تربیت[

بچوں کی اسلامی تربیت: چند باتیں

گھریلو زندگی کو اسلامی تہذیب کا نمونہ بنانا ہم سب کا اولین فرض ہے۔ لیکن یہ کام جس قدر اہم ہے، اتنا ہی صبر آزما بھی ہے۔ اس کام میں محنت، حکمت اور استقامت کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ چند تدابیر اگر اختیار کی جائیں تو کامیابی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

پہلی بات: موجودہ زمانے میں ٹی وی کے مفاسد کافی بڑھ گئے ہیں اور وہ بچوں کی نیک تربیت کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہو رہا ہے اس لیے ہمارا مشورہ ہے کہ ٹیلی ویژن کا شوق ہی نہ پالا جائے اور کیبل کے قریب بھی نہ پھٹکا جائے اور اگ رموجود ہو تو اس میں مفید ترین پروگرام ہی دیکھیں اور باقی وقت اسے بند رکھیں۔ بال بچوں کو نماز اور قرآن کریم کی تلاوت کے فضائل و برکات سے آگاہ کیجیے۔ ان میں ذوق عبادت پروان چڑھائیے۔ جب بچے نماز روزہ اور قرآن کریم کی تعلیم اور تلاوت میں مصروف ہوجائیں گے، تو انھیں ٹیلی ویژن دیکھنے کی مہلت ہی نہیں ملے گی۔ بیوی بچوں کو عبادت کی طرف راغب کرنا نہایت اہم فریضہ ہے۔ رسولِ مقبولﷺ کا معمول مبارک تھا کہ تہجد کے نوافل پڑھنے کے بعد حضرت عائشہؓ کو نماز کے لیے بیدار فرمایا کرتے تھے (مسلم) آپؐ کی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو بیدار ہوکر نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو نماز کے لیے جگائے… اللہ تعالیٰ کے رحم فرمانے کے بے شمار فضائل ہیں۔ ادنیٰ ترین فضیلت یہ ہے کہ اللہ رب العزت جس شخص پر رحم فرماتا ہے، اس کا خاتمہ ایمان پر کرتا ہے۔

۲- دوسرا قدم یہ اٹھائیے کہ بچوں میں دینی اور علمی ذوق پیدا کرنے کی کوشش کیجیے۔ اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ بچوں کو عمدہ دینی کتابیں اور دلچسپ معیاری رسالے فراہم کیجیے۔ کوئی ایک مفید اور دلچسپ رسالہ منتخب کر کے سب بچوں کو مطالعے کے لیے دیجیے۔ان رسالوں کے مضامین کے بارے میں ایک سوال نامہ مرتب کیجیے، بچوں کو مضامین اور کہانیوں کے مطالعے کا مناسب موقع دیجیے پھر کہانیوں اور مضامین کے بارے میں سوالات کیجیے۔ جو بچہ صحیح جواب دے اسے کوئی خوب صورت اور پرکشش انعام دیجیے۔ اس طرح سب بچوں میں مطالعے کا شوق پیدا ہوگا اور ان کا علمی ذوق پروان چڑھے گا۔ بچوں کو مولانا حالی اور علامہ اقبالؒ اور دوسرے تعمیری اخلاقیات والے شعرا کی نظمیں بھی یاد کرائیے۔ اس طرح ان میں اعلیٰ ادبی صلاحیتیں اجاگر ہوں گی جو ان کی تعلیم میں بہت مددگار ثابت ہوں گی۔ اہل خانہ میں دینی ذوق پیدا کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ انھیں دینی مجلس میں ساتھ لے کر جائیں اور اس بات کی تلقین کریں کہ مسجد میں نماز باجماعت کے ساتھ مسجد میں ہونے والے وعظ ونصیحت کو بھی سنا کریں۔

۳-بچوں کو ہر موقع محل کی دعائیں ضرور یاد کرائی جائیں۔ اور ان کا ترجمہ اور فہم بھی ان کے اندر پیدا کیا جائے۔

٭ انھیں عادت ڈالیے کہ وہ ہر کام کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر کریں۔

٭ بچوں کو اللہ رب العزت کے ذکر کا شعور اور اس کی اہمیت و افادیت، دعاؤں کی فضیلت اور برکات سے روشناس کرائیے اور

٭ انھیں بتائیے کہ اللہ کا ذکر کرنے سے دنیا اور آخرت میں زبردست فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ صرف ایک مرتبہ ’سبحان اللہ‘ کہنے سے کم سے کم تیس نیکیاں ملتی ہیں اور کہنے والے کے لیے جنت میں ایسا درخت لگ جاتا ہے کہ سو سال تک گھوڑا دوڑتا ہے تب بھی اس کا سایہ ختم نہیں ہوتا۔

٭ بچوں کو کلمہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ، کے ورد کی پرشوق ترغیب دیجیے۔ اس کے معنی و مفہوم اور مقصد بتائیے۔

٭ انھیں موقع محل کی مناسبت سے اللہ اکبر، سبحان اللہ، الحمد للہ، ماشاء اللہ اور فی امان اللہ کہنے کی ترغیب دیجیے۔

٭ انھیں تاکید کیجیے کہ کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھوئیں اور بسم اللہ پڑھ کر کھانا کھائیں اور کھانا کھانے کے بعد الحمد للہ کہیں۔ جس گھر میں داخل ہونے سے پہلے اور کھانا کھاتے وقت بسم اللہ پڑھی جاتی ہے وہاں سے شیطان بھاگ جاتا ہے۔

٭ خوب تاکید کردیجیے کہ پانی بیٹھ کر اور بسم اللہ پڑھ کر پئیں۔

٭ اچھی طرح سمجھا دیجیے کہ جب بھی کسی کا فون آئے۔ وہ ’السلام علیکم‘ کہیں…

٭ بچوں کے دل و دماغ میں یہ بات راسخ کردیجیے کہ ہم مسلمان ہیں۔ مسلمان ہونا بہت بڑا شرف ہے اور ہر بات اور ہر کام کے آغاز پر اللہ کی ذات عالی کا مبارک نام لینا اسلامی تہذیب کی مستند پہچان ہے۔

۴- قرآن کریم ہدایت و سعادت کا سرچشمہ ہے۔ بچوں کو بتائیے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کے احکام و فرامین کی کتاب ہے۔ اس کا موضوع انسان ہے۔ یہ مبارک کتاب قیامت تک آنے والے ہر انسان کے لیے نازل ہوئی ہے۔ قرآن کریم کی تلاوت نہایت عظیم الشان عبادت ہے۔ اسے ترجمے کے ساتھ اچھی طرح سمجھ کر پڑھنا چاہیے۔ اس طرح انسان پر دانش و بصیرت کے بھید کھلتے ہیں۔ بغیر معانی پڑھے بھی قرآن کریم کی تلاوت برکت و فضیلت سے خالی نہیں۔ ایک ایک حرف کی تلاوت پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں۔ بچوں کو قرآن کریم کی تلاوت کا عادی بنا دیجیے۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

’’اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔ بے شک شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے جہاں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے۔‘‘

ان تدابیرپر عمل کرنے سے انشاء اللہ ہمارے گھروں میں اسلامی تہذیب جگمگانے لگے گی جس کا فوری نتیجہ یہ ہوگا کہ غیبت، چغلی، کینہ، حسد جیسے مذموم مفاسد کا آپ ہی آپ خاتمہ ہوجائے گا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں چغلی کھانے اور غیبت کرنے کا رویہ عام ہے۔ خاص طور پر ہماری محترم خواتین میں تو یہ مرض وبا کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ جہاں دو خواتین مل بیٹھتی ہیں، ساس نندوں کی برائیاں شروع کردیتی ہیں اور بوڑھی خواتین بہوؤں کو کوسنے لگتی ہیں۔ ہمارے گھروں میں دینی تعلیمات کا رواج پڑ جائے تو ہم بہت سی ذہنی اور لسانی گمراہیوں سے نجات پاسکتے ہیں۔

بچوں کی اچھی تربیت کے لیے دو باتیں اور خاص طور پر اہم ہیں۔ پہلی یہ کہ بچوں کو صحت مندانہ کھیل کھیلنے کا موقع بھی دیجیے۔ فٹ بال اچھا کھیل ہے۔ کوشش کیجیے کہ بچوں کے کھیل اور صحت مند تفریح کا اہتمام گھر کی چار دیواری ہی میں ہوجائے۔ بچوں کو گھروں سے باہر جانا اور ایرے غیرے گالیاں بکتے بچوں کے ساتھ مل کر کھیلنا ٹھیک نہیں۔ اس طرح ان پر غلط اثرات پڑنے کا بڑا احتمال ہے۔

دوسری بات یہ کہ بچوں کی تعلیم کی خود ذاتی طور پر نگرانی کیجیے۔ ان کے اسکولوں کی رپورٹیں توجہ سے پڑھیے اور ان کے اساتذہ کرام سے مل کر ان کی تعلیمی رفتار کا جائزہ لیتے رہیے۔ انھیں اچھی طرح تاکید کر دیجیے کہ انھیں اساتذہ کرام نے گھر پر کرنے کے لیے جو کام دیا ہے وہ اسے روزانہ باقاعدگی سے پورا کریں۔ اسکولوں اور کالجوں سے جو اسباق ملتے ہیں انھیں پابندی سے اچھی طرح یاد کریں۔

ایک بات بطور اصول خاص طور پر یاد رکھیے کہ گھر کا ماحول بدلنے اور دینی اقدار مروج کرنے کے لیے خندہ پیشانی اور خوش طبعی ضروری ہے۔ مار دھاڑ، رعب و دبدبہ اور ہیبت کا ماحول نہ بنائیے کیوں کہ زیادہ سخت گیری منفی ردعمل پیدا کرتی ہے۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں تعلیم دی ہے، وہیں گھروں کا ماحول خوش گوار بنانے کے لیے بھی نہایت مفید سبق دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

’’جب اللہ تعالیٰ کسی گھر کے افراد سے بھلائی کا ارادہ فرماتا تو ان کی طبیعتوں میں نرمی پیدا فرما دیتا ہے۔‘‘

دینی تعلیمات پر خود بھی پوری طرح عمل کیجیے اور نرمی اور نوازش کی فضا میں بچوں کو بھی حسن اخلاق کی باتیں بتاتے اور سکھاتے رہیے۔ انشاء اللہ آپ کا گھر بہت جلد اسلامی تہذیب کا درخشاں نمونہ بن جائے گا۔

شیئر کیجیے
Default image
احمد کامران

تبصرہ کیجیے