مشورہ حاضر ہے!

ہونٹوں کا روکھا پن

میرے ہونٹ بالکل روکھے ہوگئے ہیں۔ ہاتھ پاؤں کالے ہو رہے ہیں۔ چہرے پر بھی چھائیاں ہیں۔ اس کے لیے بتائیے۔

٭ فائزہ بی بی! رات کو سوتے وقت ناف میں کوئی سا تیل ذرا سی روئی میں لگا کر رکھیں، صبح نکال لیں۔ آپ اسے معمول بنالیں تو بے شمار فائدے ہوں گے۔ گرم گرم دودھ داور چائے ہرگز نہ لیں۔ کچھ لڑکیاں منہ میں پنسل، پین یا کلپ ڈالے رکھتی ہیں، اس سے بھی ہونٹ خراب ہوجاتے ہیں۔ نچلا ہونت لڑکیاں اکثر چوستی رہتی ہیں یا زبان سے چاٹتی ہیں۔ ہر وقت لب اسٹک لگانے سے بھی ہونٹ خشک ہوجاتے ہیں۔ دوسروں کی استعمال شدہ لپ اسٹک نہ لگائیے، اس سے چھوت لگ جاتی ہے۔ آپ کچے دودھ میں روئی بھگو کر ہونٹ صبح شام صاف کریں۔ زیتون کے تیل میں گلاب کی پتیاں بھگوئیے اور ہونٹوں پر ملیے۔ سیب کے بیج پیس کر ہونٹوں پر لگانے سے بھی پھٹے ہونٹ صحیح ہو جاتے ہیں۔

جب بھی سلاد بنائیں آپ کھیرے کا قتلہ ہونٹوں پر ملیں۔ کھیرے سے جلد ملائم ہوگی۔ کھیرے کے بہت سارے فائدے ہیں۔

پاؤں تھک جاتے ہیں

مجھے کام کے سلسلے میں بہت پیدل چلنا پڑتا ہے۔ کچھ دنوں سے میرے پاؤں رات کو سوج جاتے ہیں۔ بہت درد ہوتا ہے۔ کبھی کبھی بو بھی آنے لگتی ہے۔ اس کے لیے بتائیے۔

٭… پاؤں کو بھی آرام ملنا چاہیے۔ آپ اپنے جوتے کا جائزہ لیں، اس کی وجہ سے تو پاؤں نہیں سوج رہے۔ آپ گھر آکر پانی میں نمک ڈال کر کم از کم پندرہ منٹ تک پاؤں بھگویا کریں۔ پاؤں میں بدبو محسوس ہو تو آدھے لیموں کا رس پانی میں ملائیے اور نمک ڈالیے۔ لیموں کا چھلکالے کر نمک لگا کر پاؤں کے تلوے پر آہستہ آہستہ رگڑیے، اس سے پاؤں صاف ہوں گے اور تھکن بھی دور ہوگی۔ پاؤں دھونے کے بعد خشک کریں۔ چند قطرے زیتون کے تیل اور چند قطرے عرق گلاب ملا کر پاؤں پر اچھی طرح مالش کریں، اس سے سکون ملے گا۔

پندرہ دن میں ایک بار آپ پاؤں کے تلوے پر منہدی بھی لگوائیے۔ مہندی پاؤں کو آرام دے گی اور تکان بھی دور کرے گی۔ جوتوں کو دھوپ میں رکھیں اور صاف کر کے پہنا کریں۔ جوتے تنگ ہوں یا سلائی ادھڑ گئی ہو تو بھی تکلیف دیتے ہیں۔

دماغ تازہ ہوگیا

میری جاننے والی ہندوستان سے لیموں او رکینو کا تیل لائیں۔ میرے سر میں بہت درد رہتا ہے۔ انھوں نے دو چار بوندیں میری پیشانی پر لگا کر مالش کی اور آدھی چمچی تیل سر میں بھی لگایا۔ تیل کی مالش سے میرا دماغ تازہ ہوگیا ہے۔ یہ تیل کیسے بنتے ہیں؟ میں نے بہت سارے لوگوں سے پوچھا مگر کوئی جواب نہیں ملا۔ آپ اس بارے میں ضرور بتائیے کیوں کہ ان سے مجھے بہت فائدہ ہوا ہے۔

٭ … مختلف چیزوں کے تیل بنتے ہیں جن کی افایت مسلمہ ہے۔ تیل سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔ تیل کی مالش جوڑوں کے درد سر درد میں اکسیر ہے، تو سردی کے موسم میں حرارت بخش اور گرمیوں میں سکون بخش۔ مثال کے طور پر لونگ کا تیل ہی لے لیں۔ دنیا بھر میں اسے ڈاکٹر بھی استعمال کرتے ہیں۔

آپ شیشے کی دو بوتلیں لیں، تیز گرم پانی سے صاف کریں اور الٹ کر رکھ دیجیے۔ جب سوکھ جائیں تو ہر بوتل کے اندازاً چار حصے کریں۔ تین حصے میں زیتون کا یا تلوں کا تیل بھریں۔ ایک بڑا لیموں لیں جو بالکل تازہ صاف ستھرا اور بے داغ ہو۔ اسے کاٹ کر رس نکالیے اور چھلکے بالکل باریک باریک کاٹیے، اب انہیں آپ تیل میں رس کے ساتھ ملائیے۔ دس منٹ تک خوب ہلائیے۔ پھر کسی اندھیری اور گرم جگہ میں رکھ دیجیے۔ دوسری بوتل میں بھی تیل بھریں۔ آدھے کینو کے چھلکے باریک کاٹ کر بوتل میں ڈالیے اور پھر ایک چمچ اس تیل میں ملا کر اسے بھی تاریک جگہ رکھ دیں۔ سولہ روز بعد یہ بوتلیں نکالیے۔ خوب ہلائیے اور چھان کر تیل دوبارہ بوتلوں میں بھرلیں۔ بوتلوں پر نشان لگادیں یا کینو اور لیموں لکھ دیں۔ تیسری بوتل میں آپ دونوں تیل ہم وزن ملا کر رکھ لیجیے۔ فرحت بخش تیل تیار ہے۔ آپ اسے ہلکے ہاتھوں سے پیشانی اور کن پٹی پر مالش کریں اور سر کے بالوں کی جڑوں میں ہلکے ہاتھ سے اچھی طرح لگائیے۔ پانچ منٹ کی مالش سے آپ کو لگے گا کہ سر درد ختم ہوگیا ہے اور دماغ بالکل تازہ ہوگیا ہے۔

مالش کرنا بھی ایک فن ہے۔جو لوگ مالش اور مساج کرنا جانتے ہیں، وہ اپنی انگلیوں کی ماہرانہ مالش سے سار ا درد اور تکلیف دور کردیتے ہیں۔ یہ فن زمانہ قدیم سے چلا آرہا ہے۔ پرانے لوگ طرح طرح کی جڑی بوٹیوں سے عرق کشید کر کے تیل بناتے تھے اور مریضوں کو فائدہ ہوتا تھا۔ آج بھی جڑی بوٹیوںپر تحقیق جاری ہے۔ دھنیے کا تیل گرمیوں میں سکون دیتا ہے۔ چمپا ، چمیلی، موتیا، موگرہ کے پھولوں کا تیل بھی مختلف تکالیف میں استعمال ہوتا ہے۔ گلاب کا تیل تو عام استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی بھینی بھینی خوشبو جسم کو سکون بخشتی ہے۔ مختلف پھولوں کے تیل کو زمانہ قدیم سے گھریلو بڑی بوڑھیاں ابٹن میں بھی رنگ گورا کرنے کے لیے ملاتی ہیں۔ ایسا کرنے سے ابٹن کی خوشبو اور جسم کی ملائمیت مہینوں نہیں جاتی تھی۔ اسی طرح مہندی میں بھی تھوڑا تیل شامل کیا جاتا تھا، جس سے مہندی خوب رچ جاتی تھی۔

چہرے پر سیاہ دھبے

پچھلے دنوں میری امی کے چہرے پر دانے نکلے۔ دانے ختم ہوئے تو سیاہ دھبے پڑ گئے جو بہت برے لگتے ہیں۔ اس کے لیے بتائیے۔ میری عمر سولہ سال ہے میرے چہرے پر بھی اکثر دانے نکلتے رہتے ہیں۔

٭… اس عمر میں دانے نکلتے ہی رہتے ہیں، آپ انہیں چھیڑیے نہیں۔ کوئی بھی مصفی خون دوا پینا شروع کریں۔ ہمدرد کی صافی منگا کر تین چار شیشیاں استعمال کریں۔ دانوں پر آپ پسی ہوئی کلونجی۔پانی میں ملا کر لگائیے۔ رات کو گھیکوار کا گودا لگا کر سویا کریں۔ بازار سے گل منڈی اور عناب منگائیں۔ پانچ دانے عناب اور دس گیارہ دانے گل منڈی رات کو ایک گلاس پانی میں بھگوئیے۔ صبح مل چھان کر تھوڑا سا شہد ملا کر پی لیا کریں۔ کبھی کبھی کیلے کا گودا نکال کر کانٹے سے باریک کر کے آدھی چمچی دہی ملا کر چہرے پر پندرہ منٹ کے لیے لگایا کریں۔ بیسن سے منہ دھوئیے۔ جو بچیاں نماز پڑھتی ہیں اور پانچوں وقت وضو کرتی ہیں ان کے چہرے کی ساری کثافت دھل جاتی ہے۔ چہرہ گندا رہے تو دانے زیادہ نکلتے ہیں۔

دل تیز تیز دھڑکتا ہے

میری عمر تیس سال ہے۔ چند ماہ سے دل زیادہ دھڑکنے لگا ہے۔ خصوصاً صبح کو دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر کی دوا کھا رہی ہوں، لیکن کوئی خاص فائدہ نہیں۔ آپ کے پاس کوئی ٹوٹکا ہو تو بتائیے۔

٭… طب میں ایسی دوائیاں ہیں جو دل کو قوت بخشتی ہیں۔ ٹوٹکا تو یہ ہے کہ اکیس دانے کشمش کے لیں ، اسے نصف پیالی عرق گلاب میں رات کو بھگو دیں۔ صبح کانٹے سے اٹھا کر ایک ایک دانہ کھالیں اور عرق پی لیں۔ پہلے زمانے میں لحاف سینے والی لمبی موٹی سوئی سے کشمش کا ایک ایک دانہ اٹھا کر کھانے کو کہا جاتا تھا۔ چند دنوں میں دل کی دھڑکن اعتدال پر آجاتی تھی۔ آملے یا سیب کا مربا نہار منہ کھانے سے دل مضبوط ہوتا تھا۔ یہ توٹکے برسہا برس سے آزمائے جارہے ہیں۔

کئی امراض کا مجموعہ

میری عمر ۳۵ سال ہے، شادی شدہ ہوں۔سب سے پہلے پیٹ میں تکلیف شروع ہوئی، پھر بدہضمی کی شکایت اور بعد ازاں پیشاب کی کمی، جوڑوں کے درد، نزلہ زکام نے آن گھیرا، کھانس کھانس کر ایسا لگتا ہے جیسے سینے میں سوجن ہوگئی ہو، فشارِ خون بھی اونچا نیچا رہنے لگا۔ ایک دوا کھاتا ہوں تو دوسری تکالیف سامنے آتی ہیں۔ اب گلے کے غدود بھی تنگ کرنے لگے ہیں۔ خدارا کوئی مشورہ دیجیے۔ مگر کسی حکیم ڈاکٹر کا نہیں۔ میں تھک چکا ہوں، بہت دوائیاں کھالیں۔

٭ …آپ نے بہت ساری تکالیف کا ذکر کیا ہے، مگر اپنی غذا کا نہیں۔ گلے کا غدود جب بڑھتا ہے تو آیو ڈین کی کمی ہوتی ہے۔ آیوڈین ٹھیک رہے تو یہ بیماری ختم ہوجاتی ہے۔ میں جب بھی عمرے، حج پر گئی تو ایک خاص بات محسوس کی۔وہاں ملیشیا اور ترکی کی خواتین بس میں انناس کے ڈبے پکڑے ہوتی تھیں۔ ان کا ناشتہ یہی ہوتا تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ وہ خواتین تمام دن طواف کرتیں اور ذرا نہ تھکتیں۔ مٹاپا ہونے کے باوجود ان کی ٹانگوں میں درد بھی نہ ہوتا۔ ان کی دیکھا دیکھی میں نے بھی دو چار بار انناس کا ڈبا خریدا۔ اسے کھانے سے دل کو بہت فرحت ہوئی اور میں تھکی بھی نہیں۔ گھر آکر انناس کے بارے میں پڑھا تو بے حد حیرت ہوئی۔ انناس بے شمار خوبیوں کا مرقع ہے۔ اس کے کھانے سے ٹھنڈک اور فرحت کا احساس ہوتا ہے۔ گلے کے غدود بھی ٹھیک رہتے ہیں۔ نیز آیوڈین کی کمی بھی دور ہوتی ہے۔ کھانے کو ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اسے کھانے سے بھوک لگتی ہے اور پیشاب بھی کھل کر آتا ہے۔ نیز نزلہ زکام بھی جاتا رہتا ہے۔ ہاضمہ درست ہوگا تو بھوک بھی خوب لگے گی۔ کھانا ہضم ہوگا تو جوڑوں کا درد ٹھیک ہوجائے گا نیز جسم کی گرمی بھی دور ہوگی۔اسی طرح یہ دل کے دھڑکنے میں بھی فائدہ مند ہے۔ اسے کھانے سے مثانے کی پتھری ختم ہوجاتی ہے۔ یرقان کے مریض بھی کھا سکتے ہیں۔ دو چار ہفتے کھائیے، بیماریوں کا مجموعہ کم ہوتا جائے گا۔

دودھ کے فوائد

میں سعودی عرب میں رہتا ہوں۔ پیدائش بھی یہیں کی ہے۔ میری نظر کمزور ہے۔ آنکھوں کے گرد حلقے بھی پڑ رہے ہیں۔ کیا میں سونے سے پہلے دودھ پی سکتا ہوں۔ دودھ کے بارے میں ضرور لکھیے۔

٭…بیٹے! آپ کی عمر ابھی بیس سال بھی نہیں، تو آنکھوں کے گرد حلقے کیوں پڑ رہے ہیں۔ آپ ویزلین لگاتے ہیں؟ اس سے کوئی نقصان نہیں۔ صبح منہ دھوکر آپ دودھ میں تھوڑی سی روئی بھگو کر آنکھوں کے نیچے آہستہ آہستہ ملیں، اس سے خاصا فرق پڑے گا۔گائے کے دودھ کو عربی میں لبن البقر کہتے ہیں اور بھینس کے دودھ کو لبن الجاموس۔ گائے کا دودھ جلد ہضم ہوتا ہے، دماغ کو طاقت دیتا ہے اور آنکھوں کی بینائی تیز کرتا ہے۔ اسی طرح یہ قد بھی بڑھاتا ہے۔ انسانی صحت برقرار رکھنے کے لیے روزانہ غذا میں دودھ شامل کرنا چاہیے۔ آپ کو چاہیے کہ روزانہ دو گلاس دودھ پئیں۔

ہمارے پیارے رسولﷺ کو دودھ بے حد پسند تھا۔ جب بھی دودھ پیتے تو فرماتے ’اے اللہ اس میں برکت ڈال اور ہمیں زیادہ دے۔ اونٹنی، بکری، گائے کے دودھ کو پسند فرماتے۔ گائے کے دودھ میں شفا ہے، کیوں کہ گائے ہر قسم کے پودے کھاتی ہے۔ قرآن پاک میں بھی دودھ کی نہروں کا ذکر ہے۔

دودھ میں ایک چمچ شہد ملا کر پیا جائے تو جسم کو بھرپور توانائی ملتی ہے۔ یہ ایک قسم کا غذائیت بخش اور مقوی شربت بن جاتا ہے۔ چٹکی بھر پسی ہوئی دار چینی ملائی جائے تو طاقت میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے۔

چکنی جلد

میری جلد چکنی ہے۔ چہرے پر دانے نکلتے رہتے ہیں۔ امیر گھرانوں کی لڑکیاں تو باہر بیوٹی پارلر جاکر فیشل کراتی ہیں۔ ہم لوگ سفید پوش ہیں۔ ایسا خرچہ نہیں اٹھا سکتے۔ ہم چار بہنیں ہیں۔ گھر میں آسانی سے بننے والا ماسک بتائیے جسے ہم تیا رکرسکیں، آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔ گھریلو طور پر تیار ہونے والی چیزوں کا بتائیے گا اور کوئی کھانے کی دوا بھی۔ میں بڑی امید کے ساتھ خط لکھ رہی ہوں۔

٭…ہمارے ہاں یہ بہت بڑا مسئلہ ہے۔ جو لڑکیاں بیوٹی پارلر جاتی ہیں وہ سہیلیوں میں آکر مہنگے مہنگے میک اب کا ذکر کرتی ہیں، جس سے متوسط گھرانے کی لڑکیاں پریشان ہوجاتی ہیں۔ چہرے پر دانے چکنائی کی وجہ سے نکلتے ہیں۔ آپ بیسن سے منہ دھویا کریں۔ صبح اٹھ کر تازہ پانی پئیں۔ تھوڑی تھوڑی دیر ٹھہر کر آپ چار گلاس پانی پی سکتی ہیں۔ اس سے جگر اور معدے کی گرمی دور ہوگی، پیشاب کھل کر آئے گا اور قبض بھی نہیں رہے گا۔ حسن وہ ہے جو اندر سے نکھر کر آئے۔پانچ دانے عناب ایک گلاس پانی میں رات کو بھگوئیے اور صبح مل چھان کر پانی پی لیجیے۔ عناب خون صاف کرتا ہے۔ ماسک کے لیے آپ ایک پاؤ ملتانی مٹی منگائیے، سلیٹی رنگ کی ہوں۔ گلاب کا عرق دو چمچ، ملتانی مٹی پسی ہوئی ایک بڑا چمچ پسی دار چینی ایک چٹکی، ہلدی دو چٹکی اور شہد ایک چمچ، ان سب کو اچھی طرح ملائیے۔ چہرے پر پندرہ منٹ کے لیے لگائیے۔ منہ دھوکر آدھی چمچی عرق گلاب میں تین چار قطرے لیموں کا رس ملا کر لگائیے۔ چہرے کا رنگ صاف ہوگا اور چکنائی بھی دور ہوگی۔ بیسن سے منہ دھونا شروع کریں گی، تو چہرے کی ساری فالتو چکنائی دور ہوجائے گی۔

جن لڑکیوں کے چہرے پر دانوں کے دھبے یا نشان ہوں وہ پانچ دانے عناب اور منڈی بوئی گیارہ دانے پانی میں بھگو کر صبح چھان کر ایک چمچہ شہد ملا کر پیا کریں۔ ڈیڑھ دو ہفتے میں چہرہ صاف ہوجائے گا۔ خشک نیم دانوں کو خشک کر دے گا۔ ہندوستان میں کیل مہاسوں کے لیے برسہا برس سے نیم کا صابن استعمال کیا جاتا ہے۔ پانچ سات پتے نیم کے دو کالی مرچوں کے ساتھ کوٹ کر گولی بنا کر صبح کھانے سے بھی خون صاف ہوتا ہے۔ نیم لگانے اور کھانے سے کئی جلدی امراض دور ہوتے ہیں۔

مٹاپا

میں بہت موٹا ہوں۔ کالج میں سارے لڑکے چھیڑتے ہیں۔ اس کا کوئی علاج ہو تو بتائیے۔ تمام زندگی دعائیں دوں گا۔

٭… شعیب صاحب اپنی غذا سے چکنی چیزیں، چاول، چینی وغیرہ نکال دیں۔ تازے پھل، کچی سبزیوں کا سلاد کھائیے۔ برگر وغیرہ نہ لیں، اس سے ہاضمہ خراب ہوتا ہے۔ صبح گرم پانی میں ایک لیموں نچوڑ کر شہد ملاکر پئیں۔ آہستہ آہستہ وزن کم ہوگا۔ کلونجی کے چٹکی بھر دانے نہار منہ کھائیے۔ دوائیوں سے وزن کم تو ہوجاتا ہے مگر دوبارہ تیزی سے بڑھ بھی جاتا ہے۔ صبح شام آدھ گھنٹہ چہل قدمی کریں۔ انجیر کھانے سے بھی جسم دہلاہوتا ہے اور ہاضمہ درست رہتا ۔ پانچ دانہ انجیر کھانے کے بعد کھائیے۔ تین ماہ بعد خط لکھئے۔ بہت فرق پڑ جائے گا۔

رنگت ماند پڑ گئی ہے

ایم ایس سی کی طالبہ ہوں۔ بہت سارے ماسک استعمال کیے، مگر کوئی فائدہ نہیں۔ کیل مہاسے بہت نکلتے ہیں۔ میرا مسئلہ حل کردیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔ مہندی کے پتے بھی پی کر دیکھے مگر فرق نہیں پڑا۔ مجھے کوئی مشورہ دیں۔ بہت پریشان ہوکر خط لکھ رہی ہوں۔ فیشل کرانے کے چندگھنٹوں بعد ہی چہرے پر دانے نکل آتے ہیں۔

٭… آپ ہمدرد دواخانہ سے صافی منگائیے۔ چار پانچ شیشیاں لگاتار پئیں۔ انار کی کلیاں یا پھول پنساری سے مل جائیں گے۔ انا رکی کلیاں پیس کر رکھ لیں۔ کیل نکلے تو آپ اس پر پسی ہوئی انار کی کلیاں لگائیے۔ ذرا سا پانی لگا کر پسی ہوئی کلیاں لیپ کریں۔ دار چینی پسی ہوئی ایک چمچ اور شہد دو چمچے میں ملا کر رکھ لیں، سوتے وقت لگائیے۔ دن میں بھی لگا سکتی ہیں۔ نیم کے خشک پتے پیس کر اسے بھی سفوف کی طرح لگا سکتی ہیں۔ یہ سب چیزیں بے ضرر ہیں۔ ہمدرد معجون مصفی خون بھی استعمال کرسکتی ہیں۔ اس سے بھی فائدہ ہوگا۔

شیئر کیجیے
Default image
صغیرہ بانو شیریں