معروف شخصیات کے خلاف غداری کا مقدمہ

گذشتہ دنوں ملک کی نامور، معتبر اور سیکولر سوچ کے لیے معروف ۴۹ شخصیات کے ملک کے وزیر اعظم کے نام کھلا خط لکھنے پر ملک ملک مظفر پور (بہار) کی ایک عدالت کے ذریعے ملک سے غداری کا مقدمہ قائم کرنے کا سی جے ایم کے ذریعے دیا جانے والا حکم میڈیا کی سرخیوں میں چھایا رہا۔ لوگ اس پر اپنے اپنے انداز میں تنقید کرتے رہے کچھ لوگوں نے اس مقدمے کو بھی برسر اقتدار گروہ اور حکومت کے کھاتے ہیں چڑھا دیا اور یہ باور کرانے میں لگے رہے کہ حکومت شخصی آزادی کا گلا گھونٹ رہی ہیـ۔ کچھ لوگوں نے اسے بھی سیاسی اشو بنانے کی کوشش کی جب کہ عوام کی جانب سے سوشل میڈیا پر بھی طرح طرح کے سوالات اٹھائے گئے۔

اسی طرح کا ایک معاملہ حال ہی میں وردھا (مہاراشٹر) میں سامنے آیا جہاں بین الاقوامی ہندی یونیورسٹی کے چھ طلبہ کو وزیر اعظم کے نام پوسٹ کارڈ لکھنے کے جرم میں یونیورسٹی سے غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔ یہ تمام طلبہ پسماندہ اور دلت طبقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے جلد ہی منعقد ہونے والے ریاستی انتخابات کے تناظر میں اسے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور عدالتی عمل میں رکاوٹ تصور کیا۔ حالاں کہ اگلے ہی روز ان کی معطلی واپس لے لی گئی۔ اس پورے معاملے کو دہلی کے اخبارات نے بھی اور علاقائی اخباروں نے بھی قابل ذکر واقعہ کے طور پر شائع کیا۔ کچھ لوگوں نے اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ مذکورہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے اپنے نمبر بڑھانے اور میڈیا میں آنے کے لیے ایسا کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ انھوںنے ایسا کیوں کیا ہم نہیں جانتے مگر اتنا ضرور طے ہے کہ ان کی انتظامی مجبوریاں بھی ہوسکتی ہیں اور شخصی مجبوری بھی لیکن اس واقعے کو جس انداز میں پیش کیا گیا وہ الگ ہی تاثر دیتا ہے۔

مظفر پور کے سی جی ایم کے ذریعے دیا جانے والا حکم لوگوں کو عجیب لگا اور میڈیا میں چھایا رہا کیوں کہ جن افراد اور شخصیات کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا وہ عام لوگ نہ تھے بلکہ خاص لوگوں میں بھی خاص شخصیتیں تھیں۔ ایسے میں لوگوں کے درمیان جاری بحث و مباحثہ نے بھی مختلف انداز میں واقعے کو دیکھا۔ قارئین اور بحث کرنے والے جس نقطہ نظر سے بھی دیکھیں یہ ان کا حق بھی ہے اور یقینا ان کے مشاہدے کے پیچھے کچھ تو ہوگا جو دلیل بن کر ان کے ذہن پر چھاگیا ہوگا مگر ہم اس واقعے کو ایک ایسے کیس کی صورت میں دیکھتے ہیں جس کی مثال اگر ملک کے عدالتی نظام میں جاری اور ساری ہوجائیں تو ملک میں انصاف کا قیام یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

ہمارے نزدیک اس واقعے کے کئی پہلو اہم اور قابل توجہ ہیں:

ان میں سب سے پہلا یہ ہے کہ مقدمے کے مدعی سدھیر اوجھا نے سی جے ایم سے مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی۔ اس کی یہ درخواست اس مدعی کی اپنی سوچ و فکر کی نمائندہ تھی۔ کیوں تھی اور کیا تھی اس پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں مگر جمہوری ملک میں اس کا حق تھا جو اسے ملا۔ اسی طرح سی جے ایم نے عدالتی نظام کی مختلف النوع مجبوریوں اور اپنی سوچ کے مطابق مقدمہ درج کرنے کی ہدایت جاری کردی۔ یہ بھی انصاف کے تقاضوں کے مغایر نہ تھا۔ حالاں کہ ان کے اس فیصلے سے خود ان کی سوچ بھی ہدف تنقید بنی اور لوگوںنے یہ تصور کیا کہ اس طرح انھوں نے ایک خاص سیاسی فکر کی نمائندگی کی ہے اور حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ اب اس کی سوچ سے ہم آہنگ لوگ عدالتی کرسیوں پر بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ مگر کیا واقعی ایسا ہی ہے اس پر سوچنے کی ضرورت ہے۔ کیا ہم نے کبھی سنا اور پڑھا ہے کہ ایک مظلوم شخص کی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی؟ اور پھر عدالت کے حکم پر ایف آئی آر درج ہوسکی۔ ہاں ایسا بہت ہوتا ہے عدالت کا کام ہے کہ وہ شہری حقوق کا دفاع کرے۔

اس کا تیسرا پہلو پولیس اور تحقیقی نظام سے تعلق رکھتا ہے جو عدالتی نظام کے اصل دست و بازو کا کام کرتا ہے۔ اس کیس میں بھی پولیس کا اہم رول رہا اور اپنی تحقیق میں اس نے پایا کہ ملک سے غداری کی وہ شکایت جس میں سی جے ایم نے مقدمہ درج کرنے کی ہدایت جاری کی تھی وہ جھوٹی پائی گئی۔ پولیس نے اس کیس میں انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اپنی اخلاقی اور پیشہ وارانہ ذمے داری کو بہ حسن و خوبی انجام دیا اور انصاف کو تقویت پہنچانے کے لیے مدعی سدھیر اوجھا کے خلاف آئی بی سی کے کئی سیکشنز میں مقدمہ درک کرنے کا حکم دیا، جو عین انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے اور لوگوں کو یہ سبق دیتا ہے کہ کسی سے ذاتی مخاصمت یا بدلہ لینے کے لیے کسی بے گناہ کو جھوٹے مقدمے میں پھنسانا قانون کا غلط استعمال ہونے کے ساتھ ساتھ ملکی نظام کو دھوکہ دیتا ہے اور جھوٹے مدعی کو اس کی سزا ضرور ملنی چاہیے۔

دراصل ہمارے نظام کی کمزوری یہ ہے کہ جو اس کا دست و بازو ہے یعنی پولیس او رتحقیقی ایجنسیاں وہ اپنی ذمے داری درست طور پر انجام نہیںدیتیں اس کے اسباب ہیں طاقت ور مجرموں کا اثر و رسوخ بھی ہے اور رشوت خوری بھی جس سے ہر کوئی واقف ہے۔ کہیں اثر و رسوخ کے سبب ظلم و جبر کی حقیقی داستانیں انصاف کا منہ نہیںدیکھا پاتیں تو کہیں اس کے سبب بے گناہ لوگ قانون کی نانصافی کا شکار بن جاتے ہیں اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ محض مخالف کو پریشان کرنے کی خاطر پولیس و انتظامیہ کی جیب گرم کر کے جھوٹی ایف آئی آر درج کرادی جاتی ہین، جہاں لزم سالوں سال عدالت کے چکر کاٹتا رہتا ہے اور بالآخر بری ہوجاتا ہے مگر اس صورت میں جھوٹے مدعی کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوتی۔

ہم دیکھتے ہیں کہ مذکورہ کیس میں پولیس نے کس قدر تیز رفتاری کے ذریعے تحقیق مکمل کر کے ملزمین کے لیے راحت کا اعلان کر دیا لیکن کیا پولیس کا یہی ذمے دارانہ رویہ دوسرے سیاسی یا غیر سیاسی معاملوں میں بھی ہے اور کیا عوام بھی اسی طرح راحت پاجاتے ہیں؟ ایسا نظر نہیں آتا۔ سالوں لگ جاتے ہیں لوگوں کو جھوٹے مقدمے جھیلتے اور عمریں گزر جاتی ہیں انصاف کو پکارتے ہوئے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ انصاف کو پکارنے والی آواز ہی خاموش ہو جاتی ہے۔

انصاف انصاف اسیوقت تک ہے جب وہ وقت پر ملے اور عوام کے لیے انصاف کی راہ میں سب سے بڑی دشواری پولیس کا غیر ذمے دارانہ اور لیٹ لطیفانہ رویہ ہے جو وہ تحقیق کے عمل میں انجام دیتی ہے یا تحقیق کے بنا ہی مقدمہ آگے بڑھا دیتی ہے۔ اس سے عدالتی نظام پر آئے دن بوجھ بڑھ رہا ہے اور ظاہر ہے یہ بوجھ انصاف کے عمل کو سست کر کے لوگوں کے اعتماد کو نقصان پہنچائے گا۔ کیا ہی بہترین کام ہوگا اگر حکومت اپنے اثر و رسوخ اور طاقت و اقتدار کا استعمال کرتے ہوئے ملکی عوام کو انصاف فراہم کرنے کی مہم چلانے اور عدالتی نظام کو فعال بنانے کے لیے پولیس اصلاحات کاکام کرے جو ایک مدت سے عوام کی ضرورت ہے۔

پلاسٹک اور ماحولیات

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پلاسٹک کا انسانی زندگی میں بڑھتا استعمال صحت اور ماحولیات دونوں کے لیے نئے مسائل پیدا کر رہا ہے۔ گاڑیوں کی باڈی میں استعمال ہونے والے پلاسٹک سے لے کر روز مرہ کی زندگی میں استعمال ہونے والی اشیا کی پیکنگ میں استعمال ہونے والا پلاسٹک شدید نوعیت کے ماحولیاتی مسائل کو جنم دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتیں اس کے استعمال سے ہونے والے نقصانات اور ماحولیاتی نتائج سے لوگوں کو آگاہ کرنے کی مہم چلائے ہوئے ہیں۔

ہمارے ملک میں اب زیادہ تر پیکنگ والی اشیا پلاسٹک پیکنگ ہی میں دستیاب ہیں خواہ وہ ملک میں بنی ہوں یا باہر سے امپورٹ شدہ ہوں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ٹافی اور چیونگم سے لے کر بسکٹ اور دودھ تک پلاسٹک ہی میں پیک ہوکر کنزیومر کے ہاتھوں میں پہنچتا ہے۔ پلاسٹک کے بے تحاشہ استعمال ہی کے سبب شہروں ہی میں نہیں دیہاتوں تک کوڑے کے پہاڑ کھڑے ہونے لگے ہیں اور شہروں میں تو اسی کے سبب کوڑے کا بحران پیدا ہوگیا ہے۔ ملک کی راجدھانی دہلی میں کئی وسیع و عریض علاقے کوڑے کے بڑے بڑے پہاڑوں کی طرح دور سے نظر آتے ہیں جب کہ دیہاتوں میں اب پلاسٹک کے اس کوڑے نے زرعی زمینوں کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا ہے۔ کسان مجبورا اس پلاسٹک کے کوڑے کے جو روز مرہ کی چیزوں کے لیے استعمال کے سبب بنتا ہے جلا کر ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کے نتیجے میں خطرناک قسم کا دھواں اور گیسز نکل کر ماحول کو آلودہ کرتے ہیں۔

ماہرین اسے دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں ایک وہ جو ریسائیکل ہوکر دوبارہ قابل استعمال ہو جاتا ہے اور ایک وہ جو ریسائکل کے قابل نہیں ہوتا۔ اس میں سردست پلاسٹک کی وہ تھلیاں ہیں جنہیں عام طور پر لوگ دکانوں اور بازاروں میں سامان رکھ کر خریدار کو دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں جب کہ اس میں وہ پلاسٹک بھی شامل ہے جو پیکنگ کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس پلاسٹک نے ندی نالوں کو بھی نقصان پہنچایا ہے اور آبادی کے سیور سسٹم کو بھی نئے مسائل سے دو چار کیا ہے۔

ماحولیات کے لیے بیداری پیدا کرنے والے ادارے اور افراد پلاسٹک کے اس قدر بے تحاشہ استعمال کے نقصانات سے آگاہ کرتے رہے ہیں مگر حکومتوں نے نہ ان پر وقت رہتے پابند لگائی اور نہ ہی نئی اور متبادل ٹکنالوجی پر کام کیا۔ اب جب کہ حالات انتہائی خراب ہوتے نظر آرہے ہیں تو پلاسٹک کے محدود استعمال پر پابندی کی بات کی جا رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پلاسٹک اپنے نقصانات اور انسانی و ماحولیاتی نتائج کے اعتبار سے اس قدر خطرناک ہے کہ اس کا ہر قسم کا استعمال بند کیا جانا چاہیے لیکن اس کا عمل دخل انسانی زندگی میں اس قدر ہے کہ ہم اس پر مکمل پابندی کے بارے میں تصور بھی نہیں کرسکتے اور اس کے خطرناک اثرات کو جھیلنے کے لیے تیار ہیں۔

اس تحریر کے ذریعے ہم عوام الناس کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی نجی زندگی میں پلاسٹک کی تھلیوں کے استعمال کو ختم کر کے دھیرے دھیرے اس میدان میں آگے بڑھیں اور پلاسٹک کی اشیا کے استعمال کو بہ تدریج کم کریں۔ ہم یہ عہد کریں کہ دکانوں سے سامان خریدنے کے لیے گھر سے تھیلا لے کر جائیں گے، ایک سال کے اندر اندر پلاسٹک کے برتنوں کا استعمال ختم کردیں گے اور بہ تدریج اپنی زندگی کو پلاسٹک سے آزاد کرائیں گے۔

اس بات کی بھی شدید ضرورت ہے کہ ہم خود حکومتوں کو پلاسٹک کے استعمال پر روک کے لیے آمادہ کریںنہ کہ حکومت ہمیں ان کے استعمال پر جرمانے کی صورت میں پابندی لگائے۔ اگر ہم ماحولیات کا تحفظ، انسانیزندگی کی صحت چاہتے ہیں تو ہمیں حکومتوں اور مصنوعات دینے والی کمپنیوں سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنی اشیا پلاسٹک کے بجائے ماحول اور صحت دوست پیکنگ میں ہم تک پہنچائے۔ ہم ایسی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں گے۔ اسی طرح حکومتیں جو پلاسٹک کے خلاف مہم چلا رہی ہیں انہیں چاہیے کہ وہ پکنگ کے لیے پلاسٹک کے استعمال کے بجائے ماحول دوست اور صھت دوست مواد استعمال کرنے کے لیے صنعت کاروں کو مجبور کرے۔ پلاسٹک کی تھیلی میں دودھ بکتا رہے مگر اسے لیجانے کے لیے پلاسٹک تھیلی پر پابندی لگے یہ عقل و حکمت کے خلاف ہے ۔

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی