BOOST

آخری آڑ

دسمبر میں سخت سردی پڑتی تو میرا بستر صحن سے دادا جان کے کمرے میں منتقل ہو جاتا تھا۔ دادا جان حقے کے کش لگاتے، تو کمرہ دھیرے دھیرے گرم ہو جاتا لیکن اس کی فضا کثیف ہوتی چلی جاتی۔ پڑھائی مکمل کرنے کے بعد میں دادا جان سے ان کے آباء و اجدادکی باتیں پوچھتا اور ان کے آبائی گاؤں کے بارے میں معلومات حاصل کرتا۔ ایک دفعہ انھوں نے باتوں باتوں میں اپنے بچپن کی بڑی عجیب کہانی سنائی۔ یہ کہانی میں انہی کی زبانی سنا رہا ہوں۔

٭٭

تقسیم ملک سے خاصی مدت پہلے کی بات ہے جب انگریز بہادر کا سکہ چلتا تھا۔ برصغیر ترقی کی جانب رواں دواں تھا۔ قصبوں اور شہروں کو ریلوے لائنوں کے ذریعے ملایا جا رہا تھا۔ زمینوں کو آباد کرنے کے لیے نہروں کا جال بچھ رہا تھا۔

جب نہر بنائی گئی تو نہر کے کنارے لوگ بستیاں بسانے لگے۔ انگریز حکام بستی والوں کے ہاتھ زمینیں نیلام کردیتے اور کہتے کہ انہیں قابل کاشت بناؤ۔ میری عمر دس گیارہ برس کے لگ بھگ ہوگی جب ہم بھی نہر کے کنارے آباد ہوگئے۔

اس وقت ارد گرد کیکر اور شیشم کا جنگل تھا۔ اپنے پرانے گاؤں کے نام پر ہم نے نئی بستی کا نام رکھ لیا۔ انگریزوں نے میرے باپ کو گھوڑی پال اسکیم کے تحت بستی سے ڈیڑھ میل دور ایک مربع زمین دے دی۔ چند ہی ماہ میں بستی میں کئی گھروں کا اضافہ ہوگیا۔ لوگوں نے اپنی زمینوں تک جانے کے لیے جنگل کاٹ کر کئی رستے بنالیے۔

ایک شام میرا باپ کھیتوں سے لوٹا تو کہنے لگا ’’بیٹا بشیر! چند دن تک زمینوں کی طرف مت آنا۔ راستے میں ایک بڑا سانپ اکثر نظر آتا ہے۔ جب چاہتا ہے رستہ روک کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ لوگوں کو بچ بچا کر دائیں بائیں سے گزرنا پڑتا ہے۔ تم احتیاط سے کام لینا اور باہر کم نکلنا۔‘‘

میری طبیعت شروع ہی سے بڑی جوشیلی اور دلیر تھی۔ باپ کی نصیحت اچھی نہ لگی۔ میں نے دل میں ٹھان لی کہ اس کم بخت سانپ کو مار کر ہی دم لوں گا۔ اگلے روز جب بابا کھیتوں پر گئے تو میں سانپ مارنے نکل پڑا۔ میرے پاس لوہے کا لمبا تیز دھار ٹوکہ تھا۔ اس سے ہم لکڑیاں کاٹ کر چولھے میں جلاتے تھے۔ میں بستی سے کوئی دو کلو میٹر دور نکل آیا۔ ہر طرف بے شمار کیڑے مکوڑے اور چوہے نظر آئے مگر سانپ کہیں دکھائی نہیں دیا۔ جب کچھ دور آگے چلا تو مجھے مٹی میں سانپ رینگنے کے نشانات نظر آئے۔ میں نشانات کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔

چلتے چلتے ایک جگہ جھاڑی میں سرسراہٹ سی محسوس ہوئی۔ میں نے اس آواز کی سمت قدم بڑھائے۔ شیشم کے درخت کی اوٹ سے جو منظر میں نے دیکھا اس نے میرے اوسان خطا کردیے۔ اتنا بڑا سانپ میں نے زندگی میں پہلی بار دیکھا تھا۔ کم بخت تین گز سے کم نہ ہوگا۔ میری جسامت اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھی۔ شاید وہ ناگ نہیںناگن تھی کیوں کہ اپنے بچے کو لپٹائے ادھر ادھر لوٹ پوٹ ہو رہی تھی۔

میں نے سوچا، موقع مناسب ہے۔ اسے اس کی مستی و بے خودی میں مار ڈالوں۔ موذی کو اس کی غفلت ہی میں ٹھکانے لگا دینا بہتر ہے۔ وار کرنے کی غرض سے میں ایک قدم آگے بڑھا تھا کہ اسے میری موجودگی کا احساس ہوگیا اور وہ چشم زدن میں پھن پھیلا کر میرے سامنے آکھڑی ہوئی۔ میرے پاؤں تلے سے زمین کھسکنے لگی اور آنکھیں جھپکنا تک بھول گئیں۔ ناگن سانس لیتی تو اس کا پھن پھیل کر بارہ تیرہ انچ کا ہو جاتا۔ لمحہ بھر کے لیے تو ایسا لگا جیسے ابھی یہ میرا سانس بھی پی جائے گی۔

میرا جسم خوف سے کانپنے لگا اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ماؤف ہوگئی۔ میں نے گھبراہٹ کے عالم میں کھڑے کھڑے تیز دھار ٹوکہ اسے دے مارا۔ وہ بجلی کی طرح ایک طرف جھکی اور میرے وار سے بچ گئی البتہ ٹوکہ اس کے بچے کے دو ٹکڑے کر گیا۔ میں اندھا دھند نہر کی طرف بھاگا۔ مجھے ہوش ہی کب تھا کہ بستی کی طرف دوڑتا۔ خوف کے مارے جدھر منہ اٹھا، بھاگ کھڑا ہوا۔ ناگن اپنے بچے کی موت پر غصے کے مارے دیوانی ہوگئی اور میرا پیچھا کرنے لگی۔ اب میں اپنی زندگی سے مایوس ہوگیا۔

خیال گزرا کہ آج ہی کا دن موت کے لیے مقرر ہے۔ ناگن جھاڑیوں میں سے نکلتی بھاگتی برق بلاخیز کی طرح میرا تعاقب کر رہی تھی۔ وہ لمحہ بہ لمحہ میرے قریب ہونے لگی۔ میری آنکھوں کے آگے تاریکی پھیل گئی۔ کچھ نہ سوجھا تو میں نے نہر میں چھلانگ لگا دی۔ یہ میرے لیے اور بھی برا ہوا۔ پانی میں میری رفتار پہلے سے بھی کم ہوگئی۔ میں تیرنا نہیں جانتا تھا لہٰذا پانی میں ڈبکیاں کھانے لگا۔ اتنے میںغیظ و غضب سے بھری ہوئی دیوانی ناگن بھی نہر میں اتر گئی اور چند لمحوں میں میرے قریب پہنچ گئی۔ مجھے خوف کے مارے غش آگیا اور میں ڈوبنے لگا۔

یہی وہ لمحہ تھا جس سے میری زندگی کا دوبارہ آغاز ہوا۔ میں سر ابھارنے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے لگا تو میرے ہاتھ ناگن سے ٹکرا گئے۔ غیر ارادی طور پر انتہائی خوف کے عالم میں بھی میں نے اسے بہاؤ کی سمت دھکیل دیا۔ لیکن دوسرے ہی لمحے خود بھی بہتا ہوا اس کے قریب پہنچ گیا۔ بس اتنی مہلت ضرور ملی کہ میں نے پانی سے سر نکال کر سانس لے لیا۔ پانی کا تیز بہاؤ ناگن کے بھاری بھرکم جسم کے لیے یقینا مسئلہ تھا۔ مگر میرے پاؤں بھی ایک جگہ نہیں جم رہے تھے۔

بہرحال میں ہاتھ پیر مارتا کنارے تک پہنچ گیا۔ نہر سے باہر نکل کہ میں نے سکون کی سانس لی… لیکن یہ کیا ناگن بھی کنارے پر چڑھ رہی تھی۔

میں جانتا اس وقت میری بہادری کہاں رفو چکر ہوگئی اور جرأت کس نے سلب کرلی؟ میں بے اختیار ’’ماں‘‘ ماں‘‘ پکارتا ہوا گھر کی طرف بھاگا۔ جو بھی راستے میں ملتا حیران ہوکر دیکھتا کہ اسے کیا ہوگیا ہے؟ مگر مجھے اس لمحے بڑی بے قراری سے ماں یاد آرہی تھی۔ خدا خدا کر کے گھر پہنچا۔ ماں تخت پوش پر بیٹھی قرآن کریم پڑھ رہی تھی۔ وہ سمجھی شاید میں کسی سے جھگڑا کر آیا ہوں اس لیے اس نے مجھ پر توجہ نہیں دی۔

اس وقت میں اپنے ہم عمر لڑکوں سے اکثر جھگڑ پڑتا تھا۔ گیارہ بارہ سال کا ہونے کے باوجود جب میں دو سالہ بچے کی طرح ماں سے لپٹ گیا، تو وہ قرآن شریف اوپر اٹھا کر خفا ہونے کے انداز میں بولی: ’’یہ کیا بدتمیزی ہے؟ دیکھا نہیں، میں قرآن پاک پڑھ رہی ہوں۔ کیا تجھے اس کے تقدس اور احترام کا کوئی خیال نہیں؟‘‘

ماں ابھی بات پوری نہیں کر پائی تھی کہ ناگن سامنے آکھڑی ہوئی اور میری چیخ نکل گئی۔ اب موت کو سر پر منڈلاتے دیکھ کر مجھے باپ کی نصیحت یاد آنے لگی۔ بہتر ہوتا کہ میں گھر سے باہر نہ نکلتا۔ سچ ہے ماں باپ کی نافرمانی کرنا مصیبت ہی مصیبت ہے۔ مگر اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔

تاہم میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ قد آور ناگن تخت پوش کے پاس کھڑی نہایت غصے سے دائیں بائیں سر ہلا رہی ہے لیکن آگے نہیں بڑھتی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ ماں سے میری شکایت کر رہی ہو… اتنے میں متعدد افراد ڈنڈے اور کلہاڑیاں اٹھائے ہمارے گھر میں داخل ہوئے۔ شاید ناگن کو میرے تعاقب میں دیکھ کر وہ لوگ صورت حال کا اندازہ لگا چکے تھے۔جونہی وہ ناگن کی طرف لپکے، ماں نے انہیں منع کر دیا اور مجھ سے پوچھا: ’’سچ بتاؤ‘‘ کیا ماجرا ہے؟‘‘

میںنے خوف زدہ لہجے میں بتایا کہ میں اس ناگن کو مارنے گیا تھا کیوں کہ یہ لوگوں کا رستہ روک کر انھیں پریشان کرتی ہے۔ لیکن اس کے بجائے غلطی سے اس کا بچہ میرے ہاتھوں مارا گیا۔

میری بات سنتے ہی ماں کو جھرجھری آگئی اور اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ دوسری طرف ناگن بدستور پھن پھیلائے کھڑی تھی اور طیش کے عالم میں دائیں بائیں سر لہرا رہی تھی۔ گو وہ آگے نہیں بڑھی۔ یقینا یہ میری ماں کے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے قرآن کریم کی برکت تھی۔ آس پاس کھڑے لوگ کبھی مجھے کبھی میری ماں کو اور کبھی ناگن کو بڑی حیرت سے تک رہے تھے۔

انھیں حیرت اس بات پر تھی کہ میری ماں نے ناگن کا کام تمام کرنے سے کیوں روک رکھا ہے؟ ابھی وہ اسی شش و پنج میں تھے کہ اچانک ماں کی دلدوز آواز بلند ہوئی۔ انھوں نے کلام پاک دونوں ہاتھوں میں تھام رکھا تھا۔ ہاتھ فضا میں بلند تھے اور وہ کہہ رہی تھیں:

’’اے ہمارے مقدس خالق و پروردگار! تیری ذات پاک ہے، برحق ہے، تونے اپنی قدرت سے انسانوں کو بھی پیدا کیا ہے اور جنوں کو بھی!

’’یا اللہ! ذرے ذرے پر تیرا قبضہ ہے۔ اس جنّی کو یہ احساس عطا فرما کہ اس کا بچہ نادانی میں مارا گیا ہے۔ اب یہ میرے بچے کو جانے بوجھے نہ مارے اور انتقاماً میرا دل نہ دکھائے۔ یا حی یا قیوم برحمتک نستغیث انک علی کل شیء قدیر۔

جونہی میری ماں نے دعا کا آخری جملہ مکمل کیا، ناگن نے سر جھکایا اور چپ چاپ دروازے کی طرف رینگتی چلی گئی۔ لوگ جو ڈنڈے اور کہلاڑیاں لیکر اسے مارنے آئے تھے، انھوں نے گھبرا کر ناگن کے لیے راستہ چھوڑ دیا۔

اس دن کے بعد کسی نے ناگن کو نہیں دیکھا۔ در اصل وہ انسان کے راستے میں ضرور آتی تھی مگر اس نے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا کیوں کہ وہ حقیقت میں جنّی تھی۔ اگر ناگن ہوتی تب انسان پر حملہ کرتی۔ میں اس کی اصلیت سے ناواقف تھا لہٰذا بے سوچے سمجھے اسے مارنے نکل کھڑا ہوا۔ وہ تو شکر ہے کہ کلام اللہ کی برکت اور ماں کی محبت نے مجھے بچا لیا ورنہ ناگن بنی جنی کو ضرور مجھے مار کر دم لینا تھا۔

٭٭

دادا جان تو یہ قصہ سنا کر سوگئے مگر مجھے نیند نہیں آئی۔ میں سوچتا رہا کہ اب وہ مائیں کہاں گئیں جو روزانہ قرآن کریم کی تلاوت کیا کرتی تھیں۔ اب ان بزرگ خواتین کے چہرے کیوں دکھائی نہیں دیتے جنہیں دیکھتے ہی بلائیں ٹل جاتی تھیں۔ پہلے زمانے کی مائیں بچے کو گود میں لے کر قرآن کریم کی مقدس آیات سنایا کرتی تھیں۔ اس طرح قرآن کریم کی عظمت بچوں کی گھٹی میں رچ بس جاتی… آج کل کی مائیں بچے کو بغل میں داب کر ٹیلی ویژن دیکھتی اور لچر موسیقی سے دل بہلاتی ہیں… یہی وجہ ہے کہ ہمارے اعمال بدل جانے سے نتائج بھی بدل گئے۔

مجھے اپنے ایک پروفیسر صاحب کی بات یاد آرہی ہے۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ لوگ کہتے ہیں آج کل کے بچے بڑے شریر ہیں اور بڑوں کا کہنا نہیں مانتے۔ میں کہتا ہوں کہ اگر والدین حضرت علیؓ اور سیدہ فاطمہؓ کے نقش قدم پر چلنے کی جدوجہد کریں تو انشاء اللہ اولاد بھی حسنؓ و حسینؓ جیسی سیرت والی ہوگی۔lll

(مرسلہ: ڈاکٹر اقبال احمد ریاض) اردو ڈائجسٹ سے ماخوذ

شیئر کیجیے
Default image
محمد آصف رضا

تبصرہ کیجیے