BOOST

سفید قبریں

اوہ غضب ہوگیا چھوٹی بہو -‘‘ اماں جی کی غیر متوقع بوکھلاہٹ پر سہیلہ چونک پڑی۔ وہ اوپر سیڑھی والی دیوار پر دھوپ میں بکھرے ہوئے اپنے کپڑوں کو افسردہ نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔ ’’بہو کپڑے الگنی پر کیوں نہیں ڈالے گئے۔؟‘‘ انھوں نے بجھی بجھی آواز میں کہا۔

اماں جی نے نماز جمعہ پڑھنے جانے کے لیے گھر سے باہر قدم نکالا تو وہ پانی کی دیگچی چولھے پر چڑھا کر غسل کی تیاری کرنے لگی۔ کلو بھاگتا ہوا آیا۔ چھوٹی بیگم۔ اماں جی باہر بلا رہی ہیں۔‘‘

ابھی ابھی تو کہیں وہ ان کے کاموں سے فارغ ہوئی تھی۔ کام بھی آکاش بیل کی طرح پھیل جانے والے۔

اماں جی کے زہد و تقویٰ کا کافی شہرہ تھا۔ شہر بھر میں نہ سہی، آدھے شہر میں تو تھا ہی۔ پرہیز گاری کا عالم یہ کہ ایک دفعہ وکیل صاحب کے گھر سے لوٹتے ہوئے مائی تاجن اماں جی کو چھوٹے راستے کے پیش نظر دھوبی گھاٹ کے قریب سے گزار لائی۔ اچانک نگاہ جو پڑی تو اماں جی کی طبیعت میں گرہ بندھ کر رہ گئی۔ کھلی ہوئی دھوپ میں، گھاس پر بکھرے ہوئے ایک رنگین کپڑے کے بالکل ہی قریب گوبر کا ڈھیر لگا پڑا تھا۔ بس وہ دن اور آج کا دن، پھر اماں جی کے کپڑے دھوبی کے پاس دھلنے کو نہیں گئے۔ یہاں تک کہ اس دن گھر پہنچ کر پہلا کام یہی کیا گیا کہ اماں جی نے دھوبی کے دھلے ہوئے سب کپڑے ٹرنک سے نکلوا لیے کہ جانے کس کس کپڑے پر کہاں کہاں کوئی نجاست لگی پڑی ہو کیوں کہ روزانہ سات آٹھ مرتبہ یعنی بمع تہجد و اشراق اور نوافل وغیرہ کے،اللہ کے حضور کھڑا ہونا۔ ان کا معمول تھا۔ پھر حسب معمول اپنی نگرانی میں مائی تاجن سے سارے کپڑے نل کے کھلے پانی کے نیچے دھلوا ڈالے۔ تاجن پر بھی اماں جی کو کب اعتماد تھا، ابھی جب دھوبی کی چھوا چھو کے قریب سے گزر ہوا، بکثرت پانی بہ جانے کے باعث دور دور تک کیچڑ پھیلا ہوا تھا۔ تاجن نے شپ سے جو پاؤں کیچڑ میں پٹخا تو غلیظ و ناپاک چھینٹیں قمیض کے گریبان اور آستینوں تک اچھل پڑیں۔ اماں جی کو غصہ بھی آیا، رنج بھی ہوا تاجن پر برس پڑیں ’’کمبخت فرشتوں کی لعنت کہیں مسلمانوں کی سی زندگی بسر کرو تو پاکی ناپاکی کی بھی سمجھ آئے۔ کبھی اللہ کے حضور کھڑا ہونا ہو تو یوں بے احتیاطیاں نہ ہوا کریں۔‘‘ خود اماں جی پر کوئی چھینٹ پڑتے ہوئے دیکھی تو نہ گئی تھی، پھر بھی وہ کپڑے یونہی جسم پر رکھنے کو دل نہ جما۔ غسل کر کے دوسرے کپڑے بدل لیے۔

سہیلی کی شادی ہوئی تو نل کے قریب سے گزرتے ہوئے اس کی پائنچوں کو ذرا اوپر اٹھا لینے کی ادا اماں جی کو کچھ بھاگئی۔ بڑی بہو کی پاکی ناپاکی کے غلط سلط سے تو وہ سخت نالاں تھیں۔ منجھلی بہو بھی کوئی محتاط نہ واقع ہوئی تھی۔ بھاری بھرکم جسم اپنی نگرانی میں مونڈھے پر بیٹھے بیٹھے کام کرانے سے بدن ٹوٹنے لگتا۔ پھر وقت کے حرج ہوجانے سے عبادت میں بھی کمی کا خلل پڑ جاتا۔ کچھ ہدایات دے کر سہیلہ کو اپنے ایسے کاموں کی نگراں بنا دینے میں اماں جی کو سہولت محسوس ہوئی دل بھی کچھ جم گیا۔

موسم سرما کا مختصر سا دن جمعہ کا روز، اماں جی کے کام اس دن یونہی کافی پھیل جاتے تھے۔ مگر موسم سرما میں کیا کہنے، گرمیوں میں تو وہ چوکی پر بیٹھ کر نل کے نیچے غسل کرلیا کرتیں۔ لیکن اب گرم پانی سے غسل ہوگا تو پورے اہتمام سے، پانی گرم کرنے کی دیگچی اور دونوں بالٹیاں خصوصیت سے منجھوائی، دھلوائی گئیں۔ غسل، تیل، کنگھی غرض بہ ہزار مشکل کہیں تیاری ہوئی۔ پھر ساتھ ہی میلے جوڑے کو دھلوانا، دھلوانے اور اگلنی پر ڈھلوانے کے ہزار اہتمام۔ خدا خدا کر کے وہ رخصت ہوئیں تو سہیلہ جلدی جلدی غسل کی تیاری کرنے لگی۔ فوراً ہی اماں جی کے بلانے اور واپس لوٹ آنے کی اطلاع پاکر وہ گھبرائی سی بھاگی ہوئی باہر آئی کہ آخر کیا وجہ ہوئی!‘‘ صحن میں اماں جی پائنچے اٹھائے بوکھلائی ہوئی کھڑی تھیں۔ اسے دیکھ کر آدھے پونے الفاظ اگلنے لگیں۔ ’’کیا بتاؤں چھوٹی بہو، کمبختوں پر خدا کی مار، تم جانو سڑکوں پر جگہ جگہ کیچڑ، گوبر، لید، پائنچے اٹھاتے ہوئے چلا کروں۔ اس گندے نالے کے قریب سے جو گزرنے لگی ہوں، تو اللہ کی پھٹکار اس ذلیل لونڈے پر، جانے نالے میں اینٹ پھینکی کہ روڑا، سارا پانی اچھل کر کپڑوں پر۔‘‘ بے بس سی ہوکر وہ خاموش سی ہوگئیں پھر طبیعت کی نزاکت پر قابو پاتے ہوئے کہا۔ بہو! اب جلدی سے مجھے تیار کروادو جمعہ کا وقت تنگ ہوا جاتا ہے۔’سہیلہ! نے کلو کو آنچ تیز کرنے کے لیے چولھے کے قریب بٹھا دیا تاکہ پانی جلد گرم ہوجائے۔ مائی تاجن کو ہدایت کی کہ جلدی سے غسل خانے میں انتظام مکمل کردے اور خود وہ ٹرنک سے دوسرے کپڑے نکال کر شلوار میں جلدی جلدی ازار بند ڈالنے لگی۔

کپڑے کھونٹی پر ٹانگ کر اس نے اماں جی کو غسل خانے میں بھیج دیا اور پھر تاجن کو کہا۔ ’’مائی جی اب اماں جی کے کپڑے دھو ڈالئے۔ وقت دیکھا تو ان کے جانے کے بعد خود غسل کر کے نماز جمعہ پڑھنی غیر ممکن بھی معلوم ہوئی۔ اس خیال سے کہ اب تو نماز یونہی ادا کرنی ہوگی وہ غسل کی تیاری کرنے کی بجائے اماں جی کے جانے کا انتظار کرنے لگی۔

یوں تو اماں جی کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اس کے لیے درسِ عبرت بنا ہوا تھا لیکن کبھی کبھی سوچ کی گردش زیادہ تیز ہوجایا کرتی، خصوصاً اس دن کی شدت احساس جب کہ جمعہ کے روز گرمیوں کی جلتی ہوئی دوپہر اور پانچ پہر کے دن میں اماں جی نے روزہ رکھا ہوا تھا۔ سرما ہو یا گرما، جمعہ کا روزہ تو اماں جی کا شاید ہی چھٹ جائے، ورنہ دانستہ چھوڑنے کا کبھی تصور بھی نہ آسکتا تھا۔ اس روز سورج نے بھی بڑی فراخی سے گرمی اگلی۔ اماں جی چپکے سے سارا دن برقی پنکھے کے نیچے لیٹی رہتیں، تب بھی حالت کا غیر ہوجانا ضروری تھا اور وہاں تو اس روز کاموں نے بھی بخل سے کام نہیں لیا۔ آدھے دن میں کہیں زیوروں اور کمیشنوں کا معاملہ اٹھ سکا۔ پھر روپے پیسے کا حساب کتاب بھی مکمل کروانا تھا۔ اماں جی کی دولت بھی اچھی خاصی تاریخ رکھتی تھی۔ تقسیم ملک سے قبل انہیں ماہ بہ ماہ کمیشن (سود) مل جایا کرتی تھی اور اصل زر بحفاظت کسی چور ڈاکو کے کھٹکے کے بغیر بینک میں محفوظ پڑا تھا جب اماں جی کے دور کے رشتے کا برخوردار تاجر بھتیجا اس سلسلے میں گفتگو کر رہا تھا تو کسی نے مداخلت کی۔ ’’یہ سود ہوا نہ کہ کمیشن؟‘‘

اماں جی نے پڑھے ہوئے سبق کے مطابق منطق جھاڑی کیوں یہ سود کیوں ہوا آخر؟ بینک والے کمیشن لے کر تاجروں کو روپیہ دیتے ہیں اور ہمارے روپے پر ہمیں کمیشن دیتے ہیں۔ یہ تو تجارتی اصول ہیں، تاجر ہمارے روپے سے تجارت کر کے نفع نہیں کماتے کیا۔ جو ہم کمیشن نہ لیں۔‘‘

فسادات کے دنوں میں اماں جی کو بڑا خطرہ محسوس ہوا۔ تمام دولت منگوا کر تجوریوں میں مقفل کرلی۔ یوں بھی وہ اپنی حفاظت میں روپے رکھنے کو ترجیح دیتی تھیں تاکہ کسی کو پتہ نہ چلے کہ کتنا ہے کتنا نہیں وہ تو کمیشن کے لالچ اور چوری ڈاکے کے خوف سے آدھی چوتھائی بینک میں رکھوا دی تھی اور کہہ دیا بس یہی سب کچھ ہے۔ اگرچہ جاننے والے جانتے تھے کہ سب کچھ صرف یہی نہیں۔

دولت کونسی آسانی سے پیدا ہوجانے والی چیز ہے جو لاپروائی اور غفلت سے کام لیا جائے خدا جانے اماں جی کے والد نے کس کس طرح کن کن جتنوں سے یہ جمع کیا ہوگا۔

وہ کل دو بہنیں تھیں۔ چھوٹی بہن عالم شباب میں ہی دو لڑکیاں ایک ڈیڑھ برس کی، دوسری دو ماہ کی، چھوڑ کر چل بسی۔ بہنوئی چار ماہ پہلے ہی دنیا سے کوچ کرچکے تھے۔ اماں جی نے دونوں بچیوں کی پرورش کی۔ پھر دونوں کی شادیاں کیں، اب ان کا حصہ اماں جی کے پاس کا ہے کو بچا تھا۔ کوئی ذرا حساب کتاب کرے تو دونوں کے اخراجات ان کے حصے سے کچھ بڑھ ہی جاتے۔ میاں جی کی زندگی میں تو جود اماں جی کے پاس روپے پیسے اور ہر قسم کی ہزاروں چیزوں کے تحفے ہی آتے رہتے تھے، وہ کوئی منہ سے تھوڑی مانگتے تھے جو رشوت ہوتی۔ لوگ ہزار منت و سماجت سے اپنے کام نکلواتے تھے اور خود ہی اپنی خوشی سے تحفے دے جاتے۔ اماں جی سگھڑ گرہستن ان دونوں میاں جی کی تنخواہ سے سہ، چہار گنا روپے جمع کرتی رہیں۔ بس ان کے پاس تو وہی جمع شدہ روپیہ، پھر میاں جی کی وراثت کا حصہ اور اپنے والد کی دولت میں سے خود اپنے حصے کا روپیہ ہے نہ کہ اب تک بھانجیوں کا حصہ ہی پڑا ہوا ہے۔

تقسیم ملک کے بعد امن و امان قائم ہوگیا تو اماں جی دوبارہ بینک میں روپے رکھانے پر آمادہ نہ ہوسکیں کہ جانے کب کوئی برا وقت آپڑے۔ ایسے زمانے میں تو پیسہ ہاتھ ہی میں اچھا۔ تاہم کمیشن کا انہیں قلق بھی تھا، یوں قرض مانگنے والے تو بہت آیا کرتے، مگر وہ کبھی پائی دینے کی بھی قائل نہیں ہوئیں۔ البتہ کسی بہت ہی معتمد شخص کی سخت ضرورت پر زیور وغیرہ رکھ کر کچھ روپے دے دیا کرتی تھیں۔ بس خیال آیا کہ یوں تو ’’کمبخت لوگ زیور رکھ کر مدتوں روپے واپس نہیں کرتے کہ چلو زیور حفاظت سے پڑا ہوا ہے۔ کون سا مول پورا ہوجانے کا خطرہ ہے۔ پھر ہم ہی کیوں اپنا پیسہ قید کراکے خسارہ اٹھاتے رہیں۔ آخر کیوں نا کمیشن لگا دیا جائے۔ یہ لوگ روپے لے جاکر اپنی ضرورتیں پوری نہیں کرتے کیا! اور ہماری دولت کوئی مفت کی کھیر ہے۔‘‘ پھر کیا تھا۔ اس پر عمل شروع ہوگیا اور بینک کی شرح فیصد کے حساب سے کمیشن لگا دیا گیا۔ ادھر غریب اور بیوہ عورتوں کو ضرورت کے وقت چھوٹے موٹے زیور رکھ کر روپے لے جانے میں آسانی محسوس ہوئی کون انہیں بینکوں سے لاکر دیتا ہے۔

اس جمعہ کے روز زیوروں اور کمیشنوں کا حساب کتاب ہوا تو سہیلہ بھی قریب بیٹھی رہی۔ یہ حساب کتاب منجھلی بہو کے ذمے تھا۔ جلتی ہوئی دوپہر کا روزہ، پیاس سے اماں جی جاں بلب ہوگئیں۔ لینے دینے والی عورتوں کو بھی جانے کیا سوجھی اس دن کہ موسلا دھار بارش کی طرح برس پڑیں۔ کچھ نے کمیشن ادا کر کے زیور چھڑائے، کچھ رکھانے آگئیں۔ دراصل شادیوں کا موسم تھا کسی کو روپے پیسے کی ضرورت تو کسی کو شادی بیاہ میں زیور پہن کر جانے کی ضرورت۔ پانچ سات کے تو کمیشن بڑھتے بڑھتے مول ہی پورا ہوچکا تھا۔ گھر کی بھنگن کی لڑکی کے بندے بھی کمیشن میں ہضم ہوچکے تھے۔ سہیلہ احساس کو دبانہ سکی اور عرض کی۔ اماں جی اپنی بھنگن سے تو کمیشن نہ لیا جائے!‘‘ اماں جی نے مفتیانہ شان سے فرمایا۔’’ اے بہو تم جانو یہ غیر مذہب کے لوگ ہیں، ان کا مال ہاتھ آئے تو پھے (فے) ہے۔ کہیں اور بندے رکھتی تو وہاں نہ کمیشن دیتی۔‘‘ اسے محسوس ہوا کہ پہاڑ جیسے بوجھ تلے دبی چلی جا رہی ہے۔ دوسرے ہی لمحے وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی آئی۔

اماں جی کی نمازِ جمعہ بھی اس دن قضا ہوگئی۔ ان کے لیے یہ حادثہ بڑا ہی جانکاہ تھا۔ جوں توں کر کے ظہر کی نماز ادا کی اور پھر تلافی مافات کے خیال سے نہ معلوم کتنی رکعت نفل ادا کیے۔گرمی کی تیزی سے پہلے ہی بھن رہی تھیں۔ حساب کتاب کی الجھن اور نوافل کی تھکاوٹ سے بس کچھ نہ پوچھئے کیا حال ہوا۔ ادھر سہیلہ اپنے کمرے میں پلنگ پر پڑی ہوئی کھولتی رہی۔ اوامر و نواہی کی پابندی بس یہیں تک۔ اس شکل و صورت میں! ہر طرح کے ناجائز ذرائع سے مال حاصل کرنے کی تو کھلی چھٹی مل گئی ہوگی شاید! پیاس سے جان ہلکان ہوئی جاتی ہے پھر چند گھونٹ کمیشن پانی نہیں پیا جاسکتا کیا! یوں تو پیٹ میں بھی ہر نوالہ پاک و صاف کر کے ہی اتارا جائے۔ ہزار چھان بین سے تو کہیں گندم پاک متصور ہو۔‘‘ ہوا یوں کہ ایک بار گندم زیادہ تھی۔ مائی تاجن دو چار عورتیں چھان پھٹک کے لیے بلا لائی گندم چھاننے والی ایک بڑھیا کی بار بار ناک بہ نکلتی۔ بڑھیا کبھی دائیں ہاتھ سے کبھی بائیں ہاتھ سے ناک صاف کرلیتی اور پھر گندم چھاننے لگتی۔ اماں جی نے جو دیکھا تو جی بیزار ہوگیا۔ڈانٹ کر کہا۔

’’اے بڑھیا کمبخت۔ ناک صاف کرتی ہو تو ہاتھ دھوکر دوبارہ گندم کو لگایا کر۔ بڑھیا بھی عجب اناپ شناپ واقع ہوئی تھی۔ وہ اماں جی کے مزاج کو کیا جانے، لاپرواہی سے بولی۔ ’’بی بی جی ناک صاف کر کے کون چھانے، پھٹکے، پیسنے والے ہاتھ دھویا کریں ہیں۔ سوکھی چیز ہے گی۔‘‘ اماں جی کو غصہ آگیا ’’کمبختوں پر خدا کی پھٹکار، جانے یہ اجڈ لوگ کیسی کیسی گندگیاں ہمیں کھلائے پلائے دیتے ہیں۔‘‘ بڑھیا بھونچکی سی ہوگئی۔ پھر کہنے لگی ’’بڑی بی بی جی ذرا کبھی کھلیان جاکر دیکھے ہیں وہیں ڈنگر مویشی ہوتے ہیں گوبر کرتے ہیں۔ سوکھی چیز ہے گی۔ اللہ میاں کی پاک دھوپ لگے ہے۔‘‘ لیجیے اور انکشافات ہوئے۔ اماں جی کی طبیعت متلانے لگی۔ قے آتے آتے رکی جوں توں کر کے اندر کمرے میں پلنگ تک پہنچیں پھر اس بات پر سوچنے کی انہیں ضرورت محسوس نہیں ہوئی کہ اب گندم دھلوا کر پسوائی جائے گی۔ بے خبری میں جو ہو چکا بس وہی کیا کچھ کم ہے مگر پیسنے والے بھی تو یہی لوگ ہیں جو بار بار ناک صاف کر کر کے ہاتھ دھوئے بغیر لگا دیتے ہیں۔ بالآخر اپنی نگرانی میں چکی میں آٹا پسوانے سے یہ مسئلہ حل ہوسکا۔

سہیلہ نے جس طرح اماں جی کے دوسرے حالات زندگی سن رکھے تھے اس طرح یہ بھی سنا ہوا تھا۔ دونوں بہویں اتنی کھکیڑ اٹھانے کو نہ مانیں تو اماں جی نے صرف اپنے لیے اہتمام کرلیا تھا۔ اسی دن سے ایک عورت مقرر تھی۔ گندم دھلتی، دھوپ میں چارپائی پر دھلی ہوئی پاک چادر بچھا کر سوکھنے کے لیے ڈالی جاتی۔ اوپر ململ کا پاک دھلا ہوا دو پٹہ تان دیا جاتا تاکہ مکھیاں گندگی نہ لا ڈالیں۔ پھر نگرانی کے ساتھ چکی میں پسوائی جاتی، پیسنے والی کو ناک صاف کرنے کی ضرورت پیش آتی تو نالی میں ناک صاف کر کے اور ہاتھ دھوکر دوبارہ لگانے کا حکم تھا۔ اماں جی کا کھانا پکانے میں بھی یہی احتیاط ملحوظ رکھی جاتی۔

آج پھر اسے احساس ہوا رہا تھا۔ کسی شریر لونڈے کے ہاتھوں ناپاک چھینٹیں پڑ جانے سے یہ بوکھلاہٹ، اتنی گھبراہٹ اور میدان زندگی میں! حقیقت میں تو زندگی میں ذرہ ذرہ گندیوں اور غلاظتوں سے دامن کو بچائے رکھنے کے لیے متنبہ کرتا رہتا ہے۔ خصوصاً اس گندے ماحول میں جب کہ ذرا سی بے احتیاطی اور بے خبری میں دامن ناپاک ہوسکتا ہے۔

سیڑھیوں کے قریب کھڑی کوئی عورت مائی تاجن سے کہہ رہی تھی۔ ’’یہ ہے اماں جی کی چھوٹی بہو۔ میری لونڈیا کہے تھی کہ اتفاقاً کبھی چھوٹی بیگم گھر میں اکیلی ہوں تو دور کنویں سے پانی نہیں لانا پڑتا۔ چاہے نل سے کتنا پانی بھر لو وہ کچھ نہیں کہتیں۔ اماں جی جو خفا ہوتی ہیں کہ کیچڑ پھیلتا ہے اور بڑی دونوں بیگمیں بھی اماں جی کے نام سے ڈرا دیا کرتی ہیں۔ یوں تواماں جی ہیں بڑی نیک، مگر…

’’ بھنو! غریبوں کا تو ہر زمانے میں یہی حال رہا ہے۔‘‘ تاجن نے بات سنے بغیر جواب دے دیا۔ یہی تھوڑا ہے کیا کہ اماں اتنی نیک اور پرہیزگار ہیں۔‘‘

سہیلہ اپنے خیال میں کھڑی تھی کہ اماں جی غسل خانے سے نکلتے ہی سیڑھی والی دیوار پر دھوپ میں بکھرے ہوئے اپنے کپڑے دیکھ کر بوکھلا ئیں۔ اس نے آہستگی سے کہا، اماں جی الگنی پر تو آپ کے پہلے ہی کپڑے سیلے سیلے پڑے ہیں، پھر وہاں دھوپ بھی بالکل نہں رہی تھی میں نے کہہ دیا مائی جی اوپر دیوار پر دھوپ میں ڈال آئیے۔‘‘

’’اوہ … بہو… ‘‘ اماں جی نے سر پکڑ لیا۔ ’’تم نہیں جانو کیا؟ بیت الخلا میں آتے جاتے کمبخت بھنگن اس دیوار پر روزانہ ہاتھ گھسٹتی آیا کرے ہے اسی لیے تو میں الگنی پر کپڑے ڈلواؤں ہوں کہ دیواروں کی پاکی ناپاکی کا کیا اعتبار۔ جاؤ تاجن کپڑے اتار لاؤ، کھڑی منہ کیا تکتی ہو۔‘‘

مائی تاجن اوپر سے کپڑے اتار لائی، تو حکم دیا گیا ان پر سے اچھی طرح پانی بہاؤ۔‘‘ خود اماں جی الگنی پر سیلے کپڑے دیکھنے کو آگے بڑھیں تو سہیلہ احساس کو دباتے ہوئے پہلے کپڑے کھسکانے لگی تاکہ دوسرے کپڑے ڈالے جاسکیں۔ دفعتاً ماں جی کی نگاہ الگنی پر مکھیوں کے فضلے پر پڑی تو انھوں نے اس کا ہاتھ جھٹک کر سر پیٹ لیا۔ ’’بس، بس، بہو کافی ہوچکی، میں نے تمہیں غلط سمجھا۔ اپنی نگرانی میں تو میں نے کبھی بھی الگنی صاف کرائے بغیر کپڑے نہ ڈلوائے تھے۔ اب میں جانوں۔ میری بے خبری میں اتنی بے احتیاطیاں؟ قہر خدا کا! یوں ہوتا رہا ہے تو پھر تم چیزوں کو بھی کہاں کلمہ پڑھ کر دھلواتی رہی ہوگی۔ ہائے افسوس میری سستی جانے مجھے کیا کچھ کھلایا پہنایا جاتا رہا۔‘‘ وہ خاموشی سے وہاں سے کھسک گئی۔

آہ اوپر سے سفیدی پھیری ہوئی قبریں۔ اندر سڑی ہوئی ہڈیاں!lll

شیئر کیجیے
Default image
امۃ الوحید

تبصرہ کیجیے