’اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک تعارف نہ پیدا کرلو اور گھر والوں کو سلام نہ کرلو۔ یہی طریقہ تمھارے لیے موجب خیر و برکت ہے تاکہ تمھیں یاد دہانی حاصل رہے۔ پھر اگر تم ان گھروں میں کسی کو نہ پاؤ، تو ان میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک تمھیں اجازت نہ ملے اور اگر تم سے کہا جائے کہ لوٹ جاؤ، تو واپس ہوجاؤ۔ یہی طریقہ تمھارے لیے پاکیزہ ہے اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو، اس سے اچھی طرح باخبر ہے۔ اور ان غیر رہائشی مکانوں میں داخل ہونے میں تمھارے لیے کوئی حرج نہیں جن میں تمھارے لیے کوئی منفعت ہے اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو۔

(اے نبیﷺ!) مومنوں کو ہدایت کرو کہ وہ اپنی نگاہیں پست رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ طریقہ ان کے لیے پاکیزہ ہے۔ بے شک اللہ باخبر ہے، ان چیزوں سے جو وہ کرتے ہیں اور مومنہ عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں پست رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کی چیزوں کی نمایش نہ کریں مگر جوناگزیر طور پر ظاہر ہوجائے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیوں کی بکل مار لیا کریں اور اپنی زینت کی نمائش نہ کریں مگر اپنے باپوں کے سامنے یا اپنے بھائیوں کے سامنے یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں کے سامنے یا اپنی بہنوں کے بیٹوں کے سامنے یا اپنے تعلق کی عورتوں کے سامنے یا اپنے مملوکوں کے سامنے یا ایسے زیر کفالت مردوں کے سامنے جو عورت کی ضرورت کی عمر سے نکل چکے ہوں، یا ایسے بچوں کے سامنے جو ابھی عورتوں کی پس پردہ چیزوں سے آشا نہ ہوں۔ (زینتوں کا ظاہر ہونے سے روکنے کے لے) انھیں (یہ بھی) چاہیے کہ وہ اپنے پاؤں زمین پر اس طرح مار کر نہ چلیں کہ ان کی مخفی زینت متوجہ کرلے اور اے ایمان والو سب مل کر اللہ کی طرف رجوع کرو تاکہ فلاح پاؤ۔‘‘ (النور:۲۷-۳۱)

غیر محفوظ مقامات کے لیے ہدایات

غیر محفوظ مقامات سے مراد وہ جگہیں ہیں جہاں خواتین کو گھر کی طرح کا تحفظ حاصل نہیں ہوتا۔ گلی، بازار، پارک وغیرہ ایسی جگہوں کی نمایاں مثالیں ہیں۔ ان جگہوں پر خواتین کو اوباش اور بدکردار لوگوں کی طرف سے بدتمیزی کا خطرہ ہوسکتا ہے۔ ایسے غیر محفوظ مقامات پر مسلمان خواتین کے لیے قرآن مجید کی یہ ہدایت ہے کہ وہ ایک بڑی چادر اوڑھ لیں اور اس چادر کا پلو اپنے چہرے پر بھی لٹکا لیں یا دوسرے الفاظ میں گھونگھٹ نکال لیں۔ قرآن مجید کے مطابق یہ لباس انھیں مہذب اور پاک باز خواتین کے زمرے میں لے آئے گا اور اوباش لوگ انھیں، مسلمان شریف زادیاں جان کر، تنگ کرنے کی جسارت نہیں کریں گے۔ قرآن مجید کا ارشاد ہے:

’’اے نبیﷺ اپنی بیویوں، اپنی بیٹیون اور مسلمانوں کی عورتوں کو ہدایت کردو کہ (جب وہ باہر جائیں تو) اپنے اوپر اپنی بڑی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں۔ یہ اس بات کے قریب ہے کہ وہ (شرف زادیوں کی حیثیت سے) پہچانی جائیں اور انھیں کوئی ایذا نہ پہنچائی جائے اور اللہ غفور و رحیم ہے۔‘‘

رسول اللہؐ کی ازواج کے لیے ہدایات

پردے کے بارے میں ہدایات کی تیسری نوعیت نبیﷺ کی ازواجِ مطہرات سے متعلق ہے۔ ازواجِ مطہرات، اللہ کے نبی کی بیویاں ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کے لیے نہایت محترم اور معتبر تھیں۔ عزت و احترام میں وہ مسلمانوں کی ماؤں کا مقام رکھتی تھیں۔ اسی لیے قرآن مجید نے انھیں امہات المومنین یعنی مومنوں کی مائیں قرار دیا۔ دین میں ان کی حیثیت معلمات کی تھی۔ ان کی شخصی اہمیت کا ایک خاص پہلو یہ بھی تھا کہ وہ ریاست مدینہ کے حکمران و فرماں روا (رسول اللہ) کی ازواج تھیں۔ ان وجوہ سے وہ امت کی عام خواتین کے لیے مشعل راہ اور نمونے کی حیثیت رکھتی تھیں۔ اس خصوصی اہمیت کی بنا پر، یہ ضروری تھا کہ وہ تہمتوں، اسکینڈلوں اور شرارتوں سے محفوظ رہیں اور کوئی فتنہ پرداز ان کی عزت و ناموس کی طرف انگلی اٹھانے کی جرات نہ کرسکے۔چنانچہ قرآن مجید نے ان کے لیے عام خواتین کی نسبت کچھ زائد ہدایات دیں۔ ان کے لیے قرآن مجید کی ایک ہدایت یہ تھی کہ وہ زمانہ جاہلیت کے سے انداز و اطوار اختیار نہ کریں۔ یعنی اپنے سامانِ زینت کی نمائش کے ان طور طریقوں کو نہ اپنائیں جو ان کے اسلام لانے سے قبل، عرب معاشرت میں رائج تھے۔ اس کے بجائے انھیں چاہیے کہ وہ اپنا اصل دائرہ عمل اپنے گھروں کو بنائیں۔ قرآن مجید کا ارشاد ہے:’’(اے نبی کی بیویو!) اپنے گھروں میں ٹک کے رہو، اور سابقہ جاہلیت کے طور طریقے اختیار نہ کرو۔‘‘ (الاحزاب:۳۳)

ازواج نبی کے لیے دوسری ہدایت یہ تھی کہ وہ جب بھی مردوں کے سامنے بات کریں تو اپنے لہجے میں نرمی اور تواضع لائے بغیر سیدھی اور صاف بات کریں تاکہ بدکردار لوگ محض لہجے کی نرمی کو بنیاد بنا کر ان سے کوئی غلط توقع وابستہ نہ کر بیٹھیں اور اس طرح فتنہ پردازوں کے ہاتھ شرارت کا کوئی موقع نہ آجائے۔ سورہ احزاب میں ہے:’’اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی مانند نہیں ہو، اگر تقویٰ اختیار کرو، بس تم لہجے میں نرمی نہ اختیار کرو کہ جس کے دل میں بیماری ہے وہ کسی طمع خام میں مبتلا ہو جائے اور بات معروف کے مطابق کہو۔‘‘ (الاحزاب:۲۳)

ان ہدایات کی اولین اور اصل مخاطب اپنے خاص مقام و مرتبے کی وجہ سے ازواجِ پیغمبر ہی تھیں۔ اس لیے درج بالا آیات کی تعمیم کر کے ان ہدایات کو مسلمانوں کی عام خواتین سے متعلق قرار نہیںدیا جاسکتا، البتہ معاشرے کے رہنماؤں اور قائدین کی ازواج، اپنے مقام و مرتبے اور ممتاز حیثیت کی وجہ سے ازواجِ مطہرات کی پیروی میں ان ہدایات کی مخاطب قرار دی جاسکتی ہیں۔ یہ خواتین اپنے معاشرے کی عام عورتوں کے لیے مشعل راہ اور نمونے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس وجہ سے معاشرے میں ان کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے، جن اقدار کو یہ اختیار کریں وہ اقدار پورے معاشرے میں رائج ہوجاتی ہیں جو رجحانات یہ متعین کردیں وہ پورے معاشرے کے رجحانات بن جاتے ہیں۔ ان کی غلطی پورے معاشرے میں سرایت کر جاتی ہے اور ان کا نیکی کا رویہ پورے معاشرے کو نیکی کی راہ پر گام زن کردیتا ہے۔ ان خواتین کی یہ اہمیت و فضیلت انھیں نہایت نازک مقام پر لا کھڑا کرتی ہے۔ معاشرے کے اخلاقی وجود کی بقا کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ ان کی ناموس اسکینڈلوں اور تہمتوں سے محفوظ رہے۔

موجودہ دور میں دعوت دین کا کام کرنے والی خواتین ان باتوں کی خاص مخاطب قرار دی جاسکتی ہیں کیوں کہ لوگ انہیں اور ان کے اعمال اور رویوں کو خورد بین لگا کر دیکھتے ہیں اور اگر ان میں خرابی نظر آتی ہے تو لوگ خوب ان کا پرچار کرتے ہیں کہ بڑی دین دار ہیں مگر عمل اور رویہ ایسا اور ایسا ہے۔

پردے کے بارے میں یہ قرآن مجید کی ہدایات ہیں۔ ان میں بہت عمدگی سے وہ توازن برقرار رکھا گیا ہے جو انسانی تہذیب و معاشرت کی ناگزیر ضرورت ہے۔ اسلامی شریعت کے دوسرے ضوابط کی طرح ان ہدایات کا مقصد بھی انسانی نفوس کو بدی کی آلائشوں سے پاک کر کے ان کا تزکیہ کرنا ہے اور تزکیۂ نفس ہی وہ مقصود ہے جسے حاصل کرلینے کے بعد، انسان جنت کی ابدی زندگی کا حق دار ہو سکتا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
منظور الحسن

تبصرہ کیجیے